درسِ نظامی کا تعلیمی نصاب نظرِ ثانی کا منتظر - محمد فیاض

تعلیم اور نصاب کا تعلق صرف استاذ، شاگرد اور درسگاہ سے نہیں ہے بلکہ اس کا براہ ِراست تعلق اس زندگی سے ہے جو ہر لمحہ رواں دواں اور تغیر پذیر ہے۔ اس لیے بہترین نصاب وہی ہو سکتا ہے جو ایسے علوم وفنون پر مشتمل ہوجو انسانی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی نقاضوں سے ہم آہنگ ہو نیز انسانی فکر کے تاریخی ارتقاء کا عکاس ہو اور جن کے پیش ِنظر ایسے رجال ِکار کی تیاری ہو جو سوسائٹی کے انفرادی اور اجتماعی رویوں کی مثبت تشکیل ممکن بنا سکیں۔

اسلامی تاریخ کا سرسری مطالعہ بھی اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ تعلیمی اداروں نے نظام ِتعلیم اور نصاب میں معروضی حالات کے پیش ِنظر بقدر ضرورت وتقاضا تبدیلیاں کی ہیں۔ جیسا کہ مکتب میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کبھی طب اور کبھی تیر اندازی کی مشق اور نیزہ بازی کے فنون بھی نصاب کا حصہ رہے ہیں۔

بر ِصغیر میں بھی انگریزی اقتدار سے قبل مدارس میں جس علوم وفنون کی تعلیم دی جاتی تھی اس میں دینی اور دنیاوی کی کوئی تفریق نہ تھی۔ نواب سعداللہ خان جو سلطنت مغلیہ کے وزیر ِاعظم بنے، حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے کلاس فیلو تھے اور تاج محل کے معمار استاذ احمد بھی حضرت مجدد کے ہم جماعت تھے۔ یعنی دینی مدارس سے فارغ التحصیل فضلاء دین اور دنیا دونوں میں ایکسپرٹ ہوتے تھے۔ لیکن بُرا ہو انگریز کا اس نے اقتدار کی کرسی تو خالی کر دی لیکن ہمارے تعلیمی نصاب و نظام میں ایسی دراڑ ڈالی کہ آج بھی ہمارے اہلِ حل و عقد کماحقہ اس کی تلافی نہیں کر پائے۔

لکھنے کو بہت کچھ ہے، جو یقیناً ان کے لیے ہے جن کو زمانے کی چال اور تقاضوں کا علم نہ ہو لیکن آپ جیسے متبحر، تجربہ کار، دور اندیش اور مثبت انقلاب کے مفکر کے لیے صرف اس طرف توجہ مبذول کروا دینا ہی کافی ہے۔ جی ہاں! بلاشبہ آپ مانتے ہیں کہ اس وقت معاشرہ کیسے افراد کا متمنی ہے کیاہمارے مدارس ِاہلسنت ایسے رجالِ کار تیار کررہے ہیں؟اگر نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ باوجود وسائل اور سہولیات کے میسر ہوتے ہوئے بھی مدارس کے طلباء و فضلاء اپنے بنیادی تعلیمی حقوق سے محروم ہیں، آخر ہم کسی چیز میں کوتاہی کر رہے ہیں؟ بسیار سوچ وبچار کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شاید ہمارا تعلیمی نصاب عرصہ دراز سے کچھ تبدیلوں اور کچھ اضافوں کا متقاضی ہے۔

ہمارا موجودہ نصاب تفقہ فی الدین کے لیے تو نہایت موزوں ہے مگر عصری علوم میں کردار ادا کرنے اور اسلامی معاشرہ کے ہر عام و خاص تک اسلام کی درست تعلیمات پیہم پہنچانے کے لیے شاید ناکافی ہے۔

اگر آپ علماء ِملت کو قوم کے ہر فورم پر اسلام کے ترجمان کے طور پر شانہ بشانہ کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ماضی بعید کی طرح مسجد و مدرسہ کی ایک ہی چھت تلے مستقبل کے عظیم قائدین کی بھر پور ٹرینٹگ کا اہتمام کریں اور اس کے لیے نصاب میں غیر معمولی تبدیلی ناگزیر ہے۔

اٹھو وگر نہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یہ کام اتنا ہی ضروری ہے تو اب تک نامور مدارس کسی فورم پر یہ اہم مسئلہ زیرِ بحث کیوں نہیں لائے؟ تو جناب شاید وہ بھی کسی ہم خیال آواز کے منتظر ہوں کہ:

میں کروں پہل کہ ادھر سے ہو ابتداء

اب ہم بطور تجویز کے چند نگارشات پیش کررہے ہیں، اگر تائید مزید حاصل ہو جائے تو فوراً سے پیشتر اس کو نافذ کرنا بے حد ضروری ہوگا۔

٭ درس ِنظامی میں داخلے کی اہلیت کا کوئی معیار مقرر کیا جائے۔ (میٹرک پاس یا کم از کم مڈل پاس ہونا ہی مناسب معیار ہوگا)۔

٭ ہر فن کی پہلی کتاب اردو میں ہو (درجہ اولیٰ میں نحومیر فارسی میں اور صرف بھترال بھی فارسی میں ایسے طالب ِعلم کو پڑھانا جو کہ ابھی اردو سے بھی پوری طرح واقف نہیں ہے ، ہماری ناقص فہم میں یہ بات نہیں آسکی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابتدائی گرامر میں کمزوری رہ جانے کی وجہ سے طالب ِعلم کی عبارت پرگرفت نہیں ہوپاتی۔

٭ اسی طرح ایک فن کی کتاب کو بالاستعاب پڑھایا جائے تاکہ متعلقہ فن کی تمام اصطلاحات پر عبور حاصل ہوجائے۔ (تعلیم المتعلم میں صاحب ِھدایہ کے شاگر د علامہ زرنوجی علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ ایک فن جب تک مکمل نہ ہوجائے دوسرا شروع نہ کیا جائے)۔

٭ شعبہ درس ِنظامی درجہ اعدادیہ تا ابتدائی دوسال تک فن خطاطی۔

٭ ابتدائی کم از کم دودرجات میں فن کی کتب فارسی کے بجائے اردو میں انتہائی ناگزیر ہیں۔

٭ ابتداء تا دورۂ حدیث تک مکمل ایک پیریڈ انگلش (جس سے گریجویشن کرنے اور ایم فل، پی ایچ ڈی کی راہیں بھی ہموار ہوجائیں گی۔

راقم الحروف کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب ایم اے اسلامیات کی ڈگری برائے معادلہ کے لیے ایک یونیورسٹی میں Applyکیا تو بقول متعلقہ افسر کے کہ مدارس کے اکثر طلباء کو فارم بھر نابھی نہیں آتا تووہ ایم فل کیسے کریں گے؟)۔

٭ کم از کم ابتدائی چار درجات تک، مطالعہ پاکستان، سائنس وریاضی کی کتب کا اضافہ اورباقاعدہ پیریڈ کا اہتمام۔

٭ امتحانات میں جدید طرز پر مبنی پرچہ جات۔ یعنی ایک حصہ کثیرالانتخابی سوالات (MCQs) اور دوسرا مختصر سوالات۔

٭ خاص طور پر اصل متن اور متعلقہ عنوان کے مندرجات کا احاطہ کرنے والے سوالات کا التزام۔

انشاء اللہ عزوجل اس کے بہت بہترین نتائج بر آمد ہوں گے مزید برآں یہ کہ طلباء، تنظیم المدارس کی بھر پور تیاری کے ساتھ ساتھ اے گریڈ لینے کے بھی متحمل ہوجائیں گے اور پھر کوئی بعید نہیں کہ پاکستان بھر میں وہ نمایاں پوزیشن حاصل کریں۔

فن ِمنطق میں اس وقت درس ِنظامی میں درجہ اولیٰ سے درجہ خامسہ تک جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں تعلیم المنطق، مرقات، شرح تہذیب اور قطبی ہیں۔ جن میں سے بنیادی کتاب تعلیم المنطق کا اردو میں ہونا خوش آئند ہے لیکن قابل ِ افسوس اس لیے ہے کہ اس سے کماحقہ ٗ استفادہ نہیں اٹھایا جاتا، کیوں کہ اس کے ساتھ نصاب میں داخل کتاب’’ المطالعۃ العربیۃ‘‘ ضم ہے ٗ پیریڈ میں بھی اور پیپر میں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ سال بھر میں ان کا ختم ہونا مشکل ہوجاتا ہے اور ’’تعلیم المنطق‘‘ میں مذکور آخری صفحات کی اصطلاحات و تعریفات سے طالب ِعلم ناآشنا رہ جاتا ہے جس کی کمی اس کو مرقات پڑھتے وقت محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح شرح تہذیب اور قطبی میں بھی ہوتا ہے جو ابحاث شرح تہذیب کے اوائل میں پڑھی جاتی ہیں وہی قطبی میں بھی وہیں تک سال بھر میں پڑھاجاتاہے۔ یہی حال صرف ونحو کا بھی ہے کہ درجہ اولیٰ میں ان فنون کی دونوں کتابیں فارسی میں ہیں (نحومیر، میزان الصرف، صرف بھترال اور علم الصیغہ)۔ ہماری ناقص عقل میں یہ بات اب تک نہیں اس کی کے جو طالب ِ علم بمشکل پرائمری پاس کر کے درس ِنظامی میں داخلہ لیتا ہے اور جس نے شاید فارسی کا نام بھی چندمرتبہ سنا ہو اس کے سامنے جب پہلے دن فارسی کی کتابیں رکھی جاتی ہیں اس کو عربی گرامر تو کجا ان الفاظ کا ترجمہ بھی سمجھ نہیں آتا ہوگا۔ پیر کرم شاہ الازہری صاحب نے اپنی ایک تحریرمیں ایسے نصاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ: ابتدائی طلبہ پر فارسی کتب بوجھ ہیں۔ بہرکیف منجملہ یہ باتیں کہہ دی ہیں بقیہ تجاویز اور یہ کہ ان سے زیادہ مفید کتابیں کون سی ہونی چاہیےں یہ سب اگر آپ سنجیدگی سے غور کریں گے تو ضرور معلوم پڑجائیں گی۔

بخدا! یہ تنقید برائے تنقید نہیں ہے بلکہ تنقید برائے اصلاح ہے اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمارے اسلاف کی لکھی ہوئی کتابیں اور ترتیب دیا ہوا نصاب غیر مفید ہے بلکہ یہ ہر پہلو سے اپنی افادیت میں ممتاز ہے لیکن جس طرح ایک طبیب مختلف موسموں میں ایک ہی مرض کے لیے مریض کے مزاج کے موافق الگ الگ نسخے تجویز کرتا ہے تاکہ اصل بیماری کو جڑ سے ختم کیا جائے ایسے ہی ہر گزرتے زمانے کے ساتھ نصاب کی ترتیب میں تبدیلی بھی طلبہ کے مزاج اور ضرورت کا تقاضہ ہے۔

امید کرتے ہیں کہ آپ اس مکتوب کو پڑھنے کے بعد نہایت سنجیدگی سے غور فرمائیں گے نہ صرف اس لیے کہ آپ اس مشن کے لیے زرِ کثیر خرچ کر رہے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ لاکھوں نوجوان اپنی زندگیاں اس اہم مقصد کی تکمیل او ر قوم وملت کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔

علامہ اقبال نے بھی اپنی وفات سے چند سال قبل ایسے علماء کی ضرورت محسوس کی جو تاریخ، اقتصادیات و عمرانیات کے حقائق سے آشنا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کے ادب وتخیل میں پوری دسترس رکھتے ہوں۔

ماہنامہ الشریعہ 2000ء میں چھپنے والے ایک مضمون کا اقتباس پیش کررہے ہیں: ’’آج ہمارا امام سوسائٹی میں جا کر یہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جو کچھ پڑھا وہ irrelevant ہے اور یہاں جو لوگ سوال کررہے ہیں اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تو وہ پڑھی ہوئی چیزوں کو relevant بنانے کے لیے وہاں وہ مسائل پیدا کرتا ہے جو اس کے اپنے مسائل ہیں تاکہ وہ لوگوں کے بھی مسائل بن جائیں اور جب وہ ان کے مسائل بن جائیں گے اور وہ پوچھیں گے تو میں ان کا جواب دوں گا۔

حرف ِآخر: اس سب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آپ صرف ان علماء اور سینیئر اساتذہ کرام سے رابطہ قائم کریں جوطلباء کے روشن مستقبل کے خواہاں ہوں۔ انشاء اللہ جب یہ سرجوڑ کر بیٹھیں گے تو ضرور کوئی لائحہ عمل تیار کرکے آپ کے سپرد کریں گے۔