روزے چھوڑیں، ثواب کمائیں - رومانہ گوندل

ام المو منین ام حبیبہؓ زوجہ نبی ﷺ کہتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’کسی عورت کو جو اللہ تعالی پر ایمان رکھتی ہو، یہ جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ مگر شوہر پر چار مہینے اور دس دن۔‘‘ (صحیح بخاری)

موت زندگی کا خاتمہ بھی ہے اور ایسی حقیقت جس سے انکار ممکن نہیں۔ ہر جاندار کوموت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اس کا ہر کسی کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ کوئی بھی جاندار جب اس دنیا سے جاتا ہے تو اس کے اپنے کنبے اور برداری کو اس کا دکھ ہوتا ہو گا جس کا اظہار اپنے طور پہ کرتے بھی ہوں گئے جیسے کوے اکثر اپنے کسی ساتھی کی موت پہ شور مچاتے نظر آتے ہیں۔ موت کے ذکر میں کوے کا ذکر اس لیے بھی یاد آ جاتا ہے کہ جب قابیل نے ہا بیل کو قتل کیا تھا تو کوے کے ذریعے اس کو بتایا گیا تھا کہ اس نے اپنے بھائی کی لاش کو کیسے دفنانا ہے۔ اسی طرح جب ایک انسان اس دنیا سے جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے گھر والوں، رشتے داروں اور جاننے والوں کو دکھ ہوتا ہے۔ اس لیے لوگ افسوس اور دلاسہ دینے کے لیے مرنے والے کے گھر میں اکھٹے ہوتے ہیں۔ کسی کی موت پہ افسوس ہونا فطری بات ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہ دکھ کم اور رسم زیادہ بن گئی ہے اور پھر یہ رسومات لمبا عرصہ چلتی ہی رہتی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے شادی کی رسومات مہینہ مہینہ چلتی رہتی ہیں کیونکہ ہم نے کافی ساری رسومات انڈیا، بنگلہ دیش اور یورپ سے درآمد کر لی ہیں۔

اسلام کہتا ہے کہ میت پہ تین دن کا سوگ ہونا چاہیے کیونکہ جس رب نے انسان کو تخلیق کیا ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ انسان کے اندر اتنی برداشت رکھی ہے کہ وہ تین دن میں کسی بھی صدمے کو سہہ جاتا ہے۔ کیونکہ دکھ ہونا اور دکھ کا اظہار کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ دکھ ہونے کو اسلام نہیں روکتا دل بھر آئے اور آنسو بہنے لگیں اس سے نہیں روکتا۔ دکھ کا اس طرح سے اظہار کرنے سے روکتا ہے جو فطرت کے خلاف ہے۔ ایک یتیم ہونے والے بچے کے دکھ کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا اور اس کو اسلام سب سے زیادہ سمجھتا ہے اس لیے ان بچوں کے ساتھ شفقت، محبت کی تلقین بھی کرتا ہے۔ اس کے حقوق کا خیال رکھنے کا بھی حکم دیتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں مرنے والے کے گرد شور کرنے والوں میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو محض یہ ثابت کر رہے ہوتے ہیں کہ انہیں افسوس ہے۔

تین دن کے سوگ کی اجازت اسلام دیتا ہے لیکن ہمارے ہاں برسیوں کا سلسلہ تو سالہا سال تک چلتا ہی رہتا ہے لیکن جمعراتیں، دسویں، چالیسویں تو باقاعدہ فنکشن کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ لمبی چوڑی دعوتیں ہوتی ہے اور ان کو ایصال ثواب کا نام دے دیا گیا۔ ایصال ثواب کی اس رسم کو تو کسی طرح دلیلیں نکال کے ثابت کر لیں گے اور کچھ لوگ اس کو بدعت کہہ بھی دیں تو بھی آخری فقرہ یہی ہوتا ہے کہ یہ رواج ہے اور معاشرے سے کٹ کے تو نہیں رہا جا سکتا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رمضان المبارک میں بھی ایصال ثواب کا یہ سلسلہ پوری دھوم دھام سے جاری ہے۔ لوگ ثواب کمانے روزے چھوڑ کے جاتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس گرمی میں روزہ رکھ کے کہیں جانا ناممکن ہے ا و ر ایصال ِ ثواب کی اس دعوت میں شرکت نا گزیر ہے اور پھر میت کے گھر والے کیسے اس کارِ خیر میں پیچھے رہ جائیں؟ وہ دن دیہاڑے دیگیں پکواتے ہیں اور مہمانوں کی خاطر داری کی جاتی ہے تا کہ مرنے وا لے کی رو ح کو زیادہ سے زیادہ سکون مل سکے۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہم رمضان کے مہینے میں یہ سب کر کے کون سا ثواب کما رہے ہیں؟ یہ کیسا سوگ ہے، کیسا افسوس ہے؟ جو دنیا کے ڈر سے ہے۔ جو سکالر ان موقعوں پہ درس دینے آتے ہیں، ان کے سامنے یہ سب ہوتا ہے تو وہ کون سا درس دے کے جاتے ہیں؟ یہ ایصالِ ثواب جس بھی دلیل سے ثابت ہوتا ہے وہ کم از کم فرائض کے زمرے میں نہیں آتی۔ جس میں روزے آتے ہیں۔ روزوں کی فرضیت قرآن پاک سے ثابت ہے اور بار بار تاکید ہے تو روزے چھوڑنا اور اس کا یوں سر ِ عام اظہار کرنا کہ ہمارے نزدیک خو دساختہ ایصالِ ثواب کی رسم، رمضان سے زیادہ اہم ہے۔ کیا کھلم کھلا عذاب کی دعوت نہیں؟