خدشات کی لٹکتی تلوار بھی ختم ہونی چاہیے - یاسر محمود آرائیں

سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئے قطعہ ارض پر آج تک جمہوریت کی پنیری نشونما نہیں پا سکی۔ گھسٹتا لنگڑاتا تھوڑا بہت جو بھی جمہوری سفر طے ہوا اس کی راہ میں بھی ہمیشہ کانٹے بکھرے رہے۔ مختلف الخیال لسانی اکائیوں کو ایک قوم اور ایک جغرافیے پر متحد کرنا ایسا محیر العقول کارنامہ تھا جو سیاسی جد و جہد کے سوا کسی دیگر طریق ہرگز کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ کامیابی مگر برقرار یا دیرپا کیوں نہ رہی اس کی مختصر وجہ بٹوارے سے قبل کے انگریز نو آبادیاتی نظام کی چند مضر نشانیوں میں سے ایک نشانی یعنی بیورو کریسی کی طاقت نوزائیدہ مملکت میں بھی برقرار رہنا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد زیادہ عرصہ قائد اعظم کو زندگی کی مہلت نہ ملی اور ان کے بعد مسلم لیگ کی بقیہ قیادت میں سیاسی سمجھ بوجھ،برداشت اور حوصلے کا فقدان رہا۔ سیاستدانوں کی آپسی کھینچا تانی کے باعث طاقت کا ایسا خلا پیدا ہوا جسے سول بیورو کریسی نے پر کیا۔ پھر ایک کینہ پرور ہمسائے اور آزادی کے فورا بعد کشمیر پر ہوئی جنگ نے ریاست کو مستحکم و منظم سپاہ کی ضرورت کا احساس دلایا۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قوم کا پیٹ کاٹ کر افواج کو ہر ممکن وسائل فراہم کیے گئے۔ بعد ازاں وسائل کی فراوانی اور دیگر بہت سی وجوہات کے سبب پہلے مسلم سپہ سالار جنرل ایوب خان تک قیادت پہنچتے ملکی افواج عسکری محاذ پر طاقتور ہونے کے ساتھ اس قدر قوت کی حامل ہو چکی تھی کہ اس نے سیاسی محاذ کی باگ دوڑ بھی سول بیورو کریسی کے ہاتھ سے لیکر خود سنبھال لی۔ اپنے اقتدار کو مکمل اور مخالفت کا ہر امکان ختم کرنے کے لئے جنرل ایوب نے "ایبڈو" جیسے قانون کا سہارا لیا۔ مذکورہ قانون ملکی سیاسی نظام کو سرطان زدہ کرنے کا نقطہ آغاز تھا اور اس وقت سے آج تک اس قسم کے قوانین کسی نہ کسی صورت ہر دور میں موجود رہے۔ وطن عزیز میں پے در پے مارشل لاء لگتے رہے،جمہوری حکومتیں کسی نہ کسی بہانے بے توقیر ہوتی رہیں۔ مختصر دورانیوں کے لئے کبھی نام نہاد جمہوری بندوبست قائم ہوا بھی تو اسے بنیادی جمہوریت اور غیر جماعتی انتخابات جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے ایک مقررہ حد سے زیادہ اونچی اڑان کی اجازت نہ ملی۔ یہ بات درست ہے کہ اپنی بے توقیری اور غیر جمہوری قوتوں کو اقتدار کی راہ دکھانے والے خود یہی سیاستدان تھے۔ لیکن اگر وطن عزیز میں جمہوریت کا تسلسل جاری رہتا اور احتساب کا عمل انتخابات کی صورت عوام کے ہاتھ میں رہنے دیا جاتا تو نہ صرف ملک کا مشرقی حصہ بچ سکتا تھا بلکہ آج ہم اقوام عالم میں ایک با عزت مقام پر ہوتے۔

اکیسویں صدی میں بدلتے ہوئے عالمی رویوں و حالات کے تناظر،عوام میں شعور کی بیداری اور شاید خود مقتدروں کی سوچ میں آنے والی تبدیلی کے بعد مارشل لاء کا امکان بہت حد تک ختم ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود مگر جمہوریت کے مستقبل پر چھائے غیر یقینی کے بادل چھٹنے میں نہیں آ رہے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ دو ہزار سات کے بعد سے جب بھی انتخابی موڑ آتا ہے جمہوریت کی روانی کے بارے میں خدشات پیدا ہو جاتے ہیں اور جو کام پہلے غیر جمہوری قوتیں انجام دیتی تھیں اس کے لئے اب جمہوریت کا لبادہ اوڑھے لوگ اپنے کندھے فراہم کرتے ہیں۔ آج تک یہ علم نہیں ہو سکا اچھی بھلی چلتی ریاست کو دو ہزار تیرہ میں عین انتخابات سے قبل کیا خطرات لاحق ہوئے تھے جس کی وجہ سے ایک غیر ملکی شہری کو "سیاست نہیں ریاست" بچانے کا نعرہ لگانا پڑا۔ کوئی نہیں بتاتا کہ اس شخص نے کیا سوچ کر نظام مملکت کو یرغمال بنائے رکھا اور اسے اس سرگرمی کی اجازت کس نے دی؟بالآخر اس ہما ہمی کے بعد انتخابات کی کڑوی گولی نگلنا پڑی اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو پھر ناتواں جمہوریت کی کمر توڑنے اور اس کی کارکردگی کے آگے بند باندھنے کے لئے دھاندلی کو جواز بنا کر 126 دن کا تاریخ ساز دھرنہ ہوا۔ دھرنے کے دنوں میں امور مملکت معطل رہے اور بیرونی سرمایہ کاری رک گئی۔ ان دھرنوں کو ختم کرانے کے لئے بالآخر جمہوری حکومت کو ہی جھکنا پڑا مگر آج واضح ہو چکا کہ ان دھرنوں کا مقصد کیا تھا اور یہ کس کی منشاء اور ایما پر دیے گئے تھے۔ ان حالات سے بچتا بچاتا جمہوری قافلہ آگے بڑھا تو جڑواں شہروں کے سنگم پر ایک اور دھرنہ ہوا جس نے آخر وقت میں جمہوری حکومت کو ٹھیک ٹھاک ڈینٹ ڈالا۔ حسب سابق اس کے پس پردہ بھی بہت سی کہانیاں تھیں جو وقتا فوقتا سامنے آ رہی ہیں۔ بلوچستان میں آنے والی کرشماتی تبدیلی اور سینیٹ الیکشن کے انعقاد پر شکوک و شبہات بھی جمہوریت کا خون پسینہ سکھاتے رہے۔ غرض یہ پورا دور سازشوں سے معمور گزرا اور اس میں جمہوریت کو بچانے کے لئے ایک منتخب وزیراعظم اور تین وزرا کی قربانی بھی ہوئی۔ بہر حال گرتے پڑتے جمہوریت اپنا دور مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

آج جب ہم ایک بار پھر انتخابات کی دہلیز پر کھڑے ہیں تو اس کے انعقاد پر غیر یقینی کی صورتحال جوں کی توں ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کاغذات نامزدگی کا قضیہ خدا خدا کر کے نمٹتا نظر آ رہا ہے،مگر اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دینے کی وجہ سے تلوار بہرحال سر پر ابھی تک لٹک رہی ہے۔ ماننا چاہیے کہ اس معاملے میں جمہوریت کا لبادہ اوڑھے آلہ کار اصل ذمہ دار ہیں۔ جب مردم شماری کے نتائج پر اتفاق کا مسئلہ جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا تھا تو مجھ ایسے بہت سے لوگوں نے خبردار کیا تھا کہ کل اسی کو جواز بنا کر انتخابات کو التوا میں ڈالنے کی ترکیب بن سکتی ہے۔

آنے والے چند ہفتوں کے بعد وطن عزیز کو جو مشکلات پیش آنے والی ہیں،ان سے نمٹنے کے لئے ایک منتخب حکومت وقت کی ضرورت ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کے بارے میں کیا رویہ رکھتی ہے،کلبھوش کے معاملے میں عالمی عدالت انصاف میں پیروی،بھارتی آبی دہشتگردی کے عالمی فورمز پر مقابلے،عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کے بارے میں گفت و شنید،امریکا کے ساتھ تیزی سے بگڑتے تعلقات،افغانستان کا مسلسل گھمبیر ہوتا مسئلہ،لائن آف کنٹرول پر پھر سے ابھرتی کشیدگی اور خود اندرون ملک ملک فاٹا کے خیبر پختون میں مکمل انضمام اور پانی کی قلت کے باعث نئے ڈیمز کی تعمیر اور دیگر وسائل کی تقسیم کی بابت صوبوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات ایسے چیلنجز ہیں جن سے کوئی بھی غیر منتخب حکومت عہدہ بر ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس وقت تمام ریاستی ادارے بشمول عدلیہ اور افواج ملک میں مقررہ وقت پر الیکشن کرانے کا عزم مصمم کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ مگر اداروں پر یہ بھی لازم ہے کہ ہواؤں کے دوش پر گردش کرنے والی سازشی خبریں بھی رکوائی جائیں تاکہ عوام یکسو ہو کر ملکی مفاد میں ایسے لوگوں کا چناؤ کرنے میں کامیاب ہوں جو پون صدی کی محرومیوں کا حقیقی مداوا ثابت ہو سکیں۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.