چاند رات اور انعام ربّانی! حافظ محمد ادریس

ماہِ رمضان کے اختتام پر جب شوال کا چاند نکلتا ہے‘ تو اس رات کو حدیث میں لیلۃ الجائزہ ‘یعنی انعام کی رات قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کی جماعت میں فرماتا ہے کہ اگر کسی مزدور نے پورا کام کر دیا ہو تو اسے کیا بدلہ ملنا چاہیے۔

فرشتے کہتے ہیں ''مولائے کریم پورا اجر ملنا چاہیے۔‘‘ اللہ فرماتا ہے گواہ رہو‘ میرے جن بندوں نے عبادت کا حق ادا کیا ہے‘ میں نے ان کے تمام گناہ معاف کرکے ان کے لیے جنت مقدر کر دی ہے۔ سب سے اچھا عمل روزے کی حالت میں بھی اور افطار کے بعد بھی تلاوت قرآن مجید ہے۔ماہِ رمضان میں آنحضور ﷺ‘ جبریل ؑکے ساتھ قرآن مجیدکا دور کیاکرتے تھے ۔قرآن کو حفظ کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔جتنے حصے یاد ہو جائیں سینے کے نور‘دل کی بہار اور قرار،غموں سے نجات اور پریشانیوں سے خلاصی کا ذریعہ بنیں گے۔ قرآن مجید کو مستند تفاسیر سے سمجھ کر پڑھنا زیادہ مفید ہوتا ہے۔اعتکاف کے دوران تو بالخصوص مطالعہِ قرآن وحدیث کا اہتمام بہت ضروری ہے۔سیرت ِرسولﷺ اور سیرت ِصحابہؓ بھی اس موسمِ بہار میں بہترین زادِ سفر ہیں۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔عربی زبان کے اس لفظ کے مفہوم میں سلامتی بھی شامل ہے اور سرتسلیم خم کردینا‘ یعنی خود سپردگی بھی اس کا ایک معنٰی ہے۔اسلام کی ایک اور تعریف‘ جو اپنی معنویت کے لحاظ سے بہت جامع ہے‘یوں کی جاتی ہے ''اسلام عبادات اور معاملات کا مجموعہ ہے‘‘یعنی اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دو اہم ترین شعبے ہیں۔ان دونوں کے درمیان توازن بھی اسلام کے حسن کو نمایاں کرتا ہے۔روزے میں ان دونوں پہلووں کی نمائندگی ہے۔اللہ سے تعلق روزے کا منشا ہے اور محروم طبقات کی بھوک‘احتیاج اور مشاکل کا احساس اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی روزے کا لازمی تقاضا ہے۔اسلام میں افراط و تفریط کو غیر پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔رمضان کے روزے تو فرض ہیں،نفلی روزوں میں اعتدال کا حکم دیا گیا ہے۔

رمضان کے دوران ایک اہم ترین عبادت اعتکاف ہے۔اعتکاف میں تو بندہ اپنے مالک کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے۔اسلام میں جتنی عبادات ہیں‘وہ انسان کی زندگی کا تزکیہ کرنے‘اس کی سوچ کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالنے اور اس کے قدموں کو طے شدہ منہج پر چلانے کا ذریعہ ہیں۔اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے ‘جس میں ایک محدود مدت کے لیے بندہ دنیوی مصروفیات سے وقت نکال کر مکمل طور پر خود کواللہ کی عبادت ، اپنی اصلاح اور فکر آخرت میں مشغول کرلیتا ہے۔ اعتکاف کے دوران لیلۃ القدر کی تلاش اور اس کے ذریعے اللہ کی رضا بندہ ٔ مومن کا مطمح ِنظر ہوتاہے۔اعتکاف کا لفظی معنی خود کو روکے رکھنا‘کسی چیز کو مضبوطی سے قائم رکھنا اور کسی مقصد سے مکمل وابستگی اختیار کرناہے۔

اعتکاف پر عمل پیر اہونے کا بہت زیادہ اجر ہے۔اعتکاف کے دوران ایک مومن مسجد میں ٹھہرا رہتا ہے اور اللہ سے لو لگائے اس بات کا ہر لمحے بزبانِ حال اعلان کرتا ہے کہ اس نے خواہشات نفس کی اکساہٹوں کو روک دیا ہے اور اللہ سے مضبوط تعلق قائم کرلیا ہے۔روزے کے دوران صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک مومن خود کو کھانے پینے سے روکے رکھتا ہے۔روزہ افطار ہونے کے وقت سے لے کر اگلی صبح صادق تک وہ کھانے پینے اور اپنے شریکِ حیات سے تعلقاتِ زن و شو قائم کرنے میں آزاد ہوتاہے‘ مگر اعتکاف کے دوران دن اور رات کے کسی بھی حصے میںیہ تعلقات قائم کرنا حرام قرار پاتا ہے۔قرآن و حدیث میں اسے 'تبتل‘ کے جامع لفظ سے واضح کیا گیا ہے۔اگرچہ اس لفظ 'تبتل‘ کا مکمل مفہوم تو کسی دوسری زبان میں ایک لفظ میںبیان نہیں کیا جا سکتا‘مگر تفہیم کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ سب سے کٹ کرایک(اللہ )کا ہو رہنا۔اس لحاظ سے اعتکاف تبتل کا بہترین مظہر ہے۔نبی اکرمﷺ نے اعتکاف کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے اور مدینہ منورہ میں قیام کے دوران اس پر عمل کیا ہے۔

رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی حکمتوں میں سے ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ قرآن مجید کی سورۃ القدر کے مطابق رمضان میں ایک رات ایسی ہے‘ جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں قرآن مجید نازل کیا گیا تھا اور ہر سال جب یہ رات آتی ہے‘ تو جبریل امین ؑ‘اللہ کی رحمتیں لے کر فرشتوں کے جھرمٹ میں آسمان سے زمین پر اترتے ہیں۔اس رات کو عبادت میں مصروف اہل ایمان کورحمت ِ خداوندی میں سے وافر حصہ عطا ہوتا ہے اور وہ دوزخ سے خلاصی پاتے اور جنت کے مستحق بن جاتے ہیں۔لیلۃالقدر کے بارے میں یہ روایت بھی ہے کہ آنحضور ﷺ کو پہلے اس رات کے بارے میں بتا دیا گیاتھا ‘مگر پھر وہ علم واپس لے لیا گیا۔غالباً اس کی حکمت یہ ہوگی کہ لوگ ایک ہی رات پر تکیہ کرنے کے بجائے پورے رمضان اور بالخصوص آخری عشرے میں زیادہ سے زیادہ ذوق وشوق کے ساتھ خود کو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کردیں‘جس حدیث کا اوپر ہم نے ذکر کیا ہے،وہ بھی صحیح بخاری میں حضرت عبادہ بن صامتؓ کی زبانی نقل کی گئی ہے ۔ اس حدیث کے الفاظ کا ترجمہ ذیل میں درج ہے ''حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ مسجدِ نبوی سے(یا اپنے خانۂ مبارک سے)نکلے تاکہ ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دیں۔اتنے میں دو مسلمان آپس میں جھگڑنے لگے۔اس پر آپﷺ نے ہم سے فرمایا کہ میں تو تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے نکلا تھا‘ مگر فلاں اور فلاں آپس میں جھگڑ پڑے اور اس دوران وہ اٹھا لی گئی(اس کا علم مجھ سے رفع کر لیا گیا)۔شاید تمہاری بھلائی اسی میں تھی‘لہٰذا اب تم اسے اکیسیوں یا تئیسویں یاپچیسویں رات میں تلاش کرو۔‘‘

سید مودودیؒ لیلۃالقدر کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں ''اب تک جتنی احادیث گزری ہیں‘ ان سب پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ کوئی خاص حکمت اور مصلحت ہے کہ لیلۃ القدر حتمی طور پر حضور ﷺ کو نہیں بتائی اور آپﷺ کو اس بات پر مامور نہیں کیا کہ آپﷺ لوگوں کو یہ بتائیں کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے۔نبی اکرمﷺ کوزیادہ سے زیادہ جو بات بتانے کی اجازت دی گئی‘ وہ یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے اور تم طاق راتوں میں اسے تلاش کرو۔اس حدیث میں طاق راتوں میں سے بھی تین کا ذکرکیا گیا ہے، یعنی21،23اور25۔ بعض روایات میں اکیس سے انتیس تک کی طاق راتیں ہیں اور بعض روایات میں آخری سات دنوں کی راتیں ہیں(کتاب الصوم‘ص 264-265)۔

بعض احادیث میں تئیسویں اور ستائیسویں رات میں لیلۃ القدر کا احتمال بھی بیان کیا گیا ہے‘ اسی لیے لوگ ان راتوں بالخصوص ستائیس کو بطور لیلۃ القدر مناتے ہیں۔دراصل جشن منانے اور روایتی انداز کے جوش و خروش سے وہ حقیقی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ‘ جس کے لیے لیلۃ القدر کا تحفہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو عطا فرمایا۔ اس کا درست اور مناسب طریقہ یہ ہے کہ اہل ایمان خود کو تلاوت و عبادت،ذکر و فکر اور نوافل‘غوروفکر‘ خوداحتسابی اور قیام اللیل کے ذریعے اللہ کے تقرب کا مستحق بنائیں۔

آنحضور ﷺ کا طریقہ مبارک یہی تھا۔اگر کسی شخص کو لیلۃ القدر نصیب ہوجائے ‘تو اس کی خوش بختی میں کوئی شک و شبہ نہیں‘مومن کو ہر دعا پورے یقین کے ساتھ مانگنی چاہیے اور ہر عبادت پورے خلوص اور حضوریٔ قلب کے ساتھ حضورِ حق میں پیش کرنی چاہیے۔حضرت عائشہ صدیقہؓ نے رسول اکرمﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ !اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے‘ تو مجھے اس میں کیا کہنا چاہیے؟آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دعا مانگنی چاہیے''اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی‘‘اے میرے مولا تو بڑا معاف کرنے والا ہے‘تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے‘پس مجھے (بھی)معاف فرما دے ۔(بحوالہ مسند احمد، ابن ماجہ،جامع ترمذی)