عہد نامۂ جدید، تہتر کا آئین اور ناگزیر تبدیلیاں - محمد اقبال دیوان

میرے وطن، میرے مجبور، تن فگار وطن

میں چاہتا ہوں تجھے تیری راہ مل جائے

میں نیویارک کا دشمن، نہ ماسکو کا عدو

کسے بتاؤں کہ اے میرے سوگوارر وطن

کبھی کبھی تجھے، تنہائیوں میں سوچا ہے

تو دل کی آنکھ نے روئے ہیں خون کے آنسو

(مصطفےٰ زیدی مرحوم کی نظم بے سمتی سے)

تہتر کا آئین بناتے وقت اس وقت کے مرد آہن، انتقام پسند اور عاقبت نااندیش وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے پیش نظر پانچ بڑے مقاصد تھے۔

پہلا مقصد تو یہ تھا کہ پارلیمنٹ کے میدان میں وہ اپنے بیشتر پیش رو سیاست دانوں سے بہت آگے تھے۔ وہ انہیں پارلیمان میں Out-Wit رکھنا چاہتے تھے۔

مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا مودودی، مفتی محمود مذہبی طور پر پاکستان کے بڑے قائدین میں سے تھے اور اپنی اپنی جماعت کے سربراہان بھی تھے مگر ان کا پارلیمانی طرز کی جمہوریت میں کوئی سابقہ تجربہ نہ تھا۔ پارلیمان سے باہر ان کی طاقت احتجاج میں تو تھی مگر مغربی جمہوری نظام میں تو یہ مکمل طور پر تولد بھی نہ ہوئے تھے۔ عبدالولی خان اور غوث بخش بزنجو، نوابزادہ نصر اللہ خان علاقائی سطح پر بڑے لیڈر تھے مگر وہ بھی کسی پارلیمنٹ کا بطور ممبر کبھی حصہ نہ رہے تھے۔ یہ سب رموز سیاست سے تو بخوبی آگاہ تھے مگر طرز حکومت کا ان میں سے کسی کو بھی پریکٹیکل تجربہ نہ تھا۔

ان کے برعکس اس وقت کی پیپلز پارٹی میں حفیظ پیرزادہ، احمد رضا قصوری، یوسف بچ، عبدالحمید خان جتوئی، غلام مصطفٰے خان جتوئی، عزیز احمد، معراج محمد خان، ممتاز بھٹو، سائیں قائم علی شاہ اور رفیع رضا جیسے منجھے ہوئے قانون دان اور اہل سیاست شامل تھے۔ یوں پارلیمانی طور پر ان تمام پارٹیوں پر پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری تھا۔

دوسرا مقصد ان کا آئین اور پارلیمنٹ کے ذریعے جمہوری ادارے یعنی ان کی حکومت کا دفاع تھا۔ وہ جانتے تھے کہ فوج سقوط مشرقی پاکستان کی وجہ سے ادھ موئی ہوئی پڑی ہے۔

پنجاب کو زیر دست رکھنے کے لیے لازم ہے کہ وہ سندھ میں اپنا کھونٹا مضبوط رکھیں اور اس کے لیے مہاجروں کو کچلنا لازم ہوگا جس کا سب سے بہتر ذریعہ سول سروس سے ان کا اخراج اور آئندہ کے لیے کوٹہ سسٹم کا نفاذ ہے۔

بھٹو صاحب جنرل گل حسن خان کو ہٹا کر 3 مارچ سن 1972 میں جنرل ٹکا خان کو اپنا چیف آف آرمی بناچکے تھے۔ گل حسن کی سفارش پر یحییٰ خان نے بریگیڈیئر ضیاء الحق کا اردن میں کیا ہوا فلسطینیوں کا قتل عام معاف کیا تھا۔ انہوں نے بطور انسٹرکٹر فلسطینی مہاجروں کے کیمپ پر ٹینکوں سے گولہ باری کی تھی۔ یہ جی ایچ کیو کے احکامات کی بہیمانہ خلاف ورزی تھی۔ فلسطینی اس سے بہت ناراض ہوئے۔ عرب نوجوانوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پھیل گئی۔ گل حسن پاکستان کے آخری کمانڈر ان چیف تھے۔ وہ پہلے سربراہ تھے جن کا کورٹ مارشل حمود الرحمٰن کمیشن کی سفارشات پر ہوا اور وہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ وہ سب سے کم عرصے یعنی ڈیڑھ ماہ کے لیے فوج کے سربراہ رہے۔ سوچیں اگر بریگیڈیئر ضیاء الحق کو معاف نہ کیا جاتا، ان کا بروقت کورٹ مارشل ہوجاتا تو ان کے جنرل ٹکا خان کے بعد سربراہ بننے کی کوئی امید نہ تھی۔ یہ سب کچھ نہ ہوتا تو وہ بھٹو کو تختۂ دار تک گھسیٹ کر نہ لے جاتے۔ جنرل گل حسن ان سے مشرقی پاکستان کے دنوں میں بہت قریب آچکے تھے۔ اس کے باوجود بھٹو صاحب کو جرنیلوں پر کچھ زیادہ اعتماد نہ تھا۔ نجی محافل میں وہ اکثر اپنے والد شاہ نواز بھٹو، ریاست جوناگڑھ کے وزیر اعظم، سے وہاں کے درباروں میں سنی ہوئی ایک مثال دیا کرتے تھے کہ جرنیل اور داماد گدھے کی پچھلی لات ہوتے ہیں کسی وقت بھی وہ دولتی جھاڑ سکتے ہیں۔ بہت بعد میں جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف جنہیں دو مختلف جمہوری حکومتیں جونیئر ہونے کے باوجود نیچے سے اوپر لاکر فوج کے منصب اعلیٰ پر فائز کرچکی تھیں، ان کے ان خدشات کو درست ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ بھٹو صاحب سمجھتے تھے کہ ان جرنیل صاحبان کے ان کی اپنی ایک محبوب اصطلاح Bonapartism (فوج کی اقتدار پر قبضہ کرنے کی عادت) جوانہوں نے جنرل گل حسن اور ایئر مارشل عبدالرحیم کی برطرفی کے وقت استعمال کی تھی۔ ایسی صورت میں آئین اور پارلیمنٹ سب سے مضبوط خط دفاع ثابت ہوگی۔

ان کا تیسرا بڑا اور اہم مقصد یہ تھا کہ وہ ایک مضبوط مرکزی بیوروکریسی سے خائف تھے۔ یہ سب بیورکریٹس جن میں فدا حسین، الطاف گوہر، مسرور حسن خان، ممتاز حسن، ڈاکٹر طارق صدیقی وغیرہ شامل تھے وہ سب انہیں بہت جعلی اور چالباز سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان کا مطمع نظر یہ تھا کہ اس بیوروکریسی میں نہ صرف اپنے من پسند افراد کو داخل کرلیں بلکہ دیہی سندھ جس کی مرکز میں نمائندگی بہت قلیل تھی اس میں کوٹا سسٹم کے ذریعے ابتدائی اور وسطی سطح پر وفادار بیورکریٹس کی ایک مناسب اور محفوظ حلقہ بندی قائم کرلیں۔ قیام پاکستان سے اپنی ذات میں انجمن اور خود سر سی ایس پی کلاس کو وہ اپنے تئیں پارلیمنٹ میں زیر بحث لائے بغیر ہی 20 اگست سن 1973 کی انتظامی اصلاحات سے نکیل ڈال چکے تھے اور اس کا برطانوی راج والا آئینی احساس تحفظ اور کرّوفر ختم کرچکے تھے۔ اس کے علاوہ بھی حکومت آئین کے سن 1973میں نفاذ سے ایک سال پہلے ہی دس بڑے شعبوں میں جن میں لینڈ، بینکنگ، لیبر، معاشی، نیشنلائزیشن، تعلیم، صحت، پیپلز ورکس پروگرام، انشورنس پبلک کارپوریشنوں کا قیام تھا، ان اصلاحات کو نافذ کرچکے تھے جس کی وجہ سے حکومت وقت کی سرکاری اداروں میں بہت مضبوط ہوچکی تھی۔ یہ کام انہوں نے پاکستان کے چوتھے صدر کے طور پردسمبر 1971 سے اگست 1973 کے قلیل عرصے میں مکمل کرلیا تھا۔ اس کے بعد کا ان کا چار سالہ دور پاکستان کے نویں وزیر اعظم کا ہے۔

ان کا چوتھا مقصد اس آئین کے نفاذ سے یہ بھی تھا کہ اب ان اصلاحات اور حکومت کے طریق کار پر اگر کبھی پارلیمنٹ میں بحث ہوتی بھی تو ان اصلاحات کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی بجائے محض ان شعبہ ہائے حکومت میں دوران نفاذ ظاہر ہونے والی نمایاں کمزوری کو دور کرنے پر بحث ہوتی۔ اس حوالے سے جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے تمام سیاسی مخالفین کو Out-Wit کردیا تھا۔ اس بحث سے مخالفین کا احساس نمائندگی بھی مجروح نہ ہوتا اور ان کی دخل اندازی بھی ایک مناسب حد تک ہی رہ پائی۔

اس کا پانچواں بڑا مقصد خودان سیاسی مخالفین کے آئین اور پارلیمنٹ سے وابستگی باعث تفاخر تھی اور انہیں عوام کی نگاہ میں ممتاز کرتی تھی۔

پاکستان اور یورپ اور لاطینی امریکہ کے کچھ پسماندہ ممالک کے عوامی نمائندوں کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ارباب اقتدار اوپر پہنچ کر لفٹ بند کردیتے ہیں۔ سسٹم کی جس رسی والی سیڑھی Rope-Ladder کو انہوں خود جمہوریت کے نام پر باندھ کر اوپر پہنچنے کا ذریعہ بنایا ہوتا ہے وہ اسی کو آگ لگا کر جلادیتے ہیں۔ ان کو اپنی طاقت اور حالات پر کنٹرول کے حوالے سے یہ غلط فہمی لاحق ہوتی ہے کہ ان کا اقتدار ایک دائمی حقیقت ہے اور وہ اپنے ہر پیش رو سے زیادہ زیرک اور باصلاحیت ہیں۔ یہی غلطی بھٹو صاحب سے بھی ہوئی۔ عراق کے سفارت خانے سے جب اسلحہ برآمد ہوا تو انہوں نے بلوچستان اسمبلی برطرف کردی جہاں ان دنوں نیپ کی حکومت تھی۔ نیپ کے اہم لیڈروں پر پابندی لگا کر انہیں پابند سلاسل کردیا گیا۔ جب 8 جنوری1977 ان کے کے سیاسی مخالفین نے قومی اتحاد بنایا تو وہ Panic کرگئے اور غیر متوقع طور پر الیکشن کا اعلان کردیا۔

بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ آئین کی موجودگی میں جمہوری عمل کو ایک دوام مل چکا ہے جنرل ضیاء الحق کو وہ سات جرنیلوں پر ترقی دے کر فوج کا سربراہ بنا چکے ہیں لہٰذا اس سمت سے انہیں کوئی خطرہ نہیں۔ اب آئین اور پارلیمنٹ کے خلاف اگر فوج مداخلت پر اتر آئے تو آئین کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو خراب عورتوں کے قوام مردوں کی ہوتی ہے یعنی وہ محض ایک ٹاٹ کا پردہ ثابت ہوتے ہیں۔ جب مملکت محفوظ ہوتی تھی تو گھر کے دروازے بند کرنے کا کوئی رجحان محلے میں نہ ہوتا تو غریب محلوں میں بوریوں کو سی کر ایک ٹاٹ کا پردہ لٹکادیا جاتا۔ اس سے پردے کا تو اہتمام ہوجاتا تھا مگر یہ داخل ہونے والوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنتا تھا۔

پاکستان میں آئین یوں بھی بہت عجلت میں بنا اور اس میں جتنی بھی ترامیم ہوئیں وہ بہت Person-Specific اور Turf -Securing تھیں۔ آئین کی دفعہ 58 (ٹو) بی جو صدر مملکت کو نامساعد حالات میں اسمبلی کو برطرف کرنے اور حکومت کو برخاست کرنے کا اختیار دیتی تھی۔ یہ صدر ضیاء الحق نے اپنی رکھیل مجلس شوریٰ کے ذریعے سن 1985 میں اس لیے پاس کرایا تھا کہ ان کی متعلق العنانی میں فرق نہ آجائے۔ اس کے تحت پہلے محمد خان جونیجو، بعد میں دو مرتبہ بے نظیر صاحبہ اور ایک مرتبہ نواز شریف صاحب کو اس دور کے صدور نے فارغ کردیا۔ یوں چار مرتبہ تین وزیر اعظم گھر بھیج دیے گئے۔ بھٹو صاحب کو آئین کا سرخیل تو سب کہتے ہیں مگر جتنا نقصان اس آئین نے پاکستان کو پہنچایا اس کی عدم موجودگی نے نہیں پہنچایا۔ اسے بنانے والے چھوٹے بڑے سب ہی سیاست دان یہ جانتے تھے کہ اس کے عین مقابل فوجی حکمران کھڑے ہیں۔ انہیں جو ملنا ہے اس آئین کے نام پر ملنا ہے، یہ بات ثابت بھی ہوتی ہے۔

پاکستان میں موجودہ مروجہ آئین کی تشکیل سازی کا جائزہ لیں تو آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد جو نئی حکومت جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قائم کی اس نے پہلے دو سال تک یعنی 1973 تک اس نے صدراتی نظام کے تحت اپنا کام صدر ایوب خان والے 1962 کے آئین کے تحت چلایا۔ 17 اپریل1972 کو بھٹو صاحب نے ایک ہمہ گیر حیثیت کی آل پارٹی میٹنگ بلائی جس میں ہر رنگ و نظریے کی حامل سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان جمع ہوئے۔ اس کا مقصد کسی نئے آئین کی تشکیل نہ تھا بلکہ 1956 کے آئین کے ضابطوں کو نئے حالات کے مطابق ایک آئین نو کا جامہ پہنانا تھا اور انہیں محض ریاست کے مختلف علاقوں کی حکومت سے بڑھ کر تجارت، مالیہ، وفاق کے قرضے اور مختلف اداروں میں اختیارات کو ایک واضح اور علیحدہ شکل دینی تھی۔ مشہور سیاسی فلسفی John Locke اور اسلامی اقدار و قوانین کو ہم آہنگ کرکے ایک مستند دستاویز کی صورت میں ڈھالنا تھا۔

اس کے مختلف اجلاسوں میں بالآخر یہ طے پاگیا کہ اسلام مملکت کا دین ہوگا۔ وزیر اعظم ملک کا انتظامی سربراہ ہوگا جو اسمبلی اور صدر کو جواب دہ ہوگا۔ پارلیمینٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل ہوگی۔ آئین میں قدامت پسند اسلامی ضوابط کی شمولیت پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پی پی ارکان اور دیگر سرخے غیر مطمئن تھے۔ اس میں پہلا Amendment تو پاکستان کی علاقائی حدود اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے سے متعلق تھا تو دوسرا قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور اس کے ساتھ غیر مسلموں کے لیے چھ نشستیں مختص کرنے کے بارے میں تھا۔ 20 اکتوبر1972 کو اس مسودے پر اتفاق ہوگیا اور اس کے 19 اپریل 1973, کو اسے کثرت رائے سے منظور کرنے بعد 14 اگست 1973 کو نافذ العمل کردیا گیا۔ اس کی نسبت اگر آپ ہندوستان اور امریکہ کے آئین کا جائزہ لیں تو وہاں برطانوی ماڈل سے بہت مماثلت رکھی گئی تھی۔

امریکی آئین کی تشکیل کا جائزہ لیں تو وہاں اس کی نئی مملکت میں موزونیت کا جائزہ لینے تھامس پین، ایمرسن، جیفرسن، بینجمن فرینکلن اور جان ایڈمز جیسے لوگ موجود تھے جو انگلستان کے باشندے ہونے کے باعث بادشاہ کی مطلق العنانی سے نفرت اور انسانی آزادی کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ یہ کئی کئی مہینے مختلف اخبارات میں کالموں اور خطوط کے ذریعے، اس بات پر بحث کرتے رہے کہ ان کے دستاویز جس کی بنیاد پر آئین نے وجود میں آنا تھا اس میں We A People لکھا جائے کہ We the people۔ یہ کیا زبردست دستاویز ہے۔

ان کے دوسرے Amendment میں ایک عام آدمی کے ہتھیار رکھنے کے حوالے سے Carry اور Bear اور Regulated جیسی اصطلاحات پر بھی خوب بحث ہوئی۔ یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی تھی جو کچھ یوں تھی کہ"A well regulated Militia, being necessary to the security of a free State, the right of the people to keep and bear Arms, shall not be infringed."

آج تک یہ ترمیم امریکی طاقتور گن لابی کی وجہ سے عام امریکی شہری کی ہتھیاروں تک بے دریغ رسائی کے حوالے سے، جو بے شمار ہلاکتیں کم سن طالب علموں کے ہاتھوں ہوئی ہیں مختلف مقدمات میں ان کی سپریم کورٹ میں بھی بحث کا نکتہ بنتی ہے۔

ان کا یہ آئین بمشکل چھ سے سات صحفات کی کتاب ہے جس نے انہیں ایک عالم کا مالک بنادیا جب کہ ایک عام کار جس میں بمشکل پانچ آدمی سماتے ہیں اس کا مینوئل ہی دو سو صحفات سے کم نہیں ہوتا۔

تہتر کے آئین میں ناگزیر تبدیلیاں

زمانہ جلد ہی دشمن بن سا جاتا ہے

وہ اس لہجے میں، اردو بولتا ہے

معاشرے ہوں یا ان میں بسنے والے افراد، دونوں کے بدلنے کی ایک ہی صورت ہے کہ یہ تبدیلی اندر سے آئے۔ کیوں کہ یہ دونوں ایک انڈے کی طرح ہوتے ہیں۔ انڈہ اگر باہر کی ضرب سے ٹوٹے تو زندگی کا خاتمہ اور اندر سے ٹوٹے تو زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایک سوال بہت کثرت سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا پاکستان انقلاب کے دہانے پر ہے تو میرا جواب نفی میں ہے۔ نفی میں اس لیے کہ انقلاب سے پہلے ایک بہت بڑا Intellectual Thought Process جسے آپ عام اردو میں خیالات کا ایک بہت بڑا عمل کہہ سکتے ہیں۔ اس کا موجود ہونا ضروری ہے۔ میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان میں طبقاتی کشمکش، کسانوں کی زبوں حالی، ایک بڑا معاشی بحران، عوام میں ایک شدید بے چینی اور مایوسی اور ایسے دیگر تمام عوامل موجود ہیں جو ایک انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ مگر یہاں اس بہت بڑی فکری تحریک کی عدم موجودگی، ان حالات کی مستقل جاں لیوا موجودگی ایک انارکی کی طرف تو مڑ سکتی ہے اور اس راہ پر گامزن بھی ہے مگر وہ جو انقلاب کا راستہ ہے وہ معدوم اور غیر واضح ہے۔ ہم جسے انقلاب کہتے ہیں وہ دراصل ایک شدید احتجاجی ردعمل کا نام ہے۔ جس میں عوام الناس، ان اہل بست و کشاد لوگوں سے جن سے وہ اپنی بہتری کے لیے عمدہ فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں ان کی ناکامی اور بداعمالیوں سے تنگ آکراپنے فیصلے کرنے کا اختیار خود اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔

انقلاب کا جائزہ لیں تو اس کے لیے لازم ہے ملک کی زبان ایک ہو۔ اس کی فوج ملکی تناظر کثیر الاقوام ہو اور عوام کی بڑی اکثریت تعلیم یافتہ ہو تاکہ اسے انقلابی لٹریچر پڑھایا جاس کے۔ مارکس، والٹیئر، ماؤزے تنگ، ڈاکٹر علی شریعتی کے فکری نظریات اسی وجہ سے روس، فرانس، چین اور ایران جیسے ممالک میں انقلاب کی بنیاد بنے۔ پاکستان میں انقلاب ناممکن ہے مگر فساد یا انارکی کے بہت امکانات ہیں۔

آپ کہیں گے کہ پاکستان میں ایک شعوری انقلاب کا عمل میڈیا اور عدلیہ کے ذریعے برپا ہوگیا ہے۔ اس بات میں اس حد تک تو صداقت ہے کہ یہ مردار خور گدھوں کی محفل میں مینا کی آمد ہے مگر اس میں درستگی اور محاسبے کی کوئی امید رکھنا فضول ہوگا۔ 1857 کی جنگ سے غداروں کے جو خاندان جاگیردار بنے وہی اب اسمبلیوں میں بھی پہنچتے ہیں۔ جان لیجیے کہ کسی ملک کی عدلیہ چاہے کتنی ہی بااختیار کیوں نہ ہو اس کا دائرہ کار محدود اور انتظامیہ اور مقننہ کی پیہم امداد کا پابند ہوتا ہے۔ عدلیہ یوں بھی ایک طرح کی بیوروکریسی کا خمیر، ڈی این اے اور سرشت رکھتی ہے۔ اس میں فوج اور سول بیوروکریسی کی طرح Conformist افراد کی بھرمار ہوتی ہے۔ ان افراد سے شیر شاہ سوری اور ابراہام لنکن جیسی توقعات رکھنا چھلنی میں پانی بھرنے کی کوشش ہے۔

اب رہ گیا میڈیا، تو میڈیا آپ کو باخبر رکھتا ہے، آپ کے گرد و پیش کے بارے میں آپ کو اہم معلومات بھی بہم پہنچاتا ہے مگر ان معلومات کو وصول کرکے اسے ایک ضابطۂ عمل میں ڈھالنے کا کام جو بہت پیچیدہ اور دشوار گزار عمل ہے، وہ بہت ہی محدود ہے۔ اس سے عوام میں ایک احساس بے چارگی جنم لیتا ہے۔ یوں ایک بڑے طبقے میں جو یہ احساس عام ہوتا جارہا ہے کہ پاکستان کا میڈیا مایوسیوں کا زچگی خانہ ہے۔ یہ تاثر یوں بھی درست ہے کہ اس کی عام کی ہوئی معلومات کو نہ تو انتظامیہ کا سپورٹ حاصل ہے، نہ تعلیم کا وہ عمل اس کی مدد کررہا ہے جو اس کی دی ہوئی معلومات کو ایک باعلم طبقے کے ذریعے عملی جامہ پہنائے۔ آپ کو شاید یہ علم نہ ہو کہ امریکہ جیسے ملک میں سرمائے اور میڈیا کی صورتحال یوں ہے کہ 1500 اخبارات، 1100 رسائل، 9000 ریڈیو اسٹیشنز، 2400 اشاعتی ادارے، 1500ٹیلی ویژن اسٹیشنز کل چھ کارپوریشنوں کی ملکیت ہیں جن میں ڈزنی، ویاکوم، ٹائم وارنر، سی بی ایس اورجی ای شامل ہیں۔ یہ اپنے مقاصد کے لیے خبروں کو اپنے انداز میں ڈھالتے ہیں۔ گیارہ ستمبر، طالبان اور پھر عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کو جنگ کا بہانہ بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ پاکستان میں بھی مدت ہوئی اب کوئی اسلام آباد کے سکندر، قصور کی زینب ریپ کیس، کراچی کے شاہ رخ جتوئی کیس اور ایان علی کا نام نہیں لیتا۔ آپ کو تو یاد ہی ہوگا کہ چند ماہ پہلے ان افراد کے اذکار پر غم سے نڈھال میڈیا کی رو رو کر ہچکیاں بندھ جاتی تھیں۔ میڈیا کا روزانہ چھ بجے سے گیارہ بجے تک رات کو آپ کے دماغ میں پیچھے بیٹھے ہوئے ایجنڈا ماسٹرز کا پروگرام ٹھونسنا ہوتا ہے، سو یاد رکھیے خبر وہ نہیں جو آپ کو بتائی جارہی بلکہ اصل خبر وہ ہے جو آپ سے چھپائی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ کے باہر پاکستان کے سب بڑے میڈیا مغل کو تو آپ سن ہی چکے ہیں کہ میڈیا بھی ایک دھندہ ہے۔ سو یارو! کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو۔ اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو۔

میڈیا کو عدلیہ سینیٹ کا بہت بڑا سپورٹ درکار ہوتا ہے۔ سوچئے اگر صدر نکسن والے واٹر گیٹ اسکینڈل اور کلنٹن کا مونیکا لیونسکی والا اسکینڈل میڈیا عام کرتا رہتا اور اسے امریکی کانگریس ایک منطقی انجام تک نہ پہنچاتی اور نکسن اور کلنٹن کو بدستور صدر رہنے دیتی تو میڈیا کا رول ایک صدا بہ صحرا ثابت ہوتا۔ ان دونوں صدور کو کانگریس نے Impeach کیا۔ قوم کے سامنے دنیا کے طاقتور ترین لیڈر صاحبان کو آنسوؤں سے رلایا، عوام کو ان پر کیے جانے والے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے سنگین جرم پر معافی بھی منگوائی اور پھر دھتکار کر ایوان ِصدر سے باہر نکال دیا۔ اس کے برعکس آپ نے دیکھ لیا کہ سپریم کورٹ نے جسے نااہل کہا اسے اگلے دن اس کی پارٹی نے سربراہ اور اس کے جگہ آنے والے وزیر اعظم نے اسے وہی مان دیا جو بہادر شاہ ظفر استاد ذوق کو دیا کرتے تھے۔

سو میڈیا کی عوام کو کچی پکی معلومات کی فراہمی، اس وقت تک ایک پاگل کی چیخ ہے جب تک اس کو سہارا دینے کے لیے اور اس کے سامنے لائے ہوئے اسکینڈلز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک باشعور اور باضمیر مقنّنہ اور ایک فعال انتظامیہ جو عدالت کے فیصلوں کا دل سے احترام کرتی ہو۔ اس کے بارے میں یہ یقین اپنا جزو ایمان سمجھتی ہو کہ اللہ کے بعد انصاف صرف عدالت کے ذریعے مل سکتا ہے، موجود نہ ہو۔ امریکہ اور برطانیہ میں مجال نہیں کہ صدر یا وزیر اعظم کسی معمولی سرکاری اہل کار کے اختیارات کو چیلنج کرسکیں۔ ٹونی بلیئر جب برطانیہ کے وزیر اعظم تھے تو ایک اجلاس میں شرکت کے لیے چیری بلیئر ان کی اہلیہ بھی پہنچیں۔ سڑک کنارے کھڑے چند طالب علموں سے بات میں تصویر اتارتے ہوئے کسی طالب علم نے ان کی نقل اتاری تو تاؤ آگیا، اس کو تھپڑ رسید کیا۔ یہ سب منظر ایک سپاہی بھی دیکھ رہا تھا انہیں تھانے لے گیا۔ ٹونی بلیئر کو ضمانت دینے تھانے آنا پڑا۔

اس لیے پاکستان میں انقلاب کی امید ایک خیال خام ہے۔ ایک مجذوب کی بڑ ہے۔ اس لیے انقلاب کے لیے وہ Atomic Warheads کو ڈیلیور کرکے صحیح مقام پر گرانے والے ذہنی گروپ کا موجود ہونا بہت لازم ہے۔ اسی لیے انقلاب سے پہلے ایک فکری تغیر کسی بھی معاشرے میں بہت ضروری ہے۔

ہم اب تک جمہوریت کے نام پر جو ڈکٹیٹر شپ کرتے رہیں اور ڈکٹیٹر شپ کی ناجائز کوکھ سے جس طرح کھینچ کھانچ کر جمہوریت برآمد کرتے رہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس آئین میں چند ترامیم کرلیں۔ یہ تبدیلیاں اس لیے لازم ہیں کہ جلد بازی میں بنا ہوا اور مختلف ترامیم کی روشنی میں ذاتی مفادات کو تحفظ دیتا آئین اب بڑی حد تک Dysfunctional اور Obslete ہوچکا ہے۔ یہ اب ایک دفتر بے معنی ہے۔ آپ نے اس میں چیئرمین نیب، الیکشن کمشنر، افواج کے سربراہان اور نگران وزیر اعظم کی تقرری تک جو تماشے ہوتے ہیں وہ دیکھ لیے ہیں۔

ہمارا اس میں رول ماڈل امریکہ کا آئین ہو تو اچھا ہے۔ میں چند گذارشات ان ترامیم کے سلسلے میں پیش کرتا ہوں۔ آپ غور فرمائیں گے تو یہ ایک عہدے سے مختص نہیں۔ یہ بہت Structural نوعیت کی ہیں:

۱) جتنے ڈویژن ہیں اتنے صوبے بنادیں، حکومت کو عوام کے دروازے تک لے جائیں۔ ہندوستان جب آزاد ہوا تو اس میں اس وقت ان کے کل ہاں کل سات یا آٹھ صوبے تھے اب ان کے ہاں انتیس کے قریب صوبے ہیں، ایران نے حتیٰ کہ افغانستان نے اپنے ہاں کئی صوبے بنائے ہیں۔ اس وقت ملک میں کم از کم چالیس صوبے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ پچاس لاکھ آبادی پر ایک صوبہ بہترین پیمانہ رہے گا۔ میرے ناقدین کہیں گے اس سے حکومت کا خرچہ بڑھ جائے گا۔ تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ صوبائی سطح پر زیادہ سے زیادہ پانچ اور کم از کم تین وزیر رکھیں۔ امریکہ میں معاملہ ایسا ہی ہے۔ اس وقت ان کے ہاں تیرہ کے قریب وزراء صاحبان ہیں جنہیں وہ سیکرٹری کہتے ہیں ان کا کانگریس یا سینیٹ کا ممبر ہونا لازم نہیں۔ مرکز میں یہ تعداد کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ دس ہوسکتی ہے۔ ۔ جنتا کے مسائل جنتا کے دروازے پر حل ہورہے ہیں۔ ہمارے ہاں صوبوں کی موجودہ تقسیم ہندوستان میں انگریزوں کے زمانے کی ہے۔ اب اس میں آبادی کے حساب سے نئے نئے مسائل اور محرومیوں نے جنم لیا۔ جب ہم ان کی تقسیم ڈویژن کی بنیاد پر کریں گے تو عوام کی شکایات کم سے کم ہوں گی۔

۲) وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی کابینہ کے وزراء اسمبلی کے ممبران نہ ہوں۔ اس سے کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ یہ دونوں عہدے دار اسمبلی کو جواب دہ ہوں۔ ان کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہو۔

۳) ایک آزاد الیکشن کمیشن ہو۔ جو انتخابات کے عمل کو شفاف رکھنے کا ضامن ہو۔ آپ نے دیکھا کہ جب ٹی این سیشن صاحب کو ہندوستان میں چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا تو انہوں نے کس طرح ہندوستان میں انتخابات کے عمل کو شفاف اور قابل اعتبار بنا دیا۔

۴) ہر صوبے سے دو سینیٹر عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب ہوں۔ یہ Nation building میں عصبیت، فرقہ واریت ختم کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔

قانون سازی اور محاسبے میں اس کے صادر کردہ فیصلے حرف آخر ہوں۔ ہمیں وفاق کی نمائندگی کے لیے ایک مضبوط اور فعال سینیٹ کی ضرورت ہے جس کے سینیٹر کا دفتر چوبیس گھنٹے کام کرے اس کی اپنی ویب سروس اور فون پر رابطے کی سروس مہیا ہو۔

۵) امریکہ کی طرح ہی آپ سینیٹ کی موضوعاتی کمیٹیاں بنادیں۔ جیسے ڈیفینس، لاء اینڈ جسٹس کمیٹی۔ خارجہ امور اور اسی طرح کی دوسری کمیٹیاں۔ ان دنوں امریکی سینیٹ کی کل ملا کر 88 کمیٹیاں اور ان کی ذیلی کمیٹیاں ان کی حکومت کے کام کی کڑی نگرانی کرتی ہیں۔ پالیسی اور قانون سازی کے عمل میں لوگوں کو مستقل بنیادوں پر وہ مشورے کے لیے بلاتی ہیں۔ یوں امریکہ کی حکومت اور اس کے اہل کار دنیا کے ان چند طاقتور افراد میں سے ہیں جہاں کم از کم لوگ ان کے خلاف عدالتوں میں جاتے ہیں۔ جیسے ان کی سب سے بڑی کمیٹی United States Senate Committee on Appropriations جو۔ اس میں حکومت کے صوابدیدی اختیارات کے حوالے سے اخراجات کی منظوری لی جاتی ہے۔ اسی طرح ان کی توانائی اور قدرتی وسائل کی کمیٹی حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان میں مستقل درستگی کے عمل میں لگی رہتی ہے۔ ان کی عدلیہ کی کمیٹی اٹھارہ مختلف معاملات پر دسترس رکھتی ہے جسمیں حکومت یا عدلیہ کے نامزد کردہ جج صاحبان کی تقرری کے حوالے سے ان کی موزونیت پر فیصلے ہوتے ہیں تاکہ بعد میں ان کے ماضی اور ان کی تقرری کے حساب سے کوئی اختلاف رائے نہ پیدا ہو۔ یہ کمیٹیاں Legislative، Oversight، Investigative، Confirmation، Field، Subpoenas اور depositions، Closing قسم کی سماعتیں کرتی ہیں۔ ان کی کارروائی براہ راست عوام کی اطلاع کے لیے ٹیلی ویژن پر بھی نشر کی جاتی ہے۔ آپ نے کلنٹن میاں بیوی، کونڈالیزا رائس اور حال ہی میں وزیر خارجہ جان کیری کی ایران کے معاملات پر سماعت کا احوال تو دیکھ ہی لیا ہوگا۔

۶) ان Confirmation کمیٹیوں کے حوالے آپ یہ کام کردیں کہ حکومت کے ہر شعبے کے پچاس بڑے عہدہ داروں کا انتخاب جن میں پانچوں چیف جسٹس، ہر طرح کے سرکاری گورنر، مسلح افواج کے چیف۔ خفیہ اداروں کے سربراہ جب تک ان کمیٹیوں کی جانچ پڑتال کے سامنے سوال و جواب کے لیے پیش ہوں۔ جیسا کہ امریکہ میں ہوتا ہے۔ صدر ریگن رابرٹ بورک کو سپریم کورٹ کا جج بنانا چاہتے تھے مگر سینیٹ کی عدالتی کمیٹی نے منظور نہ کیا۔ یہی معاملہ آٹھ دوسرے جج صاحبان کے ساتھ مختلف ادوار میں ہوا۔ صدر صاحب جب امریکہ میں کسی کو اہم عہدے پر وہ اس کا نام متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیتے ہیں۔ وہ اس کے تمام معاشقے، معانقے، مصافحے، مغالطے سے وابستہ افراد اور ان پر معترضین کو بلالیتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ صرف مرد میداں ہی اس عہدے پر فائز ہوسکتا ہے جو آگ کا یہ دریا عبور کرپائے۔ اس کے بعد اس کا طرز عمل صرف آفس کی حد تک محدود رہ جاتا ہے اور وہ دل جمعی سے اپنی پبلک سروس سرانجام دیتا ہے۔ یہ کمیٹیاں نہ صرف ان عہدوں کے لیے افراد کی تطہیر کرتی ہیں بلکہ حکومت کی پالیسیاں بھی مستقل ان کے زیر بحث رہتی ہیں۔

۷) ایسا عمل وضع کیا جائے کہ مملکت کا کوئی فرد یا ادارہ خود کو اس سے بالاتر نہ سمجھے، عدالت اور یہ کمیٹیاں اس فعل میں مکمل طور پر خود مختار ہوں۔ ان کے سامنے جواب دہی سے کسی کو بشمول صدر کے استثناء حاصل نہ ہو وہ جس کسی کو چاہے طلب کرسکیں۔

۸) ارتکاز دولت روکنے کے لیے دو سے زیادہ کاروبار ایک گھرانے کے پاس رکھنے پر پابندی ہو۔

۹) ایک سادگی، ٹرانسپرینسی اینٹی موناپولی اور تحفظ حقوق کا کمیشن بناجائے Simplicity, Transparency Anti Monopoly and Protection of Rights Commission تاکہ عوام سے متعلق امور میں قوانین سے لے کر ہر عمل میں سادگی اور کفایت شعاری کو اپنایا جا سکے اور پچھلی چند دہائیوں میں جو کارٹیل وجود میں آچکے ہیں ان کے چنگل سے حکومت اور عوام کو نجات دلائی جا سکے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہو جس میں چنیدہ افراد کی خدمات پالیسی کی بنیاد پر معقول معاوضے کی بنیاد پر حاصل کی جاسکیں اور حکومت اور عوام سے متعلق کوئی امور اس کے دائرہ سفارشات سے باہر نہ ہوں۔

۱۰) فوجی تربیت ہر نوجوان مرد اور عورت کے لیے ترکی اور اسرائیل کی طرح لازم قرار دی جائے۔

یہ تو تھیں آئین کی باتیں مگر آپ کو اس آئین کے ساتھ دو تین قوانین میں بھی تبدیلی لانی ہوگی۔ کچھ طریق کار ٹھیک کرنے ہوں گے۔ اس حوالے سے میری چند موٹی موٹی تجاویز یہ ہیں:

۱) ہتک عزت کا قانون لایا جائے کیوں کہ معاشرے میں اس سے آزادی رائے کے نام پر جو ہر کسی کی پگڑی اچھالنے کا سلسلہ چل نکلا ہے، اس کی روک تھام ہوسکے۔ ہتک عزت کے مقدمے میں فیصلے کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کی مدت مقرر ہو۔

۲) چھوٹی عدالتوں میں ججوں کا تقرر مقابلے کے ایک امتحان کے ذریعے ہو۔ اسی فیصد اعلیٰ عدالتی تقرریاں انہیں جج صاحبان کے پروموشن کے ذریعے ہوں۔ اس سے اہل لوگ عدالتی منصب پر فائز ہوسکیں گے۔ اسی طرح آپ ماتحت عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور لاء اینڈ آرڈر کے لیے Executive Magistracy کا پرانا نظام بحال کریں۔ پاکستان میں سن 1993 اس نظام کے بعد لاء اینڈ آرڈر کے بہت مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

۳) کسی بھی سطح پر سرکاری ملازمت بغیر مقابلے کے امتحان کے نہ دی جائے۔ جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں متعلقہ اداروں کے تعیناتی بورڈز جس میں ایک [english]Broad Based نمائندگی ہو۔ یہ بورڈ بھرتی کا ایک شفاف اور سمجھ بوجھ سے وضع کیے گئے طریقہ کار کے مطابق یہ فریضہ سرانجام دیں۔

۴) اسلحہ لائسنس کے اجرا پر پابندی لگا کر لوگوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ یہ اسلحہ حکومت کے پاس جمع کرادیں۔ ممنوعہ بور کے ہتھیار اور لائسنس فوری طور پر ضبط اور منسوخ کردئے جائیں۔ مقررہ مدت کے بعد اس طرح کے اسلحہ کی برآمدگی کی سزا دس سال قید کی صورت میں ہو۔

۵) ہیوی ٹریفک لائسنس کے لیے کم از کم تعلیم قابلیت میٹرک ہو۔ اس سے آپ کی سڑکوں پر موت کا جو رقص دکھائی دیتا ہے وہ کم ہوجائے گا اور تعلیم یافتہ لوگ اس پیشے میں آئیں گے۔

۶) اپنی سول سروس کو ٹھیک کریں۔ اسے آئینی تحفظ دیں۔ انگریز نے ہندوستان میں تمام کارنامے اسی کے ذریعے سرانجام دیے۔ وہ اسے اپنا اسٹیل فریم کہتا تھا۔ اس کا سائز کم کریں۔ لوگوں نے اپنی سہولت کے لیے نئے محکمے بنالیے ہیں، جن کے پاس کرنے کو کوئی قابل ذکر کام نہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی پینتالیس فیصد بیوروکریسی علم سے ناآشنا ہے۔ اس میں موجود کلرکوں، نائب قاصدوں اور ڈرائیور حضرات کو لکھنا پڑنا نہیں آتا۔ اس طرح کام کیسے چلے گا؟ ان کی تعلیم کا بندوبست کریں۔ اس میں بھرتی کے لیے ہر سطح پر پبلک سروس کمیشن کا رول ہونا چاہیے۔ محکموں میں بھرتی کا اپنا نظام ختم کریں۔

۷) پولیس کو مقامی حکومت کے ماتحت کردیں۔ پولیس ایک مقامی فورس ہے اور خالصتاً آپریشنل نوعیت کی ایک تنظیم ہے۔ اس میں مرکز سے بھرتی کیے ہوئے افسران کا کوئی کام نہیں۔ یہ جب مقامی حکومت کی تابع ہوگی تو اس میں مقامی منتخب نمائندوں کی وجہ سے جواب دہی کا عمل قائم ہوجائے گا۔ اس میں ایس-پی سے اوپر کے عہدے ختم کردیں۔ یہ بہت ٹاپ ہیوی ہوگئی ہے۔ پولیس آرڈر 2000ء نے اس اپنے معاملات کا مختار کل بنادیا ہے۔ ملک میں جتنی غارت گری اور بد امنی اس قانون کے جاری ہونے کے بعد ہوئی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ آپ نے دیکھا کہ بے نظیر صاحبہ کے انتقال کے سانحے پر جب ہر طرف غارت گری مچی تھی، یہ تھانوں میں تالے ڈال کر خود کو محفوظ کرکے بیٹھ گئی تھی۔ اس طرح کے اور بھی واقعات ہیں جو اس نئے قانون اور ان کی خود مختاری کے حوالے سے اس آرڈر کی ناکامی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔

۸) آپ اپنے شناختی کارڈز کی مدد سے بہت سے کام باآسانی کرسکتے ہیں۔ اس میں ڈرائیونگ، بندوق کے لائسنس، سیل فون کا نمبر، ووٹ کا نمبر، بلڈ گروپ، فنگر پرنٹس، آنکھ کی پتلی کا نقش اور این ٹی این درج ہو۔ ایک مدت کا اعلان کردیں کہ اس مدت کے بعد اگر کسی کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہوگا تو اسے مفت معالجے، بنک کے اکاؤنٹ، ریل کا ٹکٹ، بچے کے اسکول میں داخلہ اور ووٹ کی سہولت حاصل نہیں ہوگی۔ یوں شناختی کارڈ کو آپ اسمارٹ کارڈ میں بدل لیں۔ مردم شماری کی بنیاد شناختی کارڈ کو ہی ٹہرایا جائے۔ گھر گھر جاکر کوائف اکھٹا کرنا لازم نہیں۔ یوں آپ کو بہت سی جعل سازیوں سے نجات مل جائے گی۔ ووٹنگ الیکٹرانک مشینوں پر شناختی کارڈ میں درج ووٹرز نمبر سے ہو، جیسا بھارت میں ہوتا ہے۔ آپ کے ہاں انتخابات دھاندلی اور بندوق کی سیاست سے پاک ہوجائیں گے۔ ہر حلقے کے نتائج خود ہی الیکشن کمیشن کے پاس پہنچ جائیں گے۔ یہ نہیں ہوگا جو شوکت عزیز کے تھرپارکر سے الیکشن میں ہوا تھا کہ پورے تھرپارکر میں جتنے ووٹر نہیں تھے اس سے زیادہ انہیں ووٹ ملے تھے۔ صرف یہ ایک سمارٹ کارڈ آپ کو بے شمار پیچیدگیوں سے محفوظ رکھے گا۔

Comments

اقبال دیوان

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان صوبائی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے اور سندھ سول سروسز اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آپ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کے افسانے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ مطالعہ، مصوری اور سفر کے شوقین ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.