ستّر سالوں سے جاری مذاق - طلحہ زبیر بن ضیا

طلحہ بھائی! ارے، آپ یہاں کیسے ہیں؟ کیا کھائیں گے؟

ہم ہکا بکا ان کی طرف دیکھنے لگے کہ موصوف سے زندگی میں واحد ملاقات کرکٹ گراؤنڈ میں ہوئی تھی۔ جب یہ باہر کھڑے تالیاں بجا رہے تھے اچانک سے اتنی مہربانی؟ اس کے ساتھ ہی موصوف دوبارہ چہکے۔

ارے آپ کو یاد نہیں؟ ہم ساتھ میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے! بے اختیار میرے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی سوچا چلیں ان سے سے اگلے پانچ سال کی گمنامی کا ابھی سے حساب پورا کیا جائے۔ ہم بولے نہیں مجھے تو یاد نہیں اور ہم کرکٹ تو کھیلتے ہی نہیں، بچپن سے صرف مارشل آرٹس کرتے آ رہے ہیں جوڈو اور تائیکوانڈو۔
بولے ہاں ہمیں یاد ہے آپ کی فیس بک پر دیکھا تھا ہم نے۔

ہم نے کہا کہ آپ تو ہمارے فرینڈ لسٹ میں پائے ہی نہیں جاتے تو فرمانے لگے کہ ابھی ایڈ کرتے ہیں اپ کو آپ اپنا نام بتائیں۔ ہم نے مسکرا کر کہا آپ نے میری تصاویر دیکھیں مگر آپ کو ہمارا نام نہیں معلوم؟ تو فرمانے لگے کہ کافی عرصہ پہلے دیکھی تھیں چلیں چھوڑیں بتائیں کیا خدمت کریں فرمانے لگے کہ ووٹ ہمیں دے دیں۔

ہم نے کہا کہ بھائی مجھے یہ میرا پی ٹی آئی کا دوست گھر سے لے کر آیا ہے میں اس کو نہ کیسے کر دوں؟ فرمانے لگے کہ دیکھیں ہمارا تو کرکٹ کے گراؤنڈ کا ساتھ ہے۔ ہم نے قہقہہ لگا کر کہا بھائی جان! آپ سے زیادہ کرکٹ تو ہم نے ان کے ساتھ کھیلی ہے۔ آپ سے تو چند ایک ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ کہنے لگے بھائی! میں بھی پی ٹی آئی کا ہوں لیکن یہاں آپ جانتے ہیں کہ سب مجھے ووٹ دے رہے ہیں ان شاء اللہ آپ کا بھائی آپ کا خادم ہے، آپ جانتے ہیں۔ ہم ساتھ ہی بولے۔ کوڈو صاحب چند ملاقاتوں میں بندہ ٹھیک سے نام نہیں پہچانتا تو میں یہ کیسے جان لوں کہ آپ کام کریں گے؟ کہنے لگے یار! آپ تو بحث پر ہی اتر آئے ہیں ورنہ یہاں کون کسی کو پوچھتا ہے؟ تو یہ تھا ان سے بات کا نتیجہ جو میں چاہ رہا تھا۔ نتیجہ کی ایک اور مثال دیتا ہوں۔

ایک بار ایک امیدوار کو کسی نے بتایا کہ مخالف امیدوار نے تمہارے خلاف جلسے میں کہا ہے کہ تم متکبر انسان ہو۔ اس امیدوار نے غصہ میں کہا اپنا جلسہ بھی منعقد کرو۔ اس جلسے کی تقریر میں موصوف نے فرمایا کہ میرے مخالف نے کہا ہے کہ میں متکبر ہوں، اگر ایسا ہوتا تو میں آپ جیسے لوگوں سے ووٹ مانگنے آتا؟ مطلب کہ ہم دو ٹکے کے لوگ ہیں جن سے صرف ووٹ لینے کے لیے ہی اخلاق سے بات کی جاسکتی ہے۔

خیر، وقت گزرا اور ہمارے سکول میں جہاں ہم پڑھاتے ہیں کونسلر صاحب گھس آئے، بدتمیزی کی۔ تو ہم نے ان کو حدود میں رہنے کا مشورہ دیا تو جناب نے فرمایا کہ تم ہوتے کون ہو؟ میں ابھی اپنے بندے بلا کر تمہیں مزہ چکھاتا ہوں۔ ہم نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ شیر اکیلا ہوتا ہے گیدڑ غول میں لڑتا ہے۔ خیر، بات آس پاس کے لوگوں نے رفع دفع کروا دی لیکن اس کے بعد ہمیں ایک وزیر صاحب سے گفتگو کرنے کا موقع میسر آیا ان کی زبان اور ان کے الفاظ کے انتخاب کا سن کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ ہماری اس بد ترین تنزلی کا سبب کیا ہے؟

ہمارے سٹوڈنٹس ہم سے اکثر سوال کرتے ہیں کہ سر! ووٹ کس کو دیں؟ اور میں ہمیشہ ان سے ایک سوال کرتا ہوں۔ کہ بچے! مجھے ایسا انسان دکھاؤ جو اپنے الیکشن جیتنے کے لیے 10 کروڑ لگا رہا ہے، لوگوں سے باتیں سن کر مسکرا رہا ہے صرف انتخابات جیتے کے لیے, وہ جیتنے کے بعد اپ کی ضروریات پوری کرے گا کہ اپنا نقصان پورا کرکے اس پر منافع حاصل کرے گا؟ ہماری سیاست میں جو لوگ ہیں وہ اس قابل نہیں کہ ان کو دہرایا جائے۔ ہم سیاسی گروہ تبدیل کرکے سمجھتے ہیں کہ شاید مثبت نتائج حاصل کر پائیں گے مگر! یہ نہیں دیکھتے کہ ہر 5 سال بعد یہ مفاد پرست لوگ ہر اس پارٹی کا رخ کرتے ہیں، جہاں سے جیتنے کی امید ہو۔ ہر بار یہی چہرے ہوتے ہیں فقط پارٹی بدلے ہوتے ہیں، ہمیں بے وقوف بنا کر ہم پر راج کرتے ہیں۔ آپ کو کوئی ایسا شخص ملے تو اس ووٹ دینے بہتر ہے کہ ووٹ نہ دیں اور اس کے متعلق بالکل پوچھا نہیں جائے گا، اگر کسی حدیث میں لکھا ہے کہ پوچھا جائے گا تو مجھے مہربانی فرما کر وہ حدیث بحوالہ بھیجی جائے۔ ہاں! یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ ظلم کا ساتھ کیوں دیا؟ انا پرستی میں ہم لوگ بھول چکے ہیں کہ ہم نے جو رستہ چنا ہے وہ کس جانب جاتا ہے؟ ہمارے سیاستدان کو ووٹ کی عزت اور جمہوریت صرف تب یاد آتی ہے جب اس کے اقتدار کو خدشہ محسوس ہوتا ہے، ہمارا المیہ فقط انا پرستی ہی نہیں شخصیت پرستی بھی ہے، ہم میں سے کوئی بھی اٹھتا ہے اور اسلام کا نعرہ لگاتا ہے ہم مذہب کے نام پر اس کو جانے بنا اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی اٹھتا ہے اور لسانیت کے نام پر قوم کو بھڑکاتا ہے اور ہم اس کے پیچھے چلنے لگتے ہیں ہمارے پاس کوئی منطق نہیں ہوتی ماسوائے ذاتیات پر بحث میں آتا ہے، جب فلسفہ ذات و کردار قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے ذات و کردار ہم نے اپنی لیڈر کو سچا ثابت کرنے کے لیے دلائل نہیں دینے ہوتے۔ ہاں! دوسروں کے مذہب و ذاتیات کو پہلے نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں جس کو انگلش کے چار جملے آ جائیں تو ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ ہم نے تربیت کر دی اور دوسرا طبقہ چار احادیث رٹوا کر سمجھتا ہے ہم بھی تربیت کے تقاضے پورے کر چکے۔ تربیت کسی مذاق کا نام تو نہ تھی۔ اگر یہ اتنا آسان ہوتا تو یہ انبیا کو یہ کام نہ دیا جاتا؟

ہم نے اگر واقعی ہی قوم کی حالت تبدیل کرنا ہے تو ہمیں وہ تمام چہرے بدلنا ہوں گے جو ہماری سیاست کے مفاد پرست سمجھے جاتے ہیں جو ہر 5 سال بعد وفاداریاں تبدیل کر کے دوبارہ ہمارے سروں پر ایک نئے نام نئے نعرے کے ساتھ حکومت کرتے ہیں۔ ہر بار چورن نئے طریقہ سے بکتا ہے۔ مومن تو ایک سراخ سے دو بار ڈسا نہیں جاسکتا پھر کیوں ہم سے ہر بار یہ سوال ہوتا ہے اسلام چاہیے کہ سڑکیں؟ تبدیلی، ووٹ کی عزت، روٹی کپڑا مکان! اور کہیں ختم نبوت ﷺ جیسے نازک ترین مسئلہ کو اپنے لیے استعمال کرنا۔ اصل سیاست یہ نہیں اصل سیاست اور ملک کی خدمت وہ ہوگی کہ جب ایک ایسا شخص وزیر خزانہ بنے گا جس کی ایمانداری کی مثالیں دی جاتی ہوں۔ وزیر خارجہ وہ انسان ہو جس نے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہو اور بہترین سپوک پرسن ہو جو اپنے مفادات و ملک کا تحفظ کرنا جانتا ہوں۔ وزیر ریلوے وہ شخص ہو جس کو ریلوے اور جغرافیہ پر عبور حاصل ہو وزیر دفاع کوئی ریٹائر جنرل ہو جو یہ جانتا ہو ملک کو درپیش حالات میں ملک کو کس قسم کی حکمت عملی کی ضرورت ہے اور وزیر اعظم وہ ولی اللہ ہو جو یہ جانتا ہو کہ خیانت کی اقسام کیا ہیں؟ قوم کے پیسے سے لیکر قوم کی وسائل و معدنیات تک سب امانت ہیں اس کے بعد آپ کو ان شاء اللہ اصل تبدیلی میسر آئے گی اور سنہرا دور شروع ہوگا۔