پاکستان کا موجودہ بحران اور بیانیہ (2) - محمد دین جوہر

پچھلی قسط

سیاسی لیڈر قوم کے سیاسی عمل کا نگہبان ہوتا ہے اور اس کی عظمت کا پیمانہ بھی یہیں سے اخذ ہوتا ہے۔ ہر معاشرے کا سیاسی عمل تین اجزا کا مجموعہ ہوتا ہے:

(۱) حمیتِ انسانی اور سیاسی آرزو مندی؛

(۲) عدل اجتماعی پر مبنی اقتدار کی جہدوجہد؛

(۳) اور قومی سلامتی کے تقاضے۔

ہر معاشرے کی حیاتِ اجتماعی کے یہ تینوں پہلو قومی بیانیے میں اظہار پاتے ہیں۔ تحریک پاکستان کے وقت سامنے آنے والا سیاسی عمل اور اس کو ظاہر کرنے والا بیانیہ ایک عدمِ تناسب سے ان تین پہلوؤں کو محیط تھا۔ یہ عدم تناسب قومی سیاسی عمل اور عدل اجتماعی کے مابین سامنے آیا۔ حالات کے جبر میں ہمارا سیاسی عمل اور بیانیہ شناخت اور سلامتی پر غیرمعمولی شدت سے مرکوز رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد قومی بیانے میں سیاسی عمل اور عدل اجتماعی کا جو عدم تناسب موجود تھا، اس کا توازن مزید بگڑ گیا، اور نتائج سنہ ۱۹۷۱ء میں سامنے آئے۔ دو قومی نظریے یا نظریہ پاکستان کے ردعمل میں دو نئے بیانیے ہماری سیاسی اور ثقافتی زندگی میں شامل ہوئے اور قومی بیانیے کی کمزوری اور سیاسی عمل کے انتشار کا باعث بنے:

(۱) ایک یہ کہ پاکستان کا سیاسی عمل (خلافت راشدہ جیسا) اسلامی نظام قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

(۲) دوم یہ کہ پاکستان کا سیاسی عمل یورپی طرز کا جدید فلاحی معاشرہ تشکیل دینے میں ناکام رہا ہے۔

بیانیے کی یہ دونوں روئیں ہماری سیاسی اور ثقافتی زندگی میں بہت طاقتور طریقے پر موجود ہیں، اور کسی بھی وسیع البنیاد بیانیے اور قومی سیاسی عمل کی تشکیل میں زبردست رکاوٹ ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم استعماری ورثے اور روایتی مذہبی ورثے سے بیک وقت نبردآزما ہونے اور ان سے متوارث سیاسی افکار اور سیاسی عمل کی ہیئت کا درست محاکمہ کرنے میں قطعی طور پر ناکام رہے ہیں۔ سادہ لفظوں میں ہم نے برصغیر کی مسلم تاریخ اور یہاں کی استعماری تاریخ سے بامعنی تعامل سے صرف نظر کیا ہے، اور آج کی صورت حال اسی کا نتیجہ ہے۔

جدید معنوں میں برصغیر کے مسلمانوں کی اولین سیاسی تحریک، وہابیت کی تحریک تھی۔ اس تحریک نے مسلمانوں کی سیاسی زندگی اور سیاسی فکر پر بہت گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور جو آج بھی ہماری سیاسی فکر اور سیاسی عمل میں غیرمعمولی طور پر مؤثر ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر بننے اور چلنے والی مابعد تمام تحریکوں کا سانچہ یہی تحریک ہے۔ تحریک وہابیت کے سیاسی افکار اور سیاسی عمل کے بارے میں ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ برصغیر کے مسلم معاشرے کی حمیتِ مذہبی کا اظہار تھی۔ لیکن اتنے ہی یقین سے یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ یہ تحریک حمیتِ انسانی سے مطلقاً خالی تھی۔ ہر سیاسی تحریک کی بنیادی ترین ذمہ داری خود متعلقہ معاشرہ اور اس کی تاریخ ہوتی ہے، اور یہ ذمہ داری صرف اسی وقت پوری ہو سکتی ہے جب سیاسی عمل کی بنیاد حمیتِ انسانی پر استوار ہو۔ سیاسی تحریک کا جائز موضوع انسان کے معاشرتی اور تاریخی ”حالات“ ہوتے ہیں، اس کے شعوری اور نفسی ”احوال“ نہیں ہوتے کیونکہ وہ اخلاق و علم کا موضوع ہیں۔ تحریک وہابیت نے مذہب کو بنیاد بناتے ہوئے برصغیر میں مذہبی سیاسی عمل کے تاریخ سے انقطاع کا نہ صرف آغاز کیا بلکہ اسے مکمل بھی کر دیا۔ سیاسی تحریک انسانی احوال کی تجریدیت سے لڑنے کی بجائے انسانی حالات کی واقعیت سے نبردآزما ہوتی ہے۔ سیاسی تحریک معاشرے اور تاریخ میں موجود ظلم سے پنجہ آزمائی کرتی ہے۔ ظلم کی معنویت عدل اور عقیدے دونوں کے بالمقابل متعین کی جا سکتی ہے۔ اگر ظلم کی معنویت عدل کے تناظر میں اخذ کی جائے تو اقدارِ شریعت سیاسی عمل کی بنیاد بنتی ہیں۔ اور اگر ظلم کی معنویت عقیدے کے تناظر میں اخذ کی جائے تو عقیدہ عمل کی بنیاد فراہم کرتا ہے جو نہ صرف سیاسی عمل کے مکمل انتشار کا باعث بنتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی تباہ کن ہوتا ہے۔ حمیتِ انسانی ظلم کے شکار انسان کی طرف لپکتی ہے اور اسے عدل سے بہرہ مند کرنےکا داعیہ رکھتی ہے، جبکہ حمیت مذہبی ظلم سے مخرب عقیدے کے حامل انسان کی طرف لپکتی ہے اور اسے ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حمیتِ انسانی پر برپا ہونے والی ہر تحریک ”مظلوم عوام“ کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے میں ضرور کامیاب ہوئی ہے۔ جبکہ حمیت مذہبی کی بنیاد پر چلنے والی ہر تحریک نہ صرف یہ کہ عقیدے کو ”ظلم“ سے پاک نہیں کر سکی بلکہ معاشرے میں سیاسی عمل کے انتشار کا باعث بھی بنتی رہی ہے۔

برصغیر میں اسلام کی سیاسی تعبیرات میں تین رجحانات غالب رہے ہیں۔ ایک یہ کہ جدید اسلامی سیاسی افکار کے ذریعے استعمار کی محکومی اور اکثر غلامی کو جواز دینے کی نہایت وسیع البنیاد کوشش کی گئی۔ اس کی بڑی مثال آقائے سرسید ہیں۔ لیکن اس میں ایک چیز ”تاکہ“ کے ذیل میں بیان ہوتی رہی کہ یہ ساری کاوش مسلمانوں کی تعلیمی، معاشرتی اور بھلائی کے لیے زیرعمل لائی گئی ہیں۔ اس ”تاکہ“ کی وجہ سے یہ کوشش حمیت انسانی کو کم از کم سطح پر شامل رہی ہے، اگرچہ حمیتِ مذہبی کے لیے یہ کاوش زہر قابل ثابت ہوئی۔ دوم، جدید اسلامی سیاسی افکار کے ذریعے ہندوؤں سے بھائی چارے (مراد ہندو بالادستی) کو جواز بخشا گیا۔ ان دونوں کاوشوں میں اسلام کی سیاسی تعبیرات پہلے سے طے شدہ کچھ مواقف کی تائید میں آگے بڑھائی گئیں۔ سوم، از راہِ بندہ نوازی مذہب کی بنیاد پر جو جدید سیاسی افکار خاص مسلمانوں کے لیے وضع کیے گئے وہ نہ صرف فکری طور بانجھ اور مسلمانوں کے معاشرتی، تاریخی اور سیاسی حالات سے غیرمتعلق تھے بلکہ مسلمانوں کی دینی روایت اور تاریخی تجربے سے بھی متغائر تھے۔ مثلاً خلافتِ الہیہ وغیرہ کا جدید سیاسی تصور ہمارے ہاں بالکل نیا تھا اور برصغیر میں ہمارے اسلوبِ فرمانروائی اور تاریخی تجربے سے بھی بالکل غیرمتعلق تھا۔ مذہب سے اخذ شدہ ہمارے جدید سیاسی تصورات ہماری دینی روایت اور تاریخ سے منفک ہو کر سامنے آئے اور نہ صرف ہمارے سیاسی اور مذہبی شعور کی پرداخت میں روکاوٹ رہے بلکہ انہوں نے ہماری پوری تاریخ اور اقتدار کو مطعون قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر کسی بھی سیاسی نظریے کی بنیاد پر برصغیر میں مسلم تاریخ اور اقتدار کو delegitmize کر دیا جائے تو ہمعصر دنیا میں اقتدار کی جدوجہد کے لیے درکار کوئی ثقہ فکر اور قوتِ عمل مسلمانوں کو فراہم ہی نہیں ہو سکتی۔

اس شرط پر گزشتہ دو سو سال میں واحد تحریک جو برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی عمل کے احیا اور حمیتِ انسانی کا اظہار بنی وہ تحریک پاکستان ہے۔ سیاسی اقتدار کی جدوجہد اور اس کا حصول حمیتِ انسانی کا بنیادی ترین تقاضا اور اظہار ہے۔ سیاسی طاقت اور اقتدار ہر معاشرے کی اصلِ حیات ہے۔ ہر وہ نظریہ جو معاشرے کی اس خلقی آرزومندی اور عملی حقیقت پر ضرب لگائے، سمِ قاتل اور کشتنی ہے۔ تحریک خلافت سمیت برصغیر میں ہماری مذہب اساس تحریکیں حمیتِ مذہبی سے پُر اور حمیتِ انسانی سے خالی تھیں، اور حصول منزل کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوئیں۔ واحد حمیتِ مذہبی کو سیاسی عمل کی اساس بنانے میں بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ظلم سے مخرب عقیدہ ”اصلاح“ نہ پا سکے تو حمیتِ مذہبی معاشرے کے خلاف جنگی کاروائی کا یقینی مذہبی جواز بھی تلاش کر لیتی ہے جیسا کہ تحریک وہابیت میں ہوا، اور جس کی ایک حالیہ مثال تحریکِ طالبان پاکستان ہے۔ سیاسی عمل کی جائز بنیاد شرعی تصورِ عدل ہے، تصورِ عقیدہ نہیں ہے، کیونکہ عدل ایک شرعی قدر کے طور پر معاشرتی اور تاریخی صورت حال میں سیاسی عمل کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ معاشرے کے لیے وہی سیاسی عمل مفید ہو سکتا ہے جو شریعت کی عملی اقدار پر استوار کیا جائے۔

پاکستان کے موجودہ بحران میں تشویش کا بڑا پہلو یہ ہے کہ قومی سیاسی عمل تاریخی خود آگہی سے خالی ہو کر ایک داخلیت کا شکار ہو چکا ہے۔ ہمارا موجودہ سیاسی عمل ہم عصر دنیا اور اپنی تاریخ سے بیک وقت حالتِ انکار میں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ ہمارا قومی سیاسی عمل جمہوریت، عدل اجتماعی اور سلامتی کو either/or کی عینک سے دیکھ رہا ہے۔ ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ داخلیت کا شکار قومی سیاسی عمل تاریخ کا تر نوالہ ہوتا ہے۔ قومی بیانیے کا بنیادی وظیفہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ سیاسی عمل کو تاریخی خودآگہی سے بہرہ مند رکھے اور حمیتِ انسانی کی بنیاد پر اقتدار کی جدوجہد اور اس کی حفاظت کو تاریخ کی رزمگاہ میں ممکن بنا دے۔ اللہ تعالیٰ اولی الامر اور اہل دانش کو قومی سیاسی عمل کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق اور بصیرت عطا فرمائے۔