حبل الورید - منزہ احتشام گوندل

وہ دوپہر عام دوپہروں جیسی ہرگز نہیں تھی۔ بلکہ کچھ مختلف، کچھ زیادہ گرم مگر کسی بشارت سے مملو، اور ایک ایسی رات کے بعد کی دوپہر جس رات میں آ سمان چمکدار ستاروں سے جھلملاتا ہو۔

وہ کہتا ہے میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ اتنا قریب ہے۔ اس دن وہ ایک درویش کے روپ میں نہیں تھا بلکہ ایک جوتشی کے روپ میں تھا۔ دروازہ اکثر کسی نہ کسی سوالی کی موجودگی سے بھرا ملتا ہے۔ کبھی صدا سن کے ماں کہتی ہیں درویش ہے۔ کبھی لحن میں پکار سن کے جوگی کہتی ہیں۔ جب ساتھ میں بندر ہو تو مداری بلاتی ہیں۔ جب ریچھ اور گدھے کو ہمراہ لیے ہو تو ماں کہتی ہیں قلندر ہے۔ گلے میں رنگ برنگے منکوں کی مالائیں ہوں تو ملنگ پکارتی ہے۔ چھڑی سے دروازہ بجانے والے کو فقیر کہتی ہے۔ لمبی لمبی جٹاؤں میں آنے والے کو سادھو کہتی ہے اور اس بشارتوں والی دوپہر جب وہ آ یا تو ماں کی ناک نے کوئی نامانوس سی خوشبو محسوس کی اور کہا کہ جوتشی ہے۔ جاو اسے پانی پلاؤ اور روٹی کا بھی پوچھنا۔ تو یوں ہوا کہ میں چل پڑی۔

بابا! میں نے پکارا۔ ہر اس شخص کو بابا کیوں کہتے ہیں جو اپنے جلو میں کہانیاں لیے پھرتا ہے؟ جوتشی نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ پانی کا سوال تھا میں نے بادیہ پکڑا دیا۔ دونوں ہاتھوں سے بادیہ پکڑ کر اس نے پانی پیا۔ اس کی انگلیاں طرز طرز کے نگینوں والی انگوٹھیوں سے بھری تھیں۔ پانی پی کر برتن اس نے مجھے واپس کردیا۔ میں وہیں بیٹھ گئی۔ میرے اندر سوالوں کی برسات رہتی ہے ہروقت۔ میں نے بات شروع کی۔ بے آواز گفتگو، میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا تھا کہ وہ اس بے آواز گفتگو کا سمعی شریک ہے۔ بابا اپنے دھیان میں گم تھا۔ کوئی بشارت ہمارے آس پاس منڈلا رہی تھی۔ ہم اپنے قصے کو حکایتوں سے شروع کرتے ہیں، جوتشی نے کہا۔

حکایتوں سے کیوں بابا؟

اس لیے کہ ہر سچ کا انت کہانی ہے۔

بھرے مجمع میں تنہائی کا احساس کہانی کی بنیاد ہے۔

دوستوں کی موجودگی میں تنہائی کا احساس تو مجھے بھی ہوتا ہے بابا۔ میں نے جس سے بھی محبت کی اس نے دل کو ٹھوکر دی۔ میری ماں نے کبھی میرا کردار نہیں سمجھا، وہ جب بھی بات کرتی ہے میرا دل توڑتی ہے حالانکہ اس کے بچوں میں سے میں سب سے زیادہ اس سے محبت کرتی ہوں۔ میرے چہرے پہ تفکر کھد گیا ہے۔ دوست میری سنجیدگی پہ تنقید کرتے ہیں،انہیں بھی ظاہر سے غرض ہے۔ رنجیدگی کی کیا کوئی قیمت نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   چناب کے پار-سائرہ ممتاز

بیٹی غم کھا کے مسکرانا اللہ کو پسند ہے۔

رونا مجھے تسکین دیتا ہے بابا! میری کوئی شب ایسی نہیں جب میں نے اپنے قلب میں اپنے خدا کی موجودگی محسوس کرکے آ نسو نہ بہائے ہوں۔ بابا ایک بات تو بتاؤ؟

پوچھو بیٹی!

بابا! سچ اور دکھ کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟

ان کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ یہ اکثر ساتھ ہی ہوتے ہیں۔

پھر وہ دکھ جو سچ کے ساتھ ملے، لوگ اس پہ تنقید کیوں کرتے ہیں؟لوگ خوشیوں کے حصول کے لیے جھوٹ بولنے کے مشورے کیوں دیتے ہیں؟

کیونکہ وہ خود چھل کپٹ کے ذریعے اپنی مطلوبہ خوشیوں تک سیڑھی لگا لیتے ہیں مگر پھر بھی تمہارا قد انہیں اپنے سے اونچا لگتا ہے اس لیے۔

بابا! ہم انہیں کیسے باور کرائیں کہ ہم اپنے کردار میں خوش ہیں۔ ہمارا کردار جس میں ایثار ہے، قربانی ہے، کوشش ہے اور نتائج خدا کی رضا پر چھوڑ دینے کا جذبہ ہے۔ میں جب بھی اپنے اس ٹارگٹ کے بے حد قریب ہوئی کوئی نہ کوئی ایسا آدمی میری زندگی میں ضرور شامل کیا گیا جس نے مجھے میرے باطن کے پرسکون خلا سے نکال کر دنیا داری کی تیز چندھیا دینے والی روشنیوں میں لانا چاہا۔ پھر کیا ہوا کہ میں نے کوشش کی تیز چکا چوند میں اپنی آ نکھیں کھولوں، بصارت کو ان کا عادی بناؤں، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ میں پھر اپنے باطن کے روپہلے خلا کی طرف لوٹ پڑی۔

دوستوں کو سمجھ نہیں آتی کہ تم اپنے ٹھنڈی چاندنی والے خلا کے اندر پرسکون ہو۔ وہ تمہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ جہاں انہیں یہ خلا ایک بے پیندہ کنویں کی طرح تاریک اور گہرا نظر آ تا ہے۔ وہ اپنے زعم میں تمہیں تاریکی سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تو کیا یہ محض زاویۂ نگاہ کا فرق ہے؟

یہ زاویۂ نظر کا اختلاف ہے بیٹی!

یہ بھی پڑھیں:   چناب کے پار-سائرہ ممتاز

ایک زاویۂ نظر کے اختلاف پہ اتنا ڈھنڈورا کیوں ہے بابا؟

بیٹی! انسان نے اس زمین پہ ایک لفظ کے اعراب کے اختلاف پہ ایک دوسرے کی گردنیں ماری ہیں۔ زاویۂ نظر تو پھر بھی بڑی بات ہے۔ بڑی بات اس لیے ہے کہ زاویۂ نظر سے ایک پوری شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔

بابا! کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا ہے کہ لوگ دوسروں کی تحصیل سے ناخوش تو ہوتے ہی ہیں مگر کسی مطمئن آدمی کا اطمینان انہیں زیادہ بے آرام کرتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

بیٹی! اس دنیا میں انسان کی ہرطرح کی کوشش کسی نہ کسی منزل کی خواہش کے لیے ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ انسان اپنے خوابوں کی متابعت میں روح کے تقاضوں کو پس پشت کرتا جاتا ہے۔ روح مسلسل کمزور، بیمار اور پھیکی پڑنے لگتی ہے۔ یہ ابتلا ہے جو اسے اور زیادہ ظاہر کی طرف کھینچتی ہے اور باطن کا خلا تاریک سے تاریک تر ہوتا جاتا ہے۔ کبھی کوئی انسان آج تک محض خالی دنیا کما کے مطمئن نہیں ہوسکا۔

بابا! دنیا نہ کمائیں تو لوگ ہمیں کچل کے آ گے نکل جائیں؟

دنیا والوں نے یہ کیوں فرض کرلیا ہے کہ دل کی کھڑکی بند رکھنے سے ہی دنیا داری ہوسکتی ہے۔ چل چھوڑ یہ سوال جواب تو بتا کہاں گئے تیرے وہ شکوے؟

کوئی شکوہ ہی نہیں ہے بابا! زندگی نے بہت کچھ دیا ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ پہ ٹھیک تھا۔ بس ہماری توقعات غلط تھیں۔ یا پھر توقعات ٹھیک تھیں مگر جن سے لگائی گئیں وہ لوگ مناسب نہ تھے۔ ہاں مگر میں انہیں غلط نہیں کہوں گی کہ اپنی جگہ وہ سب ٹھیک تھے۔ بابا، بابا!

میں پکارتی رہ گئی ہوں بابا مگر یہاں کہیں نہیں ہے۔

یہ بشارت کا دن ہے۔ وہ کہتا ہے میں تیری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ جب وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے تو پھر جواب کے لیے کسی دوسرے وجود کی ضرورت کیوں؟

ٹیگز