رمضان المبارک کے مہینے میں ہماری شاعری - اے وسیم خٹک

اس رمضان میں گرمی کے باعث لکھنے لکھانے کے شغل سے کافی دور رہے ـ کوئی بھی ارٹیکل نہیں لکھا جا سکا ـ صرف فیس بک وال پر اشعار کے ذریعے دوستوں کے ساتھ گدگدیاں ہوتی رہی جسـمیں میرے دوستوں نے کافی چھترول کی کیونکہ میں کوئی پروفیشنل شاعر تو ہوں نہیں نہ رموز شاعری سے آشنائی ہے بس خیالات امڈتے ہیں اور اپنے ایک محترم انصار خلجی صاحب کو تھوڑی تکلیف دے دیتے ہیں کہ شاعری کی نوک پلک سنواردیں اور وہ بے چارے سر دھن کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اب شاعری کہاں سے ٹھیک کروں ـ کوئی سر ہوتا ہے کوئی پیر ہوتا ہے ـ یہاں تو بس ایک خیال کا تانہ بانہ ہوتا ہے ـ شاعری نام کہ کوئی چیز نہیں ہوتی ـ انصارصاحب حوصلہ دیتے ہیں کہ اپ لکھ سکتے ہو لکھو ـ شاعری ہر کسی کے بس کی بات نہیں ـ تھوڑا دلاسہ ملتا ہے تو ڈھارس بندھ جاتی ہے ـ

کالج میں تھے تو اردو سے شغف تھا وہ الگ بات کہ بقول وسی بابا کے ہماری اردو ٹھیک نہیں ہوسکتی بلکہ کسی بھی پٹھان کی اردو ٹھیک نہیں ہے وہ خود بھی کہتا ہے کہ میری اردو اب تک ٹھیک نہیں ہوسکی سر اور داڑھی کے بال سفید کر لئے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عارف خٹک کی اردو بھی ایویں ہی ہے ـ جس کا اعتراف عارف خٹک بھی کرتے ہیں کہ وہ اردو کی ماں بہن ایک کرتا ہے پھر اسے ٹھیک اس کہ بیوی کرتی ہے ـ توہم بتارہے تھے کہ کالج میں اردو بطور مضمون لیا تھا وہ اس لئے کہ سوچ تھی کہ اردو پڑھنے والے اخبارات میں کام کرتے ہیں اور لکھتے ہیں ـ وہ بعد میں پتہ چلا کہ صحافت بھی ایک بلا ہوتی ہے ـ کالج میں ہمارے ایک استاد محترم جاوید افریدی صاحب ہوا کرتے تھے خدا انہیں زندہ وسلامت رکھے ایک دن پوچھا کہ اردو ادب میں ہو اور شاعری نہیں کرتے ـ ہم نے کہا کہ ارٹیکل لکھتے ہیں تو بولے وہ صحافت میں اتا ہے ادب میں نہیں ـ شاعری کرو شاعری یہی ادب ہے ـ اور ایک ٹاسک دیا کہ کل ایک نظم لکھ کر لانی ہے اور یوں شاعری ڈر کی وجہ سے شروع ہوئی کہ استاد محترم کو کیا جواب دیں گے ـ نظم کی تعریف ہوئی جو کہ ایک آزاد نظم تھی شاید "اُسے کہنا" عنوان تھا ـ بس پھر کیا تھا خود کو ولی دکنی اور غالب سمجھنے لگے اور پھر لائبریری میں تمام شعراء کی کتابیں پڑھیں ـ پروین شاکر، فاخرہ بتول اور نوشی گیلانی کو صنف نازک کی وجہ سے پڑھا اور پھر وصی شاہ کی انکھیں بھیگ جاتی ہیں نے مارکیٹ پکڑی تو وہ بھی لسٹ میں آگئے اور احمد فراز، جون ایلیا تو پہلے سے ہی پسندیدہ تھے ـ

یہ بھی پڑھیں:   اختتامِ رمضان - رومانہ گوندل

بی اے ہوگیا تو یونیورسٹی میں داخلہ ہوگیا جہاں ماحول اور ایک بہت محترم صحافی دوست فدا عدیل سے ملاقات ہوگئی جس نے کالم نگاری سے روشناس کروایا اور ایک دن ویسے ہی ایک خیال دیا کہ اس پر ایک نظم لکھنی ہے ـ یہی سے خیالات پھر اشعار کی صورت میں کاغذ پر بیٹھنے لگے وہ اشعار نہیں تھے بلکہ پیغامات ہوا کرتے تھے ـ ہم نے پیغام رسانی کے لئے اشعار کا سہارا لیا تھا ـ فدا عدیل کی بدولت شاعری ہوتی رہی جو اردو کی غلطیاں نکالتے رہے اور یوں ایک نو اموز شاعر کے طور شعبہ میں نام ہونے لگاـ یہ شغل دو سال تک نوٹس بورڈ پر رہاـ یہ وہ وقت تھا جب روز عشق ہوتا تھا ـ روز کسی کی مسکراہٹ کو پیار سمجھتے تھے ـ یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ اس کے لئے یعنی شاعری کے لئے عشق ضروری ہے حالانکہ شاعری سے پہلے عشق پرخار میں قدم رنجہ ہوئے تھے ـ مگر شاعری نہیں تھی ـ پھر فیس بک آیا تو شاعری پروان چڑھی اور خود کے بہت سے اشعار زبان زد عام ہوئےمگر ان اشعار کو ہم اپنا نہیں کہہ سکتے کیونکہ فیس بک پر چور بہت ہیں اور جب تک کتاب میں شاعری چھپی نہ ہو وہ آپ کے کریڈیٹ پر نہیں آتی ـ کاغذ پر نوٹ کرنے کے دن ہوا ہوگئے ہیں ـ بس فیس بک اور ٹویٹر پر خیالات ڈال دیئے واہ واہ سمیٹی تھوڑی دیر کے بعد وہی شاعری کسی اور کے وال پر آپ کا منہ چھڑا رہی ہوگی اپ کو کوئی کریڈٹ بھی نہیں دیتا ـ سوشل میڈیا پر خیالات کی چوری عام بات ہے کیونکہ اس کے لئے کوئی فلٹر نہیں ہے ـ

سوشل میڈیا پر شعر شئیر ہوتے گئے دوستوں کی تنقید اتی رہی کوئی تنگ ہوتا تو کسی کو شاعری پسند انے لگی ـ اب معلوم نہیں واقعی میں پسند ہے یا صرف دل رکھنے کے لئے واہ واہ کرتے ہیں ـ اس رمضان تھوڑے اشعار رمضان اور روزوں کی مناسبت سے وال کی زینت بنائے تو درگت بنی ـ کہ یہ کون سی شاعری ہے ـ اگر شاعری ایسی ہوتی ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں ـ مگر یہ صرف کہنے کی حد تک باتیں ہیں ـ شاعری اور لکھنا خداداد صلاحیت ہے جو کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے ـ اس سال جو وال پر شاعری ہوئی اُس میں سے چند اشعار اپ بھی ملاحظہ کریں.

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (6) - یوسف ثانی

بڑی مشکل سے میں نے نبھایا ہے اسے
پہلا روزہ بھی لگا پہلی محبت جیسا

نگاہ یار نے جب تکلم کیا وسیم
تب روزہ محبت کا افطار کر لیا

بوسہ لیا جو ہم نے حسن یار کا وسیم
سحری کیساتھ ھی افطاری بھی ہوگئی

ان اشعار پر خوب بحث ہوئی جس میں کسی نے رائے پیش کی کہ حسن یار کی دید ہوتی ہے ـ بوسہ نہیں لیا جاسکتاـ کسی نے کہا کہ شاعر کے ذہن میں فتور اگیا تھا ـ ایک کی رائے تھی کہ روزوں کے حوالے سے شاعری کرکے مشہور ہونے کی کوشش ہے ایک کا موقف تھا یہ شاعری تو ہم بھی کرسکتے ہیں ـ ایک شعر پر کمنٹ آیا کہ تکلم سے روزہ افطار نہیں ہوسکتا ـ خیر بہت زیادہ لے دے ہوئی اور ہم اب یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ مثبت تنقید تھی یا شاعری کے صنف سے مجھے دور رکھنے کی سازش ہورہی ہے ـ بقول انصار صاحب کے کہ اب وسیم روزروں کے بعد سحری اور افطاری کے الفاظ نکل جائیں گے اور عید، ، دید اور شدید جیسے الفاظ احاطہ کرلیں گےـ