ضمیر فروش میڈیا ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ؟ - منصور الدین فریدی

ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ کون سا ہے؟ بیرونی یا اندرونی؟ اگر غور فرمائیں تو اس وقت ملک کے میڈیا کا ایک بڑا طبقہ ہی سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ کل تک ملک میں ہر دنگے کے لیے بیرونی ہاتھ کا الزام عائد ہوتا تھا، اب ملک میں فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے اور یک جہتی کو تباہ کرنے کے لیے کسی اور کی ضرورت نہیں، ”زر خرید“ میڈیا ہی یہ خدمت انجام دینے کو تیار ہے۔ اس کے ثبوت ایک بار نہیں بار بار ملے ہیں اور بار بار ملک نے صحافت کے گھناﺅنے کردار کو دیکھا ہے۔ اب ایک بار پھر ننگا ہوگیا میڈیا! ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا، بار بار ننگا ہورہا ہے میڈیا، مگر واہ! ننگا ہونے کے بعد بھی شرمندہ نہیں ہے کیونکہ اب ننگا ہی رہنے لگا ہے جمہوریت کا چوتھا ستون۔

میڈیا کو بے لباس کرنے کا اعزاز ایک بار پھر ”کوبرا“ کو حاصل ہوا ہے، ایک ایسا کوبرا جو ملک میں بدعنوان میڈیا کی کھال اتارتا رہا ہے، جس کو دیکھ کر دوسروں کو ننگا کرنے والا میڈیا اپنی ”لنگوٹ“ پکڑے کھڑا ہے، سب کو ”الف ننگا“ ہونے کا خوف ہے۔ ملک کی تفتیشی صحافت میںسب سے بڑا نام بنا ”کوبرا پوسٹ“ ایک بار پھر اپنی ہی برادری کے ان نامور اور شہرت یافتہ ناموں اور اداروں کو بے نقاب کررہا ہے جو پیسوں کے لیے ”دین و ایمان“ بیچنے کے لیے ایک پیر پر کھڑے ہیں۔ جو حکومت کے لیے جان دینے اور جان لینے کو تیار ہیں، جو ملک کے اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف کام کرنے کو راضی ہیں، جو”ہندوتوا “کے فروغ کے لیے عوام کو گمراہ کرنے اور انہیں بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کو راضی ہیں۔ ”پیسے کے لیے سب کچھ کرے گا“ ہی ان کا نعرہ ہے۔

دراصل تحقیقاتی نیوز پورٹل ”کوبرا نیوز“ 25 مئی کو ملک کے میڈیا میں پھیلی ”دھندے بازی “ کے خلاف جو ”اسٹنگ آپریشن“ چلا رکھا تھا اس کا دوسرا حصہ جاری کیا ہے جس نے ملک کے نامی گرامی اور بلند وبالا میڈیا گھرانوں کو ضمیر فروش ثابت کردیا ہے۔ جو میڈیا گھرانے قومی ترانے سے قوم پرست تک ہر موضوع کو جینے مرنے کا مسئلہ بنا دیتے ہیں وہ ملک میں ”ہندوتوا“ کے نام پرسب کچھ بھول جانے کو تیار ہیں، بس ان کی جیب گرم کر دیجیے اورپھر دیکھیے میڈیا کا کھیل، عوام کا دماغ گھمانے کی کلا کے ایک سے بڑھ کر ایک نمونے۔

اس اسٹنگ ”آپریشن 136“ نے میڈیا کی دنیا میں کھلبلی اور کھجلی مچا دی مگر ان ایمان فروشوں کی ہمت اور حوصلہ بھی ملک کے لیے کسی بڑے صدمے سے کم نہیں ہے جو چوری اور سینہ زوری پر اڑے ہوئے ہیں۔ آنکھیں جھکانے کو تیار ہیں نہ سر، بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کا ماحول ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹنگ آپریشن میں جہاں کئی بڑے میڈیا گھرانے داغدار نظر آئے وہیں مغربی بنگال اور تریپورہ میں کچھ ایسے اخبار کا بھی پتہ چلا ہے جنہوں نے کسی بھی قیمت پر غلط مہم چلانے سے انکار کر دیا۔

نیوز پورٹل ’کوبرا پوسٹ‘ نے 30 ویڈیوز جاری کیے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ کئی بڑے میڈیا ہاؤسز ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے، تفریقی ایجنڈے کو نافذ کرنے اور غیر بی جے پی سیاسی رہنماؤں کی کردار کشی کرنے کے لیے بڑے فائدے لینے کے لیے تیار ہیں۔ کئی میڈیا ہاؤسز پیسہ لے کر ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور مذہب کے نام پر عوام بانٹنے کے لیے راضی ہوچکے ہیں۔ ان میں ایسے ایسے نام ہیں جو اپنے نیوز چینل پر نئی نسل کو کئی کئی گھنٹے ”گیان“ دیتے ہیں اور کامیابی کی راہ اور اس کے اصولوں سے آگاہ کراتے ہیں۔ یہ اسٹنگ آپریشن کا دوسرا حصہ ہے، پہلے حصے میں کوبرا پوسٹ کے صحافی پشپ شرما نے دینک جاگرن، امر اجالا، ڈی این اے، پنجاب کیسری، اسکوپ وھوپ، انڈیا ٹی وی، ریڈف اور یو این آئی پر جال پھیکا تھا۔ ابھی پہلے جھٹکے سے ایمان فروش سنبھل نہیں پائے تھے کہ ”کوبرا پوسٹ“ نے ایک بار پھر پھن پھیلا دیا اور بدعنوانوں کے چہرے سے وہ نقاب اتار پھینکی جو عوام کو صحافت کے نام پر بیوقوف بنا رہے ہیں۔ اس کا ایسا خوف تھا کہ ہائی کورٹ سے ’دینک بھاسکر‘ نے اس کو روکنے کا اسٹے لے لیا تھا جس کے سبب کوبرا پوسٹ یو ٹیوب چینل نے ’دینک بھاسکر‘ والے حصے کو چھوڑ کر باقی تمام ویڈیو یو ٹیوب چینل پر پوسٹ کر دیے۔

پورٹل نے جو ویڈیوز جاری کیے ہیں اس میں سنسنی خیز انکشافات نظر آتے ہیں، جس میں کئی بڑے میڈیا ہاؤس بشمول ٹائمز آف انڈیا، بینیٹ کولومین اینڈ کمپنی، ہندوستان ٹائمز، دی نیو انڈین ایکسپریس، اے بی پی نیوز، زی گروپ، ٹی وی 18، اے بی این آندھرا جیوتی، دیناملار، جاگرن گروپ، اوپین میگزین، لوک مت، سن گروپ اور بِگ ایف ایم شامل ہیں جو پیسے لے کر خبریں شائع کرنے کو تیار ہو گئے تھے۔ ان ویڈیوز میں انڈر کور رپورٹر پشپ شرما نے خود کو آچاریہ اٹل نامی ایک پرچارک کے طور پر خود کو متعارف کرایا ہے۔ اس کی ملاقات کئی سینئر ایگزیکٹیو بشمول ٹائمز آف انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر سے ہوئی۔ پرچارک نے ان ویڈیوز میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک تنظیم ’شریمد بھگوت گیتا پرچار سمیتی‘ کی نمائندگی کر رہا ہے اور وہ ان ویڈیوز میں فرقہ وارانہ ایجنڈا اور تفریق کو فروغ کرنے کے لیے اشتہارات، ایوینٹس، ایڈورٹوریلس کو سینکڑوں کروڑ روپے اسپانسر کر رہا ہے۔

اس ”آپریشن136“ میں سب سے بڑا نام ٹائمز آف انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر ونیت جین کا ہے، جس نے ایسا مواد شائع کرنے کے لیے 500کروڑ روپے مانگے تھے۔ کئی ویڈیو ایسے پیش کیے جارہے ہیں جن میں ونیت جین اور گروپ کے ایک اور سینئر افسر سنجیو شاہ کو بات چیت کرتے سنا جاسکتا ہے کہ جس میں ”آچاریہ اٹل“ کی تجویز پر بات ہورہی ہے جس نے ”کرشنا“ اور ”گیتا“ پر پروگراموں کی آڑ میں ہندو توا کو فروغ دینے کا کھیل ہونا تھا۔ ایک ملاقات میں ونیت جین اور سنجیو شاہ کو اس ”سودا باز“ کو رقم کی ادائیگی کے طریقہ بیان کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے، جو کہتے ہیں کہ آپ اس پروپیگنڈا مہم کے لیے نقد بھی ادا کرسکتے ہیں۔ بہرحال، اس میڈیا گروپ نے اس کی تردید کی ہے۔ یاد رہے کہ ٹائمز ناﺅ اسی گروپ کا حصہ ہے جو کئی مرتبہ جھوٹی خبریں دکھانے کا کام کرچکا ہے۔

بات ہندو توا کی ہو اور ”زی“ کا نام نہ آئے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس آپریشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ اور چینل کے مالک سبھاش چندر نے صحافتی اصولوں کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ چینل کے صحافی اور غیر صحافی ملازمین اس آپریشن میں کیمرے میں قید ہوئے ہیں۔ جو بتا رہے ہیں کہ کس طرح بلیک منی لیا جاتا ہے، کس طرح زرد خبریں چلائی اور دکھائی جاتی ہیں جس سے کسی کو اندازہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ یہ سب پیسہ کا کھیل ہورہا ہے۔ یہ ایسے چینل ہیں جو غلطی کرکے معافی نہیں مانگتے ہیں، شرمندہ نہیں ہوتے ہیں جس کی مثال ممتاز سائنسداں اور شاعر گوہر رضا ہیں جن کو چینل نے افضل گرو پریمی کہا تھا اور جب نیوز اینڈ براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھارٹی نے پرائم ٹائم میں معافی نامہ دکھانے کا حکم دیا تو زی نیوز نے اب تک اس پر عمل نہیں کیا ہے۔

دوسرا بڑا نام آیا ہے انڈیا ٹوڈے گروپ کی وائس چیئر پرسن کالی پوری کا جنہوں نے شروع میں آنا کانی کی، کبھی انکار کیا اور پھر تیار ہو گئیں۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ اب چونکہ رام مندر تنازع بن گیا ہے اس لیے ”کرشنا“ اور ”گیتا“ پر پروگرام کی آڑ میں ہندو توا کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے ایک بار رپورٹر کو ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا کچھ بھی کرنا ادارت کے ساتھ صحیح نہیں رہے گا۔‘‘ بعد ازاں وہ بھی تیار ہوگئی تھیں۔ انہوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ جن باتوں سے ہماری ادارتی پالیسی اختلاف کرے گی ہم اس پر آپ پر تنقید کریں گے۔ بہرحال، ان کا سودا نہیں ہوسکا تھا۔ ہندوستان ٹائمز میڈیا گروپ کے ایسوسی ایٹ وائس پریزیڈنٹ اونیش بنسل کو اس اسٹنگ آپریشن میں مشورہ دیتے ہوئے سنا جا رہا ہے ”تم دو طرح سے حملہ کرو۔ ایک میڈیا گھرانوں سے معاملات کرو۔ اگر تم ان کو کچھ کروڑ روپے دے کر اپنے بارے میں مثبت بلوا سکتے ہو، اگر تم ان کو کروڑ روپے دے کر اپنے بارے میں مثبت بلواؤ گے تو میری ادارتی ٹیم پر یہ دباؤ ہوگا کہ زیادہ منفی نہ دکھایا جائے۔ دوسرا یہ کہ اگر تم کسی مشہور پبلک رلیشنز ایجنسی کو اپنے ساتھ جوڑ لیتے ہو تو وہ رپورٹرز کو کنٹرول کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ان کی خبروں کے ذرائع ہوتے ہیں۔“

دوسری میٹنگ میں ہندوستان ٹائمز میڈیا گروپ کے ایک اور عہدیدار کو یہ وعدہ کرتے ہوئے سنا گیا ہے کہ ”انتخابات سے قبل کانگریس کے اقتدار وارلی کرناٹک میں معاشی بحران اور کسانوں کی خودکشی کے معاملے کو زیادہ چلایا جا سکتا ہے۔“ کوبرا پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بنگال کے برتمان پتریکا اخبار اور تریپورہ کے دینک سمباد اخبار نے ایسی کسی بھی پیش کش کو منع کر دیا لیکن باقی تمام میڈیا گھرانے ایسی مہم چلانے کے لیے تیار تھے کیونکہ قیمت صحیح مل رہی تھی۔ صحافی نے ان میڈیا گھرانوں کو مشورہ دیا تھا کہ ان کا سنگٹھن ہندوتوا ایجنڈا کے فروغ کے لیے ان کو رقم دے گا۔ اس کے فروغ کے لیے پہلے مرحلے میں خوشگوار ماحول بنانے کے لیے مذہبی پروگرام چلانے ہوں گے اور اس کے بدلے ان کو رقم دی جائے گی۔ پولرائزیشن کے اس مواد کے ساتھ ساتھ ان گھرانوں کو حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی، مایاوتی اور اکھلیش یادو کی کردار کشی کی مہم بھی چلانی ہوگی۔

دوسرے مرحلے میں رائے دہندگان کو فرقہ پرستی کی بنیاد پر ہموار کرنے کے لیے سخت گیر ہندوتوا رہنماؤں جیسے ونے کٹیار، اوما بھارتی اور موہن بھاگوت کی تقاریر کو فروغ دینا ہوگا۔ کوبرا پوسٹ کی تحقیقات اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ آر ایس ایس جیسی تنظیموں نے صرف میڈیا ہاؤس کے نیوز روم میں ہی نہیں بلکہ ان کے بورڈ رومز میں بھی گھس بیٹھ کر لی ہے، جہاں مالکان اس بات کا اعتراف کرتے نظر آرہے ہیں کہ ان کے بر سر اقتدار پارٹی اور اس کی پیرنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ تعلقات ہیں یا وہ ان کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں۔ ان سب میڈیا گھرانوں سے تبادلہ خیال میں ایک بات یکساں نظر آئی کہ مختلف میڈیا گھرانے اپنے چینل پر اس طرح کا مواد چلانے کے لیے مثبت نظر آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ میڈیا گھرانے نقد رقم لینے کے لیے تیار تھے۔ ان میڈیا گھرانوں کے ساتھ ڈجیٹل آن لائن پیمنٹ کا پلیٹ فارم PAYTM بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے تیار نظر آیا تھا جو ایسے اشتہار چلانے کے لیے تیار تھا جن سے ہندوتوا کو فروغ ملے۔

اب سب میڈیا ہاؤس کوبرا پوسٹ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، بات وہی ہے ویڈیو کی جانچ ہوگی، ان پر سوالیہ نشان لگیں گے، کوئی پلٹ کے وار کرے گا، کوبرا پوسٹ کو ہی بد عنوان بتائے گا۔ لیکن اگر کوبرا پوسٹ کی رپورٹ درست ہے اور جو ویڈیو تو اس کا مطلب یہی ہے کہ میڈیا کا حال جسم فروشی کے بازار سے بھی برا ہے، جہاں نیچے سے اوپر تک ہر کوئی ایمان دھرم بیچنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔