وعدۂ سحری اور طوفان - ام حفصہ

بڑی دیر کی بات ہے، سرگودھا بیس سے ہماری پوسٹنگ ہو چکی تھی، رمضان کے دن تهے، خیال تھا کہ عید کے بعد مکان چھوڑیں گے مگر ابھی دو روزے باقی تھے کہ ایک دن میرے شوہر آفس سے واپس آئے اور کہا کہ جلدی سے تیار ہو جاؤ ہم گھر جا رہے ہیں۔

اتنی جلدی، وہ کیوں؟ میں حیران تھی۔

"جلدی کہاں ہے؟ عید کے بعد جو جانا ہے تو کیوں نہ میں آج آپ لوگوں کو چھوڑ آؤں اور پھر واپس آ کر آرام سے سامان لے جاؤں گا۔"

"لیکن ابھی تو دو روزے باقی ہیں، وہ آپ اکیلے کیسے رکھیں گے؟ "

"کل کا روزہ تو ایسے ہوگا کہ آج میں آپ کو چھوڑنے جاؤں گا تو سحری وہیں سے کر کے آ جاؤں گا اور افطاری ان شاءاللہ فرج میں رکھے دودھ اور فروٹ وغیرہ سے کر لوں گا۔ تم فکر نہ کرو۔"

"اچھا تو دوسرا روزہ کیسے رکھیں گے؟"

"ارے بھئی! جب میں نے اپنے دوستوں کو اپنا پروگرام بتایا تو سب ہی نے سحری افطاری کی پر زور دعوت دے ڈالی ہے۔"

"پھر؟"

"پھر یہ کہ ایک دوست کی "سحری" اور دوسرے کی"افطاری" قبول کی ہے، بس تم اپنی تیاری کرو میری فکر کرنا چھوڑ دو۔"

مجهے اور تو کوئی اعتراض نہ تھا بس سحری کے وقت کسی کے گھر جا کر کھانا کچھ مناسب نہ لگ رہا تھا لیکن میرے صاحب کہنے لگے کہ میرا دوست بڑا اصرار کر رہا تھا کہ سحری تو ہمارے ساتھ ہی کرنا اس لیے میں نے اس سے وعدہ کر لیا ہے۔

"لیکن وہ رہتا کہاں ہے؟" میں نے استفسار کیا کیونکہ مجهے معلوم تھا کہ گھر کے قریب قریب تو ان کا کوئی دوست نہیں رہتا۔ کہنے لگے "ارے وہی جن کے بچے کی سالگرہ پر ہم گئے تھے؟"

"لیکن وہ توبہت دور رہتا ہے۔"

"محترمہ! آپ موٹر سائیکل پر سڑک کے راستے گئی تھیں اس لیے آپ کو دور لگتا ہے، ورنہ یہ دو کھیت پار کرو تو اس کا گھر آ جاتا ہے۔"

میرا جغرافیہ چونکہ کمزور ہے اس لیے خاموش ہو گئی لیکن سوچا اتنے تردّد سے تو بہتر ہے کہوں کہ گھر پر ہی انڈا ابال لیجیے گا یا آملیٹ کا سینڈوچ یا پھر پهر دہی میں ہی چینی ڈال کر کھا لیجیے گا، لیکن پھر حضرت کی "شاندار کچن اسکلز" کے پیشِ نظر مزید بحث کرنا مناسب نہ سمجھا۔ چنانچہ پلان کے مطابق ہم گھر پہنچ گئے اور صاحب کا ایک روزہ بخیر و عافیت مکمل ہو گیا لیکن اگلے دن سحری کو اول تو صاحب کو لیٹ جاگ آئی کیونکہ جگانے والا جو کوئی نہیں تھا (دو پھول موتیے کے مار کے۔) اور جب جاگے تو جلدی جلدی کپڑے تبدیل کیے، بال بنائے پشاوری چپل پہنی اور سحری کھانے کے لیے عازم روانگی ہوئے لیکن جونہی گھر سے باہر قدم رکھا موسم کے تیور کچھ بدلے بدلے لگے لیکن جلد ہی پتہ چلا کہ بدلے ہوئے نہیں بگڑے ہوئے ہیں لیکن پھر سوچا یہ دو کھیت میری دو زقندوں کی مار ہیں لیکن ابھی چند قدم ہی چلے تھے کہ طوفان باد و باراں نے آ لیا۔ اوپر گھور اندھیرا، نیچے کیچڑ، پاؤں من من بھاری ہو گئے۔ احتیاط سے پاؤں جما کے چلنے کی کوشش کرتے تو کیچڑ میں دهنستے چلے جاتے اور تیز چلنے کی کوشش میں کئی بار سر کے بل گرتے گرتے بچے۔ بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ کئی بار دل میں آئی کہ واپس لوٹ جائیں لیکن پھر سوچتے وعدہ خلافی کرنا اچھی بات نہیں، میرا دوست انتظار کر رہا ہوگا اور پھر نجانے اس نے کتنا اہتمام کر رکھا؟ چنانچہ سر جھکا کے چلتے رہے چلتے رہے بالآخر "دو کھیت" پار ہو ہی گئے۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، آگے سنئے۔

دوست کے گھر پہنچ کر دستک دی موصوف باہر آئے اور چونک کر پوچھا یار تم؟ دماغ نے اس "تم؟" کو interpret کیا تو معلوم ہوا "اتنی دیر سے کیوں آئے ہو ہم تو کھاچکے ہیں اور اب پکا ہوا بھی کچھ نہیں۔" مگر پیچھے کھڑی خاتونِ خانہ سمجھدار تھی کہنے لگی آ جائیں بھائی جان آ جائیں۔ آپ ہاتھ منہ دھو لیں میں کھانا لاتی ہوں۔ دس پندرہ منٹ بعد محترمہ کچا پکا پراٹھا، کچا پکا انڈا اور کچی پکی چائے ٹرے میں سجا کر لے آئی۔ صاحب نے جب پہلا نوالہ منہ میں ڈالا تو محلے کا آخری مؤذن اذان کے آخری الفاظ ادا کر رہا تھا۔ یوں ہمارے صاحب نے دوست سے کیا ہوا وعدہ نبھایا، سحری کهائی اور گھر والوں کا شکریہ ادا کیا۔ دوبارہ پھر "دو کھیت" پار کر کے ہارے ہوئے جواری کی طرح گھر پہنچ گئے۔ ایک دن میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا صاحب! اذانوں کے بعد کھانے سے روزہ قبول ہو جاتا ہے؟ نقلی پیروں کی طرح ادھ کھلی آنکھیں میچ کے کے کہنے لگے "اری نیک بخت اللہ بڑا غفور الرحیم ہے "میں نے فدویانہ کہا ہاں جی! وہ تو ہے۔