عید، عیدی اور عید کارڈ - محمد قاسم سرویا

ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں کیک

میری سہیلی لاکھوں میں ایک

جی ہاں! آج سے دس پندرہ سال پہلے بچپن کی عید پر رنگ برنگے ایک روپے والے اور مہنگے کارڈوں کے اوپر زیادہ تر دوست اور سہیلیاں ایسے ہی اشعار لکھا کرتے تھے اور بھیجنے اور پڑھنے والے دونوں سچی خوشیوں سے سرشار ہو جاتے تھے۔ پچھلے زمانے کی عید جب یاد آتی ہے تو دل میں ایک عجیب طرح کی شادمانی سی بھر جاتی ہے۔ اصل میں عید کی خوشیاں ہوتی ہی بچپن میں ہیں، جب جسم بڑے ہو جاتے ہیں تو دل چھوٹے ہوتے جاتے ہیں، یا پھر گھریلو ذمہ داریاں اور فکریں ان خوشیوں کو نگل جاتی ہیں۔ رمضان شروع ہوتا تو بڑوں کو روزے، نمازوں اور سحری افطاری کی فکر ہوتی، لیکن بچے عید کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتے۔ کہیں نئے سُوٹوں کی فرمائشیں ہو رہی ہیں تو کہیں نئی "ہیر والی" اور " اُچّی اُڈّی والی" جوتیاں خریدی جا رہی ہیں۔

ہماری ایک ماسی عَیشاں (عائشہ) ہوتی تھی، ہم اسے مذاق میں کہا کرتے

"ماسی عَیشاں۔۔۔ تیریاں مُک دیاں نئیں فرمیشاں"

وہ کہتی۔۔۔

"میں تے ایس عید تے تِلّے والا سُوٹ ای لیساں"

عید والے دن ماسی عَیشاں نے آپ وی چنگی ٹَور کڈھنی اور گھر کے دوسرے افراد کی تیاری کروانے میں بھی سب کی ہیلپ کرنی۔ مہندی کی کونوں اور پرنٹڈ نقش و نگار کا رواج تو بہت بعد میں شروع ہوا تھا۔ چاند رات کو ہماری امی جی اور ماسی عیشاں بڑے کَولے (باؤل) میں رنگلی مہندی گھول کے رکھ دیتیں اور جب ہماری بہنیں عید کی خوشیوں کو من میں سموئے سو جاتیں تو امی جی ان کے ننھے ہاتھوں پر ایک "ٹِکی سی" بنا کر کسی کپڑے یا کالے رومال سے ان کی مُٹھیاں باندھ دیتیں۔ صبح اُٹھ کے جب وہ ہاتھ دھوتیں تو مہندی کا "گُوڑھا رنگ" اپنے پُھل بوٹے بنا چکا ہوتا۔

گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی

آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی

بچپن سے ہی میری لکھائی چونکہ دوسروں سے زیادہ خوب صورت تھی، میں نے اپنی ڈائری پر بہت سے اشعار بھی لکھ رکھے تھے اور اسپیشل عید اشعار کی دو تین پاکٹ سائز بکس بھی میرے پاس موجود ہوتی تھیں تو اَلے محلے کے تمام چھوٹے بڑے لڑکے اور لڑکیاں اور تمام پتریر، مسیر، ممیر اور پھپھیر اپنے دوستوں، سہیلیوں، ٹیچروں، چاچوؤں، ماموؤں، خالاؤں اور پُھپھڑوں پُھپھیوں کو بھیجے جانے والے اپنے عید کارڈوں پر مجھ سے مختلف رنگوں اور اشٹائلوں میں اشعار لکھوانے کے لیے آیا کرتے تھے۔ جس کو ذرا تنگ کرنے کا موڈ ہوتا یا جو میری بات نہ مانتا، اسے میں ٹھوک کے جواب دے دیتا کہ میرے پاس ٹَیم نہیں ہے تو پھر وہ مِنتوں اور مَنتوں پر اتر آتا / آتی اور آخر مجھے اس کے خوب صورت کارڈ پر اس کے مطلوبہ وصول کنندہ کے حساب سے اپنی کلر پنسلوں سے دیدہ زیب نقش و نگار بنا کر یہ اشعار لکھ کے دینا ہی پڑتے۔

دیکھو عید آئی ہے زمانے میں

بھیا گِر پڑے ہیں غسل خانے میں

چاول چُنتے چُنتے مجھے نیند آ گئی

صبح جو اُٹھ کے دیکھا تو عید آ گئی

سویّاں پکی ہیں اور سب نے چکھی ہیں

آپ نہ روئیں، آپ کے لیے بھی رکھی ہیں

عید کی خوشی نے سب کو دیوانہ بنا دیا

درزی کو دی پینٹ، اُس نے پاجامہ بنا دیا

چلتی ہے گاڑی، اُڑتی ہے دھول

میرے دوست کا دل ہے گلاب کا پھول

میٹھی سویّاں کھاؤ گے نا

عید والے دن ہمارے گھر آؤ گے نا

کوئی شکوہ ہمیں منظور نہیں، آج نہ کوئی بہانہ ہوگا

آپ کو ہماری خوشیوں کی قسم اس عید پہ آپ کو نہانا ہوگا

اُدھر سے چاند تم دیکھو، اِدھر سے چاند ہم دیکھیں

نگاہوں کا تصادم ہو اور ہماری عید ہو جائے

لوگ کہتے ہیں عید کارڈ اس کو، یہ تو روایت ہے اس زمانے کی

اور دستک ہے اُن کے ذہنوں پر، جن کو عادت ہے بُھول جانے کی

برصغیر پاک و ہند میں اپنوں کو عید کارڈ بھیجنے کی روایت تقریباً دو صدیاں پہلے شروع ہوئی۔ انیسویں صدی کے اوائل میں ہی کئی دولت مند مسلمان گھرانے سجاوٹ والے اسلامی خطاطی شدہ پیغامات بھیجا کرتے تھے، لیکن عید کارڈز کی وسیع پیمانے پر دستیابی اور ان کا ڈاک کے ذریعے بھیجا جانا انیسویں صدی کے آخر میں ہی شروع ہوا۔ 1853 میں جب ہندوستان میں ریلوے متعارف کروائی گئی تو ریلوے کی ترقی اور افادیت کی وجہ سے لوگ اپنے کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں گھروں سے زیادہ دور جانے لگے۔ اس سے ڈاک کا نظام بھی بہتر ہوا، جبکہ پرنٹنگ کی نئی سہولیات نے بھی عید کارڈز کے معیار اور مقدار میں کافی بہتری پیدا کردی۔ لاہور میں حافظ قمرالدین اینڈ سنز، حافظ غلام محمد اینڈ سنز اور محمد حسین اینڈ برادرز، دہلی میں محبوب المطابع اور بمبئی میں ایسٹرن کمرشل ایجنسی شبر ٹی کارپوریشن اور بولٹن فائن آرٹ لیتھوگرافر وہ پہلی کمپنیاں تھیں جنہوں نے ہندوستان میں عید کارڈز کی چھپائی کے اس کاروبار میں قدم رکھا، لیکن ساتھ ہی لندن کی کمپنی رافیل ٹک کے چھاپے گئے ہندوستانی مسلم طرزِ تعمیر کی تصاویر والے پوسٹ کارڈ بھی استعمال کیے جاتے تھے۔ ماضی قریب میں گِل آرٹ کے کارڈز سب سے زیادہ خوب صورت اور پرکشش ہوتے تھے اور فروخت بھی سب سے زیادہ ہوتے تھے۔ رفتہ رفتہ عید کارڈ بھیجنے کی روایت نے پورے خطے میں رواج پایا اور عید کارڈ بھیجنے کی یہ روایت گھر گھر پھیل گئی۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوتا ہوگا جس سے کوئی فرد کسی کو عید کارڈ نہ بھیجتا ہوگا۔

رمضان المبارک کے آغاز میں ہی ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کی مارکیٹیں، بک اسٹالز، جنرل اسٹورز اور بازار خصوصی طور عید کارڈوں کی وجہ سے دیدہ زیب ہو جاتے تھے۔ رمضان کے دوسرے اور آخری عشرے تک میوزک والے، لائٹ والے، خوشبو والے اور رنگ برنگے عید کارڈز کی خریداری اپنے عروج کو پہنچ جاتی تھی۔ عید کارڈز کے ساتھ ساتھ مختلف طرح کے من پسند تحفے بھی خریدے جاتے تھے۔ جن میں گولڈن چین، دل والا لاکٹ، کلپ، پونیاں، ہیئر کیچ، گجرے، چُوڑیاں، فینسی سُوٹ، عطر، پرفیوم، خوشبو والا پین، آلارم والی گھڑیاں، ڈائریاں، پروین شاکر، وصی شاہ اور احمد فراز کی شاعری کی کتابیں اور بہت سے دوسرے گفٹ پیکس شامل ہوا کرتے تھے۔ رنگین دھاگوں سے کڑھائی کر کے رومال پر کسی کا نام لکھ کر دینا بھی بہت قیمتی اور پیارا تحفہ سمجھا جاتا تھا اور اس محبوب رومال سے کبھی منہ ناک صاف نہ کیا جاتا بلکہ اسے مدتوں خوشبو لگا کے اپنی پرائیویٹ چیزوں میں رکھا جاتا۔ اپنے احباب اور اعزاء و اقرباء کی طرف سے وصول ہونے والے عید کارڈز کا کچھ شوقی افراد باقاعدہ ریکارڈ بھی رکھتے تھے۔ جب بھی دوستوں، پیاروں اور اپنے چہیتوں کی یادیں دل میں بسانے کو من کرتا تو پرانے عید کارڈز کو نکال کر دیکھ لیتے اور دل کو پرچا لیا کرتے تھے اور عید کارڈ کے ساتھ پرخلوص تحفے میں ملنے والی اشیاء کو بھی عید کے موقع پر اور کئی سال بعد تک بہت شوق سے پہنا اور استعمال کیا جاتا تھا یا یادوں کی پٹاریوں میں سنبھال کر رکھ لیا جاتا تھا۔

جیسے ہی رمضان شروع ہوتا یہ اسکیمیں لڑائی جاتیں کہ کس کس سے، کیسے اور کتنی عیدی لینی ہے۔ کس کو اسلامی پوسٹر، کس کو کبوتروں والا، کس کو ایکٹروں اور ایکٹرسوں والا، کس کو دل میں لگے تیر اور اس میں سے بہتے خون والا، کس کو سستا اور کس کو مہنگا عید کارڈ بھیجنا ہے۔ عید کارڈوں کے لیے کچھ بچت پہلے کی ہوتی تھی اور کچھ کے لیے چاچے مہنگے ہٹی والے سے ادھار کر لیا جاتا کہ عید والے دن جب عیدی کی مد میں ملنے والی رقم سے ہم امیر ہوں گے تو آپ کا ادھار چُکتا کر دیں گے۔ ہمارا ایک دوست بھٹی بڑا پیٹو قسم کا لڑکا ہوتا تھا۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا، چاہے کسی سے چھین کر کیوں نہ کھانا پڑے، وہ چاچے مہنگے سے جیسے تیسے عید کارڈ تو لے لیتا لیکن ان پر ٹکٹ لگائے بغیر ہی بیرنگ اپنے دوستوں کو بھیج دیتا کیونکہ ٹکٹوں کے پیسوں کی وہ "ڈَڈیاں مچھیاں" کھا چکا ہوتا تھا۔ لیکن یہ سچی اور حقی بات تھی کہ بیرنگ بھیجنے والوں کو کوئی خوشی سے عید کارڈ نہیں بھیجتا تھا اور اگر بھیجتا بھی تھا تو جوابی بیرنگ۔

کراچی، لاہور اور فیصل آباد کے ساتھ ساتھ تقریباً ہر بڑے شہر میں عید کارڈز کی ایک بہت بڑی کارڈ پرنٹنگ کی انڈسٹری ہوا کرتی تھی۔ عید کارڈز بنانے والے سارا سال کارڈز کی تیاری اور ڈیزائننگ پر خوب محنت کرتے تھے۔ عید الفطر کے موقع پر بہت سے عید کارڈز ہونے کی وجہ سے ڈاک کا محکمہ ان کارڈز کو متعلقہ لوگوں تک پہنچانے کا خصوصی اہتمام کیا کرتا تھا۔ خاص طور پر دوسرے شہروں اور باہر کے ملکوں میں بسنے والے دوستوں اور رشتے داروں کو عام ڈاک اور ائیر میل کے ذریعے عید کارڈز بڑے شوق اور خلوص کے ساتھ بھجوائے جاتے تھے۔

رمضان کے آخری عشرے میں چونکہ محکمہ ڈاک کا کام بھی معمول سے بڑھ جاتا تھا، اس لیے انہیں پورے ملک میں لوگوں کے لیے باقاعدہ سرکُولر جاری کرنا پڑتا کہ بروقت عید کارڈز کی ترسیل کے لیے فلاں تاریخ تک عید کارڈ سپردِ ڈاک کردیے جائیں۔ ورنہ عید کے بعد عید کارڈز پہنچنے کی وہ خوشی نہیں ہوتی جو عید سے پہلے پہلے ہوتی ہے۔ عید کارڈز کی انڈسٹری ختم ہونے کے باعث محکمہ ڈاک کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، کیونکہ عید کارڈز کی ترسیل کے دوران فروخت ہونے والی ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر بہت سے لوگوں کا روزگار بھی عید کے موقعے پر کارڈز اور گفٹس کے اسٹال وغیرہ سے جڑا ہوا تھا، اب وہ بھی ٹھپ ہو کے رہ گیا ہے۔

عید کے موقع پر کچھ ڈاکیے بھی بڑے چالاک ہوتے تھے۔ وہ وصول ہونے والے سارے عید کارڈوں کو اپنے پاس جمع کرتے جاتے۔ ہم ان سے روز پوچھتے چاچا جی! ہمارا کارڈ نہیں آیا؟ وہ ہنس کے کہتے پتر! اجے تک تے نئیں آیا اور پھر عید سے دوچار دن پہلے وہ سب گھروں میں افطاری کے بعد جاتے، چاء پانی پیتے، ایڈوانس عید مبارک کہتے اور ہمارے اکٹھے پانچ چھے عید کارڈز ہمیں پکڑا کے کہتے "پُتر جو آپ کو بہت سی خشیاں دے، اسے بھی بدلے میں خشیاں دینی چاہییں نا؟" ہم سمجھ جاتے اور فوراً خوش ہو کے دس بیس روپے (اس زمانے میں غریبوں کے لیے دس بیس روپے بھی بہت بڑی رقم ہوتی تھی) کی عیدی اس پوسٹ مین کو دے کے خود بھی خوش ہو جاتے۔

ہمارے ماموں محمد عاقل عرصہ پچیس سال سے مسقط میں کاروبار کے سلسلے میں مقیم تھے، وہ انٹرنیشنل معیار کے عید کارڈز ہمیں لازمی بذریعہ ائیر میل بھیجا کرتے تھے۔ یا پھر اس زمانے میں کیسٹ میں آواز ریکارڈ کر کے بھیجنے کا رواج ہوتا تھا، انہوں نے جب زیادہ باتیں کرنا ہوتیں اور سب کو باری باری اسلامی باتیں اور عید مبارکیں کہنی ہوتیں تو وہ آڈیو کیسٹ میں اپنی آواز بھر کے بھیج دیتے تھے، جسے گھر کے سارے افراد کیسٹ پلیئر میں لگا کر بڑے شوق سے سنتے تھے۔ جن کو ان کی زیادہ یاد ستاتی ان کی آنکھوں میں کیسٹ سنتے سنتے ننھے ننھے موتی ٹمٹمانے لگتے تھے، اگر کسی کا اس طرف دھیان پڑ جاتا تو وہ بھی آب دیدہ ہو جاتا اور پھر چھپ چھپا کر جلدی سے آنسو پونچھ لیے جاتے۔

نکی عید پر اپنی بیاہی بیٹیوں کو عید سے پہلے پہلے "عید" بھیجنے کی سب سے زیادہ فکر ماؤں کو ہوتی تھی اور اب بھی ہے۔ باپ، بھائی یا گھر کے کسی بڑے کو خصوصی طور پر عید دینے بھیجا جاتا۔ جس دن کسی بیٹی کے پیکے سے عید آجاتی، اُس کی پَوں پر اَڈیاں نہ لگتی تھیں۔ وہ عید دینے آنے والوں کے لیے اسپیشل دعوت کا انتظام کرتی۔ پورے سال کا پلا پلایا دیسی کُکڑ مٹی کی ہانڈی میں جب پکتا تو چاروں پاسے بلے بلے ہوجاتی۔ بیٹی کے سارے گھر والوں کے نویں نکور سُوٹ، کُھسّے، منیاری کا سامان، صابن، شیمپو، چاول، چینی، سینویاں، پھیونیاں، مٹھیائی اور سو سو کے کڑکدے نوٹ جب منجی پر بچھا کر سارے شریکے میں دکھاوا کیا جاتا تو بیٹی پھول کے کُپا ہو جاتی۔

ہمارے ابا جی کے ایک منہ بولے بھائی چاچا یاسین کراچی میں رہتے تھے۔ کہیں اور سے عید کارڈ آئے نہ آئے، پر وہ ہمیں ہر سال نکی عید پر پیارا سا کارڈ ضرور بھیجتے تھے۔ کارڈ وصول کر کے ہم سب بہن بھائی ان کے خلوص اور چاچانہ چاہت کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ پھر زمانہ بدل گیا، عید کارڈز کی پیاری روایت، نرالی محبت اور انوکھی عادت دم توڑ گئی۔۔۔ موبائل، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور وقت اور خلوص پیار کی کمی نے لوگوں کو محدود اور مسدود کر کے رکھ دیا۔ اب چاند رات یا عید والی صبح سب کو ایک ہی کیٹیگری میں ڈال کر اکٹھا فارورڈڈ میسج یا نیٹ کے ذریعے کوئی بنا بنایا ای۔کارڈ بھیج کر سمجھا جاتا ہے کہ ہم بہت بڑے فرض اور قرض سے سبکدوش اور بری الذمہ ہو گئے ہیں۔ کوئی بات نہیں عید کارڈز ختم ہوئے ہیں، لیکن دلوں سے چاہت تو ختم نہیں ہونی چاہیے نا

اب تو لوگ عید پر ایسا کمال کرتے ہیں

عید مبارک لکھ کر سینڈ ٹو آل کرتے ہیں