بلوچستان کے دکھ – احسان کوہاٹی

اس نوجوان کے بال بکھرے ہوئے تھے چہرے پر پریشانی نے ایسے پنجے گاڑے ہوئے تھے جیسے کسی ہشت پا نے شکار دبوچ رکھا ہو۔ اسکی شیو بڑھی ہوئی اور لباس میلا ہورہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرچی تھی جسے پڑھے بنا سیلانی سمجھ گیا کہ اس پر کسی بدخط ڈاکٹر نے کوئی دوا تجویز کر رکھی ہوگی۔ اس کے روکنے پر سیلانی کے اٹھتے قدم رک گئے اور استفہامیہ نظریں اس کے چہرے کی جانب اٹھ گئیں۔ اس نے شستہ بلوچی میں سیلانی سے کچھ کہا جو ظاہر ہے سیلانی کو سمجھ نہیں آنا تھا۔ اس نے معذرت خواہانہ انداز میں کاندھے اچکادیے

’’معذرت، مجھے بلوچی نہیں آتی۔‘‘

جواب میں اس نے وہی سوال کیا جو اکثر سیلانی سے پوچھا جاتا ہے

’’آپ بلوچ نہیں ہو؟‘‘

’’نہیں، خیر کوئی کام ہے تو بتائیں ‘‘

’’مجھے کوئی سستا سا ہوٹل بتا دیں جس کا زیادہ کرایہ نہ ہو‘‘یہ کہہ کر اس نے سیلانی کے جواب کا انتظار کیے بغیر کہا’’قریب میں مل جائے تو بہت اچھا ہے ‘‘

’’سستے ہوٹل صدر میں ملیں گے، یہاں آس پاس تو ایسے کوئی ہوٹل نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ گیسٹ ہاؤس مل جائیں گے ‘‘

’’گیسٹ ہاؤس کا کتنا کرایہ ہوگا؟ کوئی آئیڈیا ہے؟‘‘

’’ایئر کنڈیشنڈ کمرے کا تین ہزار سے کم تو نہیں ہوگا۔‘‘

’’یہ تو بہت زیادہ ہے، ستّر ہزار تو اسپتال میں جمع کرادیا ہے پتہ نہیں اور کتنا جمع کرانا پڑے‘‘ اور پھر وہ بلوچی میں بڑبڑانے لگا۔

سیلانی اس وقت کراچی کے لیاقت نیشنل اسپتال میں تھا، وہ یہاں کسی کام سے آیا تھا اور کام کے بعد فوراً سے پیشتر نکل جانا چاہ رہا تھا کہ اسے بلوچ نوجوان نے روک لیا۔ سیلانی کے گھنگھریالے بالوں اور چہرے کے نقوش اسے سخت گیر بلوچ ہی بتاتے ہیں، اس نے اسے بلوچ سمجھ روکا تھا تو ایسا غلط بھی نہ تھا، وہ پریشان حال یقیناً بلوچستان سے آیا تھا، کراچی کے اسپتالوں میں بلوچ بھائی دور سے ہی دکھائی دے جاتے ہیں، بلوچستان کے لوگوں کے لیے ہم نے فرض کر رکھا ہے کہ سخت جان بلوچ کبھی بیمار نہیں ہوتے اس لیے وہاں اسپتال بنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ ہمارا خیال ہے کہ بلوچ ہر معاملے میں خودکفیل ہیں انہیں کچھ نہیں چاہیے، ہمارے حکمران یہی فرضی عینک لگا کر بلوچستان کی طرف دیکھتے ہیں اور انہیں سب اچھا، شاندار دکھائی دیتا ہے جب کہ حقیقت سمندر کے پانی سے زیادہ تلخ کڑوی اور آواران کے پہاڑوں سے زیادہ بھیانک ہے۔ دکھ بیماری میں یہ دس سے بیس ہزار روپوں میں گاڑی کرائے پر لے کر مریض کو کراچی پہنچاتے ہیں جنکا کوئی بھائی بیٹا مسقط یا عمان میں ملازمت کر رہا ہوتا ہے وہ سیدھا لیاقت نیشنل اسپتال یا پٹیل اسپتال آتے ہیں اور جن کا کوئی آسرہ نہیں ہوتا وہ سول اور جناح اسپتال کی راہداریوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔

سیلانی کو اس پریشان حال نوجوان پر بڑا ترس آیا پتہ نہیں بیچارہ کس پریشانی میں تھا۔ اس نے اس کے کاندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا اور کہنے لگا ’’لی مارکیٹ میں کم قیمت پر ہوٹل مل جائے گا لیکن آنے جانے میں زیادہ پریشانی ہوگی جو ہزار پندرہ سو بچیں گے وہ ٹیکسی والے کی جیب میں چلے جائیں گے، تم ایسا کرو کینٹ اسٹیشن کی طرف کوئی ہوٹل دیکھ لو، وہاں پندرہ سو، دو ہزار روپوں میں کمرہ مل جائے گا۔‘‘

’’اچھا،کوئی واقف کار ہے تو بتادیں بڑی مہربانی ہوگی، میں چار دن سے سو نہیں سکا، میرا حال دیکھ رہے ہیں آپ‘‘

’’واقف تو میرا کوئی بھی نہیں ہے لیکن کمرہ آرام سے مل جائے گا آپ پریشان مت ہو، کوئی مسئلہ ہو تو یہ میرا فون نمبر ہے ‘‘سیلانی نے اس کے ہاتھ پر اپنا وزیٹنگ کارڈ رکھ دیا اس کی آنکھوں سے ممونیت جھلکنے لگی۔ اس نے بتایا کہ وہ بلوچستان کے علاقے آواران کا رہنے والا ہے، اس علاقے میں خشک سالی کی وجہ سے کنویں خشک ہو گئے ہیں، پانی نایاب ہو چلا ہے لوگ گدلا اور آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں گیسٹرو کی وبا نے آبادی کو بری طرح متاثرکیا ہے۔

آواران کا نام سن کر سیلانی چونک گیا وہ اس بے آب و گیاہ علاقے میں جا چکا ہے۔ کچھ دن پہلے یہاں ٹرانچ نامی علاقے میں بھی گیسٹرونے لوگوں کو بیمار کر دیا تھا۔ ایک بلوچ دوست نے ٹرانچ کے ایک کمرے کے اسپتال کی تصویر واٹس اپ پر بھیجی تھی، اس اکلوتے کمرے کے اسپتال کے باہر دیوار کے سائے میں پتھریلی زمین پر دس پندرہ افراد لیٹے ہوئے طبی امداد کا انتظار کر رہے تھے، سخت گرمی اور پتھریلی زمین اور اس پر پڑے ہوئے بیمار وجود۔۔۔ سیلانی نے بلوچ نوجوان سے کہا ’’یہ تو رمضان سے پہلے کی بات نہیں؟‘‘

’’جی سر!مئی میں وہاں گیسٹرو پھیلا تھا ایک تو گرمی اور پھر پہاڑ کی گرمی۔ پانی دیکھنے کو نہیں وہاں لوگ جو پانی پیتے ہیں آپ شہر کے لوگ ایک گھونٹ نہیں پی سکتے، علاقے میں بیماری پڑ گئی، ہر گھر میں کوئی نہ کوئی چارپائی پر پڑا تھا۔ پھر آرمی والے ادھر آئے انہوں نے کیمپ لگایا ہم لوگوں کی جان میں جان آئی، آرمی کے ڈاکٹر نہ آتے وہ پانی کا ٹینکر نہ لاتے سب لوگ ختم تھے، کوئی نہیں بچتا‘‘

’’اوہ لیکن آرمی کے آنے سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟‘‘

’’سر !کیسا مسئلہ؟ مسئلہ ان کے لیے ہوگا جو پہاڑوں پر گئے ہوئے ہیں، آرمی نے تو وہاں کیمپ لگا کربیماروں کی جانیں بچائی ہیں، ابھی ادھر کچا روڈ بھی بنا رہے ہیں۔ ان کی مشینیں وہاں لگی رہتی ہیں کام کر رہی ہیں، لوگ تو خوش ہیں میں تو کم از کم ان کا دل سے احسان مانتا ہوں اور میں اکیلا نہیں پورا گاؤں آرمی کا احسان مند ہے، یہ لوگ نہیں پہنچتے تو گیسٹرو نے بہت تباہی کرنا تھی‘‘۔

’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

’’گل داد بلوچ۔۔۔میں دبئی میں ہوتا ہوں، گیسٹرو سے میرا بوڑھا والد اور والدہ دونوں بیمار ہوگئے، والد صاحب تو ٹھیک ہو گئے لیکن والدہ کے معدے میں انفیکشن پھیل گیا۔ مجھے تو گھر والوں نے بتایا بھی نہیں تھا کہ میں پریشان ہوجاؤں گا۔ میرا خالہ زاد بھائی والدہ کا علاج کراتا رہا لیکن زیادہ فرق نہیں پڑا۔ تب مجھے گھر والوں نے بتایا اور میں ایمرجنسی میں چھٹی لے کر آیا‘‘

گل داد کی اردو بہت صاف تھی اس کی وجہ اس کی تعلیم ہے وہ پڑھا لکھا گریجویٹ نوجوان ہے۔ گل داد نے سیلانی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں گیسٹرو سے دس اموات ہوئی ہیں جبکہ ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد بیمار ہوئے، وہ افسردہ لہجے میں بتانے لگا ’’جب میں نے چھٹی کے لیے اپنے صاحب سے بات کی تو اور اسے بتایا کہ گاؤں میں سب بیمار ہو گئے ہیں تو اس نے حیرت سے کہا کہ پورا گاؤں کیسے بیمار ہو سکتا ہے؟ میں نے بتایا کہ وہاں گرمی ہے تو کہنے لگا یہاں دبئی میں گرمی نہیں ہے؟ میں نے اسے سمجھایا کہ سر یہاں گرمی ہے تو سہولتیں بھی ہیں ادھر تو پینے کا پانی بھی نہیں، گاؤں والوں نے آلودہ پانی پی لیا تھا۔ وہ حیران ہوگیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا تم لوگوں کی آنکھیں کمزور ہیں گندا پانی نظر نہیں آیا؟ میں اب صاحب کو کیا سمجھاتا مجھے اتنی انگریزی تو نہیں آتی میں نے ساتھ والے دوست کو ساری بات بتائی تو صاحب حیران ہوگیا اس نے کہا کہ یہ صورتحال پاکستان میں بھی ہے؟،ایسا تو افریقہ کے بارے میں پڑھا تھا۔

گل داد نے بتایا میں سال بعد چھٹی پر گاؤں جاتا ہوں اور جو بدحالی دیکھ رکھی ہوتی ہے اس سے زیادہ بدحالی دیکھتا ہوں۔ والدین پرانے ذہن کے لوگ ہیں وہ علاقہ چھوڑنے کو تیار نہیں کہتے ہیں ہمارے ماں باپ کی قبریں یہاں ہیں ان کی قبروں روحوں کو چھوڑکر کیسے جائیں؟

گل داد کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ کے پیٹ میں رسولی ہے، ڈاکٹروں نے آپریشن کا کہا ہے، وہ سیلانی سے دعا کی درخواست کر کے ممونیت بھرے لہجے میں اسکا شکریہ ادا کرکے خود تو کسی طرف بڑھ گیا اور سیلانی کو وہیں سوچوں کے ادھیڑ بن میں چھوڑ گیا۔ بلوچستان پسماندگی میں افریقی ممالک سوڈان اور صومالیہ سے بھی پیچھے ہے۔ یہاں کی آبادی میں تیس فیصد سے زائد لوگ بنیادی سہولتوں سے یکسر محروم ہیں۔ چھ اضلاع واشک، بارکھان، شیرانی، دکّی، صحبت پور میں کوئی اسپتال ہی نہیں ہے۔ ماشکے، دالبندین،ڈھاڈر، بولان، ہرنائی میں کوئی اسپیشلسٹ ہے نہ کوئی گائناکالوجسٹ،کوئی چائلڈ اسپیشلسٹ ہے نہ کوئی جنرل سرجن۔ اوپر سے پینے کا صاف پانی کمیاب ہے، آلودہ پانی سے ہیپاٹائٹس اور دیگر امراض پہاڑوں سے لڑھکنے والے پتھروں کی طرح عام ہیں۔ یہ سب عوامل بلوچوں میں غصہ کاشت کر رہی ہے اور اسی اشتعال کو سرحد پار بیٹھا عیار دشمن استعمال کر رہا ہے وہ بلوچ نوجوانوں میں وطن مخالف جذبات پروان چڑھانے کے لیے سازشیں کر رہا ہے اور ہم ان کاغذی ترقیاتی منصوبوں میں مصروف ہیں جو کھلی آنکھوں سے آواران میں دکھائی دیتے ہیں۔ سیلانی نے بھی جانے کی راہ لی اور چار روز سے جگ رتے کرنے والے گل داد کو تھکے تھکے قدموں سے جاتا دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔