مولانا اور کشمیر کمیٹی، قضیہ کیا ہے؟ - محمد طیب سکھیرا

ارکان پارلیمنٹ کی دو قسم کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ایک نظام خالصتاً حکومت کا ہوتا ہے جیسے وفاقی وزیر اور وزراء مملکت۔ ان کی ذمہ داری پارلیمنٹ سے باہر ملکی و غیر ملکی سطح کے امور سے متعلق ہوتی ہے کہ وزارت کے امور نمٹانا اور ملکی و غیر ملکی سطح پر پاکستان کا سرکاری موقف بیان کرنا اور پاکستان کے لیے لابنگ کرنا۔

دوسرا نظام وہ ہوتا ہے جو پارلیمنٹ کا اندرونی نظام کہلاتا ہے، اسے ہم آسانی کے لیے "کمیٹیوں کا نظام" کہہ سکتے ہیں جیسے داخلہ امور کمیٹی، خارجہ امور کمیٹی، کشمیر کمیٹی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور اس طرح کی دسیوں کمیٹیاں ہوتی ہیں۔ ہر پارلیمانی کمیٹی میں حکومت و اپوزیشن دونوں کے ارکان شامل ہوتے ہیں اور کمیٹیوں کی سربراہی بھی حکومت و اپوزیشن میں تقسیم ہوتی ہے جیسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جو پارلیمنٹ کی سب سے طاقتور کمیٹی تصور کی جاتی ہے اور ہر سطح پر حکومت کا ہر طرح کا آڈٹ کرسکتی ہے اس کا سربراہ قانونی طور پر ہمیشہ اپوزیشن سے ہوتا ہے۔

اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ ان کمیٹیوں کا دائرہ کار کیا ہوتا ہے؟ یہ چونکہ پارلیمنٹ کی سطح کی کمیٹیاں ہوتی ہیں اس لیے ان کا دائرہ کار بھی پارلیمنٹ ہی ہوتا ہے۔ پارلیمان میں کسی معاملے سے متعلق قرارداد پیش کرنی ہو تو وہ متعلقہ کمیٹی کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں حتمی منظوری کے لیے آتی ہے۔ یہی پارلیمانی کمیٹیاں ارکان پارلیمنٹ اور متعلقہ وزیر کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کرتی ہیں اور کسی ہنگامی مسئلے پر سرکاری موقف جاننے کے لیے متعلقہ وزیر کو پارلیمان میں طلب بھی کرسکتی ہیں۔

ہاں! کبھی کبھار کسی سیمینار پر عالمی صورتحال کے جائزہ کے لیے رسماً ان کمیٹیوں کے ارکان کو سرکاری وزراء یا افسران کے ساتھ بھیجا جاتا ہے جہاں ان ارکان کی حیثیت رسمی ہوتی ہے۔ سرکاری موقف وہاں بھی سرکاری وزراء یا افسران ہی دیتے ہیں کیونکہ پارلیمانی کمیٹیوں کا نظام ہر جگہ پارلیمنٹ کا اندرونی نظام ہی کہلاتا ہے اور مکمل طور پر پارلیمنٹ کے اندرونی نظام میں ہی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

ان دونوں اندرونی و بیرونی نظاموں کی ایک چھوٹی سی مثال یوں ملاحظہ فرمائیں کہ کوئی بھی شخص جو پارلیمان کی رکنیت کا حامل نہ ہو، وہ کسی پارلیمانی کمیٹی کا سربراہ تو کجا پارلیمانی کمیٹی کا رکن بھی نہیں بن سکتا کہ یہ خالصتاً پارلیمان کا اندرونی نظام ہے جس میں غیر متعلقہ شخص کتنا بھی قابل کیوں نہ ہو، کسی صورت داخل نہیں ہوسکتا جبکہ پارلیمان سے باہر کا نظام، جیسے کسی وزارت کا انتظام، کوئی بھی غیر پارلیمانی رکن شخص سنبھال سکتا ہے جیسے رحمان ملک وغیرہ کی مثال سے واضح ہے۔ اس مثال سے ہم دونوں نظاموں اور ان کے دائرہ کار کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اپوزیشن صادق سنجرانی کے خلاف کیوں ہے؟ عامر ہزاروی

اب یہ واضح ہوگیا کہ کمیٹیاں پارلیمان کے اندرونی نظام کی نمائندہ ہوتی ہیں اور وفاقی وزراء کا پورا ڈھانچہ ملکی و غیر ملکی امور کا سرکاری طور پر ذمہ دار ہوتا ہے جو سرکاری افسران کی فوج کے ساتھ وزارت کے سرکاری امور و موقف کا کام سر انجام دیتا ہے۔

چلیے کشمیر کمیٹی پر بات سے پہلے ایک پزل حل کرتے ہیں آپ میں سے کس کس کو معلوم ہے کہ پی پی کے پانچ سالہ زرداری دور میں وزیر برائے امور کشمیر کون تھے؟ نہیں معلوم؟ تو پھر سنیے قمر الزمان کائرہ اور میاں منظور احمد وٹو پی پی کے پانچ سالہ دور میں وزیر برائے امور کشمیر تھے، جو پورے کرّوفر کے ساتھ ملکی و غیر ملکی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے ذمہ دار رہے اور دیار فرنگ کے بار بار دورے بھی فرماتے رہے۔ کیا کبھی ان وزراء پر مسئلہ کشمیر کے حل بارے انگلی اٹھائی گئی؟

چلیے ایک تازہ سوال کرتے ہیں مسلم لیگ "ن" کی حکومت نے حال ہی میں پانچ سال پورے کیے ہیں تو بتائیے اس دور میں وزیر برائے امور کشمیر کون تھے؟ نہیں معلوم؟ تو پھر سنیے چوہدری برجیس طاہر پانچ سال وفاقی وزیر برائے امور کشمیر رہے۔ کیا کسی نے ان پانچ سالوں میں متعلقہ وزیرسے مسئلہ کشمیر بارے عالمی لابنگ یا مسئلہ کشمیر کے حل بارے اقدامات کا سوال کیا؟

اوپر کی تمام تر تفصیل سے یہ واضح ہوگیا کہ وزراء کا دائرہ کار کیا ہوتا ہے اور پارلیمانی کمیٹیوں کا دائرہ کار کیا ہوتا ہے؟

اب پارلیمان کی "کشمیر کمیٹی" کی طرف آتے ہیں۔ "کشمیر کمیٹی" نمایاں اس لیے ہوگئی کہ اس پارلیمانی کمیٹی کی تین بار سربراہی ایک بڑی قد آور سیاسی شخصیت کے پاس رہی ہے جو ایک بڑی ملکی پارٹی کا سربراہ بھی ہے یعنی مولانا فضل الرحمان صاحب۔ اس لیے لوگ ان کے سیاسی و عالمی قد کی وجہ سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ شاید ان کی ذمہ داری مسئلہ کشمیر کے حل کی ہی ہے۔ اس لیے تنقیدوں کے ترکش بھی ان پر خالی ہوتے رہے ہیں حالانکہ مسئلہ کشمیر کا حل "کشمیر کمیٹی" کی ذمہ داری ہے ہی نہیں، اور کچھ ہم جیسے نادان دوست ہیں جو میڈیا کے ہر پروپیگنڈا کا حصہ بن جاتے ہیں حالانکہ میڈیا کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میڈیا کا ہر وار ہمیشہ دلیل سے عاری ہوتا ہے۔ میڈیا نے بنا ثبوت ڈیزل کا الزام لگایا ہم نے فوراً سے پیشتر مان لیا۔ میڈیا کل کو کچھ اور کہے گا ہم فوراً مان لیں گے۔ کیا کبھی کسی تحقیق و تفتیش میں مولانا پر کرپشن کا کوئی داغ بھی لگا ہے؟ آج بدترین دشمن بھی گواہی دینے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ہم بریف کیس مولانا کے پاس لے کر گئے تھے انہوں نے بات چیت تو کجا، بریف کیس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا! یہ کہانی چل چکی ہے - عامر ہزاروی

یاد رکھیے بے بنیاد الزامات کی کوئی اصل نہیں ہوا کرتی، ہاں یہ وہ مرحلہ ضرور ہوتا ہے جہاں ہم اپنوں سے ہی بدظن ہوجاتے ہیں۔ کیا کسی کو "وکی لیکس" یا "پانامہ" میں کبھی کسی مولوی کا نام نظر آیا ہے؟ مجیب الرحمان شامی نے ایک سیمینار میں سچ ہی فرمایا تھا کہ پورے پاکستان کے مولویوں کی کرپشن کو اکٹھا کیا جائے تو شاید ڈی ایچ اے کا ایک پلاٹ بھی نہ خریدا جاسکے۔

خدارا! بے بنیاد الزامات پر توجہ نہ دیجیے، ہمیشہ فریق مخالف سے دلیل کا تقاضا کیجیے۔ حق کی ایک پہچان یہ بھی ہوا کرتی ہے کہ دشمن کے تیروں کا رخ ان کی طرف ہوتا ہے۔ آج دیکھ لیجیے کون ہے جو دینی جماعتوں کے مقابل چھوٹے چھوٹے دینی اتحاد بنانے کے لیے بے چین ہے؟ کوئی تو ہے جسے 2002 کے ممکنہ منظر نامے سے بے چینی ہے۔ دائیں بائیں دیکھیے، کچھ بھیس بدلے ہوئےسیاہ چہرے ہیں جو صفوں میں گھسنے کو بے تاب نظر آتے ہیں۔ صفیں منظم کیجیے، فخر کیجیے کہ آج کل جب ہر شخص کرپشن کی بہتی گنگا میں اشنان کررہا ہے اس وقت میں بھی کچھ خرقہ پوش بڑے طمطراق سے بہاؤ کے مقابل شفاف ہاتھ لیے خالی دامن جھاڑ رہے ہیں اور یہاں کچھ اپنے ہی ہیں جو اغیار کے طعن پر اپنوں سے ہی بدگمان ہوئے پھرتے ہیں۔

یاد رکھیے اپنی آنکھیں کھولیں گے تو صاف نظر آئے گا کہ مولویوں پر کیچڑ اچھالنا ہمارے دیسی لبرلز اور ان کے مغربی آقاؤں کا پری پلان پروپیگنڈا ہے ان کا بنیادی مسئلہ ہی یہ ہے کہ انہیں پارلیمان میں "داڑھی، ٹوپی اور پگڑی" کی موجودگی سےچڑ ہے مذہبی جماعتوں پر جائز تنقید ضرور کیجیے کہ اس سے انہیں مزید نکھار اور غلطیوں کی درستگی کا موقع ملے گا لیکن زہر اور نفرت میں بجھے تیر نہ چلائیے کہ زہریلے تیر بالآخر اپنے ہی نشیمن کو خاکستر کردیا کرتے ہیں۔