چاند رات - عظمیٰ ظفر

چاند رات کی گہماگہمی نے گھر کے ہر فرد کو مصروف کیا ہوا تھا۔ پاکیزہ جلدی جلدی اپنے کام نمٹانے میں لگی ہوئی تھی تاکہ انتیسویں شب کو ہاتھ سے جانے نا دے۔ کھیر کا پیالہ فریج میں رکھنے کے لیے جب لاؤنج میں آئی تو سامنے استری اسٹینڈ پر فاطمہ کو دیکھا جو اپنے کپڑے استری کرنے میں مصروف تھی۔ گاہے گاہے وہ موبائل پر آنے والے میسیجز کو بھی دیکھتی جا رہی تھی مسکراہٹ بھی اس کے چہرے پر موجود تھی۔

تم نے پہلے استری تو کیے تھے نا اپنے عید کے کپڑے؟ میں نے قریب جا کر پوچھا۔ وہ چاچی دراصل جنید کہہ رہا تھا کہ میں یہ والا پہنوں صبح عید پر۔ اس نے اپنے منگیتر کا نام لیا۔

اچھا ہے نا سوٹ چاچی! اس نے شرٹ سامنے لہرائی۔

ہوں، اچھا ہے۔

دس ہزار کا ہے۔

عیدی والا سوٹ تو نہیں ہے میرے خیال سے، میں نے پوچھا۔ یہ کب آیا؟ آیا کب چاچی، میں نے زبردستی خریدوایا ہے موصوف سے۔ ورنہ اس کنجوس کی جیب سے جلدی نکلتا کہاں ہے۔

فاطمہ اپنی ہی ترنگ میں بول رہی تھی۔

مگر تم نے کیوں لیا؟ آنٹی تو ویسے ہی بہت اچھی عیدی لے کر آئی تھیں۔ قبل اس کے کہ فاطمہ سچ بولنے کے سارے ریکارڈ آج ہی قائم کرتی میں پارلر سے گھر پہنچ چکی تھی۔ فاطمہ!!! میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ پانی پلاؤ جلدی سے مجھے۔ جی امی۔ لاتی ہوں۔

بھابھی شامی کباب اور کھیر تو میں نے تیار کر لیے ہیں، چکن مصالحہ لگا کر رکھ دی ہے۔ آپ کو کوئی اور کام ہے تو بتادیں۔ پاکیزہ نے پوچھا۔

نہیں بس اب باقی صبح ہی ہوگا۔ فاطمہ کے سسرال والے ہی آئیں گے بس تم کھانے کا دیکھ لینا دوپہر میں۔ پاکیزہ نے سر ہلادیا۔ فاطمہ پانی لے کر آگئی۔

واؤ! !! امی بڑی چمک رہی ہیں آپ تو، ابّو کے آنے کے خوشی میں پارلر سے فیشل اؤے ہوئے۔ فاطمہ شوخی سے بولی۔

فضول مت بولا کرو، اب تک تو گھر پہنچ جانا چاہیے ان لوگوں کو بازار سے۔ میں جھینپ سی گئی۔

پاکیزہ نے بھی مسکرا کر انھیں دیکھا۔ جوان بیٹی کے مقابلے میں ان کی تیاری قابل دید تھی۔ فاطمہ کمرے سے وہ سامان بھی لے آؤ جو پاکیزہ اور شامیر کے لیے تمہارے ابو لائے ہیں۔ بھئی بڑی شاپنگ کی ہے تمارے بھائی صاحب نے، گولڈ کی چین بھی لائے ہیں۔ میں نے فخریہ انداز میں پاکیزہ کو بتایا۔

ماشاءاللہ بھابھی اللہ پہننا مبارک کرے۔ میں شامیر کو کھانا کھلا دوں اب ورنہ وہ سوجائے گا۔ پاکیزہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

فاطمہ تو کمرے میں ہی جا کر بیٹھ گئی ہے، میں بھجواتی ہوں سامان۔ میں بھی منہ ہاتھ دھو لوں۔ چاہ تو میں یہی رہی تھی کہ پاکیزہ کو سب سامان اپنے سامنے دکھاؤں۔

پاکیزہ کا شوہر کافی سالوں سے بیرون ملک شارجہ میں نوکری کر رہا تھا جبکہ میرے شوہر کو ابھی شارجہ میں ایک ہی سال ہوا تھا اور دو دن پہلے ہی وہ عید کرنے پاکستان آئے تھے مگر دیور کو کافی سال ہو گئے تھے پاکستان آئے ہوئے اب تو اس کا بیٹا شامیر بھی چھ سال کا ہونے والا تھا۔

پاکیزہ کی سلجھی ہوئی طبعیت اور اپنائیت نے سب کو اپنا گرویدہ کر لیا تھا۔ میری ساس تو اس کا ہی دم بھرتی تھیں۔ یہ باتیں میرے لیے ناقابل برداشت تھیں۔ میں اس کو نیچا دکھانے میں لگی رہتی مگر ناجانے وہ کس مٹی ک بنی تھی مجال ہے کہ کبھی مجھ سے الجھے۔ آج جب اپنی چیزوں کو اُسے دکھا کر اسے جلانا چاہتی تھی تو فاطمہ نے دیر کر دی۔ کھانے سے فارغ ہوکر اسے دکھاؤں گی۔ فاطمہ کے سسرال سے آئے جوڑے اور سامان بھی خود سے کچھ خرید کہ اس میں بڑھا دیے تھے تاکہ عید پر جو آئے، سب کچھ دیکھے۔ تعریفیں سمیٹنا مجھے ہمیشہ سے پسند تھا۔

فاطمہ میرے کمرے میں آجانا ہم آج آخری شب میں بھی ساتھ عبادت کریں گے۔ پاکیزہ نے ہمیشہ کی طرح اسے بلایا۔ ہم کھانا کھا کر فارغ ہوئے تھے۔

چاچی مجھے تو ابھی کام ہے، پارلر جانا ہے، مہندی بھی لگوانی ہے، ٹائم ملے گا تو دیکھوں گی۔ فاطمہ نے عجلت میں کھانا کھاتے ہوئے کہا۔ اس کی ایک نظر موبائل پر، ایک نظر ٹی وی پر تھی۔ چاند رات کی حشر سامانیاں، عید کے پروگرامز کے ساتھ بتائی جا رہی تھیں۔ امّی کل میں خالہ جان کے گھر نہیں جاؤں گی، رات کو یہ والی مووی آئے گی۔ فاطمہ نے صاف انکار کر دیا۔ اچھا اچھا کل کی کل دیکھی جائے گی تمہارے سسرال والوں سے فارغ ہو جاؤں گی تب بتاؤں گی۔ ٹینشن ہوتی ہے اتنے مہمانوں سے۔

اچھا تو پھر کمرے کا دروازہ کھلا ہے تم آجانا۔ پاکیزہ نے جاتے جاتے کہا۔

چند گھنٹوں میں جو بھی رمضان کا تقدس قائم تھا سب بالائے طاق رکھ دیا گیا تھا۔ فاطمہ کا بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ چاند رات منانے اور بازار میں وقت گزارنے چلا گیا۔ ٹی وی سے گانوں اور ڈراموں کا شیطان نکل کر پورے گھر پر راج کرنے لگا۔

پاکیزہ دل گرفتہ سی ہو کر اپنے کمرے میں آگئی۔ شامیر سو چکا تھا۔ اس نے نماز کے لیے نیت باندھ لی۔

اچھا۔ !!! آپا کل ملاقات ہوگی۔ 'ایک گھنٹہ فون پر بات کرنے کے لیے وقت تھا مگر عبادت کے لیے نہیں۔ ' میں نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔ آپا کو شارجہ سے آئے سامان کی بڑائیاں بیان کرکے میرا دل ہلکا ہو چکا تھا۔

ارے!!!! پاکیزہ اور شامیر کا گفٹ تو دیا ہی نہیں۔ ابھی دیتی ہوں۔ میں سامان لے کر اس کے کمرے ک طرف آگئی۔ کمرے کا دروازہ نیم وا تھا۔ اس کی آواز نے میرے قدم اندر جانے سے روک دیے۔ وہ شاید دعا مانگ رہی تھی۔

اے ربِ رحیم! !! مجھ گناہگار نے ہر لمحے کوشش کی کہ اس آگ سے اپنے گھر والوں کو بچا لوں جس کا آئندھن انسان بننے والا ہے اس کی آواز میں آنسوؤں کی آمیزش تھی۔ اللہ جہنم کی آگ سے بچا لینا، یہ رمضان ہم سے رخصت ہو گیا اور میں تیری عبادت کا حق ادا نا کر سکی۔ یا اللہ! میری نماز دکھاوے کی نا ہو، یا اللہ! میرے روزے کو ڈھال بنا دینا۔

میں بے اختیار اس کی دعا کی معصومیت میں اپنا جائزہ لینے لگی۔ وہ خلوص نیت سے عبادت اور روزے گزار کر بھی گڑا گڑا کر مغفرت طلب کر رہی تھی اور میں؟ میں نے اس رمضان میں کیا کیا!! محاسبہ کڑا تھا۔ آواز آنا بند ہو گئی تھی یا شاید میں ارگرد کے ماحول سے نکل کر چند لمحوں کے لیے اپنی نیت کا جائزہ لینے لگی تھی۔ اسی میں کچھ وقت بیت گیا۔

بمشکل کچھ قدم کمرے کی جانب بڑھائے تو اب پاکیزہ کی پشت میرے سامنے تھی اور لیپ ٹاپ پر میرے دیور کی آواز آرہی تھی۔ وہ اس سے بات کر رہی تھی، میں نے اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ پلٹتے پلٹتے میں پھر رک گئی۔

شعیب میرا دیور کہہ رہا تھا۔ مجھے پتہ ہے تمہیں بہت انتظار تھا کہ اس دفعہ میں عید شامیر اور گھر والوں کے ساتھ کروں مگر بھائی جان زیادہ اداس لگ رہے تھے۔ پہلی پہلی بار گھر والوں سے دور رہے ہیں نا، پھر وہ بتا رہے تھے کہ بھابھی نے بھی ضد باندھ لی تھی کہ وہ عید پر آجائیں۔ کوئی بات نہیں آپ پریشان مت ہوں، پاکیزہ نے کہا۔ اچھا کچھ کھلونے شامیر کے لیے بھجوائے ہیں، تمہارا گفٹ ادھار ہے۔ دراصل بھائی جان کو ابھی پوری تنخواہ نہیں مل رہی، یہ نوکری ختم ہو گئی ہے ان کی۔ لہٰذا ان کے ٹکٹ وغیرہ کے پیسے بھی میں نے دیے ہیں۔ وہ تو مان نہیں رہے تھے، بھابھی کو بھی نہیں بتانا کچھ بھی۔

آپ یہ سب مجھے بتا کر اپنی نیکیاں کیوں کم کر رہے ہیں۔ ؟ اللہ آپ کو اس کا اجر دے، پاکیزہ کے لہجے میں بھی سچائی تھی۔ وہ مزید اس سے باتیں کر رہی تھیں۔ اور میرا وجود سناٹے میں آچکا تھا، میں واپس آ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔

خود ستائشی کی تمنا مہنگی پڑی!!!

میں دکھاوے اور بناوٹ سے اسے مات دینا چاہتی تھی اور وہ اپنی سادگی اور سچائی سے پھر جیت گئی تھی۔

پاکیزہ کے کمرے سے پاکیزگی کی روشنی پھوٹ رہی تھیں اور میں جگمگاتے ہوئے بھی ماند پڑ رہی تھی۔ چاند رات ہوتے ہوئے بھی میرے وجود میں تاریکی بھر گئی تھی۔

Comments

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.