زندگی کی موٹر وے – ایمن طارق

رائٹ لین کا اشارہ دے کر ٹرالر سامنے آیا تو آگے کا ویو مکمل بلاک تھا. سامنے بورڈ پر ۴۰ کی اسپیڈ شو ہو رہی تھی یعنی آج کا دن میٹنگ میں ٹائم پر پہنچ جانا کچھ ناممکن سا ہی تھا۔ صبح کا آغاز ہی کچھ عجیب تھا، الارم پر آنکھ نہ کھلنا، صبح ۱۰ بجے متوقع delivery کا لیٹ ہو جانا، جلدی جلدی میں گھر سے نکلنے کے چکر میں چابی گھر کے اندر ہی رہ جانا اور اب اچھی بھلی چلتی ٹریفک میں اچانک ساری lanes کا رُک جانا۔ اوپر اُڑتے پرندوں پر بڑا ہی رشک آیا۔ اس وقت تو انسان سے پرندہ بننے کی ہی خواہش جاگے گی کہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ سامنے سے آنے والی ٹریفک کسی رکاوٹ کے بغیر رواں تھی لیکن افسوس u-turn اب ممکن نہیں تھا، نہ ہی دوسرا راستہ یا کوئی شارٹ کٹ لینا۔ پیچھے لمبی قطار تھی گاڑیوں کی۔ ایسی کسی صورتحال میں جھنجھلانا آپ کا اپنا خون ہی جلاتا ہے لیکن پر سکون رہ کر موٹر وے کی اس ٹریفک سے زندگی کے لیے کئی سبق مل جاتے ہیں۔

زندگی موٹر وے کی طرح تیز رفتار نہیں، نہ ہی اتنی accuracy ممکن ہے کہ ہر منزل تک پہنچنے کی مسافت کا تعین ہو جائے۔ نہ آرام اور سستانے کے لیے ہر کچھ فاصلے پر services کی سہولت اور نہ ہی قدم قدم پر رفتار کی کمی اور زیادتی کی یاد دہانی کے بورڈز۔ پھر بھی اتنی مماثلت کیوں ہے؟ موٹر وے کی غیر متوقع رکاوٹ کئی طرح کبھی کبھی زندگی میں بھی تاخیر، انتظار اور unexpected حادثات کے لمحات آتے ہیں۔ سامنے کھڑا ٹرالر مجھے اس بند دروازے کی طرح لگا جو اکثر آپ پر زندگی بند کر دیتی ہے اور آگے کا منظر یکسر اوجھل۔ دوسری طرف سے آتی ہوئی گاڑیوں کے اسٹیئرنگ ویل پکڑے ۷۰/۸۰ کی اسپیڈ پر ڈرائیور ویسے ہی پر اعتماد تھے، جیسے کبھی ایسی کوئی رکاوٹ ان کے سامنے آ ہی نہیں سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   دراڑ - حنا نرجس

جس وقت آپ زندگی کی کسی گردش میں ہوں اور آگے بڑھنے اور پیچھے جانا ممکن نہ ہو تو ایسے ہی بہت سے تیز رفتار چہرے آپ کو پیچھے چھوڑتے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ وہ بہت سے مسافر جو قطار میں لگے رینگتی ہوئی زندگی کی ٹریفک میں بے بسی سے بار بار گھڑی کی سوئیوں پر نظر ڈالتے ہیں اور دوسری جانب تیز رفتار زندگی کی گاڑیوں کی روانی دیکھ کر خود کو اس لاحاصل حسرت سے روک نہیں پاتے کہ کاش ہم اُس طرف ہوتے، زندگی جن کو رکتی ہوئی سی محسوس ہوتی ہے، وہ کچھ وقت کے لیے بے بس ہیں لیکن یہی موٹر وے اور زندگی کا اصول ہے کہ برداشت کے ساتھ راستہ کھلنے اور رکاوٹ دور ہو جانے کا انتظار کیا جائے کیونکہ سر پٹخنے، جھنجھلانے اور مایوس ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔

زندگی کو تخلیق کرنے والے اُس خالق کا یہی انداز محبت ہے کہ وہ کچھ وقت کے لیے رکاوٹ سامنے لاتا ہے تاکہ اُس کی تخلیق دعا کرے اور گڑگڑائے اور پھر زندگی کو دوبارہ رواں کر دیتا ہے کہ اُس کے بندے شکر کریں اور ذکر کریں۔ اگر منزل کی لگن دل میں ہو تو رکاوٹوں پر جھنجھلاہٹ اور اشتعال کنٹرول کرنا اور ہر مشکل کو پیچھے چھوڑ کر چلتے چلے جانا بہت آسان ہے اور راستہ طویل بھی ہو تو مستقل مزاجی انسان کو منزل مقصود تک خود پہنچا دیتی ہے۔ انَّ مع العسری یسریٰ

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.