عیدی بنی صدقہ جاریہ - گلزار فاطمہ

رمضان کا آخری عشرہ چل رہا تھا۔ جبران دانیال اور بریرہ اپنے گھر کے چھوٹے سے باغ میں بیٹھے عید پر ملنے والی عیدی کے متعلق منصوبہ بندی کررہے تھے کہ اس دفعہ عیدی جمع کرکے کون سا کھلونا خریدا جائے؟ ہر سال کی طرح اس سال بھی تینوں بہن بھائی کا یہی ارادہ تھا کہ تینوں کی عیدی ملا کر کوئی مشترکہ چیز خریدی جائے۔ سب سے پہلے دانیال نے مشورہ دیاجبران بھائی کیوں نہ اس دفعہ ہم ایکس باکس خریدلیں بڑا مزہ آئے گا۔ میرے سارے دوستوں کے پاس ہے۔

اس پر چھوٹی بریرہ جلدی سے بولی بھیا! مجھے نہیں کھیلنا آتا یہ ایکس باکس ویکس باکس۔ میں نہیں دوں گی اپنی عیدی اس پر۔ دانیال بہن کو چمکارتے ہوئے مخاطب ہوا ارے! میں سکھا دوں گا اپنی گڑیا کو، تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟

جبران اب تک سوچ میں گم تھا وہ تینوں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا اور کافی سمجھدار بھی تھا۔

جبران بھائی! آپ نے اپنی رائے نہیں دی، دانیال نے بیتابی سے سوال کیا۔

میرا خیال ہے بریرہ صحیح کہہ رہی ہے ایکس بوکس خریدنا مناسب نہیں ہوگا۔

لیکن کیوں بھائی؟

دانیال تم خود ہی مجھے بتاتے ہو کہ تمہارے جو دوست ایکس بوکس کھیلتے ہیں وہ اسکول سے آکر پورا دن صرف اسی پر ہی لگے رہتے ہیں اور ان کی سکول میں کارکردگی بھی متاثر ہورہی ہے اور ساتھ ساتھ صحت بھی_جبران نے تفصیلی جواب دیا۔

ارے بھائی! ہمیں اماں اور دادی جان کون سا ہر وقت کھیلنے دیں گے اگر ہم نے اس پر زیادہ وقت صرف کیا تو دادی جان اس کا تکیہ بنا کر اس پر دراز ہو جائیں گی۔ یاد ہے پرانے گیم کا حال؟ دانیال میں ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی بات میں وزن پیدا کیا۔

بریرہ خاموشی سے دونوں بھائیوں کی باتیں سن رہی تھی، اسے پتہ تھا کہ جبران بھائی جو فیصلہ کریں گے وہ دانشمندانہ ہوگا۔

جبران نے ناک پر اپنی عینک کو جماتے ہوئے کہا چلو بریرہ! ہم دانیال کی بات مان لیتے ہیں اور ایکس باکس خرید لیتے ہیں، لیکن ہم صرف ایک گھنٹہ اس پر کھیلا کریں گے۔

دانیال یاہو کا نعرہ لگاتے ہوئے بہن بھائی سے فرط جذبات میں سے جا لپٹا۔ بھائی کو خوش دیکھ کر بریرہ بھی مطمئن ہوگئی۔ اب ان تینوں کو عیدی ملنے کا شدت سے انتظار تھا اور روزانہ نماز تراویح سے فارغ ہوکر تینوں کی بیٹھک لگتی تھی، یہ حساب لگانے کو کہ کتنی عیدی ملے گی؟ یہاں تک کہ مشترکہ دعا مانگی جاتی تھی کہ طاہر نانا سے ضرور ملاقات ہو کیونکہ وہ سب سے زیادہ عیدی دیتے تھے۔

وہ عید کا شدت سے انتظار کر ہی رہے تھے کہ اچانک کراچی میں ہیٹ ویو کی شدید لہر چل پڑی تھی جس کے باعث شہر میں کافی ہلاکتیں بھی ہوگئیں اور پورے شہر میں افراتفری کا عالم تھا۔ گھر میں بھی سب پریشان تھے کیونکہ ایسے موسم میں روزے رکھنا بھی ایک مشکل کام لگ رہا تھا۔ ابھی بھی سب گھر والے لاؤنج میں اے-سی چلا کر ٹی وی پر ہیٹ ویو کی وجوہات پر تیارکردہ ایک ڈاکومنٹری دیکھ رہے تھے اور جس میں یہ بات واضح طور پر بتائی گئی تھی کراچی کی ماحولیاتی تبدیلی کی اہم وجہ ہریالی کا ختم ہونا اور ناموافق درختوں کی شجر کاری ہے، جس کے باعث کراچی کا درجہ حرارت اتنا بڑھ جاتا ہے۔ اس پروگرام میں اس بات پر خاص طور پر زور دیا گیا تھا کہ کراچی میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں اور اپنے اجاڑ پارکوں کو پھر سے ہرا بھرا کیا جائے۔ یہ پروگرام دیکھتے ہی جبران کی ذہن میں ایک خیال آیا اور اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس نے جلدی سے دونوں بہن بھائیوں کو باہر آنے کا اشارہ کیا۔ پیچھے سے دادی جان نے آواز بھی لگائی کہ ارے بچو! اتنی گرمی میں کہاں جا رہے ہو؟ بریرہ نے پیر چپل ڈالتے ہوئے کہا کہ بس ابھی آتے ہیں دادی جان!

تینوں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچ گئے سب سے پہلے دانیال نے اپنے خیال کا اظہار کیا۔ مجھے پتا ہے بھائی جان آپ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے میں بھی وہی کچھ سوچ رہا ہوں۔ اس بات پر جبران مسکرایا جبکہ بریرہ نے ہونق بن کر دونوں بھائیوں کو دیکھا۔ آپ دونوں کیوں انسپکٹر جمشید کے بیٹے فاروق اور محمود کی طرح حرکتیں کر رہے ہیں، بتائیں نا کیا سوچا ہے آپ دونوں نے؟

جبران بریرہ کے قریب بیٹھے ہوئے بولا بتاتے ہیں بتاتے ہیں بریرہ! اتنی اتاؤلی مت ہو۔ ابھی ابھی تم نے ٹی وی پر یہ بات سنی تھی کہ کراچی میں یہ گرمی درختوں کی کمی کی وجہ سے پڑ رہی ہے تو کیوں نا ہم ……

ابھی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ بریرہ پرجوش آواز میں گویا ہوئی، میں سمجھ گئی! آپ عیدی سے پودے لگانے کا سوچ رہے ہیں نا؟

ارے واہ! میری منّی شرلاک ہومز کیسے پہنچی مدعے تک؟ دانیال نے بھی پرجوش کر بہن کی پونی کھینچ لی۔

لیکن وہ ایکس بوکس؟

جس پر دانیال گویا ہوا کراچی سے بڑھ کر نہیں ہے ایکس باکس میری گڑیا! جس پر بریرہ مسکرائی اور اسے اپنے بھائیوں کی سوچ پر فخر محسوس ہوا۔ جبران نے آئندہ کی حکمت عملی بتاتے ہوئے کہا یہ پودے سب سے پہلے ہم اپنے گھر کے قریب اجاڑ پارک میں لگائیں گے لیکن اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے باباجان اور علاقے کے ناظم صاحب سے بات کرنی ہوگی کیونکہ صرف پودے لگا کر بات نہیں بنے گی بلکہ اس کی دیکھ بھال بھی بہت ضروری ہے تاکہ ان کی نشوونما صحیح طور پر ہوسکے۔ ٹھیک ہے، مشن شروع کیا جائے؟ بقیہ دو ننھے ساتھیوں نے پرجوش ہو کر حامی بھری۔ عید کی خوشی کے ساتھ ساتھ اس نیکی کی خواہش نے ان کی خوشی کو دوبالا کردیا تھا چنانچہ افطار کرتے ہی تینوں نے اباجان اور دادا جان سے اس خواہش کا ذکر کیا جس پر دادا جان نے فرط جذبات میں تینوں کو گلے سے لگا لیا اور اباجان بھی بہت پرجوش نظر آئے اور آگے کا منصوبہ بناتے ہوئے بولے کہ میں عید کی نماز کے بعد ہی یہ اعلان کروا دوں گا کہ ہم ایک شجر کاری مہم کا آغاز کرنا چاہتے ہیں جس کی ابتداء میرے بچوں کی عیدی سے ہوگی۔

حسب پروگرام ابا نے نماز کے بعد مسجد میں اس مہم کا اعلان کروا دیا۔ دانیال اور جبران کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے یہ دیکھا کہ تقریبا پورا محلہ اس شجرکاری مہم کا حصہ بننا چاہتا تھا اورساتھ7 ہی 7 ناظم صاحب نے بھی اس مہم کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

لہٰذا عید کے تیسرے دن کا سورج جب طلوع ہوا تو دانیال جبران اور محلے کے دوسرے رہائشی ناظم صاحب اور ابّا کے ہمراہ اپنے علاقے کے پہلے اجاڑ اور ویران پارک میں پہنچے اور ان کے پیچھے ہی ایک ٹرک پارک میں داخل ہوا جو کہ پیپل، برگد، نیم اور بہت سے ایسے پودوں سے بھرا پڑا تھا، جن کی پہچان کراچی کی مٹی سے بہت پرانی تھی اور پھر ایک ایک کر کے وہ تمام پودے اپنی جانی پہچانی مٹی سے جاملے۔ یہ تمام پودے اس محلے کے بچوں کی عیدی کا ثمر تھے_

وہاں پر موجود ہر شخص کے چہرے پر یہ عزم تھا کہ وہ "اپنےکراچی" کو پھر سے ہرا بھرا بنائیں گے اور کراچی کے خوشگوار موسم کو واپس لائیں گے۔

ابا جان کا ہاتھ تھامے جبران دانیال اور بریرہ علاقے کے اگلے پار کی جانب بڑھے جہاں کا مالی ننھے پودوں کی آبیاری کے لیے ان کا منتظر تھا۔

جبران، دانیال اور بریرہ نے تو اپنی عیدی سے اس صدقہ جاریہ کا آغاز کردیا ہے۔ اب آپ کی باری ہے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */