وکیل - عتیق ادریس بٹگرامی

پاکستان میں کئی اقسام کے وکیل وافر مقدار میں پائے جاتےہیں۔ نیز، پائے جانے کے ساتھ ساتھ "پالے"بھی جاتے ہیں اور موقع محل کی مناسبت سے تعلق رکھنے والے وکیل کی "تشکیل" مؤکل کی ضرورت بلکہ مبنی بر "توکل" ہوتی ہیں۔ ذیل میں چند "پاپولر "قسم کی وکلاء کا "تذکرۂ خیر" بہ "امید خیر" ہی کرنا چاہتے ہیں۔

1۔ مفت وکیل

وکلاء کے اس قبیل سے تعلق رکھنے والے "جہلاء" آپ کو گلی گلی، قریہ قریہ "تھوک" کے حساب سے ملیں گے۔ غمی و خوشی کی تقاریب ان کی پسندیدہ "جائے آزمائش" بلکہ کبھی کبھی "ود فرمائش" ہوتی ہیں، جہاں یہ خوب کسی کے حق میں اور کسی کے "ناحق" دلائل کا انبار لگاتے ہیں۔ "دلائل "کیا بلکہ بالترتیب بروزن "شمائل" و "رزائل" کا پر چار بحالت "بے ہوش و حواس" کیا جاتا ہے، کسی کا کیا؟ اپنا ہی "ستیا ناس" کیا جاتا ہے۔ وکیلوں کی اس قسم سے لوگ "دورو سلاماً" کے فارمولے پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

2۔ فرمائشی وکیل

وکیلوں کی اس قسم کی "تشکیل " فرمائشی طور پر کی جاتی ہے۔ جائے تشکیل پر یہ صرف وکیل نہیں بلکہ "مدعی سست گواہ چست" کا عملی نمونہ دکھائی دیتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس قسم کے وکلاء آج آپ کے تو کل میرے۔ کیونکہ ان کی "آزمائش" بقدر "فرمائش" ہی ہوتی ہے۔ اس قسم کے وکلاء کا دیدار صرف آپ گھر بیٹھے بیٹھے روز کر سکتے ہیں۔ بس "ریموٹ" اٹھائیں اور ان کو "پروموٹ" ہوتے دیکھیں اور دیکھتے ہی جائیں۔

3۔ آزمائشی وکیل

یہ شاید سب سے "پرخطر" راہ کے "راہی" بلکہ "راوی" ہوتے ہیں کیونکہ "راوی" کے ساتھ ساتھ یہ اپنے موکل کے "داعی" اور "سپاہی" بھی ہوتے ہیں۔ مگر ان کی تقرری محض "آزمائش" ہی ہوتی ہے ۔اگر "ترجمان" ٹھیک ہو تو "آزمائش" کے بعد "آسائش" کا فرمان جاری ہوتا ہے بصورت دیگر "ستائش" کے ساتھ رخصت کرنا ہی آخری حل سمجھا جاتا ہے۔ اس قسم کے وکیل صاحبان "صاحبان" کے ارد گرد ہی دیکھے دکھائے جاتے ہیں۔

4۔ سازشی وکیل

یہ "سوشل میڈیا" پر موجود سر گرم "وکلاء" کا ٹولہ ہے، جن سے خیر کی توقع عبث ہے۔ یہ "سوشلائز" ہونے کے لیے ایمان، اعمال اور اقوال تک "کمرشلائز" کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ ان کے نزدیک کسی کو ہیرو یا زیرو کرنا بس "نیٹ" کے مرہون منت ہے۔ اس قسم کے "نالائق"کی خوشی صرف "لائک" ہوتی ہے جبکہ "کمنٹس" ان کی "دانشوری" پر مہر اور "شیئر" کرنا تو ان کا "شیر" بننا ہوتا ہے۔

ایک اور قسم "وکلاء" کی جسے میں کوئی نام دینے سے قاصر ہوں، وہ بھی ان "مفت وکلاء" سے کسی قدر مماثلت رکھتے ہیں مگر مجھے حیرانی بس یہ ہے کہ وہ بیک وقت، میاں صاحب، این جی او مافیا اور جمہوری غنڈوں کی "پر جوش" وکالت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ ملکی عدلیہ، آرمی اور اپنے ملکی ایجنسیوں کی کٹر مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ان کا یونیفارم باقی وکلاء کی طرح تھری پیس پینٹ کوٹ کے جائے شلوار قمیص اور عمامہ ہوتا ہے البتہ "کالی واسکٹ" مشترک ہے۔ کوئی مجھے ان کی "قبیل"کا نام بتا کر احسان فرمائیں۔