رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (6) - یوسف ثانی

احادیث کی کتب میں موجود اوامر و نواہی کی موضوعاتی درجہ بندی کی چھٹی اور آخری قسط پیش ہے۔ پانچویں قسط یہاں ملاحظہ کیجیے۔

74۔ نام رکھنا اور عقیقہ کرنا:

اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں (مسلم) جسے اللہ تعالیٰ اولاد دے تو چاہیے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھی تربیت کرے (بیہقی) عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرو۔ (ابوداؤد، نسائی) نبی نے حسنؓ کے عقیقہ میں ایک بکری کی قربانی اور بالوں کے وزن بھر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا(ترمذی) نبی ﷺ نے کھجور چبا کر نومولود کے منہ (تالو) میں لگادی اور اس کے لےے برکت کی دعا کی لڑکے کا عقیقہ کرنا لازم ہے۔ اس کی طرف سے خون گراؤ اور تکلیف دُور کرو (بخاری)

75۔ نجات کا آسان طریقہ:

جو چُپ رہا وہ نجات پاگیا (مسند احمد، جامع ترمذی، مسند دار می،بیہقی)

نجات حاصل کرنے کا گُر:

زبان پر قابو رکھنا اور اپنے گناہوں پر اللہ کے حضور میں رونا(جامع ترمذی)

76۔ نعمت، کفرانِ نعمت:

دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے۔ صحت و تندرستی اور فرصت کے لمحات- جس کو اللہ نے لمبی عمر عطا کی حتیٰ کہ ساٹھ برس کی عمر کو پہنچ گیا۔ پھر اللہ اس کے کسی عذر کو قبول نہیں کرتا(بخاری) جوانی کو بڑھاپا آنے سے پہلے، تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے، خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے، فراغت کو،مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت آنے سے پہلے غنیمت جانو(ترمذی)

77۔ نماز: اوقات، صفات اور اقسام

دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں(بخاری) اللہ نے رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں (بخاری) نماز یوں کے امام کو چاہیے کہ ہر رکن کے ادا کرنے میں تخفیف کرکے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرے(بخاری) معراج میں پانچ نمازیں مقرر کی گئیں جو ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہیں- کوئی بھی شخص ایسے ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس میں اس کے شانے پر کچھ نہ ہو- نماز کے لیے اگر کپڑا وسیع ہوتو اس سے التحاف کرلیا کرو اور اگر تنگ ہوتو اس کی ازار یعنی تہبند بنالو- نبیﷺ بچھونے پر نماز پڑھتے اورحضرت عائشہؓ آپ کے اور سجدہ کی جگہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھیں- صحابہ کرام ؓ گرمی کی شدت کی وجہ سے سجدہ کی جگہ پر اپنے کپڑے کا کنارہ بچھالیتے تھے-رسول اللہ ﷺ اپنے جوتوں سمیت بھی نماز پڑھ لیتے تھے- نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان کشادگی رکھتے تھے- نبی ﷺ اپنی سواری پر جس سمت بھی وہ رخ کرتی، اسی سمت نفل نماز پڑھتے رہتے اور جب فرض نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے- نماز میں شک ہوجائے تو ٹھیک بات سوچ کر اسی پر نماز مکمل کرلو اور سلام پھیر کردو سجدہ سہو کرلو۔ دورانِ نماز اپنے قبلہ کے سامنے نہ تھوکو۔ تھوکنا ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوکو- جس جگہ نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لو۔ نبیﷺ بکریوں کے رہنے کی جگہ میں بھی نماز پڑھ لیتے- اپنی کچھ نمازیں اپنے گھروں میں ادا کیا کرو اور انہیں قبریں نہ بناؤ - نمازِتہجد کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو دو رکعت کر کے پڑھنی چاہیئے-رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ- جماعت کی نماز، اپنے گھراور بازار کی نماز سے ثواب میں پچیس درجے فوقیت رکھتی ہے (بخاری) اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہ نماز ہے جو اپنے وقت پر پڑھی جائے پھر اس کے بعد والدین کی اطاعت کرنا اور اس کے بعد اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ اللہ پانچوں نمازوں کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹادیتا ہے- نماز میں کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے- جس کی نمازِ عصر جاتی رہے، وہ ایسا ہے گویا کہ اس کا گھر اور مال ضائع ہوگیا - جو شخص کسی نماز کو بھول جائے تو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے، پڑھ لے (بخاری) اورجو تم میں سے سب سے بڑا ہو وہ تمہارا امام بنے (بخاری) جب اذان کہو تو اپنی آواز بلند کرو۔ موذن کی آواز سننے والا جن یا انسان روزِ قیامت گواہی دے گا- جو شخص اذان سن کر اذان کی دعا پڑھے تو اس کو قیامت کے دن نبی ﷺکی شفاعت نصیب ہوگی- اگر اذان اور پہلی صف کا ثواب معلوم ہوجائے اورلوگ قرعہ ڈالے بغیر اسے نہ پائیں تو ضرور قرعہ ڈالیں- جب صبح کی اذان ہوجاتی تو دو رکعتیں ہلکی سی فرض کے قائم ہونے سے پہلے پڑھ لیتے تھے- ہر دو اذانوں یعنی اذان و اقامت کے درمیان ایک نماز ہے۔ اگر کوئی چاہے تو پڑھ سکتا ہے- اچھی باتوں کا حکم دو اور نماز قائم کرو- جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے- نماز کے لیے نہایت اطمینان سے آؤ۔ جس قدر نماز پاؤ پڑھ لو، جس قدر جاتی رہے اس کو پورا کرلو- جماعت کی نماز، تنہا نماز پر ستائیس درجہ ثواب میں زیادہ ہے-منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ کوئی نماز گراں نہیں گزرتی - نفل نمازوں میں افضل نماز وہ ہے جو اپنے گھر میں ادا ہو- جب کھانا آگے رکھ دیا جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھالو- اگر باجماعت نماز میں کوئی بات پیش آجائے تو سبحان اللہ کہے۔ تالی بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے- کیا نماز میں اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لینے والے کویہ خوف نہیں کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سا سر بنادے؟ بستی میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز باجماعت نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان یقینا قابو پالے گا (مسند احمد) جس کی چالیس دن تک ہربا جماعت نماز کی تکبیر اولیٰ فوت نہ ہو تو اس کے لیے دو برا تیں لکھ دی جاتی ہیں(ترمذی) کھاناسامنے ہوتو نماز کا حکم نہیں ہے اور نہ ایسی حالت میں کہ پائخانے یا پیشاب کا تقاضا ہو (مسلم) حضرت انسؓ اور اُن کے بھائی نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اپنے گھر میں اس طرح نماز پڑھی کہ اُن کی والدہ اُم سلیم اُن دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں (مسلم) جب تم نماز کو آؤ اورامام سجدے میں ہو تو تم سجدے میں شریک ہوجاؤ اور اس کو کچھ شمار نہ کرو۔ جس نے امام کے ساتھ رکوع پالیااُس نے نماز کی وہ رکعت پالی (سنن ابی داؤد) نبیﷺ دونوں سجدوں کے درمیان رَبِّ اغفِر لِی(اے اللہ!میری مغفرت فرما) کہا کرتے تھے(نسائی) آخری تشہد پڑھ کر جہنم و قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائش سے اور دجال کے شر سے پناہ مانگو (مسلم) جوفرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھے گا اس کے لیے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا-4 رکعات ظہر سے پہلے، 2 رکعات ظہر کے بعد، 2 رکعات مغرب کے بعد، 2 رکعات عشاءکے بعد اور 2 رکعات فجر سے پہلے (ترمذی) اگر نماز کے دوران اونگھ آ جائے تو نماز توڑ کر سو جانا چاہیئے (بخاری)۔ امام کو نماز میں تخفیف کرناچاہیے۔ مقتدیوں میں ضعیف، بوڑھے اور صاحبِ حاجت بھی ہوتے ہیں- صفوں کو بَرابَر کرلو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں میں تغیر کردے گا (بخاری) کھڑے ہو نے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اوراگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو- جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی تونبی ﷺ بیٹھ کر قرا ت کرتے پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے اور تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے۔ (بخاری) نماز میں اللہ کے ساتھ مشغولی ہوتی ہے اس لیے نماز میں اور کسی طرف مشغول نہ ہونا چاہیئے- سجدہ کرتے وقت مٹی وغیرہ برابر کرنا ہو تو ایک مرتبہ سے زیادہ نہ کرو- نبی ﷺ نے نماز کے دوران سلام کا جواب نہیں دیا- نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی کولہے پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے- آپ ﷺ نے غلطی سے پانچ رکعتیں پڑ ھ لیں تو سلام کے بعد دو سجدے سہوکے کیے۔(بخاری) جو کوئی نماز قائم کرنے والوں میں سے ہو گا تو وہ نماز کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا(بخاری) سب سے بہتر عمل نماز ہے (مو طا امام مالک) جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہور یعنی وضو ہے (مسند احمد)

اذان:

اذان دو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کردیا کرو اور جب اقامت کہو تو رواں کہا کرو(ترمذی) اذان دیتے وقت اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں دے لیا کرو۔(ابن ماجہ) قاعدہ یہ ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ (ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ) اللہ اور اپنے آقا کا حق ادا کرنے والا نیک غلام،کسی جماعت کا وہ امام جس سے لوگ خوش رہے اور پانچوں وقت اذان دینے والا قیامت کے دن مشک کے ٹیلوں پر ٹھہرائے جائیں گے۔ (ترمذی) جس نے سات سال تک اللہ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے آتش دوزخ سے برا ت لکھ دی جاتی ہے۔ (ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ)

اوقاتِ نماز:

گرمی کی شدت ہو تو ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے یعنی ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔ نبی ﷺ فجرکی نماز ایسے وقت پڑھتے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا تھا- ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب آفتاب ڈھل جاتا تھا- عصر کی نمازایسے وقت کہ کوئی مدینہ کے کنارے تک جاکر لوٹ آئے اور آفتاب متغیر نہ ہو- عشاء کی تاخیر میں تہائی رات تک آپﷺ کچھ پرواہ نہ کرتے تھے- عشاءکی نماز سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو بُرا جانتے تھے- نمازِ عصر کا ایک سجدہ آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے پالے تو اسے چاہیے کہ اپنی نماز پوری کرلے- نمازِ فجر کا ایک سجدہ طلوعِ آفتاب سے پہلے پالے تو اسے بھی چاہیئے کہ اپنی نماز پوری کرلے- مغرب کی نماز پڑھ کے ایسے وقت لوٹ آتے کہ تیر کے گرنے کے مقام کو دیکھ سکتے۔ نماز فجرکے بعد آفتاب نکلنے سے پہلے اورنماز عصر کے بعد غروب آفتاب سے پہلے نماز پڑھنا منع ہے- جب آفتاب کا کنارہ نکل آئے تو نماز موقوف کردو یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوجائے- جب آفتاب کا کنارہ چھپ جائے تو نماز موقوف کردو یہاں تک کہ پورا آفتاب چھپ جائے(بخاری) عصر کی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب غروب ہوجائے، کوئی نمازنہ پڑھی جائے- فجرکی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجائے، کوئی نمازنہ پڑھی جائے(بخاری) جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے وہیں فوراََ ادا کرلو کہ فضیلت اسی میں ہے(بخاری)

سترہ:

نبی ﷺ نے بطحا میں اس حالت میں نماز پڑھائی کہ آپ ﷺ کے سامنے ایک نیزہ گڑا ہوا تھا اور آپﷺ کے سامنے سے عورتیں اور گدھے نکل رہے تھے- کسی چیز کی آڑ میں نماز پڑھنے والے کے سامنے سے کوئی نکلنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ اسے ہٹا دے- اگر نماز ی کے سامنے سے نکلنے والا یہ جان لیتا کہ اس پر کس قدر گناہ ہے تو بے شک اسے چالیس دن تک کھڑا رہنا بھلا معلوم ہوتا اس بات سے کہ اس کے سامنے سے نکل جائے- نبی ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور حضرت عائشہؓ عرضاً آپ کے سامنے بستر پر سو رہی ہوتی تھیں- نبیﷺ اس حالت میں نماز پڑھ رہے ہوتے کہ اپنی نواسی امامہ بنت زینبؓ کو گود میں اٹھائے ہوتے۔ (بخاری)

نماز کی صفتیں:

نبیﷺ جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی رفع الیدین کرتے- نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں- نماز میں ادھر ادھر دیکھنا شیطان کی جھپٹ ہے- اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورة فاتحہ نہ پڑھے- نبی ﷺ پہلی رکعت میں لمبی قرا ت کرتے تھے اور دوسری میں اس سے چھوٹی سورت پڑھتے- نماز میں اگر سورہ فاتحہ سے زیادہ نہ پڑھو تو بھی کافی ہے۔ اور اگر زیادہ پڑھ لو تو بہتر ہے- پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں مزید پڑھتے۔ آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھتے- امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ جس کی آمین ملائکہ کی آمین سے مل جائے اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے- سجدہ، سجدوں کے درمیان کی نشست اوررکوع سے اپنا سر اٹھانے کی حالت تقریباً برابر برابر ہوتے تھے- امام سَمِعَ اللہ لِمَن حَمِدَہ کہے تو تم اَللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الحَمد کہو- فجرو مغرب کی نماز کی آخری رکعت میں سَمِعَ اللہ لِمَن حَمِدَہ کے بعد قنوت نازلہ پڑھا جاتا تھا- اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ پر حرام کردیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے۔ سجدہ سات ہڈیوں پر کرو: پیشانی بمعہ ناک کی نوک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاؤں- نبی ﷺ نماز کی طاق رکعت میں جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے تھے، کھڑے نہ ہوتے تھے- نماز میں بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اپنا داہنا پیر کھڑا کرلو اور بایاں دہرا کر لو- آپ ﷺ نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا تو سیدھے ہوگئے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ پر چلی گئی- جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھ زمین پر رکھ دیئے نہ ان کو بچھایا اور نہ سمیٹا، پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کرلیں - پھر جس وقت دو رکعتوں میں بیٹھے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھے اور داہنے پیر کو کھڑا کرلیا- جب آخری رکعت میں بیٹھے تو بائیں پیر کو آگے کردیا، داہنے پیر کو کھڑا کرلیا اور اپنی سرین پر بیٹھ گئے۔ پہلی دو رکعتوں کے اختتام پر بھولے سے کھڑے ہوگئے، بیٹھے نہیں تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدہ سہو کیے- فرض نماز سے فراغت کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا نبیﷺ کے دَورِ اقدس میں رائج تھا- ہر نماز کے بعد 33، مرتبہ سُبحَانَ اللہ، الحَمدُاللہ اور 34 مرتبہ اللہ اَکبَرُ پڑھا کرو (بخاری)

نماز فجر:

نبی ﷺ فجر کی دو رکعات سنتوں کی بڑی حفاظت فرمایا کرتے تھے- رسول اللہ ﷺ نمازِ فجر سے پہلے پڑھی جا نے والی دونوں رکعتیں بہت ہلکی پڑھتے تھے- سونے والے کی گردن کے پیچھے گدی پر شیطان تین گرہ دے دیتا ہے۔ بیدار ہونے، وضو کرنے اور نماز فجر پڑھنے سے یہ تینوں گرہیں کھل جاتی ہیں- جو نمازکے لیے اٹھنے کی بجائے صبح تک سوتا ر ہے تو شیطان اس کے کان میں پیشاب کردیتا ہے (بخاری)

نماز وتر:

نمازِ شب کی دو دو رکعتیں ہیں- رات کے ہر حصہ میں نبیﷺ نے نمازِ وتر پڑھی ہے- تم رات کے وقت اپنی آخری نماز وتر کو بنا ؤ- نبی ﷺ سفر میں نمازِ وتر اپنی سواری پر پڑھا کرتے تھے (بخاری) نماز و ترحق ہے۔ جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے(سنن ابو داؤد)

تہجد:

تم تہجد ضرور پڑھا کرو (ترمذی)

نماز جمعہ:

ہر بالغ پر جمعہ کے دن نہانا ضروری ہے- اچھی طرح غسل کرکے نماز جمعہ کے لیے پہلی گھڑی میں چلے تو گویا اس نے ایک اونٹ کا صدقہ کیا- جمعہ کے دن غسل کرے، بالوں کو تیل لگائے، خوشبو استعمال کرے پھر اس کے بعد جمعہ کی نماز کے لیے نکلے۔ تو اس کے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیان کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے- امام خطبہ پڑھ رہا ہو اور تو اپنے پاس والے سے یہ کہے کہ چپ رہ تو بے شک تونے لغو حرکت کی- جب خوب سردی ہوتی تھی تو نبی ﷺ جمعہ کی نماز سویرے پڑھتے تھے- اور جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو جمعہ کی نماز کو ٹھنڈا کرکے یعنی ٹھنڈے وقت پڑھتے تھے (بخاری) تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو(بہیقی) جمعہ کی باجماعت نماز غلام، عورت، کمسن اور بیمار کے علاوہ ہر مسلمان پر لازم ہے (ابو داؤد)

بچوں کی نماز:

بچے سات سال کے ہوجائیں تو نماز کی تاکید کرو اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز میں کوتاہی کرنے پر ان کو سزا دو اور ان کے بستر بھی الگ کردو (سنن ابی داؤد)

عورتوں کی نماز:

گھر کے اندرونی حصے میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، اُس نماز سے بہتر ہے جو بیرونی دالان یا صحن میں پڑھی جائے۔ گھر میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، مسجد میں پڑھی جانے والی نماز سے بہتر ہے (مسند احمد) اگرنبی ﷺ عورتوں کی موجودہ حالت دیکھ لیتے توانہیں مسجدوں میں جانے سے روک دیا جاتا جیسے سابق انبیاؑ نے بنی اسرائیل کی عورتوں کو عبادت گاہوں میں جانے سے روک دیا تھا، حضرت عائشہ ؓ (مسلم)

نماز عیدین:

نمازِ عید سے پہلے رسول اللہ ﷺ طاق کھجوریں کھاتے تھے- عید الاضحیٰ کے دن سب سے پہلے نماز پڑھیں۔ اس کے بعد واپس آکر قربانی کریں- جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس کی قربانی نہیں ہوئی- رسول اللہ ﷺ کے عہد میں عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن نمازِ عید کی اذان نہ کہی جاتی تھی- یہ سب لوگ خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھتے تھے- ایّام تشریق (ماہ ذی الحجہ) کے دس دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں- تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہہ لیتا تھا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہہ لیتا تھا۔ کسی کو بھی ممانعت نہ کی جاتی تھی- نبی ﷺ ایک راستے سے عیدگاہ جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے (بخاری)

نماز گرہن:

جب گرہن کو دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو- گرہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور نماز پڑھو اور صدقہ دو - نبی ﷺ نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا تھا- سورج گرہن دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو، اُس سے دعا مانگو اور استغفار کے لیے جھک جاؤ- نمازِ کسوف یعنی گرہن کی نماز میں آپ ﷺ نے دو رکعتوں کے اندر چار رکوع اور چار سجدے کیے(بخاری)

آیت سجدہ:

جب نبی ﷺ آیت سجدہ پڑھتے تو سجدہ کرتے تھے اور ہم بھی اسی وقت سجدہ کرتے تھے- ہجوم کی وجہ سے آیت سجدہ پر سجدہ کرنے کے لیے ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ پاتا تھا (بخاری)

نماز سفر:

نبی ﷺنے مکہ میں اُنیس دن قیام فرمایا اور برابر قصر کرتے رہے۔(اڑتالیس 48 میل یا 77 کلو میٹرسے زائد کی مسافت ہو تو نماز قصر پڑھی جاتی ہے) رسول اللہ ﷺ، امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر بن خطابؓ نے منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں- عورت کے لیے جائز نہیں کہ محرم کے بغیر ایک دن رات کی مسافت کا سفر کرے- نبی ﷺ سفر میں عجلت کے سبب مغرب کی تین رکعات کی نماز میں تاخیر کرتے اور پھر تھوڑی ہی دیر ٹھہر کر عشاء کی نماز پڑھ لیتے اور اس کی دو رکعتیں پڑھتے- نبی ﷺ نفل نماز سواری پرپڑھ لیتے تھے حالانکہ آپ ﷺ قبلہ کی سمت نہیں جا رہے ہوتے۔ آپ ﷺ کو سفر میں سنتیں پڑھتے کبھی نہیں دیکھا- نبی ﷺ سفر میں ہوتے تو ظہر اور عصر جمع کرلیتے اور مغرب اور عشاءکو بھی جمع کرکے ادا فرماتے تھے۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اول نماز آخری وقت میں اور ثانی نماز اول وقت میں اس طرح پڑھی کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملا کر پڑھی گئیں ہیں) (بخاری)

نماز تہجد:

نبی ﷺ جب بیمار ہوئے تو ایک رات یا دو رات آپ ﷺ تہجد کے لیے نہیں اٹھے- رسول اللہ ﷺ نے نمازِ چاشت کبھی نہیں پڑھی اور میں اسے پڑھتی ہوں، حضرت عائشہ ؓ- رسول اللہ ﷺ کو وہ عمل پسند تھاجو ہمیشہ کیا جائے - نبی ﷺ رات کو تیرہ رکعت پڑھتے تھے، جس میں وتر اور سنتِ فجر کی دو رکعتیں بھی ہوتی تھیں- نبی ﷺ کو رات کے وقت نماز پڑھتے بھی دیکھا جاسکتا تھا اور سوتے ہوئے بھی۔ رسول اللہ ﷺ شروع رات میں سوتے تھے اور اخیر رات میں اٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ نماز کے بعد پھر اپنے بستر کی طرف لوٹ آتے تھے پھر جب موذن اذان فجردیتا تو آپ ﷺ اٹھتے - رسول اللہﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہ پڑھتے تھے-ہر ایک اپنی طبیعت کے خوش رہنے تک نماز پڑھے پھر جب تھک جائے تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے- تم اُس شخص کی طرح نہ ہوجاناجو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا تھا پھر اُس نے رات کا اٹھنا اور نماز پڑھنا ترک کردیا (بخاری)

78۔ وراثت، ترکہ،وصیت:

اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جاؤ۔ یہ اُس سے بہتر ہے کہ انہیں فقیر چھوڑ جاؤ اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں (بخاری) ہر مہینے میں تین روزے رکھنا، نماز چاشت پڑھنا۔ اور وتر پڑھ کر سونا۔ (بخاری) کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو شب بھی اس طرح رہے کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو- وصیت کے وقت دو انصاف والے تم میں سے یا تمہارے غیروں میں گواہ ہونے چاہئیں (بخاری) میراث اس کے مستحقوں تک پہنچا دو۔ جو کچھ بچے وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے (بخاری) جوانتقال سے قبل وصیت کر گیا تو اس کا انتقال ٹھیک راستہ پر اور شریعت پر چلتے ہوئے ہوا۔لہٰذا اس کی موت تقویٰ اور شہادت والی موت ہوئی اور اس کی مغفرت ہوگئی۔ (ابنِ ماجہ) ساٹھ سال تک اللہ کی فرمانبرداری والی زندگی گزارنے والا اگر موت کے وقت وصیت میں حق داروں کو نقصان پہنچاد ے تواُس کے لیے دوزخ واجب ہوجاتی ہے (مسند احمد، ترمذی،ابو داؤد)

79۔ وسوسہ، وہم، بد شگونی:

دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسے معاف ہیں جب تک کہ انہیں عمل یا زبان پر نہ لائے (بخاری) دل کے برے خیالات اور وسوسوں پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا جب تک اُن پر عمل نہ کیا جائے (مسلم) اللہ پر توکل کرواور شگونِ بدومنتر وںسے گریز کرو (مسلم)

80۔ وظائف اور ذکر الٰہی:

جس نے سُبحَانَ اللہ وَبَحَمدِ ہِ ایک دن میں سو مرتبہ پڑھا اس کے تمام گناہ مٹا دیئے جائیں گے- جو شخص اللہ کا ذکر کرے اور جو ذکر نہ کرے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(بخاری) سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم زبان پر ہلکے لیکن قیامت کے دن ترازو پر بھاری ہوں گے۔(بخاری) حَسبُنَا اللہ وَنِعمَ الوَکِیلُ“ اور اَللّٰھُمَّ حَاسِبنِی حِسَاباً یَّسِیرًا کہتے رہا کرو(ترمذی) کلمہ لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِااللہ کثرت سے پڑھا کرو(مسند احمد) کلمہ الحمداللہ میزان عمل کو بھردیتا ہے (مسلم) سبحان اللہ والحمداللہ آسمان کو اور زمین کو بھر دیتے ہیں(مسلم) جب بندگانِ خدا، اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو رحمت الہٰی ان کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے۔ (مسلم) جب لوگ زمین پر اللہ کی حمد و ثناء کرتے ہیں تو اللہ فخر کے ساتھ فرشتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے۔ (مسلم) اللہ کا ذکرراہِ خدا میں سونا چاندی خرچ کرنے اور جہاد سے بھی زیادہ افضل ہے (مسند احمد،ترمذی، ابن ماجہ) اللہ کا ذکر اتنا اور اس طرح کرو کہ لوگ کہیں کہ یہ دیوانہ ہے (رواہ احمد) ”سُبحَانَ ﷲ“ اور ”اَلحَمدُاللہ ِ“اور ”لاَ اِلہ اِلَّا اللہ“ اور ”االلہ اَکبَرُ“ افضل ترین کلمے ہیں (مسلم) روزانہ سو دفعہ سُبحَانَ اللہ وَبِحَمدِہ کہنے والے کے قصور معاف کردیئے جائیں گے خواہ کثرت میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں(مسلم) سب سے افضل ذکر”لَا اِلہ اِلَّا اللہ“ ہے (ترمذی‘ابو داؤد) کلمہ لَاحَو لَ وَلَا قُوَّةَ اِلَا بِااللہ جنت کے خزانوں میں سے ہے (مسلم) جس نے اللہ کے نناوے نام کو محفوظ کیا اور ان کی نگہداشت کی وہ جنت میں جائے گا(ترمذی) جب اللہ سے اُس کے اِسم اعظم کے وسیلہ سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے۔ (ترمذی، ابو داؤد) جو جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھے اس کے لیے نور روشن ہوجائے گا دو جمعوں کے درمیان (بیہقی) جس نے اللہ کی رضا کے لیے سورہ یٰسین پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے (بیہقی) جو ہر رات سورہ واقعہ پڑھے اسے کبھی فقرو فاقہ کی نوبت نہیں آئے گی(بیہقی) سورة”الھٰکم التکاثر“ پڑھنے کا ثواب ایک ہزار آیتیں پڑھنے کے برابر ہے(بیہقی) ثواب میں سورة ”اذازلزلت“ نصف قرآ ن، ”قل ھو اللہ احد“ تہائی قرآن اور ”قل یٰٓایھا الکٰفرون“ چوتھائی قرآن کے برابر ہے (ترمذی) اللہ کے یہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ) نمازِ مغرب کے بعد کوئی بات چیت کیے بغیر سات دفعہ یہ دعا کرو۔”اللّٰھُمَّ اَجِرنِی مِنَ النَّار“- نماز فجر کے بعد پڑھوکوئی بات چیت کیے بغیر سات دفعہ یہ دعا کرو ”اَللّٰھُمَّ اَجِرنِی مِنَ النَّارِ“ - اگر اُس رات یا دن تمہاری موت مقدر میں ہوئی تو اس وظیفہ(اے اللہ! مجھے دوزخ سے پناہ دے) کی بدولت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم کو دوزخ سے بچانے کا حکم ہوجائے گا (ابو داؤد) صبح وشام قل ھواللہ احد، قل اعوذ برب الفلق اورقل اعوذ برب الناس تین بار پڑھ لیا کروتو یہ ہر چیزکے واسطے تمہارے لیے کافی ہوں گی (ابو داؤد) جب کوئی گھر سے نکلتے وقت پڑھے: ”بِسمِ اللہ تَوَکَّلتُ عَلَی اللہ‘ لَاحَولَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِااللہ۔“ تو عالمِ غیب میں کہا جاتا ہے: ”تیرا یہ عرض کرنا تیرے لیے کافی ہے۔ تیری حفاظت کا فیصلہ ہوگیا۔“ اور شیطان مایوس و نامراد ہوکر اس سے دور ہوجاتا ہے۔ (ترمذی، ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ کو فکر اور پریشانی لاحق ہوتی تو یہ دعا پڑھتے۔”یَاحَیُّ یَاقَیُّومُ بِرَحمَتِکَ اَستَغِیثُ‘ اے حی وقیوم! بس تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں۔ (ترمذی)

81۔ ہجرت اور نقل مکانی:

جس کی ہجرت حصول دنیا کی خاطر ہو یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی مد میں شمار ہوگی(بخاری)

82۔ یتیم، مسکین اور بیوہ:

مسلمان کا وہ مال اچھا ہے جس میں سے مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کودیا جائے(بخاری) یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں نبی سے ایسے قریب ہوگا جیسے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی(بخاری) بیوہ اور مسکین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والاا یسا ہے جیسا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا (بخاری) مساکین اور غرباءسے محبت رکھنے اور اُن سے قریب رہنے کا حکم ہے(مسند احمد) بہترین گھرانہ وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اوربدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے۔ (ابن ماجہ)

(ختم شد)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.