رمضان میں ’’مت‘‘ بول - یاسر اسعد

رمضان کے مبارک مہینے کی مقدس ساعتیں تیزی کے ساتھ رخصتی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ نیکیوں کا یہ موسم بہار جتنی دیر سے آتا ہے اتنی تیزی سے رخصت بھی ہوجاتا ہے۔ گویا اس ماہ کا پیغام ہوتا ہے کہ کم وقت میں زیادہ عمل کرکے اپنی آخرت کے اجر کو زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔ ابھی کل کی بات تھی کہ ابتدائے رمضان کی رویت کو لے کر خوب چہ می گوئیاں ہورہی تھیں اور اب دوسرا عشرہ بھی اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اس وقت اگر ہم اپنے اعمال کو دیکھتے ہیں تو عجیب شرمندگی سے دوچار ہوتے ہیں کہ رمضان کی آمد سے قبل اس ماہ کو گزارنے کا جو شیڈول ہم نے ذہن میں بنایا تھا اور جس قدر نیکیاں اکٹھا کرنے کا سوچا تھا اس کا عشر عشیر بھی شاید اب تک نہیں ہوپایا ہے۔ یہ کوتاہی تو یقیناً ہر مسلمان سے ہوتی ہے، مگر ابھی ایک عشرہ مزید بچا ہے جو پورے رمضان کا نچوڑ اور ماحصل قرار دیا جاتا ہے، اگر اس وقت رجوع الی اللہ نہ کیا گیا اور بقیہ دس ایام کو غنیمت سمجھتے ہوئے توبہ نہ کی گئی تو یہ بہت ہی محرومی کی بات ہوگی۔

رمضان کے ماہ مبارک میں کی جانے والی نیکیاں مختلف النوع ہوتی ہیں۔ جہاں مسلمانان عالم صیام و قیام کی پابندی کرتے ہیں وہیں صدقہ وخیرات، خیرخواہی، تلاوت کلام الٰہی میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے اور نہ ہی کرنا چاہتے ہیں۔ مگر دوسری طرف کچھ مسلمان اس عظیم ماہ کی برکتوں کو ’’کیش‘‘ کرانے کی کوشش میں ہوتے ہیں، صوم وصلٰوۃ اور تلاوت ان کو بھاتی نہیں، یا بھاری لگتی ہے، وہ سارے امور کی طرح اس میں ’’شارٹ کٹ‘‘ کے متمنی ہوتے ہیں اور اس کے لیے نت نئی راہیں بھی تلاش کرتے ہیں۔ انہی میں سے مختلف نئی ’’نیکیوں‘‘ کی رسم اجراء بھی ہے جس کا سہرا سب سے پہلے ہمارے ٹی وی چینلوں کو جاتا ہے۔ یہ ’’نیکیاں‘‘ بظاہر بڑی خوشنما ہوتی ہیں، علمائے کرام بلائے جاتے ہیں، لائیو شو ہوتا ہے، ’’دینی‘‘ سوالات ہوتے ہیں، مختلف ارباب مسالک ان کے جوابات دیتے ہیں، بلکہ جوابات دیتے ہوئے خود ہی باہم لڑ پڑتے ہیں، نعت گوئی ہوتی ہے، سلف صالحین میں سے بعض کی ’’سیرت‘‘ کا تذکرہ ہوتا ہے، دین سے جذباتی لگاؤ کے مختلف مظاہر پیش کیے جاتے ہیں، مگر میرے بھائیو! درحقیقت اگر باریک بینی سے ان کا جائزہ لیں تو دو چیزیں بڑی کھل کر سامنے آتی ہیں:

پہلی چیز تو یہ کہ ٹی وی چینل پر ہونے والے ان سارے پروگراموں سے قطعاً کوئی نیکی یا مناظرین کو کسی نیکی کی طرف متوجہ کرنا مقصود نہیں ہوتا، پورا ہدف از بس ریٹنگ ہوتی ہے۔ بفضل الٰہی کم از کم رمضان میں مسلمان ٹی وی چینلوں پر فحاشی وبے حیائی کے پروگرام دیکھنے کے عادی نہیں ہوتے، لہٰذا اب چینل والوں کی دال کیسے گلے گی؟ ان کا کاروبار کیسے چلے گا؟ پس اب منظر بدل کر پروگراموں کی نوعیت ’’مذہبی‘‘ کردی جاتی ہے۔ فرق صرف نوعیت کا ہوتا ہے، ورنہ چہرے مہرے سارے وہی ہوتے ہیں جو سال بھر ثقافت کے نام پر خباثتیں بکھیرتے ہیں، چونکہ رمضان کی آمد پر ان کے کاروبار بند ہونے کا خدشہ رہتا ہے، لہٰذا اوپر سے ’’مذہب‘‘ کا خول چڑھا کر وہ اینکر رمضان میں آپ کو دین کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ ’’عالم کے بول‘‘، ’’عالم کا عالم‘‘ وغیرہ اس نوعیت کے پروگرام اس کی واضح مثال ہیں۔ رمضان کے بعد بقیہ ماہ آپ ان کی اینکرنگ میں ’’دین‘‘ کا پہلو اور غلبہ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ پس ہم میں کا ہر شخص غور کرے کہ وہ رمضان کی مبارک ساعتوں کو کن کے چکر میں پڑ کر صرف کررہا ہے اور کن سے اسلام جیسا مقدس دین سیکھ رہا ہے؟

دوسری بات یہ کہ ان میں سے بعض پروگراموں کے اوقات یا تو سحری میں ہوتے ہیں یا پھر افطار میں اور یہ دونوں لمحے عموماً بھی اور ماہ رمضان میں خصوصاً کس قدر اہمیت رکھتے ہیں اس کا اندازہ آپ قرآن وسنت کی تعلیمات سے لگائیں۔

سحر کا وقت رب پاک سے مناجات کا ہوتا ہے، دعاؤں کی قبولیت کا امکان اس میں بڑھ جاتا ہے، اللہ جل شانہٗ اس میں آسمان دنیا پر نزول فرما کر ندائے عام لگاتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا جس کی میں مغفرت کردوں، ہے کوئی دعا کرنے والا جس کی دعا قبول کروں۔ ظاہر ہے یہ سنہرا وقت دن کے کسی اور حصے میں نہیں آتا۔ اب اس لمحے کو جو کہ رب سے سرگوشی ومناجات کا ہے اسے اگر ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ کر یونہی گنوا دیا جائے اور اس خوش فہمی میں رہا جائے کہ رمضان ٹرانسمیشن کے یہ مداری ہمارے اجر وثواب میں اضافہ کرتے ہوں گے تو اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہوسکے گی۔

ہوبہو افطار کا وقت بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے جس میں دعا کرنے والے کی دعا اللہ کے بارگاہ میں رد نہیں ہوتی۔ (الحدیث) دن بھر اللہ کے لیے رکھے جانے والے روزے کی قدر وقیمت افطار کے وقت ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ کر بحث ومباحثہ دیکھنے، فرضی مسائل پوچھنے، اس پر علماء کی لڑائی دیکھنے اور رمضانی مذہبی اینکروں کی چرب زبانی ملاحظہ کرنے سے یقیناً کم ہوجاتی ہے، اگر ان اوقات کو ہم براہ راست اللہ رب کریم سے مخاطب ہوکر تلاوت، دعا، ذکر واذکار میں گزاریں تو کیا ہی بہتر ہوگا۔

سوالات ہر ایک کو در پیش ہوتے ہیں، لیکن اتنا شعور تو ہر بندے کو ہونا چاہیے کہ ایسے شوز میں الگ الگ نقطہ نظر کے حامل افراد کے مابین ایک سوال کے مختلف جوابات کیا آپ کو شک وشبہ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں، اگر نہیں تو پھر خواہ مخواہ شک وشبہہ والی چیزوں میں پڑ کر کنفیوز ہونا سوائے وقت کی بربادی کے کچھ اور نہیں۔ اس سے اچھا تو یہی ہے کہ ہر بندہ اپنے مسلک کے عالم سے علیحدہ علیحدہ طور پر مل کر یا فون پر یا بالمشافہ یہ مسائل دریافت کرلے، یقیناً وہاں تو جواب میں تناقض نہیں پایا جائے گا۔

الغرض ماہ مبارک کی مقدس ساعتوں میں اجر وثواب انہیں نیکیوں کا حاصل ہوگا جو اس ماہ مبارک کے روزے فرض کرنے والی ہستی نے بتلائی ہے، نماز وصیام، تراویح، تلاوت قرآنی، کلام پاک میں تدبر، صدقہ وخیرات، تعاون علی البر والتقویٰ کے بعد میں نہیں سمجھتا کہ کسی مسلمان کے پاس اتنا وقت بچتا ہوگا کہ وہ یہ مبارک گھڑیاں ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ کر رمضان کے تقدس کو پامال کرنے والے پروگرام دیکھے۔ رب کریم ہمیں اس مبارک مہینے کی برکتیں سمیٹنے کی حتی الامکان توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */