اجنبی ہونے کے دن قریب ہیں- اوریا مقبول جان

ایک وسیع و عریض ہال میں جمع ہونے والے اٹھارہ ہزار پرجوش مردوزن سے وہ انتہائی جوشیلے اور پرعزم لہجے میں گفتگو کر رہا تھا۔ ایک بڑے سٹیج کے پیچھے ایک دیوقامت سکرین تھی جس پر کبھی کبھی اس کے اشارہ ابرو پر سلائیڈ چلنا شروع ہو جاتیں۔ ایسی ہی ایک سلائیڈ پر دنیا کا نقشہ بنا ہوا تھا۔ اس میں اکثر ممالک میں نیلا رنگ بھرا ہوا تھا جبکہ باقی ممالک سرمئی رنگ کے تھے۔

اس نے نقشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، کہ اب ہم دنیا کی ترقی و خوشحالی کیلئے ایک ضرورت بن چکے ہیں۔

آج سے ستر سال پہلے جب ہم اس نقشے پر ابھرے تھے تو ہم اجنبی تھے۔ آغاز میں ہمارے تعلقات 80 کے قریب ممالک تک محدود تھے، لیکن اب اس وقت اس دنیا کے 160 ممالک میں ہمارے سفارت خانے ہیں اور یہ صرف سفارتخانے نہیں ہیں بلکہ یہ تمام ملک ہماری ترقی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یاد کرو وہ دن جب لوگ اسرائیل کی اجنبیت (Isolation) کی باتیں کیا کرتے تھے۔ جلد وہ دن آنے والا ہے کہ وہ ممالک جن کے ہمارے ساتھ تعلقات نہیں ہیں وہ اس دنیا میں اجنبی ہو جائیں گے۔

پھر اس نے نقشے پر ان ممالک کی جانب اشارہ کر کے کہا، یہ ہیں وہ ممالک جو اسرائیل سے بائیکاٹ کی باتیں کرتے ہیں لیکن اب ہم ان کا بائیکاٹ کریں گے۔ اسرائیل کا وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، ہر سال کی طرح امریکہ میں منعقد ہونے والی امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) کی پالیسی کانفرنس سے خطاب کر رہا تھا۔ دو سال قبل 2016 میں اسی سالانہ پالیسی کانفرنس سے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کیا تھا اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

نیتن یاہو نے آج دو سال بعد ٹرمپ کے اس وعدے کے پورا ہونے کے بعد اس پرجوش ہجوم کے سامنے امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا اور پھر ایک ایک کر کے ان تمام امریکی و دیگر دوستوں کا نام پکارنا شروع کیا اور ساتھ ہی انہیں اس ہجوم میں کھڑے ہونے کے لیے کہا، ہر کوئی نام پکارے جانے پر کھڑا ہوتا کیمروں کی روشنیاں اس پر پڑتیں اور اس کا چہرہ بڑی سکرین پر جلوہ گر ہو جاتا اور ہجوم تالیاں بجاتا۔ یوں لگتا تھا یہ فتح کا جشن ہے، جسے اسقدر سر خوشی سے منایا جارہا ہے۔ اس نے کہا آپ لوگوں نے کلائنٹ ایسٹ ووڈ کی فلم ’’گڈ، دی بیڈ اینڈ دی اگلی‘‘(Ugly) دیکھی ہوگی۔ میں آج’’گڈ‘‘ یعنی اچھے، بیڈ یعنی برے اور بیوٹی فل یعنی خوبصورت کا ذکر کروں گا۔

یہ دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک جانب وہ ممالک ہیں، جو اسرائیل کے بڑے بڑے کارناموں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں سائنسی اور معاشی میدان میں ہم نے جو ترقی کی ہے، دنیا ان سے فائدہ اٹھا کر ایک بہترین دنیا بن رہی ہے جبکہ دوسری جانب وہ طاقتیں ہیں جو اسرائیل کا برا سوچتی ہیں یہ اس دنیا کا کینسر ہیں۔

یہ اس ’’دو قومی نظریے‘‘کا اظہار تھا جو نیتن یاہو نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اس کے بعد اس نے وہ کارنامے گنوانے شروع کیے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اسرائیل اب دنیا کی واحد طاقتور عسکری اور معاشی طاقت بن چکا ہے جس کی یہ دنیا محتاج ہو چکی ہے۔ اس نے F.35 فائٹر جہاز کی تصویر دکھائی اور آئرن ڈوم "Iron Dome"نامی دفاعی ہتھیار "Interceptor" کے متعلق بتایا جن کا مقابلہ پوری دنیا میں کوئی نہیں کرسکتا۔

اس نے کہا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی صلاحیت اس وقت دنیا کی بہترین صلاحیت ہے۔اگر ہم نہ ہوتے تو اس وقت دنیا بھر میں درجنوں بڑے بڑے دہشت گرد حملے ہو رہے ہوتے، ہزاروں مسافروں کو لے جانے والے طیارے آسمانوں میں پھٹ رہے ہوتے۔ یہ دنیا اس لیے محفوظ ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کی صلاحیت قابل رشک ہے۔

اس کے بعد اس نے اسرائیلی افواج کے سابق افسران کو کھڑے ہونے کے لئے کہا اور ہجوم نے ان کے لیے پرجوش تالیاں بجائیں۔ اس نے پھر معاشی میدان میں اپنی برتری گنوانا شروع کی۔ اس نے کہا، ہم شروع دن سے ہی پانی کے استعمال میں بہترین رہے ہیں۔ ہم اپنا 90 فیصد استعمال شدہ پانی دوبارہ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہمارے بعد دوسرے نمبر کا ملک سپین ہے جو صرف بیس فیصد استعمال شدہ پانی کو اس قابل بناتا ہے کہ دوبارہ استعمال کرسکے۔ افریقہ جہاں عورتیں پانی لانے کے لیے آٹھ گھنٹوں کا سفر کرتی ہیں ہم نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے ان تک پانی پہنچایا۔ حضرت موسیٰؑ نے چٹان میں سے چشمے نکالے تھے۔جدید اسرائیلی فرم نے عام ہوا سے پانی بنایا اور پھر اسے ان پیاسے افریقیوں تک پہنچایا۔ اس کے بعد سکرین پر نریندر مودی کی تصویر لہرائی گئی اور کہا گیا کہ یہ ہمارا بہترین دوست ہے جو میرے ساتھ گجرات میں اسرائیلی زراعت کی ٹیکنالوجی سے سرسبز کھیت میں چھوٹے چھوٹے ٹماٹروں کی فصل دیکھ رہا ہے۔ ہماری ٹیکنالوجی نے بھارت کی زرعی صلاحیت میں پانچ گنا اضافہ کر دیا ہے۔

ہم دنیا کو بدل رہے ہیں۔ دیکھو! اسرائیل اس وقت صنعتی میدان میں پوری دنیا کی راہنمائی کررہا ہے۔ ہم نے بہترین خود کار نظام کار کو ترقی دی ہے۔ یہ دیکھیں 2006 میں ہماری دس بڑی کمپنیوں میں 5 توانائی اور ایک آئی ٹی کمپنی تھی لیکن 2016 میں ہمارے ہاں 5 بڑی آئی ٹی کمپنیاں ہیں اور ان میں ایک توانائی کی کمپنی ہے۔

آپ کو معلوم ہے یہ پانچوں، Apple, Google, Microsoft, Amazon اور Facebook یہاں پر کیا کر رہی ہیں۔ یہ یہاں صرف اور صرف ریسرچ کر رہی ہیں اور ایک نئی دنیا تخلیق کر رہی ہیں ایسی دنیا جو کمپوٹر، ڈرون اور سائبر کی دنیا ہے۔ اب ہمارے ڈرون فضا میں بلند ہو کر چاروں طرف پھیلے ہرے بھرے کھیتوں کو پانی اور کھاد بہم پہنچاتے ہیں، کیڑے مارتے ہیں اور ان کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔

یوں ہم ایک قطرہ پانی بھی زیادہ استعمال نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ایک مٹھی کھاد۔ اسی ٹیکنالوجی سے بھارت کے کھیت اور دنیا کے دوسرے ملکوں کی زرعی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

ہم نے خودکار گاڑیوں کو ایجاد کیا ہے اس موٹر وہیکل انقلاب کی وجہ سے دنیا بھر میں پانچ سو نئی کمپنیاں وجود میں آگئیں، جن میں ایک کمپنی موبل آئی "Mobile Eye"کو Intel نے 15 ارب ڈالر میں خریدا۔ اسرائیل کی جدید خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی اس وقت دنیا کی سینتیس بڑی خودکار گاڑیوں کی کمپنیوں کی چابی ہے جس سے یہ طلسمی کاروبار چلتا ہے۔ سب جانتے ہیں، اسرائیل صرف 80 لاکھ لوگوں کا ملک ہے، ہم دنیا کے ایک فیصد کا بھی دسواں حصہ ہیں۔

لیکن دنیا کی جدید سائبر Cyber ٹیکنالوجی میں ہماری سرمایہ کاری پوری دنیا کی سرمایہ کاری کا 20 فیصد ہے۔ ہماری اس صلاحیت سے دنیا کے ممالک امیر، محفوظ اور بہترین پیداواری صلاحیتوں کے مالک ہوتے جارہے ہیں۔ یہ تھا گڈ (Good)یعنی اچھا، لیکن خوبصورت (Beautiful)کیا ہے، وہ ’’اسرائیل امریکہ‘‘تعلقات ہیں جو ناقابل تسخیر ہیں انہیں سے یہ دنیا خوبصورت ہے۔ برے (Bad)وہ ممالک ہیں جو اسرائیل دشمن ہیں، جن میں ایران سرفہرست ہے۔ اس نے پھر نقشے پر وہ علاقہ دکھایا جسے سرخ رنگ کیا گیا تھا۔ اس میں اسرائیل دشمن علاقوں کا آغاز افغانستان سے ہوتا ہے، پھر ایران، عراق اور شام آتے ہیں۔ یہ ہے اسرائیل کے دو قومی نظریے کے مقابل ان کی دشمن اقوام۔ عراق و شام کو تو آگ اور خون میں نہلایا جا رہا ہے۔

ایران کے ساتھ بظاہردشمنی ہے اور گزشتہ چالیس سال سے بیان بازی چل رہی ہے۔ لیکن نہتے، کمزور اور اس وقت عالمی طاقتوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے افغانستان کو نقشے میں سرخ دکھانا اور دشمن ریاست بتانا لوگوں کو حیران کن لگے گا لیکن مجھے بالکل حیرت نہ ہوئی اور ہر اس شخص کو بھی نہیں ہو گی جس نے سید الانبیائﷺ کی احادیث پڑھی ہیں۔ اسرائیل آج اپنی طاقت و قوت سے ٹھیک اس مقام پر آ پہنچا ہے جس کی بشارت یہودی کتابوں (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں) میں درج ہے۔ اسرائیل کی دجالی عالمی حکومت کا خواب پورا ہونے والا ہے۔ پوری دنیا کو اس نے گزشتہ سال یعنی 2017 میں نو ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بیچا ہے۔ یہ اسرائیل ہی ہے جو اس وقت دنیا کو جدید ترین کمپیوٹرائزڈ ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے، دنیا میں 87 فیصد ڈرون اسرائیلی فیکٹریوں میں تیار ہوتے ہیں، اس سارے اسلحے میں 58 فیصد کا خریدار بھارت ہے۔

اسرائیل بھارت کو اس قدر طاقتور کیوں کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ بھارت اس خطے میں اسرائیل کا چوکیدار بن کر افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ دسمبر 2001 کے واقعے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان پر بھارتی اجارہ داری اور تسلط کے لیے کوشاں ہیں۔لیکن افغانستان پر مکمل قبضے کے راستے میں پاکستان آتا ہے جو ایٹمی قوت ہے۔ یہ ملک اسرائیل کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ اسرائیل اور اس کے حواریوں کی خواہش پاکستان کو ایک بکھرے ہوئے خطے میں تبدیل کرنا ہے۔

اسے ایک گزرگاہ بنانا ہے۔ اس لئے کہ یہودیوں کو جتنا یقین اور ایمان اس بات پر ہے کہ ان کی دجالی حکومت قائم ہوگی، انہیں اتنا ہی خوف رسول اکرم ﷺ کی اس حدیث سے ہے کہ ’’خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے اور یروشلم میں گاڑ دیے جائیں گے‘‘۔

یہ خراسان کہاں ہے۔رسول اکرمﷺ کے زمانے کے خراسان میں پورا افغانستان، ایران کا مشہد اور پاکستان کا خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان شامل ہیں۔

یہ ہیں’’بیڈ‘‘، یہ ہیں اسرائیلی’’دو قومی نظریے‘‘ کے مطابق ان کے دشمن، یہ تین ملکوں میں تقسیم خراسان کا خطہ اسرائیل کو ان تین ملکوں کو نشانے بنانے پر مجبور کرتا ہے، وہ انہیں سے خوفزدہ ہے، انہیں کی بربادی چاہتا ہے، اور اسی خطے کو اجنبی بنانے کے دن آنے والے ہیں۔