لَيْلَـةُ الْقَدْر: سو لگاکر تین لاکھ پائیں - یوسف ثانی

رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ وہ عشرہ جس کی پانچ طاق راتوں میں ایک ایسی رات بھی آتی ہے جو 83 سال کی ہزار راتوں سے بھی بہتر اور افضل ہے، اسے لَيْلَـةُ الْقَدْر کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس رات کے بارے میں قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں کہ لَيْلَـةُ الْقَدْر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔( سورت القدر: آیت۔ 3)۔ یعنی اگر کوئی اس رات عبادت میں گزارے تو اس کا اجر و ثواب عام ہزار راتوں کی عبادت کے مساوی بلکہ اس سے بھی بہتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ لَيْلَـةُ الْقَدْر کو پالے۔ لیکن اسے یقینی طور پر پانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم رمضان المبارک کے آخری پانچ طاق راتوں کی شب بیداری کریں، جو آج کے مصروف ترین دور میں سب کے لئے بہت مشکل ہے کہ اگر پانچ راتیں، شب بیداری میں گزاریں تو اگلے پانچ دنوں کے کام کاج اور غم روزگار کا کیسے انتظام کریں گے؟ آئیے ہم آپ کو ایک ایسے انتہائی آسان اور سب کے لئے قابل عمل طریقہ سے آگاہ کرتے ہیں جس کے ذریعہ آپ ایک بھی مکمل شب بیداری کئے بغیر شب قدر کو بھی پالیں گے، اللہ کی راہ میں محض ایک سو روپے صدقہ کرکے تین لاکھ روپے صدقہ کا ثواب حاصل کرلیں گے اور ساتھ ہی ساتھ تیس ہزار قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب، تیس ہزار شب بیداریوں اور ساٹھ ہزار رکعتوں کا ثواب بھی حاصل کرلیں گے۔

ائمہ بیت اللہ شریف میں سے ایک کے نام سے لَيْلَـةُ الْقَدْر سے متعلق ایک پیغام ان دنوں سوشیل میڈیا میں گردش کر رہا ہے۔ چونکہ اس پیغام کا مذکورہ امام کعبہ سے منسوب ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے لہٰذا ہم امام کعبہ کا نام لئے بغیر ہی اس پیغام کو آپ سے شیئر کرتے ہیں کیونکہ یہ تمام باتیں قرآن و سنت سے پہلے سے ثابت شدہ ہیں۔ اس پیغام پر عمل کرکے آپ مندر جہ بالا تمام کے تمام انعامات سے آخری پانچ طاق راتوں تک مکمل شب بیداری کی مشکلات اٹھا ئے بغیر ہی مستفید ہوسکتے ہیں۔ بس آپ کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ہر رات کو یہ چند نہایت آسان کام کرنے ہیں تاکہ رویت ہلال میں کسی ممکنہ غلطی کے سبب طاق اور جفت راتوں کا باہم بدلنے کے خطرے کا امکان بھی صفر ہوجائے اور آپ کی ملاقات لازما لَيْلَـةُ الْقَدْر سے بھی ہوجائے۔

سب سے پہلے آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیسویں روزہ کے بعد آنے والی تمام دس کی دس راتوں میں نماز عشاء اور نماز فجر با جماعت ادا کریں گے۔ کیونکہ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آخری طاق راتوں میں شب بیداری کا اہتمام کرنے والوں سے بھی مصروفیت، تھکن اور نیند کے سبب عشاء اور فجر کی نمازوں میں سے کو ئی ایک نماز جماعت سے ادا ہونے سے رہ جاتی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ: نمازِ عشاء اور نمازِ فجر منافقین پر بہت بھاری ہیں۔ مسلم اور ترمذی کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: جو جماعت کے ساتھ نمازِفجر ادا کرتا ہے، تو گویا اس نے تمام رات عبادت کی۔ لہٰذا اگر آپ نے ان دس راتوں میں عشا اور فجر کی باجماعت نمازوں کو یقینی بنا لیا تو انہی میں سے ایک رات شب قدر بھی تھی، جس میں عشاء اور فجرکی باجماعت نماز ادا کرنے کے سبب آپ کو پوری شب بیداری کا ثواب مل گیا۔ اور شب قدر کی شب بیداری کا اجر ہزار مہینوں کی تیس ہزار شب بیداریوں کے مساوی بلکہ اس سے بھی بہتر ہے۔ جو آپ کو محض آخری عشرہ کی تمام راتوں میں عشاء اور فجر کی باجماعت نمازوں کا اہتمام کرنے سے حاصل ہوگیا۔

دوسرا کام آپ یہ کیجئے کہ آخری عشرہ کی ہر رات سونے سے قبل تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھ کر سو ئیں۔ سورہ اخلاص اجر و ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے (مسلم) گویا تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھنے کا اجر ایک قرآن پڑھنے کے اجر کے مساوی ہے۔ آپ نے دس راتوں تک مسلسل ایک قرآن پڑھنے کا اجر و ثواب سمیٹا، جس میں شب قدر بھی شامل ہے، جس میں کی گئی ایک عبادت ہزار مہینوں (تیس ہزار شب) کی عبادت کے مساوی ہے۔ اس طرح آپ نے اس شب تیس ہزار قرآن پڑھنے کا اجر حاصل کرلیا۔ آخری عشرہ کی ہر رات سحری کرنے سے قبل کم از کم دو رکعت نفل نماز ادا کرنے کو یقینی بنا کر آپ شب قدر کی دو رکعت کو پالیں گے، جس کا اجر و ثوب ساٹھ ہزار رکعت نفل کے مساوی ہوگا۔

آخری عشرہ کی ہر رات (بعد مغرب تا قبل فجر) روزانہ کم از کم دس روپیہ (یا 100 روپیہ، یا حسب توفیق زائد) صدقہ بھی کریں۔ دس راتوں تک مسلسل آپ محض دس روپیہ یومیہ (کل سو روپیہ) صدقہ کریں گے تو شب قدر والے دس روپیہ کے صدقہ کا اجر تیس ہزار گنا بڑھ کر تین لاکھ روپے صدقہ کرنے کے اجر کے مساوی بلکہ اس سے بھی افضل ہوجائے گا۔ رمضان کے آخری عشرہ کی دس راتوں میں سو روپیہ صدقہ کے کر تین لاکھ روپیہ صدقہ کا اجر حاصل کرنا کتنا آسان ہے۔ اللہ ہم سب کو سہولتوں کے ساتھ شب قدر کی زیادہ سے زیادہ فضیلتوں سے استفادہ کرنے کی توفیق دے۔ دلیل کے انہی صفحات پر اس احقر کی مرتب کردہ "قرآن مجید میں موجود اوامر و نواہی" (قسط (1، 2، 3، 4، 5، 6) اور "احادیث میں موجود اوامر و نواہی" (قسط 1، 2، 3، 4) کو قسط وار شائع کیا گیا ہے۔ اگر ہم رمضان المبارک کے اس آخری عشرہ میں اوسطاً ایک قسط یومیہ بھی پڑھ لیں تو اسی عشرہ میں ہم قرآن و سنت کے بیشتر اوامر و نواہی سے بھی آگاہ ہوجا ئیں گے۔ ماہ رمضان میں قرآن کا ہم پر اتنا تو حق بنتا ہے کہ ہم اس سے ثواب حاصل کرنے ساتھ ساتھ اسے کسی حد تک سمجھ کر بھی پڑھیں تاکہ قرآن و سنت پر مبنی اصل شریعت پرعمل کرنے میں آسانی ہو۔

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.