ماہ مبارک میں خواتین سے تعاون ہمارا اخلاقی فریضہ - عبدالرؤف قاسمی

اسلام عورتوں کے ساتھ ہمدردی و رحم دلی، نرمی اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "اور ان عورتوں کے ساتھ ہمدردی اور خوبی کے ساتھ زندگی گزارو" (سورۂ نساء، آیت19) تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما میں ہے کہ "عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اچھی طرح رہاکرو، پیارو محبت اورمیل ملاپ سے بسر کرو، ان پر احسان کیا کرو۔" احادیثِ مبارکہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ نیکی، بھلائی، اچھا برتاؤ اور حسنِ سلوک کی تاکید کی، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسنِ سلوک فرماتے۔ چنانچہ حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں اور میں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ سب سے اچھا برتاؤ کرنے والا ہوں" (ترمذی :کتاب المناقب : باب فضل ازواج النبی، حدیث : ۳۸۹۵)

اور ایک روایت میں زبانِ نبوت نے عورتوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا "میں تم کو عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت کرتا ہوں" (مسلم : کتاب الرضاع، باب الوصیة بالنساء، حدیث : ۱۴۶۸) اور ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور بہترین برتاؤ کو کمال ایمان کی شرط قرار دیا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں" (ترمذی)

مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے ساتھ برتاؤ ایک مؤمن کے ایمان کا عکاس ہوتا ہے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کمال ایمان کا مظہر ہوتا ہے۔

ایک مومن کو چاہیے کہ رمضان المبارک، جو نیکیوں کا موسمِ بہار اور ایمان کو تازہ اور چارج کرنے کا مہینہ ہے، جو مؤمنین کے لیے سال بھر کی تیاری کے لیے ٹریننگ ہے، جو تقویٰ کا ایک زبردست کورس ہے، اس کورس کے اِن چند بچے ہوئے ایام کو اپنے گھرانے کی خواتین کے ساتھ حسنِ اخلاق اور حسنِ معاشرت کے لیے غنیمت سمجھے اور اس مقدس مہینہ میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور اچھا برتاؤ کرکے اپنے ایمان کو کامل اور بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ رمضان المبارک میں خواتین کی مصروفیات اور ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔ اس ماہ مقدس کی خصوصی عبادات و مصروفیات کے ساتھ ساتھ کچن کا کام بھی کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ نیز، ان کو گھر کے تمام افراد کی صحت اور پسند کا بھی خیال کرنا ہوتا ہے اور اس کی پلاننگ میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان میں ’’مت‘‘ بول - یاسر اسعد

آئیے رمضان المبارک میں خواتین کے معمولات پر ایک نظر ڈالیں، جس سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اس ماہ مقدس میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک، نرمی ہمدردی اور تعاون کی کتنی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کی خدمات کو سراہنا اور ان کی تعریف کتنا اہم ہے۔

خواتین مرد حضرات کی طرح دن بھر روزہ رکھتی ہیں، شام کے وقت تلاوت قرآن پاک اور نماز سے فارغ ہوتے ہی افطار کی تیاری میں مشغول ہو جاتی ہیں اور سخت گرمی کے موسم میں، جبکہ کچن کے اندر ٹیمپریچر بہت زیادہ ہوتا ہے، اسی میں کھڑے کھڑے سب کی من پسند اشیاء افطار کے وقت سے پہلے پہلے دسترخوان پر سجا دیتی ہیں۔ افطار اور مغرب کی نماز سے فارغ ہوکر رات کے کھانے کی تیاری میں لگ جاتی ہیں۔ نماز اور تراویح وغیرہ بھی پڑھتی ہیں اور سب گھریلو کام کاج انجام دے کر سب سے اخیر میں بستر کا رخ کرتی ہیں۔ سحری میں میٹھی نیند قربان کرکے سب سے پہلے اٹھتی ہیں اور تہجد پڑھ کر سب کے لیے سحری تیار کرتی ہیں۔ سب کی پسند کا بھی خیال رکھتی ہیں، ان ہی سب کاموں میں پورا وقت ختم ہو جاتا ہے، پھر نماز فجر پڑھ کر تھوڑی سی نیند لیکر گھر کے دیگر امور انجام دیتی ہیں مثلاً بچوں کے لیے ناشتہ بنانا، ان کو اسکول جانے کے لیے تیار کرنا، آفس جانے کے لیے مرد حضرات کو تعاون دینا، گھر کی صفائی کرنا، اس کے علاوہ دیگر کام بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے خواتین کو آرام کا وقت بہت کم نصیب ہوتا ہے۔

یہ ہیں رمضان المبارک میں ہماری خواتین کی مصروف ترین زندگی کی چند جھلکیاں، جن سے اندازہ ہوتا کہ ماہ مبارک کے ان مصروف ترین ایام میں گھر کی خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک، گھریلو کام کاج میں ان کی امداد و اعانت، اور حوصلہ افزائی کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت اور تاکید مزید بڑھ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شیطان کہاں قید ہے بھائی؟ - معصوم رضوی

ایسے وقت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کی بے لوث خدمات کو سراہے، ان کی حوصلہ افزائی کرے، دل کھول کر ان کی تعریف کرے اور حوصلہ شکنی والے الفاظ سے بچیں۔ یقیناً ہماری زبان سے نکلے ہوئے چند تعریفی کلمات، ہمدردی اور محبت کے دو بول ان کے کانوں میں رس گھول سکتے ہیں، ان کے دل کو خوشی و سرور سے بھر سکتے ہیں، دن بھر کی مصروفیات و مشغولیات کی وجہ سے ان کے ٹوٹے ہوئے اور تھکے ہوئے جسم میں ایک نئی جان اور طاقت پیدا کر سکتے ہیں، ان کے اخلاص و محبت میں مزید چار چاند لگا سکتے ہیں، ہماری طرف سے ان کا ادنیٰ سا تعاون ان کے لیے حقیقی سکون و اطمینان کاباعث بن سکتا ہے۔ اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ خواتین کی خدمات کو سراہنے اور ان کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر ان کا تعاون کرے، چھوٹے چھوٹے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاکر اخلاقِ نبوی کا مظاہرہ کریں۔ احادیثِ مبارکہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج خود انجام دیا کر تے تھے اور گھر کی ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ سے حضور کے گھر کے معمولات کے بارے میں پوچھا گیا تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ "آپ بکریوں کا دودھ خود دوہ لیتے تھے، اپنے کپڑے سی لیتے، اپنے جوتے سی لیتے، اپنی خدمت خود کرتے اور وہ تمام کام کرتے جو مرد اپنے گھر میں کرتے ہیں۔" (ترمذی: باب مما فی صفة اوانی الحوض: حدیث: ۲۴۸۹)

ہمیں چاہیے کہ اس ماہِ مقدس میں خواتین کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے در گزر کریں، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، خندہ پیشانی اور مسکراتے چہرے کے ساتھ ان کا سامنا کریں، معمولی معمولی باتوں پر غصہ اور تندخوئ سے پرہیز کریں، ان کے اچھے جزبات کی قدر کریں، ہر اس عادت اور اس کام سے بچیں جس سے ان کو تکلیف ہوتی ہے اور رمضان کی ان مبارک ساعتوں میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک و حسنِ معاشرت کے ساتھ ساتھ، ان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کی دل سے دعا کریں۔