رزان النجار: ارض ِ فلسطین کی فاطمہ بنت عبداللہ - محمد عمید فاروقی

1911ء میں طرابلس پر اٹلی کے حملے کے ساتھ ہی خلافت عثمانیہ اور اٹلی میں خوں ریز جنگ کا آغاز ہوگیا۔ خلافت کی جانب سے اعلانِ جہاد پر مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور جوق در جوق میدانِ جہاد کا رخ کرنے لگے۔ اس موقع پر خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ تھیں۔ وہ میدان جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتیں اور ان کی مرہم پٹی کرتیں۔ ان ہی خواتین میں ایک لڑکی فاطمہ بنتِ عبداللہ بھی تھی۔ وہ میدان جنگ میں زخمیوں کو پانی پلانے کے لیےاپنا مشکیزہ لیے دوڑتی پھرتی۔ اُسے جہاں کوئی زخمی سپاہی دکھائی دیتا وہ گولیوں کی بوچھاڑ کی پروا کیے بغیر فوراً اس سپاہی تک پہنچ جاتی جیسے اسے اپنے ارد گرد کا ہوش ہی نہ ہو۔ اس ہی دوران وہ اطالوی فوجی کی گولی کا نشانہ بن کرجامِ شہادت نوش کر لیتی ہے۔

آج تقریباً ایک صدی بعد تاریخ خود کو دُہرا رہی ہے۔ حق و باطل پھر آمنے سامنے ہیں، اہل ایمان کے دلوں میں وہی جوش وجذبہ اور شوقِ شہادت موجود ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ طرابلس کی جگہ ارضِ فلسطین ہے، اطالوی افواج کی جگہ اسرائیل کی غاصب افواج ہیں، اور فاطمہ بنت عبد اللہ کی جگہ رزان النجار ہے۔

21 سالہ رزان النجار ایک نرس تھیں۔ وہ 30 مارچ سے غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر جاری مظاہروں میں رضاکارانہ طور پر اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔رزان اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے مظاہرین کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرتیں۔ اس دوران وہ خود بھی آنسو گیس کی زد میں آئیں، لیکن وہ نہ گھبرائیں اور نہ ہی پسپائی اختیار کی۔ رزان اپنے کام میں ڈٹی رہیں وہ پیرامیڈیکل اسٹاف کا مخصوص سفید کوٹ پہنے میدانِ عمل میں موجود رہیں۔ لیکن شاید وہ اپنے حصے کا کام کر چکی تھیں۔ یکم جون کو وہ ایک اسرائیلی نشانہ باز کی گولی کا شکار ہوئیں جو ان کی شہادت کا سبب بنی۔ یوں رزان نے میدان عمل میں شجاعت و بہادری کا استعارہ بن کر فاطمہ بنت عبد اللہ کی یاد تازہ کردی۔

فاطمہ بنت عبد اللہ اور رزان النجار جیسی اُمت کی بیٹیوں کے لیے اقبال نے کہا

یہ سعادت، حورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی

غازیانِ دیں کی سقائی تری قسمت میں تھی

یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر

ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر

یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی!

اپنے صحرا میں بہت آہو ابھی پوشیدہ ہیں

بجلیاں برسے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں