ٹکٹ کا حصول اور اسمبلی تک کا سفر - امجد طفیل بھٹی

ہمارے ہاں الیکشن کے دنوں میں سیاسی گہما گہمی عروج پر ہوتی ہے جو کہ کارنر میٹنگز سے بڑھتے بڑھتے جلسوں میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ایسے میں ایک تو سیاسی رہنماؤں کو اپنا ‘‘پاور شو‘‘ دکھانے کا موقع ملتا ہے تو دوسرا غریب اور بھوکے عوام کو کھانے پینے کو کچھ نا کچھ مل جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں بڑے بڑے جلسے کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ جلسہ جو بھی کرے اسے لگتا ہے کہ سارے کے سارے عوام اْسی کے ساتھ ہیں۔ خیر یہ تو جلسوں کی ظاہری باتیں ہو گئیں اب جلسوں کے اصلی مقصد کو اگر کھوجنے کی تلاش کی جائے تو ایک مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ اس سیاسی رہنما کو عوام میں کتنی پذیرائی حاصل ہوتی اور دوسرا اپنی پارٹی یا پھر دوسری پارٹیوں پر یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ اگر اْسے مذکورہ حلقے میں سے ٹکٹ دیا جائے تو اس کی سیٹ کنفرم ہے اور شاید ان جلسوں کا اور ان پر ہونے والے اخراجات کا اصل مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ پارٹی ٹکٹ کا حصول آسان بنایا جا سکے۔

یقیناً کسی بھی سیاسی کارکن کے لیے ٹکٹ کا حصول ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اگر آزاد الیکشن لڑا جائے تو جب تک اپنا ذاتی اثر و رسوخ نہ ہو تو تب تک الیکشن جیتنا ناممکن ہے، اس کی ایک وجہ تو سیاسی بیک گراؤنڈ ہوتا ہے کہ مذکورہ سیاستدان کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے؟ اگر وہ کسی نواب، چوہدری، ملک یا پھر گدی نشین خاندان سے تعلق رکھتا ہے تو پھر حلقے میں جان پہچان، طاقت اور اثرورسوخ اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں اور یہی چیزیں اس کی جیت میں اہم کردار بھی ادا کرتی ہیں۔ دوسرا اگر یہ سیاستدان پہلے بھی ایم این اے یا ایم پی اے رہ چکا ہو اور اپنے حلقے میں لوگوں کی خدمت کی ہو، فنڈز لگائے ہوں یا پھر حلقے کے عوام کی داد رسی کی ہو تو پھر بھی اس بندے کا الیکشن جیتنا مشکل کام نہیں، لیکن بعض اوقات اوپر بیان کردہ دونوں وجوہات کے بغیر بھی کوئی سیاستدان الیکشن جیت سکتا ہے، اس کے لیے اس کے پاس ایسی پارٹی کا ٹکٹ ہوناضروری ہے جو کہ اس وقت مقبول ترین پارٹی ہو اور اس کی کامیابی تقریباً واضح نظر آرہی ہو۔

آجکل بالکل یہی صورتحال ہمارے ملک کی سیاست میں چل رہی ہے اور تمام پارٹیوں سے لوگ باغی ہوکر دھڑا دھڑ تحریک انصاف میں شامل ہوئے جارہے ہیں کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پچھلے دس سالوں سے پانچ پانچ سال حکومت کر چکی ہیں اور ملک کی صورتحال اور عوام کی بے چینی سب کے سامنے ہے۔ پس اس وقت سب کی نظریں پی ٹی آئی پر لگی ہوئی ہیں کہ شاید یہ پارٹی اپنے پیارے ملک پاکستان کی معاشی مشکلات، اندورونی و بیرونی خطرات اور دیگر پیچیدہ مسائل سے عوام کو نجات دلا سکے، دوسری پارٹیوں کو چھوڑنے اور پی ٹی آئی جوائن کرنے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ بیشتر سنجیدہ سیاستدان یہ جان چکے ہیں کہ پرانی پارٹیوں میں رہ کر دوبارہ اقتدار کا حصول شاید مشکل ہو جائے اسی لیے بہتر ہے کہ ٹکٹ کے حصول کے لیے کیوں نہ پی ٹی آئی کا در کھٹکھٹایا جائے۔

لیکن جہاں اتنی زیادہ تعداد میں لوگ دوسری جماعتوں سے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں وہیں پر خود تحریک انصاف کی قیادت کے لیے مشکل صورتحال بنتی جارہی کہ کس کو ٹکٹ دیں اور کس کو ٹکٹ نہ دیں؟ کیونکہ بعض حلقوں میں دو مخالف جماعتوں کے امیدوار ہی پی ٹی آئی کا حصہ بن چکے ہیں، لیکن جب بھی کسی پارٹی سے کوئی سیاستدان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرتا ہے وہ عمران خان سے یہی وعدہ کرتا ہے کہ ہمیں ٹکٹ سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ ہم تو ملک وقوم کی بھلائی اور بہتری کے لیے آپکے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کو تیار ہیں مگر یہ ساری باتیں ‘‘سیاسی بیانات‘‘ ہوتے ہیں کیونکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹکٹ کا نہ ملنا کسی بھی سیاسی شخصیت کے لیے سیاسی موت ہوتا ہے اس لیے وقت آنے پر بہت سارے سیاستدان جو کہ خان صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں وہ پی ٹی آئی کو چھوڑ جائیں گے اور شاید کسی دوسری جماعت یا پھر بطور آزاد امیدوار ہی الیکشن میں حصہ لے لیں۔ یہاں عوامی خدمت کو ذہن میں کوئی نہیں رکھتا بلکہ عہدے اور وزارتیں ہی ہر سیاسی رہنما کی کوشش اور پہلی ترجیع رہی ہیں۔

حال ہی میں پی ٹی آئی کی ایک رہنما فوزیہ قصوری اس بات کی سب سے بڑی مثال ہیں جو کہ شاید مخصوص نشست پر ممبر قومی اسمبلی کی آس لگائے بیٹھی تھیں مگر ہری جھنڈی نظر آنے کے بعد اپنی 17 سالہ رفاقت توڑ کر پاک سرزمین پارٹی کو پیاری ہو گئیں۔ اسی طرح کی ابھی کئی اور مثالیں ہمارے سامنے مستقبل قریب میں نظر آنے والی ہیں۔ جب بڑے بڑے نام تحریک انصاف کو چھوڑنے کا انتہائی قدم اٹھائیں گے اور بہانہ ایک ہی ہوگا کہ پی ٹی آئی اپنے منشور سے ہٹ گئی ہے اور سارے پرانے سیاستدان پارٹی پر قابض ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے اندر اس وقت سیاسی صورتحال جس طرح کی ہے اس میں نئے لوگوں کا اسمبلیوں میں آنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے کیونکہ نئے لوگوں کو ساری جماعتیں ٹکٹ بھی نہیں دیتیں اور نہ ہی خود وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ الیکشن کمپین چلا سکیں اور ہمارے سیاسی نظام کی چالوں کو سمجھ سکیں، کیونکہ یہاں تو ہارے ہوئے جیت جاتے ہیں اور جیتے ہوتے ہار جاتے ہیں۔ سیاست میں ٹکٹ کا حصول اور اسمبلی میں پہنچنا ہر چھوٹے بڑے سیاستدان کا خواب ہوتا ہے جسکو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر نظریاتی کہلوانے والے سیاستدان کو کچھ نہ کچھ اپنے نظریے سے دستبردار ہونا پڑتا ہے وگرنہ جب ٹکٹ ہی نہ ملے گا تو اسمبلی میں کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.