رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (5) - یوسف ثانی

احادیث کی کتب میں موجود اوامر و نواہی کی موضوعاتی درجہ بندی کی پانچویں قسط پیش ہے۔ چوتھی قسط یہاں ملاحظہ کیجیے۔

52۔ غصہ اور علاجِ غصہ:

جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہیے کہ بیٹھ جائے، پس اگر بیٹھنے سے غصہ فرو ہوجائے تو فبہا اور اگر پھر بھی غصہ باقی رہے تو چاہیے کہ لیٹ جائے (مسند احمد، ترمذی) جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ وضو کرلے (ابو داؤد) طاقت رکھنے کے باجود اپنے غصہ کو پی جانے والے کو اللہ روزِ قیامت سب کے سامنے اسے یہ اختیار دیں گے کہ حورانِ جنت میں سے جسے چاہے اپنے لیے منتخب کرلے (ترمذی، ابو داؤد) کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے جب وہ غصہ میں ہو(بخاری)

53۔غلام، لونڈی اور خادم:

غلاموں سے ایسا کام کرنے کو نہ کہو جوان پر شاق ہو۔ اگر کبھی ایسا کرو تو خود بھی ان کی مدد کرو(بخاری) اُس غلام کے لیے دُ گنا ثواب ہے جب کہ وہ اللہ کے حق کو اور اپنے مالکوں کے حق کو ادا کرتا رہے(بخاری)جس نے لونڈی کو اچھی تعلیم و تربیت دی پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیا، اُس کے لیے دُ گنا ثواب ہے (بخاری) جب لونڈی زنا کرے اورزناثابت ہوجائے تواسے ملامت نہیں بلکہ کوڑے لگوانے چاہیے۔ اگر وہ تیسری بار بھی زنا کرے تو اس کو فروخت کردے اگرچہ ایک رسی کے بدلے ہی سہی- قیامت کے دن میں اُس کا دشمن ہوں گا جو کسی آزاد آدمی کو (غلام بنا کر) فروخت کرکے اس کی قیمت کھا جائے(بخاری) غلام مسلمان کو آزاد کرنے والے شخص کے ایک ایک عضو کو دوزخ سے آزاد کردیا جائے گا- افضل ترین عمل اللہ پر ایمان لانا، اس کے راستے میں جہاد کرنا اور پسندیدہ غلام کو آزاد کرنا ہے- کوئی شخص یہ نہ کہے ”میرا بندہ، میری بندی“ بلکہ یوں کہنا چاہیے:”میرا آدمی، میری لونڈی“- خادم کھانا لائے اور وہ اسے اپنے ساتھ کھانا کھلا نہ سکے تو ایک یا دو لقمہ ضرور کھلانا چاہیے (بخاری) اُمُّ المومنین حضرت میمونہ ؓ نے اپنی ایک باندی نبی کریم ﷺ سے اجازت لیے بغیر آزاد کردی تو آپ نے فرمایا: اگر تم نے یہ باندی اپنے ماموں کو دے دی ہوتی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ اجر ملتا (بخاری)- اپنی باندیوں کو برتن توڑنے پر سزا نہ وو کیونکہ برتنوں کی بھی عمریں مقرر ہیں۔ (مسند الفردوس للدیلمی) اپنے غلاموں میں زِیردستوں کے بارے میں خدا سے ڈرو (ابو داؤد)

54۔ غیب کا علم:

غیب کی پانچ کنجیاں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتاکہ (1) کل کیا ہوگا؟ (2)عورتوں کے رحموں میں کیا چیز ہے؟ (3) کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور(4) وہ کس مقام میں مرے گا؟ (5) کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہوگی؟ (بخاری)- اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، حالانکہ میں اللہ کا رسول(ﷺ) ہوں (بخاری)

55۔ فتنہ اور فرقہ بندی:

میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں (بخاری) نماز، روزہ، صدقہ، امرباالمعروف و نہی عن المنکر، بیوی بچوں اور مال میں موجود فتنہ کو مٹا دیتا ہے (بخاری) وہ خوش نصیب ہے جو فتنوں سے دور رکھا گیا- قابل مبارک ہے وہ جو بندہ فتنوں میں مبتلا ہوا اور ثابت قدم رہا (ابو داؤد) میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ یہ سب فرقے جہنمی ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اُس راستے پر ہوں گے جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔ (ترمذی)

56۔ قتل، قصاص، دیت؛ ظلم، جھگڑا، بدلہ:

جانور سے جو زخم پہنچے اس پر کچھ بدلہ نہیں- کنویں میں گر کر اور معدنیات کے کان میں کام کرتے ہوئے مرجائے تو کچھ بدلہ نہیں(بخاری) کسی یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تو قصاص میں اس یہودی کا سر بھی دوپتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا (بخاری) جب مومنوں کو حساب کے بعد دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دوسرے پلِ صراط پر ان مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کرتے تھے- ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے پس اس پر نہ ظلم کرے اور نہ ظلم ہونے دے- ظالم کی مدد اس طرح کرو کہ اسے ظلم کر نے سے روکنے کے لیے اس کا ہاتھ پکڑلو- اگر کسی شخص نے کسی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ آج ہی معاف کرالے- جس نے کسی کی زمین ظلماً لے لی اسے سات زمین کا طوق پہنا یا جائے گا (بخاری) اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو(بخاری) جب کوئی کسی سے جھگڑا کرے تو چہرے پر مارنے سے بہر حال پرہیز کرنا چاہیے (بخاری) جو شخص کسی ذمی کافر کو ناحق قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا(بخاری) نبی نے اپنی ذات کے لیے کبھی بدلہ نہیں لیا۔ جب کوئی اللہ کے حکم کو ذلیل کرتاتو اس سے بدلہ لیتے (بخاری) اللہ ظالموں کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا (بخاری) حاملہ عورت کے پیٹ پر پتھر مارا جس سے بچہ مرگیا تو آپ ﷺ نے دیت میں باندی یا غلام دینے کا حکم دیا (بخاری)

57۔ قرآن اور الہامی کتب:

جو بھی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو وہ ناقابل عمل ٹھہرے گی (بخاری) جو لوگ متشابہ آیتوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں، ان کی صحبت سے بچتے رہو (بخاری) موجودہ تو راة کو بالکل سچ بھی نہ مان لواور بالکل جھوٹ بھی نہ کہو (بخاری) جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اسے رات اور دن میں پڑھتا رہتا ہو، ایسے فرد پر رشک کرنا جائز ہے- بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے- یوں نہ کہوکہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یہ کہو کہ وہ آیت مجھے بھلادی گئی- جب تک تمہارا دل لگا رہے تم قرآن مجید پڑھتے رہو(بخاری) قرآن کے ایک حرف پڑھنے پر دس نیکی ملتی ہے اور ”الٓم“ ایک نہیں بلکہ تین حروف ہیں (ترمذی‘ دارمی) وہ علم (کتاب و سنت کا) جس سے اللہ کی رضا چاہی جاتی ہے، اگر اسے کوئی دنیا کی دولت کمانے کے لیے حاصل کرے تو وہ قیامت میں جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔ (مسند احمد،ابو داؤد، ابن ماجہ)

58۔ قرض اور سوال:

قرض سے پناہ مانگو۔جب آدمی قرض دار ہوجاتا ہے تو تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے(ٰبخاری) لکڑیاں توڑ کراور انہیں اپنی پیٹھ پر لادکر فروخت کرنا کسی سے سوال کرنے سے بہتر ہے- تم اسے لے لو جب اس مال میں سے کچھ تمہارے پاس آئے اور تم کو لالچ نہ ہو- قیامت کے دن مسلسل سوال کر نے والے کے منہ پر گوشت کی کوئی بوٹی نہ ہوگی (بخاری) تنگ دست کو ادائے قرض معاف کرے اور مالدار سے تقاضہ کرنے میں نرمی اختیار کرے (بخاری) مالدار کی جانب سے قرض ادا کرنے میں دیر کرنا ظلم ہے- نبی ﷺ کا مقروض کی نمازِ جنازہ ادا کرنے سے گریز کرنا- ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا:جس سے نبی ﷺ کا کچھ وعدہ ہو یا آپ پر کسی کا کچھ قرض ہو وہ میرے پاس آئے (بخاری) تم میں اچھا شخص وہ ہے جو قرض کو اچھے طور پر ادا کرے یعنی اصل قرض سے کچھ بہترادا کرے (بخاری) اگرکوئی قرض لے کر اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے ادا کرادے گا- اگر کوئی قرض لے کر اسے ضائع کردینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع کر دے گا- نبی ﷺ نے قرض ادا کیا اور قرض سے زیادہ دیا (بخاری) اگر کوئی بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ اُس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے (ترمذی)۔ کسی آدمی سے کوئی چیز نہ مانگو(مسند احمد) غنی آدمی کو اور توانا و تندرست آدمی کوسوال کرنا جائز نہیں ہے(ترمذی) اُسے سوال کرنا جائز ہے جو افلاس زدہ ہو یا قرض و تاوان وغیرہ کا کوئی بوجھ پڑگیا ہو(ترمذی)

ممکنہ حد تک سوال نہ کرو۔ اگر مجبور ہی ہوجاو تو اللہ کے نیک بندوں سے سوال کرو (ابو داؤد، نسائی) جو اللہ کے بندوں سے اپنی کوئی حاجت نہ مانگنے کا عہد کرے تو اس کے لیے جنت کی ضمانت ہے(ابو داؤد) صدقہ کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا اجراٹھارہ گناے۔ (طبرانی) قرض کی ادائیگی کا سامان چھوڑے بغیر مقروض مرناسب سے بڑا گناہ ہے۔ (مسند احمد،ابی داؤد) مومن کی رو ح قرضہ ادا نہ ہونے تک بیچ میں معلق رہتی ہے۔(مسند شافعی، ترمذی، ابو داؤد) مقروض کی نیت اگرقرض ادا کرنے کی ہو تواللہ اس کا قرضہ دنیا ہی میں ادا کرادے گا۔ (نسائی) نبیﷺ نے قرض اداکیا تو واجبی رقم سے زیادہ عطا فرمایا۔ (یہ جائز بلکہ مستحب ہے) (ابوداؤد)

یہ بھی پڑھیں:   ٹریننگ کا مہینہ - محمد صدیق طاہری

59۔ قسم، کفارہ، گواہی:

جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارنا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے(بخاری) اللہ کی قسم مجھے اس مال کی اتنی قیمت مل رہی تھی‘ کہہ کر مال بیچنے والے پرعذاب ہوگا (بخاری) اگر مدعی گواہی پیش نہ کرسکا تومدعی علیہ سے صرف قسم لی جائے گی (بخاری) گر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے ورنہ پھر اسے خاموش رہنا چاہیے۔ (بخاری) اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ کیونکہ اللہ کے سوا اور کسی کی قسم کھا نا منع ہے (بخاری) کسی بات پر قسم کھالینے کے بعد اگر دوسری بات مناسب لگے تو دوسری بات پر عمل کرو اور قسم کا کفارہ ادا کرو (بخاری) قسم مدعی علیہ پر ہے (بخاری) نبی ﷺ اکثر یہ قسم کھایا کرتے تھے "قسم ہے دلوں کے پھیرنے والے کی" (بخاری) قسم کھا نے کے بعد کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو بعض اوقات قسم توڑ کر اس کا کفارہ دینے سے زیادہ گناہ کی بات اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا ہے (بخاری)

60۔ کھانے پینے کے آداب:

جب مجھے بھوک لگے تو اللہ کو یاد کر کے عاجزی اور گریہ و زاری کروں اور جب آپ کی طرف سے مجھے کھانا ملے اور میرا پیٹ بھرے تو میں آپ کی حمد اور آپ کا شکر کروں (مسند احمد، ترمذی) کھانے سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ اور منہ کا دھونا باعث برکت ہے۔ (جامع ترمذی‘ابوداؤد) کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھو، اگر بھول جاؤ تو بعد میں بِسمِ اللہ اَوَّلَہ وَآخِرَہ پڑھ لو۔ (ابوداؤد، ترمذی) جوتے اُتار کر کھانا کھایا کرو۔ اس طرح پاؤں کو زیادہ راحت ملے گی۔ (مسند دارمی) کچھ ٹھنڈا کرکے کھانا زیادہ برکت کا باعث ہوتا ہے۔ (مسند دارمی) خوب کھاؤ پیو، صدقہ کرو یا کپڑے بناکر پہنو- بس اسراف اورتکبر نہ ہو۔ (مسند احمد نسائی‘ابن ماجہ) حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے اور اپنے مال کو برباد کرنے کا نام زُہد نہیں ہے(ترمذی وابن ماجہ) مردہ مچھلی اور مردہ ٹڈی حلال ہیں۔ خون کی دواقسام کلیجی اور تلی بھی حلال ہیں۔ (مسند احمد، ابن ماجہ) رسول اللہ ﷺ کو کدو بہت پسند تھے(بخاری) نبیﷺ نے کبھی کسی کھانے کو بُرا نہیں کہا۔ اگر دل چاہتا تو اسے کھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے(بخاری) بسم اللہ پڑھ کر داہنے ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھاؤ - مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے- نبی ﷺ نے کھانے کو کبھی بُرا نہیں کہا اور کبھی تکیہ لگا کر نہیں کھا نا نہیں کھایا- ریشم اور دیباج نہ پہنو اور کھانے پینے کے لیے سونے چاندی کے برتن استعمال نہ کرو- تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے جب تک انگلیاں نہ چاٹ لے (بخاری) نبی ﷺ نے آبِ زم زم کھڑے ہوکر پیا۔ آپ ﷺ پانی پیتے ہوئے تین دفعہ سانس لیا کرتے تھے(بخاری)

61۔ کفر اور اقسامِ کفر:

اے لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے لگو(بخاری) جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کوجان بوجھ کر اپنا باپ بنایا وہ کافر ہوگیا اور جو شخص اپنے آپ کو کسی دوسری قوم کا بتلائے، جس میں سے وہ نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے (بخاری)

62۔ گرگٹ اور زہریلے جانور:

رسول اللہﷺ نے گرگٹ کے مارنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ ابراہیم ؑ کی آگ پر پھونکتا تھا (بخاری) اللہ تعالیٰ کے پورے کلموں کے ذریعے سے ہر شیطان اور زہریلے، ہلاک کرنے والے جانور سے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے پناہ مانگتا ہوں (بخاری)

63۔ گمشدہ، لاوارث اشیاء:

لاوارث چیز کا حکم:

سال بھر اس کی تشہیر کرکے اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا۔ پھر اگر مالک نہ ملے تو اس چیزسے فائدہ اٹھا سکتاہے۔ لیکن اگر سال بھر بعد بھی مالک آجائے تو اس کے حوالے کرنا ہوگا(بخاری) ابی بن کعبؓ کو سو دینار کی ایک تھیلی پڑی ہوئی ملی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے واپس کردینا ورنہ اپنے خرچ میں اسے استعمال کرلو(بخاری)

64۔ لباس، خضاب اور مہندی:

ریشمی کپڑے کا تانا بانا دونوں ریشمی ہوں تو (مردوں کے لیے) قطعاََ حرام ہے۔ اگر صرف تانا ریشمی ہو تو حلال اور اگر صرف بانا ریشمی ہو تو مجبوراََ اجازت ہے (بخاری) یہود اور نصاریٰ بالوں میں خضاب نہیں کرتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب لگایا کرو(بخاری) سفید بالوں کے رنگ کو تبدیل کردو مگر کالے رنگ سے اجتناب کرنا (مسند احمد) - جس نے ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنا تو وہ کپڑا اپنے پہننے والے کو جہنم میں لے جائے گا- جس مردنے دنیا میں ریشمی لباس پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا- سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا منع ہے- ریشمی کپڑا حریر اور دیباج وغیرہ پہننایا ان کو بستر بنانا منع ہے- نبی ﷺ نے مرد کو زعفرانی رنگ کا کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے- آپ ﷺ جوتے سمیت نماز پڑھ لیتے تھے- ایک پاؤں میں جوتا پہن کر نہ چلویا تو دونوں جوتے پہنو یا دونوں اتاردو- داڑھی بڑھاو اور مونچھیں کترواو کیونکہ مشرکین داڑھی کاٹتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں - آپ ﷺ نے سر کے بعض حصہ کے بال کٹوانے اور بعض کے نہ کٹوانے سے منع فرمایا -حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ کو اس وقت کی سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی (بخاری)۔

مہندی:

عورت مہندی لگاکر اپنے ہاتھو ں کی صورت بدلے (ابی داؤد)

65۔ لعنت و ہلاکت کے اسباب:

گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت ہے(بخاری) نبی ﷺ نے زنانے مخنث مَردوں پر اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ (بخاری) بلا وجہ اختلاف نہ کرو۔ تم سے پہلے لوگوں نے اختلاف کیا تھا، اسی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے (بخاری)

66۔ مجلس اور راستے کے آداب:

مجلس میں کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنا منع ہے- جب تین آدمی ایک جگہ جمع ہوں تو تیسرے کو بغیر شریک کیے آپس میں آہستہ کوئی بات نہ کرو(بخاری)- زیادہ مت ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے (ترمذی) راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔ اگر بیٹھو توراستے پر بیٹھنے کے حقوق ادا کرو۔نگاہ نیچی رکھو، ایذارسانی سے بچو، سلام کا جواب دو، اچھی باتوں کی تلقین اور بری باتوں سے روکو- جب راستے کی زمین کے بارے میں جھگڑا کھڑا ہوجائے تو سات ہاتھ چھوڑ دینا چاہیے(بخاری) جو مسجدوں یا بازاروں میں تیر (ہتھیار) کے ساتھ گزرے تو اسے چاہیے کہ اس کی پیکانوں کو پکڑلے (بخاری) کوئی شخص اپنے دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے(بخاری)

67۔ مسجد کے آداب:

مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا دفن کردینا اس کا کفارہ ہے - جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہوتو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز (تحیة المسجد) پڑھ لے- جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے مسجد بنائے، اللہ اس کے لیے جنت میں مکان بنا دیتا ہے- (بخاری) پوری زمین مسجد اور پاک بنادی گئی ہے کہ جہاں بھی نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لی جائے (بخاری) مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت تحیة المسجد پڑھو- کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ پر نہ بیٹھے (بخاری) مسلمان یہود و نصاریٰ کی طرح مسجدوں کی آرائش و زیبائش کرنے لگیں گے (ابی داؤ د)

68۔ مسلمان اور مومن:

پکامسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان ایذانہ پائیں(بخاری) مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے (بخاری) مسلمانوں کے خون، مال اور عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں(بخاری) جو کوئی ہمارے جیسی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہی مسلمان ہے- مومن، مومن کے لیے عمارت کے مثل ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت دیتا ہے (بخاری) مومن کی مثال تازہ کھیتی کے مانند ہے کہ جس طرف سے ہوا آتی ہے اسے جھکا دیتی ہے اور ہوا کے نہ ہونے کے وقت سیدھی ہوجاتی ہے۔ پس مومن اس طرح بلا سے بچا رہتا ہے (بخاری) دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو، جو اپنے لیے پسند کرتے ہو(مسند احمد) دوسروں کے لیے بھی اُنہی چیزوں کو ناپسند کرو جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو(مسند احمد) مسلم وہ ہے جس کی زبان درازیوں اور دست درازیوں سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں(ترمذی، نسائی) مومن وہ ہے جس کی طرف سے لوگوں کے جان و مال کو کوئی خوف و خطرہ نہ ہو(ترمذی، نسائی) مسلمان بزدل اوربخیل ہوسکتا ہے لیکن مسلمان کذاب یعنی بہت جھوٹا نہیں ہوسکتا(بیہقی) مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے، اس کے پیچھے اس کی پاسبانی کرتا ہے (ترمذی) مسلمان کو ستانے اور اُنہیں شرمندہ کرنے سے بازرہو(ترمذی)

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (2) - یوسف ثانی

69۔ مصیبت، مشکلات اور آزمائش:

جو شخص بیٹیوں کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہواتو وہ بیٹیاں اس کے لیے دوزخ سے حجاب ہوجاتی ہیں(بخاری) اپنے کسی بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ اُس کو اِس مصیبت سے نجات دیدے اور تمہیں اس میں مبتلا کردے۔ (ترمذی) جب کوئی تکلیف پیش آئے تو اس تکلیف کے اُخروی ثواب کی رغبت تمہارے دل میں زیادہ ہو بہ نسبت اس خواہش کے کہ وہ تکلیف دہ بات تم کو پیش ہی نہ آتی (ترمذی وابن ماجہ)

70۔ معافی، مغفرت اور خطائیں:

اپنے خادم کا قصور دن میں ستر دفعہ بھی معاف کرنا پڑے تو معاف کرو (ترمذی) کینہ و دشمنی ختم کرکے دلوں کے صاف ہونے تک مومن کی معافی کا فیصلہ روک لیا جاتا ہے (مسلم) جو مسلمان عام اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے گا، اس کے لیے ہر مومن مرد و عورت کے حساب سے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی۔ (طبرانی) جو نبیﷺ پر ایک صلوٰة بھیجے اللہ تعالیٰ اس پر دس صلوٰاتیں بھیجتا ہے، اس کی دس خطائیں معاف کردی جاتی ہیں اور اس کے دس درجے بلند کردئیے جاتے ہیں۔ (نسائی)

71۔ مکہ مدینہ:، بیت اللہ اور مسجد بنویﷺ:

مکہ میں جنگ و جدل وغیرہ کو اللہ نے حرام کیا ہے (بخاری) یہ جائز نہیں کہ مکہ میں خون ریزی کی جائے اور نہ یہ جائز ہے کہ وہاں کوئی درخت کاٹا جائے(بخاری) مکہ میں قتال کرنا نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا ہے اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا- مکہ کا کانٹا نہ توڑا جائے اورنہ اس کا درخت کاٹا جائے(بخاری) مکہ میں گری ہوئی لاوارث چیز کوسوائے اعلان کرنے والے کے کوئی اورنہ اٹھائے(بخاری) نبی ﷺ کعبہ کے اندر ایک ستون کو بائیں جانب، ایک ستون کو داہنی جانب اور تین ستونوں کو پیچھے کر کے نماز پڑھی (بخاری) مسجد نبوی ﷺ کی نمازبیت اللہ کے سوا باقی تمام مسجدوں کی نماز ایک ہزار درجے افضل ہے- رسول اللہ ﷺ مسجدِ قبا کی زیارت کو سوار اور پیدل جایا کرتے تھے- میرے گھر اور منبر کے درمیان ایک جنت کا ٹکڑا (ریاض الجنہ) ہے- میرا منبر میرے حوض پر ہے(بخاری) کعبة اللہ،مسجد نبوی اور بیت المقدس کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لےے سفر نہ کیا جائے- اہلِ مدینہ کے ساتھ فریب کرنے والا اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے (بخاری) کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔ (مسلم) مدینہ کے دونوں طرف کے دروں کے درمیان پورا رقبہ واجب الاحترام ہے۔ اس میں خوں ریزی کرونہ ہتھیاراٹھاؤ۔ چارے کی ضرورت کے سوا درختوں کے پتے بھی نہ جھاڑو۔ (مسلم) جو اس کی کوشش کرسکے کہ مدینہ میں اس کی موت ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ مدینہ میں مرے۔ میں ان لوگوں کی ضرور شفاعت کروں گا جو مدینہ میں مریں گے (مسند احمد، ترمذی) جس نے حج کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ (بیہقی) روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اپنی قبرکا ہونا مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو۔(موطا امام مالک)۔

72۔ منافق کی پہچان:

پکے منافق کی چار پہچان: (1) جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے،(2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے، (3)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (4) اور جب لڑے تو بےہودہ گوئی کرے(بخاری)

73۔ میت، جنازہ، قبر،سوگ:

کسی مسلمان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت پر اُحد پہاڑ کے برابر کادو حصہ ثواب ملتا ہے(بخاری) ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کی ممانعت کی جاتی تھی- شوہر کی وفات پر چار مہینہ دس دن تک سوگ ہے۔اس دوران سرمہ، خوشبو اور رنگین کپڑوں سے اجتناب کرناچاہیے -عورتوں کو جنازوں کے ہمراہ جانے کی ممانعت کردی گئی تھی(بخاری) نجاشی کی وفات پر آپ ﷺ نے لوگوں کو کھڑا کرکے چار تکبیریں کہیں اور غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی- جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پاجائیں تو اللہ اسے جنت عطا کرے گا- میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اخیر میں کافور ملادو- رسول اللہﷺ کو یمن کے تین سفیدسوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا- ہم عورتوں کو جنازوں کے ہمراہ جانے سے منع کردیا گیا تھا، اُمّ ِعطیہؓ - کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں مگر بیوی شوہر کا سوگ چار مہینے اور دس د ن کرے- صبر شروع صدمہ کے وقت معتبر ہوتا ہے- وہ شخص ہم میں سے نہیں جو غم میں اپنے رخساروں پر طمانچے مارے اور گریبان پھاڑے- نبی ﷺ نے غم میں چِلا نے، سر منڈوانے اور گریبان وغیرہ پھاڑنے والی عورت سے برا ت ظاہر فرمائی- اللہ تعالیٰ آنسو بہانے پر عذاب نہیں کرتا اور نہ ہی دل کے رنج کی وجہ سے عذاب کرتا ہے- میت پر اس کے اقربا کے ناجائز طور پر رونے کی وجہ سے عذاب کیا جاتا ہے- رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں سے بیعت کے وقت یہ عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ نہ کریں گی،اُمّ ِعطیہؓ - جب تم میں سے کوئی شخص جنازہ کو دیکھے تو اگر اس کے ساتھ نہ جارہا ہوتو کم از کم کھڑا ہوجائے- جو شخص جنازہ کے ہمراہ جائے اس کو ایک قیراط ثواب ملے گا- مُردوں کو برابھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا بھی عمل کیا تھا اس کا بدلہ پالیا- سورہ فاتحہ کا نمازِ جنازہ میں پڑھنا سنت ہے(بخاری)- تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ اس کی نیکی میں اضافہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے رُک جائے۔ (بخاری) جس مسلمان کی نماز جنازہ چالیس ایسے آدمی پڑھیں جن کی زندگی شرک سے پاک ہو اور وہ نماز میں اس میت کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں تو اللہ ان کی دعاضرور قبول فرماتا ہے (مسلم) کسی مسلم میت کی نماز جنازہ میں تین صفیں ہوتو اللہ اس کی مغفرت اور جنت واجب کردیتا ہے (ابی داؤد)

موت:

لذتوں کو توڑدینے والی موت کو زیادہ یاد کرو تو وہ تمہیں غفلت میں مبتلا نہ ہونے دے(ترمذی) انسان موت کو پسند نہیں کرتا حالانکہ موت اس کے لیے فتنہ سے بہتر ہے (مسند احمد) موت مومن کا تحفہ ہے۔ (بیہقی) مرنے والوں کو کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی تلقین کیا کرو (مسلم) تم اپنے مرنے والوں پر سورة یٰسین پڑھا کرو (مسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ) جب کسی کا بچہ انتقال کر جاتا ہے ا ور وہ بندہ اللہ کی حمد بیان کرکے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں بیت الحمد نامی ایک عالیشان گھر تیار کرواتا ہے (مسند احمد، ترمذی) انسان کے دل پربھی زنگ چڑھ جاتا ہے جسے موت کی یاداورتلاوتِ قرآن سے دور کیا جاسکتا ہے (بیہقی)

قبر:

قبر کے سوالات: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ حضرت محمد کون ہیں؟ (مسند احمد، ابو داؤد) نیک مردہ کی قبر میں جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے جنت کی خوشبو دار ہوائیں آتی ہیں اوراس کے لیے منتہائے نظرتک کشادگی کردی جاتی ہے(مسند احمد، ابوداؤد) کافر مردہ کے لیے دوزخ کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے دوزخ کی گرمی اور جلانے جھلسانے والی ہوائیں اس کے پاس آتی رہیں گی اور اس کی قبر اس پر نہایت تنگ کردی جائے گی(مسند احمد، ابوداؤد) قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔یہاں سے نجات پاگیا تو آگے کی منزلیں نسبتاََ آسان ہیں(ترمذی) قبر و دوزخ کے عذاب، ظاہری و باطنی فتنوں اوردجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو (مسلم) قبروں کو پختہ کر نے، اس پر عمارت بنانے یا اس پر بیٹھنے کی ممانعت ہے (مسلم) نہ تو قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو (مسلم)

ایصال ثواب:

مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے کنواں کھدوانا احسن کام ہے۔ (ابوداؤد، نسائی)

(جاری ہے)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.