صابر، شاکر اور ہمت والا ضیاء اللہ - احسان کوہاٹی

دستک کے جواب میں دروازے کے پٹ وا ہوئے اور ایک پیاری سی بچی نے سیلانی کے چہرے پر سوالیہ نظریں جما دیں ’’بیٹا !ضیاء اللہ یہیں رہتے ہیں؟‘‘

بچی کے اثبات کے جواب میں سیلانی نے کہا ’’ان سے کہیں کہ سیلانی آئے ہیں۔‘‘

’’اندر آجائیں ‘‘ضیاء اللہ نے غالباً دستک سنتے ہی بیٹی سے کہہ دیا ہوگا کہ سیلانی ہوں گے تو انہیں ساتھ لیتی آناوہاں آنے سے پہلے سیلانی کی ضیاء اللہ سے بات ہوگئی تھی۔

بچی نے دروازے سے ہٹ کر راستہ دیا اور سیلانی کو لے کر ایک کمپاؤنڈ میں داخل ہوگئی۔ باہر سے ایک گھر لگنے والا دراصل تین چار گھروں پر مشتمل کمپاؤنڈ تھا، جس میں ایک، ایک دو، دو کمروں کے تین چار مکان تھے۔ بچی اسے لے کر ایک کمرے میں آگئی، کمرے میں مسہری پر سانولے رنگ کا ایک باریش نوجوان لبوں پر مسکراہٹ لیے سیلانی کا منتظر تھا۔ وہ مسہری پر سامنے ٹانگیں پھیلائے بیٹھا ہوا تھا۔ سیلانی کے آنے پر بھی ضیاء اللہ کی ٹانگوں میں حرکت نہ ہوئی وہ بے حس و حرکت ہی رہیں۔

ضیاء اللہ نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور فرط محبت سے سیلانی کے ہاتھ کی پشت کا بوسہ لیتے ہوئے کہنے لگا ’’ایک عرصہ ہوگیا آپ کے کالم پڑھتے ہوئے، دیکھتا چلا گیا!‘‘

’’چلیں آج ہمیں دیکھ بھی لیا ناں؟‘‘

سیلانی مسکراتے ہوئے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اور کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ کمرہ کیا تھا؟ کسی اسپتال کا حصہ لگ رہا تھا۔ مسہری کے ساتھ ہی اسٹریچر پڑا ہوتھا۔ تکیے کے ساتھ مصنوعی تنفس کا ماسک اور سامان پڑا ہوا تھا۔ ضیاء اللہ کے دونوں گردے ناکارہ ہیں اور وہ ڈائیلاسس کروا رہا ہے۔ اسے ہفتے میں تین بار پٹیل اسپتال جانا پڑتا ہے جہاں اس کی رگوں میں بہت سی سوئیاں گھسا دی جاتی ہیں جس کے بعد ڈائیلائسس کا عمل شروع ہوتا ہے یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے لیکن زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے اور اسے خدیجہ اور خنساء کے لیے زندہ رہنا ہے۔ خدیجہ سات سال اور خنساء بمشکل دو برس کی ہے۔

ضیاء اللہ سے سیلانی کا رابطہ ٹیلی فون پر ہوا تھا۔ ضیاء اللہ نے کہیں سے سیلانی کا فون نمبر لے کر اسے کال کی اور کہا کہ اس کی خواہش ہے کہ سیلانی سے ملاقات ہو جائے۔ سیلانی نے کہا اس میں کیا مشکل ہے؟ کسی روز دفتر آجائیں۔ جس پر ضیاء اللہ نے افسردگی سے کہا ’’سیلانی بھائی میں ڈائیلاسس کراتا ہوں، آنا ہی تو مسئلہ ہے۔‘‘

ضیاء اللہ نے یہ بات کچھ اس لہجے میں کہی کہ سیلانی تڑپ کر رہ گیا۔ اس نے ضیاء اللہ کے گھر آنے کی حامی بھرلی لیکن مصروفیت کی وجہ سے وہ ضیاء اللہ کے گھر نہ جا سکا، حالانکہ ٹنکی گراؤنڈ میں وہ کئی گھنٹے بلاول بابو کا جلسہ تماشہ دیکھتا رہا لیکن اس کے ذہن میں رہا ہی نہیں کہ ضیاء اللہ بھی یہیں قریب رہتا ہے۔ رمضان کا آغاز ہوا ضیاء اللہ گاہے بگاہے سیل فون پر پیغامات بھیجتا رہا اور سیلانی شرمندہ ہوتا رہا۔ گزشتہ روز نے پکا ارادہ کرلیا کہ ضیاء اللہ کے گھر جا کر ہی رہے گا۔ سیلانی نے ضیاء اللہ سے فون پر رابطہ کیا پتہ سمجھا اور صبح بارہ بجے ایف سی ایریا کی مسجد الفلاح پر کھڑے ایک صاحب سے ضیاء اللہ کا پوچھ رہا تھا۔

’’ضیاء اللہ، ضیاء اللہ۔۔۔۔؟‘‘ وہ ذہن پر زور دینے لگے

’’وہ جو ڈائیلاسس کراتے ہیں ‘‘

’’اچھا اچھا۔۔۔۔وہ یہاں ساتھ ہی تو رہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مسجد کے ساتھ گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے راہنمائی کی۔

ضیاء اللہ سے مل کر سیلانی کو شاک ہوا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ ضیاء اللہ دو بے حس وحرکت ٹانگوں کے ساتھ ایک مفلوج زندگی گزارنے والا نوجوان ہوگا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اتنی کم عمری میں وہ ڈائیلاسس پر کیسے چلا گیا؟ اس کے دونوں گردے کیسے ناکارہ ہوگئے؟ یہی بات اس نے ضیاء اللہ سے کہہ بھی دی ’’یار! آپ تو نوجوان آدمی ہو، اس عمر میں گردے کیسے فیل ہوگئے؟‘‘

سیلانی کی بات پر ضیاء اللہ کے لبوں پر افسردہ سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ کہنے لگا ’’سیلانی بھائی! ہائی بلڈ پریشر میرے دونوں گردے بیکار کر گیا، میں اس وقت صرف چوبیس سال کا تھا جب طبیعت خراب ہوئی ڈاکٹروں کے پاس گیا کسی نے کیا دوا دی کسی نے کیا؟ حکیموں کے پاس بھی گیا ان کے معجون اور سفوف بھی کھائے لیکن ہاتھ پاؤں کی سوجن چہرے پر بھی آگئی۔ تب ایک سمجھ دار ڈاکٹر نے کہا کہ گردوں کا مسئلہ لگتا ہے اور ٹیسٹ کرانے پر ایسا ہی نکلا۔ میرے دونوں گردے ناکارہ ہوچکے تھے، تب سے ڈائیلاسس پر ہوں، ہفتے میں تین دن پٹیل اسپتال جاتا ہوں اللہ ان کا بھلا کرے زکٰوۃ فنڈ سے میرا مفت ڈائیلاسس کرتے ہیں لیکن وہاں جانا ایک اور مسئلہ بن چکا ہے۔ چار سال پہلے موٹرسائیکل پر گھر آرہا تھا کہ سامنے کتا آگیا۔ اسے بچانے کے لیے بریک لگائیں تو موٹرسائیکل پھسل گئی، میں ایسا برا گرا کے دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ آپریشن ہوا راڈ ڈالے گئے لیکن میں اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہیں ہوسکا، چار سال سے بستر پر آگیا ہوں۔‘‘

ضیاء اللہ پڑھا لکھا نوجوان ہے، بیماری سے پہلے فشریز میں مچھلی کے کاروبار سے جڑا ہوا تھا۔ اس آزمائش کے بعد بھی ضیاء اللہ نے ہمت نہیں ہاری، وہ چھوٹا موٹا کام کرکے زندگی کی گاڑی کھینچتا رہاجیتا رہا۔ اس نے ہار نہیں مانی، شادی کی اور اپنا گھر بسایا۔ اسماء نے ضیاء اللہ کو شوہر کی حیثیت سے قبول کیا اور زندگی کا سفر ساتھ گزارنے کا عہد کرکے اسماء ضیاء بن گئی۔ ضیاء اللہ ٹیچر تھا، مدرس تھا، معلم تھا، بیماری کے باوجود وہ اپنے گھر کا خرچ اٹھا رہا تھا۔ اللہ نے پھول سی خدیجہ بھی دی جو ضیاء کی آنکھوں کی روشنی ہے لیکن ایکسیڈنٹ کے بعد ضیاء کی مفلوج ٹانگوں نے اس آزمائش کو اور سخت کردیا۔ وہ آن لائن قرآن پڑھانے لگا، کچھ ٹیوشن مل جایا کرتی تھیں، بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے بچوں کے لیے ضیاء اللہ سے رابطہ کرلیتے تھے مگر یہ کوئی مستقل روزگار تو نہ تھا۔ یہ کچا روزگار بھی اب نہ رہا، وہ اب ایک کمرے کے مکان میں بستر پر پڑا اپنی پھول سی بیٹیوں خدیجہ اور خنساء کو دیکھتا رہتا ہے، سوچتا رہتا ہے کہ ان کا کیا ہوگا؟ اس کی ٹانگیں تو اس کا وزن بھی نہیں اٹھا سکتیں وہ بیٹیوں کی ڈولی کیسے اٹھا پائے گا؟

ضیاء اللہ کو گلشن اقبال کراچی میں واقع پٹیل اسپتال آنے جانے میں بہت دقت ہوتی ہے۔ پہلے وہ ایک فلاحی ادارے کی ایمبولینس کے ذریعے اسپتال جاتا تھا لیکن جب سے اسے ہڈیوں کے بھربھرے پن کا عارضہ ہوا ہے، اس نے ایمبولینسوں سے جانا چھوڑ دیا ہے۔ ایمبولینس ڈرائیور بری طرح گاڑی دوڑاتے ہیں، اب مجبوراً یہاں لالو کھیت سے کھلی سوزوکی پکڑنی پرتی ہے۔ وہ پہلے پندرہ سو روپے لیتا تھا اب میرا خیال کرکے ہزار روپے لیتا ہے لیکن سیلانی بھائی! بستر پر پڑے بے روزگار شخص کے لیے ہزار تو کیا سو روپے بھی بہت ہوتے ہیں۔ دوست احباب تعاون کرتے ہیں لیکن سچ پوچھیں بہت مشکل ہوتی ہے۔ ڈائیلاسس کی وجہ سے میں کہیں جا بھی نہیں سکتا، سمجھیں قید میں ہوں، ہفتے میں تین روز مجھے لازمی جانا ہے، چاہے کچھ بھی ہو، جس روز بے نظیر کی شہادت ہوئی آپ کو یاد ہے حالات کس قدر خراب تھے؟ کیسی مارا ماری تھی؟ لیکن میں ڈائیلاسس کے لیے جا رہا تھا عمران فاروق کا قتل ہوا اس روز بھی مجھے اسپتال جانا تھا اور میں گیا۔‘‘

ضیاء اللہ اس حال میں ہے کہ وہ سوائے آن لائن قرآن ناظرے کے کچھ نہیں کرسکتا، ان کی وفا شعار اہلیہ بھی ضیاء اللہ کی وجہ سے کچھ کرنا بھی چاہیں تو کچھ نہیں کرسکتیں، ضیاء اللہ اپنی اہلیہ کی مدد کے بغیر بول و براز بھی نہیں کر سکتا۔

ضیاء اللہ سے مل کر سیلانی کو سچ میں بہت دکھ ہوا۔ کاش وہ رمضان کے اوائل میں ضیاء اللہ سے مل لیتا اپنے احباب کی توجہ مجبور اور مستحق حافظ قرآن کی حالت زار کی جانب دلوا دیتا تو یقیناً وہ متوجہ ہوتے رمضان میں عموماً زکٰوۃ کی ادائیگی ہوتی ہے، بہت سے لوگ یہ فریضہ ادا کرچکے ہوں گے لیکن سیلانی کہے گا کہ پھر بھی اس نوجوان کی جانب متوجہ ہوں جو اس حال میں بھی اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتا ہے بس! اللہ ایمان کی حفاظت کے ساتھ اٹھا لے، یہی دعا ہے۔ ضیاء اللہ کا کسی بنک میں اکاؤنٹ نہیں ان کی اہلیہ اسماء ضیاء کا حبیب بنک، الاعظم اسکوائر ایف بی ایریا میں اکاؤنٹ نمبر 0008307901016703 ہے۔ سیلانی کچھ دیر ضیاء اللہ کے پاس بیٹھا اس کی دلجوئی کرتا رہا خنساء اور خدیجہ کو شرارتیں کرتا دیکھتا رہا اور پھر ٹھنڈی سانس لے کر اٹھ کھڑا ہوا س نے ضیاء اللہ سے اجازت لی اور جاتے جاتے صابر، شاکر اور ہمت والے ضیاء اللہ کو دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.