تحریک انصاف کے پلّے کچھ ہوتا تو کنفیوژن نہ ہوتی - یاسر محمود آرائیں

اکتیس مئی کی شب قومی اور تمام صوبائی اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کر کے تحلیل ہو گئیں۔ ہمارے آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق اس کے بعد نگران سیٹ اپ کو ملکی باگ دوڑ سنبھالنا تھی۔ اس نگران سیٹ اپ کے قیام کے لیے ہر اسمبلی کے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت ہوتی ہے۔ ایک مقررہ مدت کے درمیان اگر یہ دونوں کسی نام پر متفق نہ ہوں تو پھر اسی ایوان کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی اس معاملے کو دیکھتی ہے۔ کسی باعث اگر پارلیمانی کمیٹی بھی معاملہ حل کرنے میں ناکام رہے تو پھر الیکشن کمیشن کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کسی نگران شخصیت کے نام کا اعلان کر دے۔ آئین میں درج اس فارمولے کے ابتدائی درجے میں ہی وفاق اور صوبہ سندھ میں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق پیدا ہو گیا اور وہاں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد نگران شخصیات نے اپنی ذمہ داری سنبھال لی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان دونوں اسمبلیوں میں اس اتفاق رائے کا سہرا ان جماعتوں کے سر رہا جن پر پچھلے چند سالوں سے جمہوریت کو کمزور کرنے کے الزامات لگتے رہے۔

جبکہ تواتر سے دیگر جماعتوں کی قیادت پر آمرانہ سوچ کے الزامات لگانے والی تحریک انصاف کا اپنا طرز عمل اس حوالے سے بالکل مایوس کن اور غیر سنجیدہ رہا۔ آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے رموز کار اس وقت تحریک انصاف کی غیر پختہ سوچ کے باعث بغیر کسی وزیر اعلیٰ کے چل رہے ہیں۔ پنجاب کی نگران وزارت اعلیٰ کے لیے مشاورت کے دوران مسلم لیگ ن نے استحاق رکھنے کے باوجود اپنے نام پر اصرار نہ کیا بلکہ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے دیے گئے سابق بیورو کریٹ ناصر کھوسہ کے نام پر آمادگی ظاہر کی۔ اس ملاقات کے بعد خود تحریک انصاف کے رہنما محمود الرشید نے میاں شہباز شریف کے ہمراہ اس نام پر اتفاق کا اعلان کیا۔ کچھ وقت کے بعد مگر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے یہ الزام لگا کر کہ مذکورہ شخصیت نواز شریف کی وفادار ہے اور آئندہ الیکشن میں یہ مسلم لیگ کے حق میں استعمال ہو سکتی ہے، محمود الرشید کو اپنا پیش کیا ہوا نام واپس لینے کی ہدایت کر دی۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے تین مزید ناموں کا اعلان ہوا لیکن ان پر بھی تاحال خود اندرون خانہ تحریک انصاف متفق نہیں ہو پائی۔ پنجاب کے اپوزیش لیڈر محمود الرشید کے مطابق اوریا مقبول جان بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں جبکہ پارٹی کے ترجمان فواد چوہدری کہتے ہیں کہ وہ ایک متنازع شخصیت ہیں لہٰذا ان کے بجائے ایاز امیر ان کی جماعت کے نامزد امیدوار ہوں گے۔

کچھ یہی صورتحال تحریک انصاف کے باعث خیبر پختونخواہ میں بھی پیش آئی جہاں پہلے ایک کاروباری شخصیت منظور آفریدی کے نام کا بطور نگران وزیر اعلیٰ اعلان کر دیا گیا اور انہیں بنی گالا بلا کر عمران خان کے ساتھ ان کی ملاقات کی خبر بھی جاری کر دی گئی۔ کچھ وقت کے بعد مگر ان کے نام کو بھی تحریک انصاف نے واپس لینے کے اعلان کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں مرتبہ اس کا یہ جواز پیش کیا گیا کہ ان حضرات کے ناموں پر تحریک انصاف کے ورکرز کو تحفظات تھے اور سوشل میڈیا پر اس کے خلاف آنے والے سخت رد عمل کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے آئندہ الیکشن کو متنازع ہونے سے بچانے کے لیے یہ نام واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

یہ جواز اگر درست ہے تو پھر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان شخصیات کا کیا قصور تھا جنہیں خوامخواہ متنازع بنایا گیا۔ ان حضرات کا نام ایک حساس منصب کے لیے پیش کرنے سے پہلے ان کی نیک نامی اور غیر جانبداری کے بارے میں ریسرچ کرنا آخر کس کی ذمہ داری تھی؟کیا ایک ایسی جماعت کو زمام اقتدار سونپنا بالغ نظری کا ثبوت ہوگا جو خود اپنے معمولی نوعیت کے فیصلوں پر بھی کنفیوژن کا شکار ہو۔ تحریک انصاف کی طرف میلان رکھنے والے احباب کا کہنا ہے کہ ابھی ان کی جماعت نا تجربہ کار ہے لہٰذا اس قسم کی مس کمیونیکیشن اور مس انڈر اسٹینڈنگ کا پیدا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اگلے انتخابات میں تحریک انصاف اگر کو اقتدار حاصل ہوا اور اس وقت بھی اس کی قیادت سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر اپنی پالیسیاں یونہی بدلتی رہی تو پھر ملک کا کیا حال ہوگا؟میرا احساس ہے کہ جن ذہنوں میں عملیت کے بجائے محبت غالب ہوگی وہاں ایسی باتوں کا جواب نہیں پنپ سکتا۔

لیکن کم از کم یہ تو سوچنا چاہیے کہ آخر تحریک انصاف اپنا امپائر کھڑا کر کے کھیلنے پر کیوں مصر ہے؟یہ الزام تو وہ مسلم لیگ پر لگاتی آئی ہے، مگر شہباز شریف نے اپوزیشن کا تجویز کیا ہوا نام بغیر کسی پس و پیش کے مان لیا۔ تحریک انصاف لیکن اپنے پیش کیے نام سے پیچھے ہٹنے کے بعد بھی ایک بار پھر اپنی بات منوانے پر اصرار کر رہی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کو احساس ہو کہ عوام کو لبھانے کے لیے ان کے پاس کوئی سنجیدہ بیانیہ نہیں۔ جبکہ اس کے بر عکس مسلم لیگ کے پاس اس وقت نہ صرف ایک مظبوط بیانیہ ہے بلکہ عوام کو دکھانے کے لیے اپنی پانچ سالہ کارکردگی بھی موجود ہے۔ موجودہ دور میں انفرا اسٹرکچر، توانائی، معیشیت اور سرمایہ کاری کے میدان میں جو بہتری آئی ہے بلا مبالغہ پچھلی دو حکومتوں کے مقابلے میں وہ کہیں بہتر ہے۔ گیلپ اور اکانومسٹ جیسے اداروں کی طرف سے کی گئی سروے رپورٹس بھی یہ بتا رہی ہیں کہ مسلم لیگ اس وقت مقبولیت میں تحریک انصاف سے کہیں آگے ہے اور آئندہ انتخابات اگر شفاف ہوں تو وہ ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

اس کے برعکس تحریک انصاف اس تمام عرصے میں گالیوں اور دشنام طرازی کے سوا اپنے صوبے میں کوئی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ ان کی حکومتی کارناموں کے ڈھول کا پول بھی اب بہت اچھی طرح کھل چکا ہے اور پچھلے دنوں عوام کو بیوقوف بنانے کی خاطر پیش کیے گئے گیارہ نکات اور سو دن کا ایجنڈا بھی فلاپ ہو چکا لہٰذا اب تحریک انصاف کی خواہش ہو سکتی ہے کہ کوئی ایسا نگران سیٹ اپ موجود ہو جو اسے حسب منشا سپورٹ دے سکے۔ ہماری ریاست میں دائمی طاقت رکھنے والے ادارے بلا شبہ انتخابات میں کسی ایک جماعت کو طاقت دلانے کی قوت رکھتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں یہ ادارے تحریک انصاف کو اپنی استطاعت کے مطابق مدد پہلے ہی فراہم کر چکے ہیں۔ خواجہ آصف کی نا اہلی کا فیصلہ عین الیکشن سے کچھ عرصہ قبل کالعدم ہونے سے نظر بظاہر یہی آ رہا ہے اب ادارے آؤٹ آف وے تحریک انصاف کو کسی بھی قسم کی مزید معاونت فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ ویسے بھی سوشل میڈیا، دیگر ذرائع ابلاغ اور عوامی شعور کی بیداری کے بعد اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ کوئی سیاسی جماعت کسی ریاستی یا غیر ریاستی طاقت کی بدولت انتخابی نتائج اپنے حق میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکے گی۔ پھر بھی نگران وزیر اعلیٰ کے نام پر تحریک انصاف قلابازیاں کھا رہی ہے اور آنے والے انتخابات میں غالب امکان ہے کہ اس کی کہہ مکرنیاں کسی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث ثابت ہوں گی۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.