آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے : نیر کاشف

جب تعلیم و تعلم کی دنیا سے ناطہ جوڑ ہی لیا ہے تو کیوں نہ اسی شعبے میں تخصص حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ، اسی سوچ کے پیشِ نظر ایم ایڈ پروگرام میں رجسٹریشن کروائی اور کئی دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ جیسے تیسے وقت مختلف کو پورا کرتے کرتے آخری سمسٹر بھی اختتام کے نزدیک پہنچا اور امتحانات شروع ہو گئے، ناظم آباد میں واقع سرکاری گرلز کالج میں داخل ہوئے تو مرد اور خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد مختلف کمروں میں موجود تھی، امتحانی کمرے میں داخل ہوئے تو بنچز کی تینوں قطاریں تو بھر چکی تھیں لیکن تینوں ہی کی سب سے پہلی سیٹ ہنوز خالی تھی ، انہی میں سے ایک پہ براجمان ہوتے ہوئے پڑوسن سے خیر سگالی کے طور پر مسکراہٹ کا تبادلہ کرنے کے خیال سے مڑے ہی تھے کہ کہ محترمہ کو تیزی کے ساتھ کاغذ کے ایک ٹکرے پہ لکھی گئی ہیڈنگز کو ڈیسک پہ منتقل کرتے ہوئے پایا، کیونکہ ہم معزز اساتذہ کرام کا یہ اخلاقی معیار گزشتہ دو برسوں سے دیکھ رہے ہیں اسلئے حیرانگی تو نہیں ہوئی البتہ دکھ روزِ اول جیسا ہی محسوس ہوا، وہاں سے مایوس ہو کر شناسا چہروں کی تلاش میں گردن ادھر ادھر گھمائی تو پورے کمرہِ جماعت میں پانچ یا چھ خواتین ایسی نظر آئیں جو اس لت سے محفوظ تھیں .
سنو کچھ چاہیئے کیا؟
ہماری پڑوسن نے ہمیں مخاطب کیا تو ہم کچھ نہ سمجھتے ہوئے ان کا چہرہ تکا کیے، ارے بھئ ابھی نہیں پیپر کے دوران ، اور ہاں بُوٹی نہیں ملے گی، ہاں ہیڈنگز بتا دوں گی ،اس نے فخر سے ڈیسک کی سطح پہ اشارہ کیا جہاں کالے مارکر سے مختلف عنوانات کے تحت ہیڈنگز کی بھرمار تھی، ہم کوئی جواب دئے بغیر سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے ، ان کے پیچھے براجمان محترمہ نے بھی وہی کام کر رکھا تھا البتہ انہوں نے پینسل کا استعمال کیا تھا،جب یہ استاد کی حیثیت سے کمرہِ امتحان میں کھڑی ہوتی ہوں گی تو ان کا رویہ جانے کیا ہوتا ہوگا، شاید "جانے دو" کے فارمولے پہ عمل کرتی ہوں ،کیا معلوم ہلنے بھی نہ دیتی ہوں ، دوسری جانب توجہ کی توایک اور صاحبہ دوسری سے ہیڈنگز کی وہ فہرست لے کر اپنی ڈیسک میں چھپانے میں مصروف تھیں جن کو موخر الذکر خاتون ڈیسک پر اتارنے کا فریضہ بخوبی سر انجام دے چکی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم ؛ معیاری تعلیم، انسان کی بنیادی ضرورت - اسماء طارق

امتحان سے پہلے ایسے مناظر ہمیشہ ہی ہمارا دل خراب کر دیتے ہیں ، واہ بھئی اگزامنر تو ظاہر ہے ہم سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکیں گے، بری بری شکلیں بناتے ہوئے ہم نے کئی بار خود کو ادھر ادھر دیکھ کر مزید دکھی ہونے پہ سرزنش کی اور پھر کئی بار مقدس پیشے سے جڑے لوگوں کی مصروفیات پہ خود کو جلتے کڑھتے پایا، امتحان شروع ہونے میں پانچ منٹ باقی تھے اور ان ویجیلیٹر کا انتظار جاری تھاکہ اچانک ان ویجیلیٹر صاحبہ نے دروازے سے جھانکا اور اعلان کیا،" آپ تمام لوگ دوسری بلڈنگ میں پہلی منزل پہ تشریف لے آئیں ، آپ کا کمرہِ امتحان تبدیل کر دیا گیا ہے" ۔ہم جیسوں کے منہ خوشی سے اور بہتوں کے منہ رنج بھری حیرت سے کھُلے کے کھُلے رہ گئے۔

ٹیگز