ہم جماعتِ اسلامی کی خواتین ہیں - نیر کاشف

محترمہ نبیلہ کامرانی کا اظہارِ خیال پڑھنے کا اتفاق ہوا، جس کا عنوان جلی حروف میں کچھ یوں تھا "جماعت اسلامی کے بچے پی ٹی آئی کے ووٹر کیوں؟''

موصوفہ نے اپنے پڑوسیوں کے بارے میں اپنے مشاہدات لکھے ہیں، جن کے مطابق جماعت اسلامی کی خاتون جو ان کی پڑوسن تھیں، آئے وقت گھر سے باہر رہتیں، اس وجہ سے ان کے بیٹے سارا دن یا تو ہندی فلمیں دیکھتے یا ان فلموں کے گانے بآواز بلند گاتے، نیز کئی برس بعد جب اُن صاحبہ کی ملاقات اِن صاحبہ سے بازار میں ہوتی ہے تو وہ بڑی پریشانی کے عالم میں اِن کو بتاتی ہیں کہ اُن کے بچے زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے، اور اوپر سے پی ٹی آئی کے متوقع ووٹر بن گئے ہیں۔ پھر سوال بھی کرتی ہیں کہ تم بتاؤ میں کیا کروں؟

اس واقعے سے دو باتیں ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلی یہ کہ تمام جماعت والوں کے بچے پی ٹی آئی کے ووٹر بن چکے ہیں، دوسری یہ کہ جماعت کی خواتین گھروں کا خیال نہیں کرتیں، گھومنے اور باتیں بنانے کی شوقین ہوتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر پنے بچوں کی تربیت پہ خاص توجہ نہیں دیتیں۔

اس مضمون نما یادداشت میں اگر دلائل اور حقائق پر مبنی کوئی ایک بھی اہم بات ہوتی تو یقین جانیے، اس وقت یہ سطور لکھنے کے بجائے ہم اس "کالم " کی کاپی نکال کر جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ تک پہنچانے کی تگ و دو میں ہوتے، لیکن کیا کیجیے، محترمہ مصنفہ کی یادداشت کے ساتھ ہماری اپنی یادداشت بھی قرطاس پہ الفاظ کی صورت بکھرنے کے لیے بے قرار ہوگئی۔

سب سے پہلے تو ہمیں اپنی والدہ محترمہ ہی یاد آئیں، جنہوں نے جماعت کے مشن کو اپنا مقصد زندگی بنایا اور ایسا بنایا کہ ان کی ذات پہ بس ایک ہی رنگ چڑھا نظر آیا، صبغۃ اللہ۔ وہ خاتون جنھوں نے صرف چار جماعتیں پڑھ رکھی تھیں، تفہیم القرآن اور جماعتی لٹریچر کے مستقل مطالعے نے انہیں سوچ اور عمل میں اس قدر گہرائی بخش دی کہ ملنے والے ماننے کو تیار نہ ہوتے کہ انہوں نے گریجویشن سے کم کی ڈگری لے رکھی ہوگی۔ دور دراز علاقوں میں دین کے بنیادی احکامات سے بے بہرہ خواتین کے لیے درس کروانے کے لیے جاتی اپنی والدہ کے کئی چاہنے والوں سے آج آپ کو یہیں سوشل میڈیا پہ بھی ملوا سکتی ہوں، جن کی زندگیوں میں تبدیلی ان کے ذریعے سے قرآن سے جڑنے سے آئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے ان کے ساتھ جہاں اجتماعات عام میں شرکت کی، وہیں تنظیمی نوعیت کے پروگرامات میں بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھی، اور تین روزہ تربیت گاہوں میں بھی جہاں وہ مجھے ایک ڈائری اور قلم پکڑا دیا کرتیں کہ اجتماع گاہ میں لگے ہوئے چارٹس پر درج عبارتیں میں نوٹ کرتی جاؤں۔ مجھے یاد ہے کہ اجتماع گاہوں میں میر ےجیسے اور کئی بچے ہوتے اور ہمارے لیے علیحدہ سے گوشہِ اطفال بھی ہوا کرتا، جہاں ہمیں مختلف سرگرمیاں کروائی جاتیں۔ واضح رہے کہ میں آج خود جماعت اسلامی کی رکن ہوں، اور میرے ساتھ اجتماع گاہوں میں بڑے ہوئے کئی بچے بھی جماعت کے متحرک ارکان و کارکنان ہیں۔

یہ خیالات رقم کرتے ہوئے ایک یہ بھی خیال آیا کہ میں تو کیونکہ ایک عدد لڑکی تھی، اس لیے امی کے ساتھ ساتھ رہی، لیکن لڑکوں کی ماؤں کا کیا؟ ان سے ملیے، یہ ہیں عصمت تصویر خالہ جان (اللہ ان کی مغفرت فرمائے) جو زندگی بھر جماعت کی جانب سے ملنے والی مختلف ذمہ داریاں نبھاتی رہیں، اور ان کے دونوں بیٹے والد کا سایہ سر پہ نہ ہونے کے باوجود کسی دوسری پارٹی کا حصہ نہیں بنے، بلکہ اطاعت و فرماں برداری میں اپنی مثال آپ بنے۔
ہماری عائشہ منور خالہ جان کو دیکھ لیجیے، جو قیمہ پاکستان رہیں اورجن کی بیٹی اپنے علاقے میں جماعت کی متحرک کارکن ہے، ساتھ ساتھ ان کا بیٹا بھی جماعت کی مختلف سرگرمیوں سے کسی نہ کسی طرح منسلک رہتا ہے اور کسی بھی دوسری پارٹی کاحصہ نہیں بنا۔

میرا اپنا تعلق جماعت اسلامی خواتین کی مرکزی نشر واشاعت سے ہے، اگر صرف ہماری ٹیم ہی کی بات کی جائے تو ہم پانچ افراد پر مشتمل ٹیم کے ہر ممبر کے بچے الحمدللہ کسی نہ کسی سطح پہ جماعت جمعیت کا حصہ ہیں۔ واضح رہے کہ جماعت سے تعلق رکھنے والی خواتین دعوتی سرگرمیوں اور قرآن کی دعوت عام کرنے کے لیے گھروں سے نکلتی بھی ہیں تو اس طرح کہ ان کے گھر متاثر نہیں ہوتے۔ الحمدللہ باہمی تعاون اور محبت کی فضاء ان گھرانوں میں عام گھرانوں سے کچھ زیادہ تو پائی جا سکتی ہے کم ہرگز نہیں۔
ہماری ایک ذمہ دار فرد کی صاحبزادی کی ایک پوسٹ کا کچھ حصہ ضرور نقل کروں گی جو گزشتہ سال ہمارے سرکل میں بے حد مقبول رہی، شاید ایسے ہی نام نہاد الزامات کے جواب کے لیے اس سے قدرت نے پہلے ہی یہ جذبات قلم بند کروا لیے:

''اور پھر بڑا کردار تربیت میں اس بیوہ ماں کا ہے جس نے اپنی بھری جوانی یتیم بچوں کے لیے وقف کر دی۔ ان کا اعتماد دینا ہی تو تھا جس نے حوصلہ دیا، اجتماعات میں شرکت کے لیے اجازت کا تو مسئلہ ہی نہیں تھا۔ اکثر اچانک آکر کہنا کہ امی مغرب کے بعد درس دینا ہے تیاری کروا دیں، اور پھر امّی کا سمجھا سمجھا کر درس کے لیے پوائنٹ لکھوانا۔
جب کبھی فون یا laptop استعمال کرتا دیکھتیں تو کہتیں 'اللہ دیکھ رہا ہے، مجھ سے ڈر کر نہیں رکنا بلکہ اللہ کے ڈر سے برے کاموں سے رکنا ہے۔'
ان کے یہ جملے ہی ہماری گناہ کے کاموں سے کراہیت کے لیے کافی ہوتے۔ خود بھی قرآن کے مطالعہ اور تدریس میں مصروف رہتیں۔ راتوں کو تہجد کے لئے اٹھنا، دعاؤں کا اٹھتے بیٹھتے باآواز بلند پڑھنا، بیدار ہوتے ہی نماز پڑھنا، بڑھ کر لوگوں کا خیال رکھنا۔ یہی تو وہ ساری صفات تھیں جن کو ہم بھی اپنانے میں سبقت کی کوشش میں لگے رہتے۔
الحمدللہ اس غفلت بھری جوانی میں بھی تہجد قضاء نہیں ہوئی۔
امی کو ہمیشہ پڑھتے دیکھا، وہ یہی کہتیں کہ دیکھو آگے میں نہیں ہوں گی۔
اپنا اللہ سے اچھا سا connection بنالو۔
اس کے سامنے ہی اپنی پریشانیاں شکایتیں رکھنا۔
وہ سننے والا ہے، وہی تمہیں سہارا دے گا۔
اتنی عظیم نصیحت
اتنا زبردست تعلق جو بے شک ٹوٹنے والا نہیں۔
قرآن سے کمال کا تعلق، کچن میں کاموں کے دوران بھی اس سے غفلت گوارا نہ کرتیں، کوئی خاص قصہ یا بات آتی تو ضرور پوچھتیں کہ بتاؤ کیا بات ہو رہی ہے۔ اس طرح اور شوق بڑھتا، قرآن سے تعلق اور مضبوط ہوتا۔
ایک خیرخواہ ماں...
حیا کے معاملات میں بہت احتیاط کرتیں اور ہماری بھی اصلاح کرتیں۔ نیک اولادیں جب ہی پروان چڑھتی ہیں جب والدین عظیم ہوں۔ ابّو کے بغیر اکیلے امّی کس طرح یہ کٹھن ذمہ داری نبھاتیں۔ بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ امی ہمیشہ ایک دعا ضرور مانگتیں کہ 'اے اللہ جس طرح تو نے حضرت محمدؐ کو بغیر باپ کے بہترین سیرت و کردار والابنادیا تھا، اس طرح میری اولاد کو بھی بنا، ان کا سرپرست بن جا، ان کی اٹھان بھی ویسے ہی کرنا!!''

یہ ہے ایک ماں کا کردار جس کی تربیت جماعت اسلامی نے کی ہے۔ واضح رہے یہ تو صرف کراچی سے ہی بس چند ہی مثالیں ہیں، جیسے دیگ کے چند دانے، ورنہ تو جماعت اسلامی سے جڑی ماؤں کی پوری دیگ ہی ایسی ہے. الحمدللہ

مذکورہ بالا مضمون چاہے مضحکہ خیز ہی کیوں نہ لکھا گیا ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک کہانی گھڑ کر جماعت سے جڑی خواتین کی شبیہ مسخ کرنے کی دانستہ کوشش کی گئی۔ یاد رہے کہ جماعت اسلامی کا حلقہ خواتین کسی بھی دوسری پارٹی کے مقابلے میں بڑا اور منظم ترین ہے۔ خواتین اس میں پورے اہتمام اور وقار کے ساتھ اپنا کام کرتی ہیں۔ تصویر کا اصل رخ یہ ہے کہ معاشرے میں کمزوریاں در آئی ہیں، اور اس نے یکساں طور پر گھرانوں کو متاثر کیا ہے۔ معاشرے میں موجود تمام برائیوں مثلاً اولاد کی نافرمانی، میڈیا کا غلط استعمال، نوکروں پہ زیادتی، پڑوسیوں سے بدسلوکی، یہ عام رویہ اور مزاج ہے، مگر یہ تمام خامیاں ایک گھرانے میں جمع کر کے اور اسے جماعت اسلامی کے عمومی گھرانے پر چسپاں کرکے یہ نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ جماعت اسلامی سے جڑے ہر گھر کے بچوں کا بیڑہ غرق ہی ہوگیا ہے، اور اس کی سب سے اہم نشانی یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ووٹربن گئے ہیں۔ ہم جیسی جماعت کی متحرک خواتین اور ہمارے بچوں پر ایسا جھوٹ گھڑنا اور چسپاں کرنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ تربیتِ اطفال تو ویسے بھی ہمارا خاص ہدف ہے، جس کے تحت باقاعدہ تربیتی پروگرامز اور ورکشاپس رکھی جاتی ہیں، اور میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ بچوں کی نفسیات کو سمجھنے اور اس کے مطابق ان سے معاملات کرنے کا تصور عام افراد تک پہچانے میں جماعت اسلامی کے تحت ہر سطح پر منعقد کردہ مدرز ورکشاپ کا ایک بڑا حصہ ہے، گلی محلوں کی سطح پر جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے شعبہ اطفال کے تحت منعقدہ سلسلے وار پروگرامز پورے پاکستان میں جاری ہیں ،جن میں بچوں کی دینی،اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف چھوٹے موٹے ہنر بھی سکھائےجاتے ہیں۔ فری ثمر کیمپس کا محلوں کی سطح پر انعقاد کا سہرا بھی جماعت اسلامی، اسلامی جمعیت طالبات اور طلبہ کے علاوہ کسی کے سر نہیں جاتا۔ کوئی دوسری پارٹی تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ بےغرض اور بےلوث جدوجہد کرنے والی جماعت اسلامی کی باہمت کارکنان اس معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہم جماعت اسلامی کی تربیت یافتہ خواتین ہیں، ہم اس بات سے مکمل طور پہ آگاہ ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کس نہج پہ کرنی ہے، ہمارے لبوں پہ تو ہر دم ''وجعلنا للمتقین اماما'' کا ورد رہتا ہے، ہمارا ہدف صرف اس ملک کو نہیں اس امت کو امام فراہم کرنا ہے، ہماری زندگیوں کا مرکز و محور کوئی سیلون، کوئی شاپنگ پلازہ نہیں، اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔

ہاں! ہم مانتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی فرشتہ نہیں ہے، ہم مانتے ہیں کہ ہماری اولادیں بھی فرشتہ نہیں ہیں، لیکن ہمیں ایک لاپرواہ اور گھنٹوں بلاوجہ گھر سے باہر پھرتے رہنے والی خواتین میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کبھی ہمارے اجتماعات میں آئیے تو سہی، ایک چٹی ان پڑھ عورت سے لے کر پی ایچ ڈی خواتین تک سے ملیے، جن میں فارغ البال بھی ہیں اور گودوں میں شیر خوار بچے سنبھالتی ہوئی بھی۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہیرے ہیں جو معاشرے کی تراش خراش میں مصروف ہیں، مقصد سب کا ایک ہے، اس معاشرے کی اصلاح، جو صرف ہمارا نہیں آپ کا بھی معاشرہ ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم جماعت اسلامی کی خواتین ہیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • نير! جزاك الله خيراً كثيراً
    آپکا مضمون میری والده ,میری اور میری بچی کا ترجمان هی-
    اور هم تینونالحمدالله رکن جماعت وجمیعت هین-جماعت اسلامی معاشره مين خواتین کو نوجوان نسل کی تربیت كرنا سکها رهي هي- تو کیا هم اپنی اولاد هی کو محروم رکههينكي