گنتی کے چند دن - ام محمد عبداللہ

ایاما معدودات، گنتی کے چند دن۔ آخری روزہ ہے۔ عجیب بے چینی اور اضطراب نے اس کے دل کو جکڑ رکھا ہے۔ کچھ کھو جانے۔ کچھ بھی حاصل نہ کر سکنے کا احساس آنسو بن کر آنکھوں کے کنارے گیلے کرنے لگتا ہے۔ اسی بے کلی میں ادھر سے ادھر وہ سارے گھر میں چلتے پھرتے بظاہر کام سمیٹتے ہوئے اپنا محاسبہ کرنے لگی تھی۔

میرا نیکیوں کا بیگ! اس نے چشم تصور سے اپنی رمضان کی کمائی دیکھنے کی کوشش کی۔ آمد رمضان پر یہ بیگ بھرنے کی بہت خواہش اور منصوبہ بندی کی تھی اس نے۔ لیکن اب یہ بیگ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ اس نے بے بسی سے ہاتھ ملے۔

اس روز دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ گھر والوں کو تو جیسے تیسے سحری کھلا دی تھی لیکن مجھے خود بہت دیر ہو گئی تھی۔ اذان کے دوران بھی کھاتی رہی۔ چند لقمے اذان کے بعد بھی۔ ہائے اللہ میرا وہ روزہ ہوا بھی کہ نہیں۔ ایک آنسو اور پلکوں کے بند توڑ گیا۔

قیام الیل، تلاوت قرآن پاک، ذکر و اذکار، دعائیں، خصوصی عبادات اور صدقہ خیرات۔ کوانٹٹی اور کوالٹی دونوں ہی پہلو غیر تسلی بخش تھے۔ میں نے تو کچھ نہ کمایا۔ اس نے اپنا آپ ایک فیل ہونے والے طالب علم کی مانند بے بس پایا۔

جھوٹ تو کوئی ایک بھی نہیں بولا میں نے۔۔ گھر والوں کا بھی ہر ممکن خیال رکھا ہے۔ کسی کی حق تلفی نہیں کی۔ ذرا سا اطمینان محسوس ہوا۔ اور وہ جو بدگمانی نے دل میں ڈیرہ جمایا تھا۔ اور غیبت بھی۔۔ ایک اور خیال ذہن میں لہرایا اس نے اپنی زبان زور سے دانتوں تلے کاٹی۔ یہ کہیں کا نہ چھوڑے گی مجھے۔ ہائے جہنم تو بڑی بری جگہ ہے۔ اور میرے پاس اس سے بچنے کے لیے کیا ہے۔؟ ؟

روزے کا مقصد تھا تقوی کا حصول۔ میں تو یہ مقصد حاصل نہ کر پائی۔ مایوسی نے چاروں جانب سے اسے جکڑ لیا۔

اسے لگا۔ سیاہ تاریک رات، سیاہ لباس میں ملبوس لمبے گھنے سیاہ بال کھولے وہ کسی سیاہ تاریک انجانے راستے پر دوڑتی چلی جا رہی ہے۔ کبھی چیخ کر رونے لگتی اور کبھی مدہم آواز میں سسکیاں لینے لگتی۔ اس کے کپڑے اور اس کے بال اس ماتم میں اس کے ہم آہنگ ہو کر پھڑپھڑانے لگتے۔ ننگے پاؤں تیز دوڑنے سے محسوس ہوتا تھا جیسے کنکر، سنگ ریزے اس کے پاؤں میں چبھ رہے ہوں۔ وہ رو رہی تھی، فریاد کر رہی تھی، یا رب العالمین! یہ میرا نفس اور شیطان مجھے تجھ سے دور لے گئے۔ مجھے تجھ سے دور لیے جاتے ہیں۔ مجھے اپنے راستے پر لے آ۔ ہدایت کے راستے پر۔ اپنے قرب کے راستے پر۔

سارا دن اسی بے چینی میں بیت گیا۔ جو ٹوٹا پھوٹا ذکر سارا رمضان ساتھ رہا تھا۔ ستائیسویں روزے اسی مایوسی کی نذر ہو گیا۔

مؤذن نے مغرب کی اذان بلند کی۔ بجھے دل کے ساتھ روزہ افطار کرتے ہوئے ایک خیال روشنی بن کر مایوسی کے اندھیروں میں جگمگایا۔ *انما الاعمال بالخواتیم۔ * سب اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے۔ (بخاری و مسلم) بے اختیار اس کے لبوں پر درود شریف آگیا تھا۔ *اللھم صل علی محمد و علی آل محمد* ابھی رمضان ختم تو نہیں ہوا۔ ابھی تو تین، چار شب باقی ہیں۔ ابھی تو میرے پاس ایک موقع اور ہے۔ ابھی تو۔۔۔ دن بھر کے پریشان کن خیالات کو امید کی رحمت نے ایک نئے جوش میں تبدیل کر دیا تھا۔ جلدی جلدی ضروری کام نمٹا کر وہ عشاء کی نماز کے لیے وضو کر رہی تھی۔ آنسو تواتر سے آنکھوں سے بہہ رہے تھے لیکن یہ آنسو دن بھر کے مایوسانہ آنسووں سے یکسر مختلف تھے۔ یہ التجاء کے آنسو تھے۔ یا رب العالمین سارا رمضان اپنی جہالت اورسستی میں گنوا کر میں تجھ سے آج کی رات کی رحمت، برکت اور مغفرت کا سوال کرتی ہوں۔ یا رب العالمین آج کی رات وہ لمحہ عطا کر دے جو خالص تیرے لیے ہو۔ وہ ایک لمحہ میرے مولا جو میری دنیا و آخرت سنوار دے۔ وہ ایک لمحہ جو میری مغفرت کا بہانہ بن جائے۔ وہ ایک لمحہ جو مجھے تیری رضا و خوشنودی دلا دے۔ میرے آقا مجھے بخش دے۔ ہر معاملے میں میرا انجام اچھا کر مجھے دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لے۔ یا رب العالمین یا رب العالمین مجھے بخش دے۔ مجھے بخش دے!

رب کرے رمضان کے آخری لمحوں کی یہ تڑپ اس کی اور ہم سب کی بخشش کا سبب بن جائے۔ اور یہ لمحے زندگی بھر میں کی جانے کوتاہیوں کا ازالہ کرنے والے ہوں۔ آمین یا رب العالمین!