ٹیکسٹ میسج سے ٹیکسٹ بک تک - روبینہ فیصل

پاکستان کی سیاست میں عورت کا کردار بہت ہی زیادہ اہم رہا ہے، نہیں یقین آتا؟

۱۲ عورتیں یحییٰ خان کے زمانے میں ملک چلا چکی ہیں جن میں اقلیم اختر عرف جنرل رانی جو کہ ایک تھانیدار کی بیوی تھی، مگر جنرل کی منظورِ نظر ٹھہرنے کے بعد پاکستان کے سیاہ سفید کی مالک بن گئی تھی۔ اداکارہ ترانہ صدارتی محل سے نکلنے کے بعد قومی ترانہ قرار پائی۔ دلشاد بیگم (انڈین اداکار فیروز خان اور سنجے خان کی بہن) نے1991 میں نواز شریف کو کہہ کر کشمیر میں فوجی کاروائیاں رکوائی تھیں، انہیں نواز شریف، فون پر گانے سنایا کرتے تھے اور جن کا انٹرویو، سماچار میں ہے کہ ایک دل پھینک، عاشق مزاج صرف نام کا شریف (12جنوری 1997ء) اور وہ اس خاتون کو پاکستان آنے پر سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔

مشہور گلوکارہ، طاہرہ سید، جن کے بارے میں نجم سیٹھی نے خبریں کے سنڈے میگزین میں (9 جنوری 2000ء) میں انکشاف کیا تھا کہ نواز شریف کے قریبی ساتھی سیف الرحمٰن کی کمپنی ریڈکو کی طرف سے (مری کی لفٹ چئیر کے ٹھیکے کے علاوہ) پانچ لاکھ ماہانہ ملتا تھا۔

شیخ رشید، نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں جب وزیرِ کثافت (ثقافت نہیں لکھ سکتی، اس دور میں ہر جگہ اداکارئیں چھا گئی تھیں، اداکارہ، ریما، دوسری جنرل رانی بن چکی تھی۔ اداکارہ انجمن کو اس لیے ایوارڈ سے نہ نوازا گیا کیو نکہ اس نے شیخ رشید کی اکیلے چائے پینے کی آفر مسترد کر دی تھی۔ ریما نے قبول کی اور فلمی ایوارڈ کی مستحق قرار پائی۔

ریما، میرا، لیلیٰ، مدیحہ شاہ اور بہت ساری ماڈل اور ایکٹریس اور تقریباً سارے ہی سیاستدانوں کے ان اصلی چہروں سے میری ملاقات، ظہیر بابر کی کتاب "پارلیمنٹ سے بازارِ حسن" میں ہوئی۔ یہ وہی کتاب ہے جو راتوں رات ہاٹ کیک کی طرح بک گئی اور چند ہی مہینوں میں اس کے کئی ایڈیشن مارکیٹ میں آگئے تھے۔ الطاف حسین، جاوید ہاشمی، آصف زرداری، بے نظیر بھٹو، شریفوں کا پورا خاندان، ذوالفقار بھٹو، غلام مصطفیٰ کھر اور عمران خان، کون نہیں جو اس کتاب کے صفحات کی شان نہیں بڑھا رہا؟ سب کے کرتوت ہیں مگر سلام ہے پاکستانی قوم کے معدوں پر جو اتنا گند نہ صرف بغیر ڈکار مارے ہضم کر جاتے ہیں بلکہ بار بار کھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

میں ایسی پاگل تھی جس نے ایسی سنسنی سے بھرپور کتاب کو کبھی نہ پڑھا تھا اور اسی لیے پاکستانی اشرافیہ کے طور طریقوں سے نا واقف رہی۔ یہ کتاب پڑھ لیتی تو اتنی آؤٹ ڈیٹیڈ نہ رہتی۔ وہ تو بھلا ہو ریحام کی آنے والی کتاب کا، جو پبلش ہو نے سے پہلے ہی کسی بچے کے پیمپر کی طرح لیک کر رہی ہے۔ اس کی شہرت اور پذیرائی دیکھ کر مجھے ظہیر بابر کی انکشافات سے بھرپور کتاب کی یاد آگئی تو سوچا ریحام کی کتاب پڑھنے سے پہلے یہ پری ریکوئسٹ ضروری ہے ورنہ میں اس عظیم الشان کتاب کو پڑھنے کی اہل نہیں ہوں گی اور ماشاء اللہ وہ کتاب نیٹ پر مفت میں پی ڈی ایف میں دستیاب ہے۔ کون کہتا ہے کہ پاکستانیوں کو کتب بینی کا شوق نہیں۔ ان کے معیار کی کتاب ہو تو چھین چھین کے پڑھتے ہیں۔

شغل اپنی جگہ، ریحام خان، پی ٹی آئی چئیرمین کی زندگی کی وہ غلطی ہے جسے ان کے پرستاروں کو تو کیا خود انہیں بھی معاف نہیں کرنی چاہیے۔ بچھو کو ہتھیلی پر رکھیں گے تو وہ ڈنک ہی مارے گا، کیچڑ میں پتھر پھینکیں گے تو کیا دامن صاف رہے گا؟ ایسی غلطیاں ہم سب سے زندگی میں ایک آدھ مرتبہ ہو ہی جاتی ہیں، مگر ان کا خمیازہ بھگتنے کے لیے خود کو تیا ر نہیں کر پاتے۔ ریحام، کپتان کی زندگی کی ایسی غلطی ہے جس کی سزا ملنی ہی ملنی ہوتی ہے۔

ریحام، پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں بڑی مخلص اسی لیے تو اس ڈیجیٹل دور میں جہاں وہ بڑے آرام سے اپنی اور خان صاحب کی ویڈیو بھی لیک کر سکتی تھی، اس کی بجائے اس نے لوگوں کو کتب بینی کی طرف راغب کرنا ذیادہ ضروری سمجھا اور ایسی پھڑکتی ہوئی کتاب لکھ ماری جس سے لوگوں کے اندر کتاب کی محبت تڑپنے لگی ہے۔

ویسے جب یہ طلاق ہوئی تھی تو اس خاکسار نے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ ایک کتاب کا صدقہ تو ضرور ہی نکلے گا ورنہ ریحام خان کو اس شادی میں کیا بچتا تھا؟ ایک سٹیج ڈرامہ میں ایک لڑکا ساتھی ایکٹریس کو بات کرتے بار بار چھوتا ہے، وہ غصے سے اسے کہتی ہے پیچھے ہٹ کر بات کرو، لڑکا پورے دانت باہر نکال کر کہتا ہے "اس ڈرامے میں مجھے یہی تو بچتا ہے۔" تو ریحام کو اس شادی میں یہی کتاب بچتی تھی۔

ظہیر بابر کی کتاب جس میں انبساط یوسف کے کپتان اور ان کے کزن کے بارے میں انکشافات اوریوسف کی حویلی کے تمام راز ہیں، جب ان سب باتوں سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو کسی بھی چیز سے کیا فرق پڑے گا؟ ریحام جیسے کرداروں سے "پارلیمنٹ سے بازارِ حسن" تک بھری پڑی ہے۔ جس پر حمید اختر کا تبصرہ قابلِ ذکر ہے:

"کہیں ظہیر بابر پر، بازارِ حسن والیاں ہتکِ عزت کا دعویٰ نہ کر دیں کہ ایسے شریفوں کے ساتھ ہمارا نام لے کر، ہماری ذات پر کیچڑ اچھالا گیا ہے۔" شیخ رشید اور چوہدری نثار کی خفیہ بیویاں اور ایک سیاست دان کی خفیہ داشتہ، ان سب کے جلوس کا بھی ذکر ہے۔ شہناز نامی (شیخ رشید) کی بیوی، آج کہاں ہے؟ انبساط یوسف کہاں ہے؟ بلکہ میں تو سوچ رہی تھی ظہیر بابر کہاں ہے؟

وہ عورتیں نارمل حالت میں ادھر ادھر نظر آتی ہیں جنہوں نے ان طاقتور مردوں کے دل سے اترنے کے بعد بھی باہمی افہام و تفہیم کی راہ دیکھی اور دنیا میں فلاح پائی۔ ایسی تجارتوں کو محبتوں کے ساتھ کنفیوز نہ کیا جائے۔ اس کھیل میں عورتیں بھی بخوبی جانتی ہیں کہ وہ ایک موٹی توند اور گنجے سر والے کو "سب تو سوہنا" کیوں کہہ رہی ہیں؟ کار پر جھنڈا، دروازے پر دربان، جیب گرم اور دل نرم (کتاب سے اقتباس)۔ ایسے دل توڑنے والے دھوکے تجارتوں میں نہیں، محبتوں میں ہوتے ہیں، ایک دیتا ہے دوسرے کو ملتا ہے جس کو ملتا ہے اس کا دل عمر بھر کے لیے محبت کے لیے بانجھ ہو جاتا ہے اور جو دیتا ہے وہ ایک کے بعد دوسرا شکار کر نے میں مصروف رہتا ہے۔ ایسی تجارت کے ختم ہو نے پر کسی ایک کا قصور نہیں ہوتا۔

تہمینہ کھر نے جب اپنی کتاب "مینڈا سائیں" (My Feudal Lord) لکھی تو اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں کسی عورت نے ایسی کتاب نہ لکھی تھی۔ لوگوں نے کھر کا تہمینہ کو ننگا کر کے کمرے سے نکال دینے اور اس کی سگی بہن کے ساتھ تعلق رکھنے کے واقعہ کو پڑھا تو انہیں تہمینہ پر ترس نہیں، بلکہ مزہ آیا۔ ایسا نہ ہوتا تو کیا مصطفےٰ کھر چادر لپیٹے، آج بھی ٹی وی پر مردانگی کی اعلیٰ مثال بنے بیٹھا ہوتا؟ تہمینہ کھر کو اس غلطی سے سبق ملا ہوتا تو کیا وہ پھر سے ایک اور فیوڈل لارڈ کی زندگی میں جا شامل ہوتیں؟ ریحام کو عمران خان کی عیاشیوں سے نفرت محسوس ہوتی تو کیا وہ انہی کو کتابی صورت بیچ کر پاکستان کے تمام عیاش مردوں کی تفریح کا انتظام کرتی؟ ایسے باہمی فیصلوں کی ذمہ داری اپنی اپنی ہوتی ہے اس کو قصہ ختم ہو نے کے بعد منظر پر لانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی چھچھورا لڑکا، لو افئیر کے دوران لڑکی کے کسی جذباتی لمحے کی ویڈیو بنا لے اور رشتہ ختم ہو نے کے بعد اس ویڈیو کو پبلک کر دے۔ اس سے بڑی گرواٹ کیا ہو گی؟

قائد اعظم کو اپنے پاکستانیوں کی ذہانت کا ذرا بھی اندازہ ہوتا تو اتنی لمبی سیاسی اور قانونی لڑائی لڑنے کی بجائے، لیڈی ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کے جنسی تعلقات پر ایک کتاب لکھتے اور سارے ہندوستان کی "پین دی سری" کر دیتے۔

بہرحال، ظہیر بابر اور ریحام خان، پاکستان کی کتابی تاریخ کے محسن ہیں اور ان کتابوں کی مقبولیت دیکھ کر رائے یہی ہے کہ ان کتابوں کو نصاب میں شامل کر لیا جائے۔ جب قوم کا معیار اور انتخاب یہی ہے تو نصاب بھی یہی ہونا چاہیے۔ گلالئی ذرا صبر کر لیتی تو اس کے ٹیکسٹ بھی ٹیکسٹ بک کا درجہ پا سکتے تھے۔