الیکشن نما سلیکشن کی آمد آمد ہے کیا؟ - خرم علی عمران

یہ لیں جناب، تھا جس کا انتظار، آنے والا ہے وہ شاہکار، اپنا پاکستانی سیاسی موسم بہار یعنی الیکشن 2018 مرے سرکار! ہو جائیں سب تیار!خیر، یہ تو بس یونہی تک بندی سی ہے، الیکشن کی ممکنہ آمد آمد ہے، لفظ ممکنہ ویسے قابل غور ہے، تاریخ بھی اناؤنس کر دی گئی ہے، تیاریاں بھی عروج پر ہیں، الیکشن کمیشن کی پھرتیاں، آنیاں جانیاں اور مختلف معاملاتِ مملکت پر لیے جانے والے نوٹسز بھی عروج پر نظر آتے ہیں، سیاسی پہلوان بھی ڈنڈ بیٹھک نکالنے میں مگن نظر آ رہے ہیں، نگران بھی تشریف لا چکے ہیں، گویا اکھاڑا بس اب تیار ہی سمجھا جائے۔

اس بارے میں ملک کے مقتدر حلقوں، دانشوروں اور اہل نظر حضرات میں دو مختلف زاویہ ہائے فکر اور نقطہ ہائے نظر یا یہ کہہ لیں کہ دو تھیوریز گردش میں ہیں۔ ایک سیاسی مکتبہ فکر کے ماہرین اب بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں، وہی کرپٹ اشرافیہ کے لوگ یا ان کے بچے جمہورے پھر دوبارہ اگلے پانچ سال تک کے لیے منتخب ہوکر پھر اسی طرح کرپشن، اقرباء پروری اور کمیشن و کک بیکس کے خوب ٹھمکے لگائیں گے اور عوام بے چارے اسی طرح آنکھوں میں خواب سجائے، حسرت و یاس کے دیے جلائے تالیاں بجاتے چلے جائیں گے اور بقول شاعر سیاست کی طوائف اسی طرح بد قماش تماش بینوں میں گھری رہے گی۔ اس لیے یہ الیکشن کا ڈرامہ رچانے کی بجائے ایک ٹیکنو کریٹس پر مشتمل قومی حکومت تین برس کے لیے قائم کی جائے، اپنے اپنے شعبے کے مستند ماہرین پر مشتمل یہ قومی حکومت تمام سابقہ سیاسی کھلاڑیوں، چھوٹے بڑے کارکنوں، قائدین، قومی خزانے کو شیرِ مادر کی طرح ہڑپ کرنے والوں، قرضے معاف کرانے والوں، کمیشن اور کک بیکس کھانے والوں کا عدالت عظمیٰ کی زیر نگرانی کڑا اور بے رحمانہ مگر منصفانہ احتساب کرے، کرپشن کو جڑوں سے اکھاڑ دیا جائے، سوئس بینکوں میں چھپایا ہوا 100 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا کالا دھن واپس لایا جائے اور پھر تین برس کے بعد الیکشن کا ڈول ڈالا جائے، اس تجویز کو بنگلہ دیش ماڈل بھی کہا جاتا ہے۔

دوسرے مکتبۂ فکر کے ماہرین اس متذکرہ بالا نظریے اور خیال کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدارا! اب اس ملک پر رحم کرو، کئی تجربات کر لیے گئے ہیں، بہت سے سیاسی فارمولے، سیاسی ماڈل آزما لیے گئے ہیں، بیڑہ غرق ہونے کے سوا کچھ نہ ملا، اس ملک کے بانیان نے جمہوری اور پارلیمانی طرزِ سیاست کے تحت کاروبارِ مملکت چلانے کے لیے یہ ملک حاصل کیا تھا، اس ملک کے ہر مسئلے کا علاج صرف اور صرف باقاعدگی سے الیکشن ہونے سے منسلک ہے۔ الیکشن کی مثال ان کے مطابق ایک چھلنی کی سی ہے، ہر دفعہ گند کچرا چھٹتا جائے گا اور بہتر سے بہتر سیاسی لاٹ سامنے آتی جائے گی۔ اگر قیام پاکستان سے اب تک مسلسل صاف شفاف الیکشن منعقد ہوتے رہتے تو اس وقت ملک کی صورتِحال موجودہ صورت حال سے بہت مختلف اور بہتر ہوتی۔ لہٰذا اب کسی فارمولے کو آزمانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں لگاتار تیسرے الیکشن منعقد ہونے جارہے ہیں تو انہیں بخیر و خوبی منعقد ہونے دیا جائے تو بہتر ہوگا۔

ایک تیسرا نقطۂ نظر بھی ہے جسے ہمارے پیارے دوست مرزا مقفود الخبر نے پیش کیا ہے۔ مرزا جی بھی بڑا عجیب کریکٹر ہیں۔ یہ حضرت اکثر نہ جانے کہاں مدتوں غائب رہتے ہیں، کبھی اہل دین و تقویٰ کے ساتھ لمبے تبلیغی دوروں پر چلے جاتے ہیں تو کبھی کہیں اور۔ لوگ کہتے ہیں کہ جناب کے پیروں میں چکر ہے۔ پھر جب آتے ہیں تو ایک نئے نظریے، ایک نئے نقطہ فکر کو یوں اپنی ذہنی پٹاری سے برآمد کر کے اور پیش کرکے۔ ہم سب مبہوت سے سامعین کو یوں فخریہ انداز میں دیکھتے ہیں جیسے کوئی جادوگر یا شبعدہ باز ہیٹ سے خرگوش برآمد کر کے ناظرین کو دیکھتا ہے۔ تو کبھی موقع ملا تو جناب کی حیرت انگیز صلاحیتوں پر بھی لکھنے کی کوشش کروں گا کہ آپ کی شخصیت بہرحال ایک بلاگ سے بہت بڑی ہے، مگر فی الحال موضوع سے منسلک ان کی تجویزِ دل آویز بیان کر دیتا ہوں۔ فرماتے ہیں کہ "بھائی ! کیوں خوامخواہ بے کار کے چکروں میں پڑتے ہو؟ اس الیکشن نما سلیکشن کو گولی مارو اور چند برس کے لیے سارا ملک بمع تمام اثاثہ جات و شعبہ جات چائنا کو ٹھیکے پر دے دو، سب ٹھیک ہوجائے گا دیکھنا۔ کیوں ہے نا زبردست تجویز؟"

اب کون سی تجویز بالا تین تجاویز میں سے زبردست ہے اور کون سی زیردست؟ یہ فیصلہ آپ ہی فرمائیے کہ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔