شب ِقدر اور اعتکاف - بشریٰ تسنیم

رمضان المبارک سالانہ نیکیوں کا میلہ ہے۔ ایسا میلہ جس کے تین شعبے بنا دیے گئے: رحمت، مغفرت اور آگ سے رہائی۔ نیکیوں کی اس سالانہ ’’سیل‘‘ میں کم دام دے کر زیادہ قیمتی اشیا خریدنے کے مواقع گنوانے کا کس نے سوچا ہوگا؟ نفل نیکی فرض کے برابر اور فرض ستر فرضوں کے برابر۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے دو عشروں میں اپنے لیے خوب نفع بخش تجارت کی ہوگی۔ کم محنت کی اجرت زیادہ ملی، سرمایہ کم لگا کر نفع زیادہ ملا۔ سبحان اللہ!

احتساب و ایمان کے ساتھ رحمت، مغفرت کے دروازوں سے گزرتے ہوئے روح اتنی صیقل ہو گئی ہو اور اس کے باطنی نور کا فیضان اپنے ماحول کو منور کیے دے رہا ہو تو یقیناً آگ سے رہائی کا مژدہ سننے کو روح بے تاب ہو جاتی ہے۔ اپنی کوتاہیوں، کمزوریوں، خطاؤں کے باوجود مومن اپنے پیارے ربّ سے حسنِ ظن رکھتا ہے۔ یقیناً ربّ کائنات کی رحمت اس کے غضب پہ غالب ہے۔ وہی پیاری ہستی ہے جو نیکیوں کے سارے جھول ختم کرکے حسن و قبولیت بخشتی ہے۔ اپنے بندوں کے ساتھ خالق و مالک ویسا ہی معاملہ رکھتا ہے جیسے کہ وہ اس کے بارے میں گمان رکھتے ہیں۔

’’اے مالک ارض و سماء! ہم سے جو بھول چوک ہو گئی ہو اُس کو معاف فرما کر مہلت عمر کے باقی دنوں کو اپنی مرضی و منشا، اپنی رضا کے ساتھ عمل کرنے میں آسانی فراہم کر دے۔ ‘‘آمین!

20 دن کی ریاضت روزہ دار مومن کو عادی بنا دیتی ہے کہ وہ پیٹ اور شرمگاہ کے ساتھ اپنی آنکھ، کان، زبان (خصوصاً) ہاتھ پاؤں، دماغ کو بھی ’’روزہ دار‘‘ بنا لے۔

سوچنے کی بات ہے کہ 20 دن کے تربیتی کورس سے مسلمانوں نے کیا کچھ حاصل کیا؟ ابھی بھی وقت ہے۔ اگر احتساب اور جائزے کے بعد یہ محسوس ہو کہ نفع کا سودا کم ہے اور نقصان کا زیادہ۔ ابھی تک فائدہ ویسے نہیں اٹھایا جیسا کہ اُس کا حق تھا۔ تو بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے۔ شکر کیجیے کہ ابھی اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشنودی کا ذریعہ باقی رکھا ہے۔ آخری عشرہ، طاق راتیں۔ یہ نعمتیں اور خزانے آپ کے منتظر ہیں۔ گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کا سامان موجود ہے۔ ناپسندیدہ اطوار، سستی، کاہلی۔ نیکی میں سبقت لے جانے کے جذبے کا فقدان ۔ ان سب کے علاج کا موقع موجود ہے!

پہلا کام حُسن نیت، گزشتہ کوتاہیوں سے توبہ کرنا بھی حسن نیت کے ساتھ مشروط ہے اور توبہ قبول ہو جانے کا معاملہ بھی حسنِ نیت و اخلاص سے ہی مشروط ہے۔ ہر نیکی کی ابتدا حسنِ نیت و اخلاص کے ساتھ ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے راستے کشادہ کر دیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ معرفت ِ الٰہی کے حصول کا نادر موقع ہے۔ روزہ داروں کی روح اُس شیشے کی طرح ہے جس کو آئینہ ساز نے خوب چمکا دیا ہو۔ روح جب صیقل ہو کر چمک جاتی ہے تو پھر وہ اس ظلوم و جہول انسان کو اس کی تخلیق کے مقصد سے ہم آہنگ زندگی بسر کرنے پر آمادہ کر لیتی ہے۔ بے عملی کی ساری میل کچیل صاف ہو گئی ہو اور عمل کے نور سے جگمگا رہی ہو۔ شبِ قدر کی لازوال نعمتیں، حُبّ الٰہی کا انبساط، اس کی معرفت اور قرب کا احساس روزہ دار کی باطنی کیفیات کو ناقابل بیان حد تک مسحور کر دیتا ہے۔ وہ شب قدر جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ کیا اس سے مراد عددی ہزار مہینے ہیں؟ بلکہ بڑی کثیر تعداد کا تصور دلانا مقصود ہے۔ اگر صرف ہزار مہینے ہی خیال کر لیے جائیں تو بھی تراسی سال چار مہینے کوئی کم مدّت تو نہیں ہے۔ ایک رات کا، زندگی کی ایک رات یعنی چند گھنٹوں کا فیضان ایک لمبی عمر کے برابر، سبحان اللہ!

رمضان المبارک کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس مہینہ میں قرآن نازل ہوا۔ اور شب قدر کی اہمیت اس لیے کہ اس رات قرآن نازل ہوا: اِنَّا اَ نْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِo (القدر۷۹:۱) ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا۔ اور اِنَّا اَ نْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرکَۃٍo (الدخان۴۴:۲) ہم نے اسے ایک خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے۔

شب ِقدر یعنی رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں کی فضیلت دراصل اُس کی ’’قدر‘‘ اور ’’برکت‘‘ ہے۔ جس رات میں اللہ رب العزت نے انسانیت کی فلاح اور ہدایت کے لیے۔ اپنی آخری الہامی کتاب نازل فرمائی۔ اپنی رحمتوں کا نزول فرمایا۔ اپنی محبت کے تمام سوتوں اور سرچشموں کا ظہور فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بے انتہا محبت اور رحمت کا ہی مظہر ہے کہ اُس نے ہمیں قرآن حکیم عطا فرمایا۔ بندوں کو اگر کوئی خوشی منانی ہو تواس بات پر خوشی منائیں نہ کہ دنیاوی، مادّی اور فانی خوشیوں کو حقیقی خوشیاں اور دائمی مسرتیں خیال کریں۔

’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے راہنمائی اور رحمت ہے۔ اے نبی ﷺ! کہو کہ ’’یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ نعمت اُس نے بھیجی، اس پر ہی تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے۔ یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔ ‘‘ (یونس۰۱:۷۵۔ ۸۵)

سورہ القدر میں جس لیلۃ القدر کا ذکر کیا گیا اس کی بابت مفسرین نے لکھا ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ تقدیر کے فیصلے نافذ کرنے کے لیے فرشتوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس کی تائید یہ آیت کرتی ہے: فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَ مْرٍ حَکِیْمٍ (الدخان ۴۴:۴)۔ اُس رات ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے۔

تاریخِ دنیا کا سب سے حکیمانہ فیصلہ تو یہی تھا کہ اسی رات انسانیت کی فلاح کا فیصلہ فرمایا گیا۔ آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کے لیے ہادی و راہنما بنا کر قرآن عطا کیا گیا۔ ہم نے حسن نیت کا ذکر کیا۔ کیا ہم نے اس بابرکت رات کے صدقے اپنی زندگی سنوارنے کے لیے کسی حکیمانہ فیصلے کی نیت کرلی؟ ’’اے اللہ! ہمیں حکمت عطا فرما دے اور صالح لوگوں میں ہمارا شمار ہو جائے‘‘۔ تو آئیے ابھی کچھ دل کے ارادے مضبوط کر لیں۔ قرآن کی روشنی میں کوئی حکیمانہ فیصلہ کر لیں۔ اپنے اخلاق اور اعمال کی جانچ پڑتال کر لیں۔ اور ’’شب قدر‘‘ اور آخری عشرے کو اپنی مغفرت اور نجات کا ذریعہ بنا لیں۔ آخری عشرے کی ایک خاص عبادت ’’اعتکاف‘‘ ہے۔

اللہ تعالیٰ سے قرب کا یہ عظیم موقع جس کو مل جائے، اُس کی تو گویا ہر روز عید ہے۔ مرد، عورت دونوں اعتکاف کر سکتے ہیں۔ بس اس بات پہ توجہ ضرور رہے کہ اعتکاف کے دنوں کے لیے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟

اللہ تعالیٰ نے ہر کام اور کائنات کے ہر نظام کو ایک مربوط و منظم طریقے سے ترتیب دیا ہے۔ الل ٹپ، بے فائدہ، بغیر سوچے کام اور افراتفری و بے یقینی کے ساتھ کوئی بھی عمل بہترین نتائج کا حامل نہیں ہو سکتا۔ انسان کے اوقات کار میں بدنظمی سے نظامِ کائنات پہ منفی اثر پڑتا ہے، اس لیے کہ انسان اس کائنات کا حصہ ہے۔

اعتکاف، بندے کی طرف سے اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری، اپنی کم مائیگی وبے بسی کے ساتھ۔ محبت کا اظہار ہے۔ یہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر اللہ تعالیٰ سے لو لگانا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے ’’لو لگانے‘‘ کا عمومی طور پر یہی مطلب لیا جاتا ہے کہ انسان دنیا و مافیھا سے بے نیاز ہو جائے اور اللہ کے بندے کا دل یہی چاہتا ہے۔ جب وہ نفس سے جہاد کرتے کرتے اُس مقام پہ آجاتا ہے جہاں وہ حُبّ الٰہی کو اپنے دل میں بعینہٰ محسوس کرے جیسے گویا کہ ’’وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘

اسلام میں رہبانیت کی اجازت نہیں لیکن اللہ کے شیدائی کو اپنی فریفتگی کے اظہار کے لیے کچھ وقت دے دیا گیا۔ اعتکاف بیٹھنے والوں کو مبارک ہو کہ وہ اپنے عشق اور محبت کو بغیر کسی در اندازی کے ظاہر کرنے چلے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اپنے عام بندوں سے محبت کا عالم ملاحظہ ہو، اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی:

’’اگر مجھ سے منہ موڑنے والوں کو معلوم ہو جائے کہ میں انہیں کس طرح مہلت دیتا ہوں، ان پر کیسا مہربان ہوں، اور مجھے کتنا شوق ہے کہ وہ گناہ چھوڑ دیں تو میری محبت اور شوق میں ان کی موت واقع ہو جائے، اور میری محبت کے سوز سے ان کا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے۔ تو اے داؤد علیہ السلام جب منہ موڑنے والوں کے متعلق میرا یہ ارادہ ہے تو جو میری طرف ہی توجہ رکھتے ہیں ان کے متعلق میرا ارادہ کیسا ہوگا؟ (منہاج القاصدین)

اللہ تعالیٰ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے ایک عبادت گزار وصالحہ عورت کہتی تھی ’’خدا کی قسم! میں زندگی سے اُکتا گئی ہوں۔ اگر موت قیمتاً ملتی تو میں اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے شوق میں اسے خرید لیتی‘‘۔ پوچھا گیا ’’کیا تجھے اپنے اعمال پر اتنا اعتماد ہے؟‘‘ تو کہنے لگی ’’نہیں! لیکن مجھے اس سے محبت ہے اور اس سے حسنِ ظن رکھتی ہوں۔ بھلا بتاؤ اگر میں اس سے محبت رکھوں تو کیا وہ مجھے سزا دے گا؟‘‘ (منہاج القاصدین)

حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ بھلا ستّر ماؤں سے زیادہ رحیم و شفیق ہستی اپنے بندوں کی طرف سے محبت کا جواب نفرت میں دے گی؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ بندے ہدایت مانگیں اور وہ ان کو گمراہ کر دے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ’’اپنے بندوں کی پکار کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہوں۔‘‘

سوچنے کی بات تو یہی ہے کہ بندے کی پکار کیا ہے؟ اس کا مطمح نظر کیا ہے؟ اس کا مدّعا کیا ہے؟ اس کا پروگرام اور منصوبہ کیا ہے؟ کیا اعتکاف کے دوران لمبے چوڑے وظیفوں اور ہزاروں دانوں کی تسبیحات پر ذکر و اذکار اور اورادو وظائف کی کثرت کے باوجود عملِ خیر کی راہ سونی کی سونی رہ جاتی ہے یا جائزہ و محاسبہ نفس، اورزندگی کی گزشتہ گھڑیوں کی بے عملی کی بابت سوچ کر عرقِ انفعال کو آئندہ حیات مستعار کے لیے عمل پر اکسانے والا محرک بنا لیا جاتا ہے؟ اعتکاف بیٹھنے والوں کو اپنے ظاہر و باطن بدلنے اور اپنے نفس کے تزکیے کا بہترین موقع عطا ہوا ہے۔

گزشتہ زندگی میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی پہ بنظر غائر اورکڑا احتساب ہی ان قیمتی گھڑیوں کو لازوال اور یادگار بنا سکتا ہے۔

روزِ محشر ہر سانس کا حساب ہوگا۔ صغیرہ و کبیرہ، چھوٹی اور بڑی ہر بات کے متعلق پوچھا جائے گا تو اپنے ربّ رحیم سے معافی کی طلب دن رات، ہر گھڑی، ہر سانس کے ساتھ ہو تو بھی کم ہے۔ یہ نہ دیکھو کہ گناہ چھوٹا ہے یا بڑا۔ یہ دیکھو کہ نافرمانی کس عظیم ہستی کی کی جا رہی ہے۔ بے شک وہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ مگر کیا ہمیں اس ذات رحیم و کریم کی صفت رحمت و بخشش کا ناجائز فائدہ اٹھانا زیب دیتا ہے؟ ۔ بے شک اللہ تعالیٰ متوجہ ہوتا ہے ان لوگوں کی طرف جو اس کی طرف یکسو ہونے کے لیے سعی و جہد میں برابر لگے رہتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا۔

ہم نے اپنی ذات پہ خود جو ظلم کیے۔ اس کی تلافی کرنا ہے۔ اپنے اوپر ظلم یہی ہے کہ اپنی زندگی کے فرائض کو انجام دینے میں رضائے الٰہی کو مدّنظر نہ رکھا۔ اہلِ خانہ، اہل محلہ، خاندان، تحریک، سسرال، ملک و ملت کے حوالے سے کتنی اور کہاں کہاں ’’بددیانتی‘‘ کی۔ وہ ذات جو سینوں میں چھپے راز سے واقف ہے، جس نے سماعت، بصارت اور دل کے ارادوں کے بارے میں سوال کرنا ہے، جوابدہی کے پختہ ادغان کے ساتھ اس کی تیاری کر لیجیے۔ یاد رکھو پلڑے کو درست کرنے اور رکھنے کی فکر کا نام ہی دانشمندی ہے۔ انسان خود جانتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔ بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٰ بَصِیْرَۃٌo وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہo (القیٰمۃ ۵۷:۴۱۔ ۵۱) بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔ معذرتوں کا خانہ ہٹا کر اپنے نفس کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھنا قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔

دُعا مومن کا ہتھیار ہے، عبادت کا مغز ہے۔ پس دُعا کیجیے اپنے لیے، اپنی ذات کے حوالے سے، ہربندہ بشر کے لیے، ہر اس فرد کے لیے جو امت مسلمہ سے تعلق رکھتا ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے جسے اللہ تعالیٰ کا کنبہ قرار دیا گیا ہے۔

قرآن کریم پر، جس کی نسبت سے یہ دن برکت و عظمت والے ہیں، غور و فکر، تدبر، عمل پر استعانت کی دُعا کے ساتھ کلام الٰہی کو ’’حلق‘‘ سے نیچے سینے کے اندر دل میں اتارنا ہی معتکف کے باطن کو منور کر سکتا ہے۔

جتنے دن کے اعتکاف کی نیت ہے اس کے مطابق ایک جامع پروگرام ڈائری میں مرتب کیا گیا ہو تو رجوع الی اللہ کے ہر عمل میں خشوع، خضوع اور ’’احسان‘‘ کی جھلک محسوس ہو سکتی ہے۔ نفل نمازیں، ذکر اذکار، تعلیم و تدریس سب امور کے اوقات متعین ہوں۔ اپنی خدمت کرنے والوں کے ساتھ متشکرانہ رویہ، دُعا میں اپنے لیے، اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کے لیے نام لے کر دنیا و آخرت کی بھلائیاں طلب کرنا ایک نہایت پسندیدہ اور مستحسن عمل ہے۔ اعتکاف بیٹھنے والے سب لوگوں کے نمائندہ ہیں۔ ان کو سب کی ’’درخواستیں‘‘ ایمان داری سے اللہ کے حضور پہنچانی چاہیئیں۔

طاق راتیں: 21، 23، 25، 27 اور 29 ہیں۔ ان راتوں کی فضیلت کے بارے میں کسی کو کلام نہیں۔

کیا رات سے مراد وہ وقت ہے جب سورج کی روشنی ختم ہو جاتی ہے اور اندھیرا چھا جاتا ہے.؟

عربی زبان میں اکثر لَیْل کا لفظ دن اور رات کے مجموعہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ رات کا تصور اس لیے مقبول ہے کہ متعدد مقامات پر قرآن و حدیث میں رات کے وقت عبادت مقبول و پسندیدہ گردانی گئی ہے، جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔ رات کا پچھلا پہر نہایت اہم ہے۔ اس میں بھی دراصل نفس کی تربیت ہے کہ اپنا آرام تج کر کون اپنے خالق و مالک سے اپنی محبت کا عملی ثبوت فراہم کرتا ہے۔ دن کو دنیا کی بھاگ دوڑ میں مصروف رہنے والا خلوت کی گھڑیوں کا منتظر رہتا ہے۔ رات کی تنہائی میں اس کو اللہ تعالیٰ کے حضور اپنا مدّعا پیش کرنے، سجدے میں سررکھنے اور آنسو بہانے میں لطف و لذت محسوس ہوتی ہے کہ اس وقت ریا کا بھی نام و نشان نہیں ہوتا۔ خالص اور سچی محبت، بے ریا محبت۔ بندے اور محبوب کے درمیان مناجات اور راز و نیاز کا وقت رات کا ہی ہوتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مَنْ قَامَ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غَفِرَلَہ، مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٰ‘‘ ’’جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ سے اجر حاصل کرنے کی خاطر عبادت کے لیے کھڑا رہا اس کے تمام گناہ معاف ہو گئے۔ ‘‘(بخاری و مسلم)

کھڑا رہنے سے عوام الناس نے اس بات کو لازم کر لیا کہ ساری رات نفل نمازیں پڑھی جائیں یا ایک رات میں قرآن پاک کیا جائے جس کو شبینہ کہا جاتا ہے۔ وہ عبادت جس میں حضوری نہ ہو، دل کا ثبات نہ ہو، تھکن اور بے زاری کا احساس ہونے لگے، جس کے ختم ہونے کی آرزو شدّت اختیار کر جائے، وہ عبادت محض ایک ریہرسل ہے، مشقت ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی عبادتوں سے بے نیاز ہے۔ عبادت تو بندے کی اپنی ضرورت ہے۔ عبادت تو وہ ہے جس سے بندے کی بندگی میں اضافہ ہو۔ دل کی قساوت ختم ہو۔ قساوتِ قلب ختم ہو اور قلب، قلبِ سلیم بن جائے۔ روح سرشار ہو اور ظاہری بے زاری نہ ہو۔

وہ کیا لائحہ عمل ہو، کیا اندازِ فکر ہو کہ ہماری طاق راتیں، لازوال نیکیوں سے بھرپور ہوں؟

مولانا مودودی رحمت اللہ علیہ سورہ القدر کی تفسیر میں لکھتے ہیں:’’ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات میں خیر اور بھلائی کا اتنا بڑا کام ہوا کہ پوری انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ تو طاق راتوں کو تلاش کرنے والے اپنی زندگی کا کوئی ایسا بڑا کام کریں جو کبھی پہلے نہ کیا ہو۔ طاق راتوں میں اپنی زندگی کامیاب بنانے اور اللہ کی نظر میں پسندیدہ بننے کے لیے اگر ایک، ایک کام ہی سوچا جائے تو کتنی عظیم سعادت ہو گی۔ ہر طاق رات کا کوئی عمل، کوئی فیصلہ، کوئی پروگرام کوئی منصوبہ جو دل کی نگری کو روشن کر دے کیونکہ تقویٰ تو دل میں ہی ہوتا ہے، روزوں کا مقصد بھی تقویٰ ہی ہے اور تقویٰ اللہ تعالیٰ کی رضا اس کی محبت تلاش کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی ناراضگی کا خوف ہر نیکی کی جڑ ہے، اور اگر مومن اپنی ڈیوٹی (چاہے کسی بھی مقام، شعبے، طبقہ، عمر، صنف سے تعلق رکھتا ہو) احسن طریقہ سے انجام دیتا ہے تو وہ عابد ہے۔ اس ڈیوٹی میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کا مقدم ہونا لازم ہے۔

طاق راتوں کو تلاش کرنے والے غور کر لیں وہ کس ڈیوٹی پر ہیں؟ وہ جو بھی ڈیوٹی کر رہے ہیں وہ یہ نیت کریں کہ اس رات کی ساری برکتوں کی طلب کے ساتھ یہ ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔

عموماً خواتین کو شب قدر میں عبادت کا موقع نہیں ملتا۔ وہ موقع جو مروّجہ عبادت کے حوالے سے ہے شب قدر کے ساتھ مختص کر دیا گیا ہے ۔ یعنی 100 نوافل خاص طریقے سے، خاص تسبیحات وغیرہ۔ جب ان کو دوسری ڈیوٹی کے لیے اٹھنا پڑتا ہے مثلاً بچہ روتا ہے، سحری کے لیے کھانا بنانا ہے اور شوہر اور اہلِ خانہ کی دیگر ڈیوٹیاں تو ان کا دل بہت کڑھتا ہے، عبادت کا سارا مزہ خراب ہو جاتا ہے۔ بچوں کو کوستی ہیں، میاں سے اُلجھتی ہیں اور اپنی بدقسمتی پر روتی ہیں کہ کسی ایک طاق رات میں بھی ڈھنگ سے عبادت نصیب نہیں ہوئی۔ بات تو درست ہے لیکن نیکی کا تصور اس سے کہیں بلند ہے۔ جو جس محاذ پر ہے جس کا جو پرچہ ہے اُس نے وہی کرنا ہے، اسی ڈیوٹی کو انجام دینے کا ہی اجر ہے۔ اسی میں برکت ہے۔

آئیے طاق راتوں کو ایک نئے ڈھنگ سے گزارنے کا تجربہ کریں۔ ہر شخص اس رات کو جس بھی نیکی میں مصروف ہوگا۔ اس کی یہ نیکی ہزار مہینوں سے بہتر رات میں کی گئی نیکی ہے، اس نیکی کو بڑھایا اور پروان چڑھایا جائے گا۔ اس میں برکت ہو گی، مولانا مودودی مزید لکھتے ہیں کہ یہ نہیں فرمایا گیا کہ ’’شب قدر میں عمل کرنا ہزار مہینوں میں عمل کرنے سے بہتر ہے، بلکہ یہ فرمایا گیا کہ (یہ شب قدر) ’’ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ‘‘ ہزاروں دنوں میں جو کام نہ ہو سکا وہ اس طاق رات کو کر لیا جائے جو برکت والی ہے، سلامتی والی ہے۔ گزشتہ گزرے وقت کے کسی لمحے میں وہ کام کرنے کا خیال نہ آیا وہ کر لیا جائے۔ جس کام کو ’’دنیا کیا کہے گی‘‘ سوچ کر چھوڑ دیا گیا ہو وہ کر لیا جائے، انا کا غبارہ پھاڑ لیا جائے، روٹھے رشتے کو منا لیا جائے، اپنے ساتھ برائی کرنے والوں کے ساتھ بہترین نیکی کا نسخہ آزمایا جائے، اپنے اوپر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو معاف کر دیا جائے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ یہ وہ رات ہے جس میں اتنا عظیم کام ہوا جو پہلے کبھی بھی دنیا کی تاریخ میں نہ ہوا یعنی اس کے اثرات (نزولِ قرآن) قیامت تک رہیں گے۔ یہ وہ لازوال تبدیلی تھی جو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی فلاح کے لیے کی۔ رحمۃ للعالمین ﷺ کو مبعوث فرمایا جو قیامت تک کے لیے انسانیت کے ہادی و راہنما ہیں۔

اسی قرآن کی سالگرہ منانے والے اور اسی بابرکت مہینے کی شب قدر میں رحمۃ للعالمین ﷺ کے پیروکار کیا نرالا کارنامہ انجام دیں گے؟ کیا تبدیلی لائیں گے اپنے اعمال میں، اپنے باطن میں، اپنے اوپر عائد کردہ ذمہ داریوں کے حوالے سے، امت مسلمہ کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے۔ لہو و لعب چھوڑیں گے؟ رزق حرام چھوڑ کر رزقِ حلال پہ قناعت کریں گے؟ اپنے نفس کے بت کو توڑیں گے؟ اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ حدود کی پابندی کریں گے؟ حرام و حلال کی قیود کا خیال رکھیں گے؟

اگر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ، تو کیا یہ ستارے دوسروں کو راستہ دکھائیں گے؟ یا پھر اپنی منزل کا سراغ پانے کی بجائے دوسروں کی راہ کھوٹی کریں گے؟ عزیمت کی راہ اختیار کریں گے یا رخصت کا راستہ اپنائیں گے؟

طاق رات کی تلاش ظاہری، اوپری اوپری، دنیاوی، آسان طریقہ سے کرنے والے صبح کو ظاہری آثار سے قبولیت کی سند تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی ذات بہت بے نیاز ہے۔ چاہے تو وہ آگ کی تلاش میں سرگرداں موسیٰ علیہ السلام کو نبوت دے دے۔ کسی کے متعلق کوئی تبصرہ کرنا یا ناپسندیدہ بات کرنا کسی کو زیبا نہیں۔ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ کس کی کون سی ادا، جملہ، لفظ اُسے پسند آجائے۔ سب اختیارات کا وہ کلّی طور پر مالک ہے۔ شب قدر کس کو ملتی ہے؟ کیا کسی کو ایک سے زیادہ بار شب قدر مل سکتی ہے؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ فلاں رات شب قدر ہے؟

یہ تو وہ اسرار ہیں جو اس دنیا میں نہیں کھولے گئے۔ اندازوں کے پیچھے لگنے کا کیا فائدہ؟ ہمارا کام اپنی اصلاح کرنا اور ہر وقت اس کی فکر میں لگے رہنا ہے۔ قبولیت کا یقین رکھنا لیکن اپنے عمل کو ناقص و نامکمل جاننا ہی بہتر اور پسندیدہ ہے۔

مومن جس رات میں بھی اپنی روح کے ملکوتی حسن کو محسوس کرے، دل میں نرمی، رِقّت، حضوری ہو، اپنے گناہوں پہ ندامت کا احساس رونے پہ مجبور کر دے، اللہ تعالیٰ کی عظیم و برتر ذات کا عرفان ہو جائے، وہی طاق رات سمجھ لو کہ شب قدر ہے۔ نیکی کی طرف بڑھنے اور عمل کرنے کا جذبہ جس لمحہ بھی بیدار ہو اس کو ضائع نہ کیا جائے وہ آخری عشرے کا دن ہو یا رات، لمحہ لمحہ قبولیت کی گھڑیاں ہیں۔ یہ دن رات کے حساب ہم انسانوں کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے سب کچھ برابر ہے۔ وہ دنیا کے کسی بھی خطے کی شب قدر کو سب کے لیے قبول کر سکتا ہے۔ ہروقت کرۂ ارضی پر کہیں نہ کہیں رات اور کہیں نہ کہیں دن ہوتا ہے۔ اس عشرہ کے دن اور رات قیمتی ہیں۔ طاق رات کا تعین بھی اسی لیے نہیں کیا گیا کہ رحمتِ حق کے متلاشی اپنی کوشش جاری رکھے۔ انسان کا کام اپنی بساط بھر کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا کام اس کو قبول کرناہے، اپنی عظمت اور ظرف کے مطابق اجر دینا ہے۔

تعلق باللہ کا اصل منشا یہی ہے اور حُبِّ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ احساس و شعور جو رمضان المبارک میں اور خصوصاً آخری عشرے میں بیدار ہوا ہے اس کو آئندہ زندگی میں کام لایاجائے۔ اگر چاند رات کی فضیلت بھی یاد ہوگی تو نفس کو کنٹرول کرنے میں آسانی رہے گی۔ جذباتی، عقلی، علمی، عملی، اخلاقی اور قانونی سطح پر انفرادی و اجتماعی ہر حیثیت میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے نظامِ شہریت و شریعت کا پابند ہونا ہی دنیا میں کامیابی و کامرانی کا موجب ہے۔

انفرادی طور پر اشخاص کا نیک و متقی ہونا، کسی طرح بھی امت مسلمہ کو اندھیروں سے نہیں نکال سکتا۔ نیک افراد کا منظم گروہ ایک منظم و مضبوط نیکی کا حلقہ بناتا ہے۔ رمضان المبارک اجتماعی نیکی کا ایک اہم ترین مظہر ہے۔ رمضان المبارک کی طاق راتوں میں اعتکاف بیٹھنے والے، شب بیداریاں کرنے والے، دینی جماعتوں کے سرکردہ لوگ، امت مسلمہ کے حکمران، نوجوان، نونہال اور امت مسلمہ کی نسلوں کی آبیاری کرنے والی مائیں۔ اے کاش! کوئی کام کر دکھائیں، کوئی نرالا اور انوکھا کام جس کی برکت سے امت مسلمہ کے دکھ دور ہو جائیں۔ ہمارا ربّ ہم سے راضی ہو جائے!