مغربی تہذیب کی بالادستی؟ - حامد محمود راجا

اردو ادب میں خود نوشت سوانح کی ایک طاقت ور روایت موجود رہی ہے۔ نامور اہل قلم نے اپنی آپ بیتیاں صفحہ قرطاس پر منتقل کیں۔ ایسی تحریروں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کچھ خوش گوار یادیں اور مفید تجربات نئی نسل تک پہنچ جائیں تاکہ وہ ماضی کے آئینے میں اپنے مستقبل کے خد و خال سنوار سکیں۔ شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمة اللہ علیہ کی آپ بیتی اس حوالے ایک بڑی مثال ہے۔ اسی طرح کالا پانی (جعفر تھانیسری)، اعمال نامہ (رضا علی)، مشاہدات (نواب ہوش یار ہوش بلگرامی)، ناقابل فراموش (صحافی سردار دیوان سنگھ مفتون)، خون بہا (ڈرامہ نگار، صحافی اور شاعر حکیم احمد شجاع)، سرگزشت (زیڈ اے بخاری)، یادوں کی دنیا (انڈین دانش ور ڈاکٹر یوسف حسین خان) ، یادوں کی بارات (جوش ملیح آبادی)، جہانِ دانش (احسان دانش)، زرگزشت (مشتاق احمد یوسفی) اور شہاب نامہ (قدرت اللہ شہاب) اردو ادب کی بہترین آپ بیتیاں ہیں۔ مرزا غالب نے اپنے متعلقین کو لکھے خطوط میں اپنی زندگی اور خیالات کے بارے میں کافی کچھ بیان کردیا ہے۔

ادیب اور علماء کے علاوہ اہم سرکاری اور حکومتی اہل کار بھی اپنی آپ بیتیاں لکھتے رہتے ہیں۔ عوام الناس ایسے عہدیداروں کے خیالات جاننا چاہتے ہیں جنہوں نے کسی بھی حوالے سے شہرت و اقتدار کی زندگی گزاری ہو جنرل پرویز مشرف کی ’’ان دی لائن آف فائر“ اور ان کے مقابل ملّا عبدالسلام ضعیف کی کتاب ’’طالبان کے ساتھ میری زندگی“ (My Life with the Taliban)نے کافی شہرت پائی اگرچہ دونوں کتابوں کے حوالے سے قارئین اور ناقدین کی آراء مختلف رہی ہیں۔ آپ بیتیوں کی ایک دوسری نوعیت یہ بھی ہے کہ کچھ غیر معروف یا کم معروف لوگ کچھ معروف لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور اُنہی دنوں کی یادوں کو وہ دل چسپ انداز بیان کے ذریعے لوگوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں جیسے راول پنڈی جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ کرنل رفیع الدین نے ”بھٹو کے آخری 323دن“ لکھ کر شہرت پائی۔

آج کل دو آپ بیتیوں کے چرچے ہیں۔ پہلی خود نوشت سوانح اسد درانی کی ”سپائی کرانیکلز“ کے نام سے شائع ہوئی اور یہ کتاب شائع ہوتے ہی تنقید کی زد میں آگئی۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اسد درانی نے یہ کتاب اپنے بھارتی ہم منصب کے اشتراک سے تصنیف کی ہے۔ کتاب کے مندرجات پر عسکری ماہرین نے اپنی آراء پیش کیں۔ اسد درانی کو اس تصنیفی اشتراک کی وجہ سے جی ایچ کیو بھی طلب کیا گیا اور اُن کے بیرون پاکستان جانے پر بھی پابندی عاید کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   خان صاحب کا احسان، نیا پاکستان - قادر خان یوسف زئی

دوسری آپ بیتی ریحام خان کی ہے جس پر اشاعت سے قبل ہی کافی تنقید ہوچکی ہے۔ وجہ اعتراض یہ ہے کہ ریحام خان اس کتاب میں عمران خان کی ذاتی اور نجی زندگی کے بارے میں ایسے انکشافات کرسکتی ہیں جن کی وجہ سے عمران خان یا دوسرے پی ٹی آئی رہنماوں کی شہرت داغ دار ہو سکتی ہے۔ چونکہ کتاب اب تک سامنے نہیں آئی اس لیے کتاب کے بارے میں کوئی رائے تو قائم نہیں کی جاسکتی لیکن اگر یہ خدشات درست ہیں تو پھر ایسی کتاب کے منفی مندرجات کی ہر صورت حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

عمران خان اور ریحام خان کی شادی ایک مختصر دورانیے کے بعد ٹوٹ گئی۔ علیحدگی اُسی صورت ہوا کرتی ہے جب میاں بیوی کو ایک دوسرے کی کوئی ادا پسندنہ آئی ہو لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسی تلخ ازدواجی وجوہات کو عوام الناس کے سامنے کھول دیا جائے۔ قرآن کریم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس اور پردہ قراردیا ہے اور یہ پردہ علیحدگی کے بعد بھی برقرار رہنا چاہیے۔ یہی ہماری اخلاقی اور معاشرتی تربیت کا تقاضا ہے۔ بنا بریں توقع کی جانی چاہیے کہ ریحام خان اپنی آپ بیتی میں ایسے موضوعات کو شامل نہیں کریں گی جن سے کسی بھی شخص کی دل آزاری کا خدشہ ہو۔ البتہ اُن کو اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں انکشافات کرنے کا پورا حق حاصل ہے جن سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں۔

سب سے زیادہ حیرت والی بات یہ ہے کہ ریحام خان کے اس کتاب کے پیچھے بھی کچھ لوگوں کو مغربی تہذیب کی بالادستی اور اسلامی یا پاکستانی تہذیب کی تہی دستی نظر آرہی ہے۔ ثنا خوانانِ تقدیس مغرب کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جمائما اور ریحام خان دونوں کو طلاق دی لیکن جمائما نے علیحدگی کے بعد بھی عمران خان کی ذاتیات پر لب کشائی نہیں کی جب کہ ریحام خان نے ذاتیات پر گفتگو کرکے اخلاقی قدوروں کی پامال کیا ہے۔ ایک ہی مرد سے دو مطلقہ عورتیں، دونوں کا تعلق دو مختلف معاشروں سے ہے۔ ایک طلاق کے سات سال بعد اپنے سابقہ شوہر کی ایک نوبل کاز پر حمایت کرنے پاکستان آتی ہے۔ دوسری طلاق کے ایک سال بعد تاریخ نکاح کو متنازع کرکے سابقہ شوہر کی تذلیل کرنے کے ارادے سے اچانک ٹی وی پر نمودار ہوتی ہے۔ یہ دراصل دو معاشروں کی اخلاقی اقدار کا فرق ہے۔ ایک معاشرہ بلندی جب کہ دوسرا پستی کی انتہا پر موجود ہے۔ یورپ آج بھی اعلیٰ اخلاقی اقدار کا حامل ہے۔ ریحام اور جمائما محض دو کردار نہیں بلکہ دو مختلف معاشروں کے اخلاقی اقدار کا موازنہ ہیں، اخلاقی طور پر ہم کس قدر زوال کا شکار ہیں، اس کا اندازہ ان دو کرداروں کو سامنے رکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دو ملاقاتیں (2) - روبینہ فیصل

یہاں یورپ کا نام تو واضح ذکر کردیا گیا ہے جبکہ دوسرے معاشرے کا نام بڑی چابکدستی سے گول کردیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یورپ کے مقابل معاشرہ کون سا ہے؟ اُس کو اسلامی معاشرے کا نام دیا جائے یا پاکستانی معاشرے کا، دونوں صورتوں میں یہ منطق ناقابل قبول ہے۔ بڑی دور کی کوڑی لائی گئی اور جمائما اور ریحام کی شکل میں مغرب اور اسلام کا تقابل کردیا گیا۔ اگر ریحام خان کی پچھلی زندگی کے بارے میں تھوڑا سا بھی جان لیا جاتا تو یہ واضح ہو جاتا کہ ریحام خان خود بھی پوری طرح یورپی اور مغربی معاشرے کی پلی پڑھی ہیں۔ ان کی تربیت اور اُٹھان میں بھی اُسی معاشرے کا ہاتھ ہے جس کا جمائما کی تعلیم و تربیت میں کردار ہے۔ ڈاکٹر نیئر رمضان کے ہاں ریحام خان کی ولادت 1973ءمیں لیبیا میں ہوئی، ابتدائی تعلیم لیبیا میں حاصل کی اور بعد ازاں پشاور آ گئیں۔ 1993ءمیں ان کی شادی کزن ڈاکٹر اعجاز رحمٰن سے ہو گئی۔ یہ اس وقت 19 سال کی تھیں۔ اس کے بعد یہ برطانیہ شفٹ ہو گئیں، شادی 2005ء تک چلی۔ ریحام خان نے میڈیا اینڈ براڈ کاسٹ جرنلزم کا ڈپلوما کیا اور طلاق کے بعد صحافت میں آ گئیں۔ 2006ءمیں لیگل ٹی وی پر پروگرام شروع کیا۔ یہ وہاں سے سن شائن ریڈیو میں آئیں اور 2008ء میں بی بی سی جوائن کر لیا۔ یہ شاندار انگریزی بولتی تھیں۔

دوسری بات یہ کہ اس آپ بیتی کے لانچنگ کے اخراجات بھارتی نژاد برطانوی بزنس مین سنجے کیتھوریا (Sanjay Kathuria) برداشت کر رہا ہے۔ یہ تلاش کے نام سے برطانیہ میں ہوٹلوں کی چین چلاتا ہے، شادی سے پہلے بھی ریحام کا دوست تھا اور یہ آج بھی اس کا بیسٹ فرینڈ ہے۔ یہ اس کتاب میں خصوصی دلچسپی لے رہا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ کتاب کے مندرجات درست ہیں یا نہیں اور ریحام کی شخصیت اور کردار کیا ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ یہ کتاب کسی اسلامی خیالات کی حامل برقع پوش خاتون نے لکھی ہے اور نہ ہی اس کتاب کی تصنیف و اشاعت میں مسلم پاکستانی معاشرے کی دل چسپی ہے۔ یہ برطانیہ کی پلی پڑھی ایک خاتون کی تصنیف ہے جسے برطانوی معاشرے کی ہی تائید حاصل ہے۔