نکسلی تشدد کی تشخیص- عارف عزیز

* ماؤزیتنگ کے اس قول پر خواہ سرمایہ دارانہ نظام کے دشمن اور خود ان کے ملک چین کا اب یقین نہ رہا ہو کہ ’’اقتدار بندوق کی نالی سے نکلتا ہے‘‘، لیکن جنوبی ایشیا کی بدقسمتی سے آج بھی یہ کئی علاقوں میں ماؤ نوازوں کو انقلاب کے خواب دکھا رہا ہے، شدت پسند بائیں بازو عناصر کے ان تیزابی خوابوں کو جب زمین پر حقیقت کا جامہ پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو تشدد اور بربادی کا وہ منظر سامنے آتا ہے جو آج کل ہندوستان کے کئی علاقوں پر اپنے اثرات ڈال رہا ہے ، حالانکہ مغربی بنگال کے نکسل باڑی علاقے میں جہاں بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں نکسلی سرگرمیوں کی بنیاد پڑی تھی یہ تحریک اب دم توڑ چکی ہے لیکن دوسری ریاستوں میں اس کا زور بڑھتا جارہا ہے۔ خصوصیت سے انتخابی عمل کے دوران دہشت گرد نکسلیوں کے حملے کافی بڑ ھ جاتے ہیں جو ملک کے پورے جمہوری عمل سے ان کی بیزاری کو واضح کرتے ہیں۔

مرکزی وزارت داخلہ کے ہمراہ اب تک نکسلی تشدد سے متاثرہ ریاستوں کے وزراء کی کئی کانفرنسیں ہوچکی ہیں ان میں مسئلہ سے نپٹنے کے لئے پولس فورس اور جدید اسلحہ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، یقیناًنکسلیوں جیسے منظم گروپوں سے مقابلہ کے لئے پولس کو جدید ہتھیار، اچھی گاڑیاں اور اعلیٰ مواصلاتی نظام سے لیس کرنا ضروری ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی غور وخوض ہونا چاہئے کہ آخر ملک کے پس ماندہ آدیباسی علاقوں میں اس تحریک کو استحکام کیوں مل رہا ہے، جب مسئلہ کا تجزیہ اس پہلو سے ہوگا تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ آزادی کے ۶۱برس گزر جانے کے باوجود آج بھی ہمارے دیہات خاص طور پر پس ماندہ قبائلی مواضعات سماجی نابرابری اور معاشی استحصال کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔

جن میں کمزور لوگوں کو سماجی انصاف یا انتظامیہ کا تعاون نہیں ملتا تو وہ مایوس ہوکر ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں۔ جہاں مرتے ہیں وہاں مارتے بھی ہیں۔ حکومت وانتظامیہ کیونکہ ان پر ہونے والے ظلم وزیادتی کو ختم کرنے پر توجہ نہیں دیتی بلکہ جہاں کہیں کوئی واردات ہوجاتی ہے تو معمول کے مطابق پولس فورس بھیج دی جاتی ہے جو اپنے مزاج کے مطابق طاقتور کا ساتھ دیکر کمزور کو دبانے کی کارروائی کرتی ہے، اس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھتا جارہا ہے۔

نکسلیوں کے مسئلہ کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ناخواندہ نوجوان جانتے بھی نہیں کہ آخر نکسلزم کیا ہے مگر جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا حق مارا جارہا ہے اور قانون وانتظام کی مشنری ان کو انصاف فراہم کرانے سے معذور ہے تو وہ اپنے حق کے حصول کے لئے خو دمیدان میں نکل آتے ہیں۔

اکثر ذات پات کا تعصب بھی ٹکراؤ کا سبب بنتا ہے کیونکہ پورے ہندوستان کی طرح آدیباسی اکثریت والے علاقوں میں بھی نچلی ذاتوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے اس نے اعلیٰ ذات کے لوگوں کے خلاف عام ردعمل پیدا کردیا ہے اور اب تو ہر ظلم وناانصافی کو اسی نظرسے دیکھا جانے لگا ہے۔

نکسلی متاثرہ علاقوں میں امن وقانون کو مستحکم بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس مسئلہ کو پولس فورس کی طاقت سے سلجھانے کا طریقہ اپنانے کے بجائے کوشش یہ ہونا چاہئے کہ مقامی آبادی کو انصا ف ملے ان کی شکایات پر بر وقت توجہ دی جائے، خاص طور پر زمینداروں، ساہو کاروں اور دوسرے بااثر لوگوں کے ہاتھوں غریب قبائلیوں کا جو استحصال ہورہا ہے اس پر قابو پایا جائے، اس سلسلہ میں پولس انتظامیہ کی تطہیر بھی ضروری ہے کیونکہ بنیادی طور پر انتظامیہ میں لوگ سماج کے بااثر طبقہ سے آتے ہیں اور ان کی ہمدردی اپنے جیسے متمول لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں، اگر وہ مظلوموں اور کمزوروں کی مدد بھی کرتے بھی ہیں تو محض دکھاوے کے لئے، اس صورت حال کے برقرار رہنے سے ہی آدیباسی علاقے آج نکسلیوں کے گڑھ بنتے جارہے ہیں۔

اسی طرح مذکورہ علاقوں میں آراضی کی اصلاحات کا کام بھی تیز کرنے کی ضرورت ہے وہاں کی زمینوں پر بے نامی قبضوں کو ختم کراکر فالتو زمین کو بے زمین غریبوں میں تقسیم کرایا جائے ، انتظامیہ کم از کم مزدوری دلانے میں محنت کشوں سے تعاون کرے، مناسب قیمت پر ضروری اشیاء فراہم کرائی جائیں۔ حکومت نے سماج کے کمزور طبقات کے لئے جو فلاحی اسکیمیں شروع کی ہیں ان کو پوری دیانت داری کے ساتھ نافذ کرایا جائے اور آدیباسی نیز دیہی غریب جوانوں کو پولس، فاریسٹ اور ایگریکلچر محکمات میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی دی جائے، پولس وانتظامیہ کا جو عملہ وہاں تعینات ہو وہ خود کو سرکاری ملازم نہیں عوامی خدمت گار تصو رکرے اور دیہی غریبوں نیز قبائلیوں کے ساتھ انسانی سلوک اپنائے اس کی باقاعدہ اسے ٹریننگ دی جائے۔

دراصل نکسلیوں کا مسئلہ قبائلی علاقوں میں ہی نہیں سارے ہندوستان میں سماجی ومعاشی استحصال نے پیدا کیا ہے ، لہذا اس کا علاج زور وزبردستی سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لئے صبروتحمل اور پختہ عزم کے ساتھ سماجی نابرابری اور معاشی استحصال کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تبھی اس میں کامیابی ملے گی۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے )