ہم سب خدیجہ ہیں - خدیجہ افضل مبشرہ

خدیجہ صدیقی آپ سب کو یاد ہی ہوگی۔؟ پاکستان کی تاریخ کی ان چند خواتین میں سے ایک، جو انصاف کی خاطر ڈٹ کر لڑی۔ بنا کسی دباؤ میں آئے، بلا خوف و خطر اپنا حق لے کر رہی۔

دن دیہاڑے شاہراہ عام پر چھریوں کے 23 وار کرنا، کوئی پرس یا موبائل چھیننے والا روزمرہ کا کیس بھی تو نہ تھا؟ قدرت نے اسے دوسری زندگی بخشی تو شاید اسی لیے کہ وہ ایک مثال قائم کر سکتی اور اس نے کی۔

ایک با اثر باپ کا اثر و رسوخ بھی اس کے بیٹے کو سزا سے نہ بچا سکا اور عدالت نے "شاہ حسین" کو اقدام قتل کے جرم میں سات سال قید کی سزا سنا دی۔ بلاشبہ وہ دن انصاف کی فتح کا دن تھا۔ میں اور میرے جیسی دوسری پاکستانی خواتین اس بات پر بے حد خوش تھیں کہ ایک مظلوم لڑکی اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف لڑی اور کامیاب ہوئی۔

ہمارا معاشرہ ایک ایسا معاشرہ بن چکا ہے جہاں ایسے کیسز میں بھی لوگ قصوروار لڑکی کو ہی سمجھتے ہیں۔ کسی لڑکی کو چھیڑا جائے یا ہراساں کیا جائے تو سب سے پہلا خیال عوام کے ذہنوں میں یہی آتا ہے کہ "اسی نے اکسایا ہوگا"۔ اگر خاندان کا کوئی فرد ایسی گری ہوئی حرکت کرے تو عورت کو کہا جاتا ہے کہ اپنی عزت کی خاطر خاموش رہو اور اگر کوئی اس کلچر سے بغاوت کر کے آواز اٹھا لے تو اسے خاندان بھر کی نفرت اور دھتکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی لڑکی اغواء ہو جائے تو کوئی یہ نہیں کہتاکہ اسے کوئی اٹھا لے گیا۔ پہلی بات یہی سنائی دے گی کہ نجانے کس کے ساتھ بھاگ گئی ہے بدبخت؟

معاشرے میں ایک بڑی تعداد میں عورتیں اپنے ساتھ ساتھ، مرد کے گناہوں اور ظلم زیادتی کا بوجھ بھی اٹھاتی ہیں۔ عورت کے ناتواں کندھے اپنے باپ بھائی اور خاندان کی عزت کا بوجھ تو اٹھاتے ہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے والے قبیح کردار مرد کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں اور عورتیں معاشرتی دباؤ میں آ کر ہونٹوں پر چپ کا تالہ ڈال کر ساری زندگی مسلسل اس بوجھ میں اضافہ بھی کرتی رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نظام انصاف کی ایک ناقابل یقین کہانی - مسزجمشیدخاکوانی

خدیجہ صدیقی کو بھی بلاشبہ ان سب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر سلام ہے اس کے حوصلے کو اور اس کے والدین کی ہمت کو جو اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑے رہے اور بالآخر ایک نامور وکیل کے مجرم بیٹے کو سزا دلوانے میں کامیاب ہوئے۔

مگر پچھلے سال آب و تاب سے چمکنے والا انصاف کا سورج کل بری طرح سے گہنا گیا۔ انصاف دینے والوں نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے شاہ رخ جتوئی، مجید خان اچکزئی اور ایسے ہی بہت سے دوسرے بااثر مجرموں کی طرح خدیجہ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے نامور وکیل کے بیٹے شاہ حسین کو بھی آزاد کر دیا۔

ہمارے ہاں قانون کے ہاتھ جتنے لمبے ہیں، مجرم کے پاس اتنی ہی بڑی چھری ہے جس سے وہ بار بار قانون کے یہ لمبے ہاتھ کاٹ کر چلتا بنتا ہے اور مظلوم کے ساتھ ساتھ ہمارا بیچارہ قانون بھی لہو میں لت پت پڑا رہ جاتا ہے۔

کل لاہور ہائی کورٹ نے جو چھرا خدیجہ کے دل میں گھونپا ہے، وہ شاہ حسین کی ماری گئی 23 چھریوں سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔ شاہ حسین کی ماری گئی چھریوں کے تو شاید صرف نشان ہی خدیجہ کی گردن پر باقی رہیں گے، مگر انصاف فراہم کرنے والوں کے اس کاری وار کی تکلیف ساری زندگی خدیجہ صدیقی بھلا نہ پائے گی۔

تف ہے ان انصاف کے رکھوالوں پہ، جو اپنا پیٹ بھرنے کی خاطر موبائل اور پرس چھیننے والوں کو تو سزا دیتے ہیں، مگر اپنے عیاش نفس کی تسکین کی خاطر دوسروں کی عزت اور جان چھین لینے والوں کو باعزت بری کر دیتے ہیں۔ جس معاشرے میں انصاف کی یہ صورتحال ہوگی، وہاں شاہ رخ جتوئی اور شاہ حسین جیسے ظالم پیدا ہوتے رہیں گے۔

یہی وقت ہے کہ ہم سب خدیجہ کا ساتھ دیں، اس کے لیے آواز اٹھائیں۔ اگر ایک باہمت لڑکی اپنے حق کے لیے لڑ رہی ہے تو اسے ہماری سپورٹ کی ضرورت ہے اور سچ پوچھیں تو اس سے زیادہ ہم سب کو اس کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ تاکہ کل کو کوئی شاہ حسین، کوئی مجاہد آفریدی یا کوئی اور بگڑا امیر زادہ کسی خدیجہ، عاصمہ یا ہمارے ساتھ، میری، آپ کی کسی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا کچھ کرنے سے پہلے سو بار نہیں تو دس بار تو ضرور سوچے۔ یہی وقت ہے کہ ہمیں اپنی بہن بیٹیوں کے کندھے اتنے مضبوط بنانے ہیں کہ وہ کسی گھناؤنے کردار کے شخص کے گناہوں کے بوجھ کی گٹھڑی کو اٹھانے سے انکار کر دیں۔ آج وہ وقت ہے کہ ہم سب خدیجہ صدیقی ہیں اور باہر گھات میں بہت سے شاہ حسین ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   لٹتی انسانیت اور ہمارے لیے کرنے کا کام - ابراہیم جمال بٹ

اگر جیت خدیجہ کی ہوتی ہے تو یہ جیت ہماری ہوگی، ہماری بہنوں بیٹیوں کی ہوگی اور اللہ کرے کہ یہ جیت خدیجہ صدیقی کی ہی ہو تاکہ کل کو جب وہ خود وکیل بن کر کسی عدالت میں کھڑی ہو تو اپنے جیسی کسی دوسری خدیجہ کو انصاف دلا سکے۔