عید انعام ہے لیکن … - رومانہ گوندل

عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے خاص رحمت ہے۔ ہر سال عیدالفطر اور عید الاضحیٰ کے مبارک دن آ تے ہیں، جو ہمارے مذہبی تہوار ہونے کے سا تھ ساتھ خوشیوں اور مسرتوں کا خوبصورت تحفہ ہیں۔ ان دو دنوں کا انتظار مسلمان سارا سال کرتے ہیں اور جب یہ آ تے ہیں تو کئی کئی دن پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر مسلمان خوش ہوتا ہے، چہروں پہ مسکراہٹیں نظر آ تی ہیں۔ نئے اور خوبصورت لباس زیب تن کیے جاتے ہیں۔ بہترین اور اچھے کھانے پکائے اور کھائے جاتے ہیں۔ غریبوں کو صدقہ و خیرات دیا جاتا ہے تا کہ وہ بھی ان خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔ یہ موقعے مسلمانوں کو نئے سرے سے آپس میں جوڑ دیتے ہیں۔ نماز ِ عید کے لیے بڑے بڑے اجتماع ہوتے ہیں جو مسلمانوں کی وحدت کا اعلان کرتے ہیں تا کہ غیر مسلموں پر ان کا رعب رہے اور دوسرا مقصد ان اجتماعوں میں مسلمانوں کا ایک دوسرے سے ملنا ہے تا کہ ان کے دل آپس میں جڑ جائیں۔ دل کی تبدیلی جو اسلام کا اہم سبق ہے کیونکہ اسلام ظاہر نہیں باطن کو بدلنے پہ یقین رکھتا ہے۔

اس لیے دلوں کو بدلنے کے لیے، ان کو آپس میں جوڑنے کے لیے، وحدت پیدا کرنے کے لیے ان دونوں مواقع پر تربیت کی جاتی ہے۔ عید الفطر سے پہلے رمضان کا پورا مہینہ تربیت کا ہوتا ہے، دل اور عمل بدلنے کا ہوتا ہے۔ دن کو روزے میں بھوکا پیاسا رہا جاتا ہے اور راتوں کو قیام کیا جاتا ہے۔ بھوک پیاس سے دوسروں کی تکلیف کا احساس کروایا جاتا ہے، جو ان نعمتوں سے محروم ہوتے ہیں۔ ضبط ِ نفس، برداشت اور عاجزی کا سبق سکھایا جاتا ہے۔ پورا سال جن نعمتوں کو بے دریغ استعمال کر تے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا۔ ان کی قدر اور شکر گزاری پیدا ہوتی ہے۔ پھر عید کے موقع پہ وہ اجتماع ہوتا ہے جس میں شامل ہونے والوں کے دل، شکرگزاری اور آپس کے احساس اور محبت سے بھر ے ہوتے ہیں۔ عید الضحیٰ کے ساتھ ایثارو قربانی کی، دوسروں میں بانٹنے کی تربیت ہوتی ہے۔

لیکن آج یہ دونوں تہوار ہر سال آتے ہیں، پورے جوش وجذبے سے منائے بھی جاتے ہیں لیکن عمل میں فرق نہیں آتا۔ بڑے بڑے نمازِ عید کے لیے ا جتماع ہوتے تو ہیں لیکن نہ دل جڑتے ہیں اور نہ رعب پڑتا ہے۔ کیونکہ ایک چیز کی کمی رہ جاتی ہے، تربیت کی اور اس ایک کمی کی وجہ سے سب کچھ ظاہر تک ہی محدود ہو کے رہ جاتا ہے۔ وہ روحانی خوبصورتی جو آنی چاہیے، نہیں آ پاتی۔ خوبصورتی آ بھی کیسے سکتی ہے؟ جب تک تربیت ہی نہیں ہو رہی۔ رمضان کا مہینہ جو دل بدلنے آتا ہے اس میں روزے نہ رکھنا بھی فیشن بن گیا ہے اور وہ تربیت جو اس مہینے میں بھوک پیاس سے ہونی تھی۔ ہو ہی نہیں پاتی تو پھر عید کا موقع جو انعام بن کے آتا ہے اس سے بھی خوشیوں کا وہ پیغام جو ملنا چاہیے، نہیں مل پاتا۔ جو تبدیلی آ نی چاہیے، نہیں آتی۔

عید پہ بہترین اور خوبصورت لباس پہنے جاتے ہیں لیکن یہ لباس پہننا در اصل تربیت ہے اپنی شخصیت کو خوبصورت بنانے کی۔ لیکن ہم خوبصورت لباس تو پہنتے ہیں، اس کی صفائی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ لیکن دل کے میل صاف نہیں کرتے، دلوں سے کدورت اور بغض نہیں نکالتے۔ صدقہ فطر، قربانی بانٹنے کی تربیت ہے۔ پورا مہینہ خود بھوکے رہ کے، حلال سے دور رہ کے، دوسروں کو دیا جاتا ہے۔ لیکن آج یہ امت حرام کما کے صدقہ خیرات کے نام پہ شہرت حاصل کرنے کی فکر میں تو لگی رہتی ہے اس مقصد کے لیے بڑی بڑی این جی اوز بھی بنا دیتے ہیں، غربیوں کو بلا کے، تصویریں بنا کے اخباروں کا فرنٹ پیج بنا دیا جاتا ہے۔ لیکن زکٰوۃ اور رشتے داروں کے حقوق جو فرائض کے ذمرے میں آتے ہیں، وہ ادا نہیں ہوتے کیونکہ اس سے سخاوت کے جھنذے نہیں گڑتے جو لوگوں میں شہرت دیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، اس لیے اس ذات سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ انسان کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا غلط۔ اس لیے انسان کو وہ سب کرنا ہے جو اسے رب العزت کی طرف سے حکم دیا گیا ہے وہ اسے کرنا ہے خوشی سے یا نا خوشی سے۔ اس کا اختیار بس یہ ہے کہ وہ خوشی سے کرتا ہے یا نہیں؟ روزے فرض ہیں لیکن رکھے نہیں جاتے، کمزوری کے ڈر سے۔ طبیت کی خرابی کے ڈر سے یا بھوک پیا س برداشت نہیں ہوتی۔ لیکن یہی روزے چھوڑ کے انسان خطرناک بیماریوں کا شکار ہو کے ڈاکٹر کے کہنے پہ تو سالہا سال کھانا چھوڑ دیتا ہے، ڈائٹنگ کے لیے بھوکے رہ سکتے ہیں لیکن اللہ کے لیے ایک مہینہ قربانی نہیں دی جاتی ہے بالکل اسی طرح جیسے نقاب اور پردے کے خلاف تو تنگ نظری کا پروپیگنڈا شروع کر دیا لیکن جراثیم سے بچنے کے لیے ماسک چڑھا لئے۔

اس رمضان میں اپنے اندر تھوڑی سی تبدیلی کرتے ہیں۔ خوشی سے روزہ رکھنے والے بن جاتے ہیں، پھر جو عید ہم منائیں گئے وہ بہترین ہو گی۔ اس سے واقعی خوشیاں اور برکتیں ملیں گی۔ کیونکہ خوشیاں تب ملتی ہیں جب حقدار کو اس کا حق دیا جائے۔ اللہ کا اپنے بندوں پہ حق ہے کہ اس کا حکم مانا جائے، عبادت کی جائے اور روزہ کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ خاص طور پہ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ لیکن ہم اللہ کا حق نہیں دیتے روزے نہیں رکھتے، لیکن یہ گلہ کرتے ہیں کہ عید میں وہ خوشی نہیں رہی۔ اگر ہمیں لگتا ہے کہ رمضان کا پورا مہینہ نا فرمانیوں میں گزار کے، نمازیں روزے چھوڑ کے، ایک عید کی نماز پڑھ کے روحانیت کے درجات پا لیں گئے، تندرستی اور سکون مل جائے گا۔ تو یہ غلط فہمی ہے۔ ساری زندگی فرائض چھوڑ کے، بڑھاپے میں نوافل ادا کر لیں گئے تو فرض ادا ہو جائے گا تو ایسا نہیں ہے۔ نفلی عبادات بہت بڑی چیز ہیں، یہ کر کے بڑے بڑے درجات تک پہنچا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن نفلی عبادات بغیر فرائض کے ایسے ہیں جیسے مریض کا کھانا پینا بند کر کے صرف دوائیوں پہ لگا دیا جائے۔ داوئیوں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن بغیر متوازن خوراک کے دوائیاں صحت مند جسم کبھی نہیں بنا سکتی۔ اسی طرح فرائض چھوڑ کے صحت مند روح نہیں مل سکتی۔ فیصلہ آج ہمارے ہاتھ میں ہے لیکن ہمیشہ نہیں رہے گا۔