باب الاسلام بلوچستان، تاریخی تجزیہ اور آج کی ضروریات - عبدالمتین اخونزادہ

رمضان المبارک، رحمتوں کے نزول کا مہینہ ہے اس کا ہر لمحہ پاکیزہ اور ہر گھڑی بابرکت ہے۔ انسانی زندگی رحمت خداوندی کی نشانی ہیں اور آزمائش و امتحان کے مراحل نعمت خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ اسلامی تاریخ میں ماہ رمضان المبارک میں وحی کا نزول، غزوہ بدر، فتح مکہ اور خود پاکستان کا قیام 27 رمضان المبارک کو ہوا البتہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں 10 رمضان المبارک کو سندھ میں مسلم جرنیل محمد بن قاسم کی آمد کے حوالے سے باب اسلام کا دن منایا جاتا ہے حالانکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ محمد بن قاسم سے بہت پہلے بلوچستان کے علاقے مکران کو حضرت عمرؓ خلیفہ دوئم (۶۳۴ء تا ۶۴۴ء) کے دور خلافت میں عمرو بن تغلی نے فتح کیا تھا اور قدیم بلوچستان کا بقایا حصہ توران، سطح مرتفع قلات بدستور ہندوسیوا زوراک کے قبضے میں تھا۔

جب حضرت علیؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اپنی طرف سے ذغہ بن ذغہ کو مکران کا والی بنا کر بیچا۔ انہوں نے مکران پہنچ کر فوراً توران پر حملہ کی تیاریاں شروع کردیں اور توران کے دارالخلافہ کیسکان پر حملہ آور ہوا۔ سیوا زوراک مقابلے کی تاب نہ لا کر سندھ کی طرف بھاگ گیا۔ ذغہ بن ذغہ نے توران کے دارالخلافہ کیسکان (موجودہ قلات) کو فتح کیا۔

محمد بن قاسم ۷۱۱ء میں سندھ پر حملہ کرنے کی غرض سے مکران پہنچا تو والی مکران محمد بن ہارون نے ان کا استقبال کیا۔ اس دور میں اکراء بلوچ کے قبائلی تنظیم کے ’’اکراء بلوچ پنجگانہ‘‘ کے کونسل کے ممبران اُمرائے بلوچ تھے۔ والی مکران و توران محمد بن ہارون کی فوج کا بیشتر حصہ اکراء بلوچ پر مشتمل تھا۔ چنانچہ کورد گال نامک اس جنگ کی وضاحت کرتے ہوئے یوں تفصیل بیان کرتا ہے کہ تورانی ملیشیا کا سپہ سالار امیر اسد براخوئی تھا اور مکران ملیشیا کا سپہ سالار امیر بشر اور گانی تھا بلوچ کونسل کے تین امراء اور ۱۱۶ میں سے ستر قبائل نے اپنے امراء کے ماتحت والی محمد بن ہارون کی قیادت میں سندھ کی فتح کی لڑائیوں میں حصہ لیا جس کی تفصیل اور نام کورد گالی نامک کے حوالے سے موجود ہیں۔ سفر کے دوران محمد بن ہارون، والی مکران کا ارمن بیلہ (لسبیلہ) کے مقام پر انتقال ہوا تو ان کی بیلہ میں ہی تدفین کے بعد ان کی فوج محمد بن قاسم کی قیادت میں سندھ کے سارے مہمات میں لڑتی رہی۔ یوں سندھ سے قبل پون صدی یعنی ۷۵ سال پہلے مکران فتح ہوا تھا۔ تاریخی لحاظ سے مکران باب السلام ہے نہ کہ سندھ۔ یہ تاریخی تفصیلات، مستونگ محلہ ذرخیلان سے جناب احمد جان صاحب نے ارسال فرمائی تھی اس گلے و شکوے کے ساتھ

آشنارا حال ایں است وائے بر بیگانہ

کہ ہمارے ملک کے لکھاریوں کا یہ حال ہے تو دوسروں سے کیا گلہ؟ جناب حمد جان نے اس مراسلے کے ساتھ تاریخی تصنیف ’’تاریخ بلوچ و بلوچستان‘‘ جلد سوئم تالیف از میر نصیر خان احمد زئی کے متعلقہ صفحات اور نادر تصاویر بھی ارسال فرمائے ہیں۔

مکران تاریخی طور پر گزرگاہ اور گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے اور آج گوادر کے نام سے اس کی شہرت و چرچے ہیں حالانکہ صوبہ بلوچستان، مکران و توران/قلات کے ساتھ برٹش بلوچستان، سبی اور ریاست قندھار کے پشتون علاقوں پر مشتمل ہیں۔ پشتون علاقے بشمول کوئٹہ آج بھی اپنی جداگانہ حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ بلوچ و براہوی علاقے تاریخ کے جبر سے گزر کر آج ایک نئے دوراہے پر کھڑے ہیں۔

آج بلوچستان کے بے لاگ تجزیے کی ضرورت ہے، بدلتے ہوئے حالات اور CPEC و معاشی تبدیلیوں کے باعث ثقافت و کلچر اور تہذیب و اطوار اور زبانیں، سب کو خطرات درپیش ہیں۔ ہمارے سیاستدان و دانشوروں کو فکری و تہذیبی دائروں کے ساتھ معاشی سرگرمیوں اور ذہنی ارتقاء بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرنا چاہیے ورنہ تاریخ کے صفحات میں ان کا کمزور کردار ناقابل معافی جرم رہے گا۔ ماضی قریب و بعید کا کمزور کردار آج تاریخی المیوں کے طور پر یاد کیا جاتا ہیں۔ باب اسلام مکران، گوادر ہو یا تاریخی طور پر ریاست قلات و خاران یا لسبیلہ ہو، کوئٹہ کا تاریخی کردار ہو یا سبی و لورالائی کی معاشی و ثقافتی نشوونما، آج حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ کل جو علاقے ریاست کے طور پر جانے جاتے تھے آج کمزور انتظامی سیٹ اپ کے ساتھ، غربت، ناخواندگی اور انتشار و افراتفری کے نذر ہیں۔ افغانستان و ایران کے پہلو میں رہتے ہوئے یہ علاقے تقسیم برصغیر سے پہلے اور انگریزوں کے مکاریوں و سازشی چال بازیوں سے قبل پُر امن، خوشحال، وقت اور حالات کے مطابق، تہذیب یافتہ و خواندہ تھے۔ قبائلی نظام کا ایک بڑا مسئلہ جمود اور تبدیلی کو قبول نہ کرنا ہے۔ پشتون و بلوچ قبائلیت بھی ارتقاء کی طرف مناسب پیش رفت نہ کرسکی اور یوں غلامی، افراتفری، ناخواندگی، جمود اور حالات کی جبر کے تحت ناروا و ناقابل بیان انتظامی تقسیم میں جکڑ دی گئی اور یہی انگریز استعمار کی اصل ہوشیاروں و کمال تھا کہ قوموں کو تقسیم در تقسیم کرکے ظالمانہ و غیر فطری حکمرانی کو طول دیا جائے۔ ۲۱ویں صدی، جسے جمہوریت اور آزادیوں کا دور کہا جاتا ہے پاکستانی معاشرے کے لیے خوشحالی اور ترقی کی نوید بننے کے بجائے جبر و فساد کا دورِ تاریک بن کر رہ گیا ہے۔ فرقہ واریت، غربت، انتظامی مشکلات اور بدامنی نے ہمارے معاشرتی روایات کو پامال کرکے گھٹن و تشدد کا ماحول پروان چڑھایا وہیں بلوچ و براہوی معاشرہ، زیادہ تباہ حالی کی طرف گامزن ہیں۔ فرقہ واریت نے براہوی نوجوانوں کو قتل و غارت کا خوگر بنایا۔ ایران و افغانستان کے ساتھ تاریخی و تہذیبی رشتے اب متنازع بنا دیے گئے ہیں۔

پُر امن و خوشحال بلوچستان کے از سر نو تشکیل کے لیے انتظامی تقسیم ضروری ہیں نصف پاکستان یعنی 47 فیصد رقبے والی طویل و حسین جغرافیہ رکھنا والا صوبہ اگر تین چار حصوں میں تقسیم ہو اور انسانوں کو راحت، علم، ترقی و ہنر میسر ہوں تو اس میں کیا قباحت ہیں۔ حکومت بلوچستان نے حال ہی سرحدی اضلاع چاغی، نوشکی، خاران اور واشک پر مشتمل ’’رخشان ڈویژن‘‘ قائم کرکے احسن قدم اُٹھایا ہے۔ رخشان ایران میں بھی طویل سرحدی علاقہ ہیں خاران کو مرکز بناتے ہوئے چاغی کے سونے کے پہاڑوں و معدنیات کی آباد کاری کے ساتھ سفارت کاری اور علاقائی ترقی کے لیے بھی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں بلوچی بولنے والے رخشانی بلوچوں اور براہویوں کو زمانہ جدید کے ضروریات و تقاضوں کے پیش نظر بہت سارے اقدامات کرنے ہوں گے سینیٹ کے چیئرمین جناب میر صادق خان سنجرانی کا تعلق بھی اس مردم خیز و معدن خیز قیمتی علاقے سے ہیں۔ CPEC کے شور میں دو تاریخی ممالک ترکی و ایران کے ساتھ پُرانے رشتے و آر سی ڈی معاہدہ نہیں بھولنا چاہیے۔ چیئرمین سینیٹ صادق خان سنجرانی کو اپنے علاقے کے لیے ماسٹر پلان تربیت دینا چاہیے۔ خضدار، جسے مکران و لسبیلہ کی طرح، صحابہ کرامؓ رضوان اللہ اجمعین کی شرف باریابی حاصل ہیں مستقل قریب میں اہم نوعیت کا ترقیاتی شہر ثابت ہوگا۔ اس کے اسلامی شناخت اور تیز رفتار ہنر و سکلز کے لیے فکرمند و حوصلہ مند لیڈر شپ کی ضرورت ہیں یہی ضرورت بلوچوں کے تاریخی شہر قلات کی ہے۔

قصہ مختصربدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر ہمیں اپنے قابل فخر ماضی، تاریخی و تہذیبی روایات، ثقافت و کلچر کے حسین اقدامات اور علم و دانش کے ذخیروں کی ناقدری کے بجائے انہیں آج کی زبان و انداز و اطوار میں پیش کرنے کی صلاحیت و جدت پیدا کرنی چاہیے۔ اب دنیا کے قوموں کا رُخ غریب / سرمایہ بلوچوں کی گدانوں کی طرف ہیں۔ افغانوں نے سرخ سویرے کا مقابلہ خون و آگ کے دریا سے کیا اور تاریخی طور پر فتح مند و سرخرو رہے مگر قبائل غرور، محدود مذہبی تصورات اور ناخواندگی و جہالت نے فتح مندی کو آپس کی رنجش و نہ ختم ہونے والے خانہ جنگی کا ذریعہ بنایا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پشتون قوم بحیثیت مجموعی پچھلے چالیس، پچاس سال کے جھگڑوں اور سو سالہ نظریاتی کشمکش سے باہر نکل آئے اور بدلتے ہوئے دنیا حالات کے مطابق، امن، علم ہنر و Skill اور تہذیب و ترقی کی طرف سفر کا آغاز کرے۔ یہی امتحان بلوچ معاشرے کا ہے جو بحیثیت مجموعی پچھلے نصف صدی اور خاص کر گزشتہ پندرہ سالوں میں آمریت و جبر کی کالی گھٹاؤں سے پھیلے انتشار و افراتفری کے دہانے پر ہیں۔ کیا بلوچ زعماء، دانشور و علماء کرام اور سیاسی قیادت و آزاد خیال طبقہ، اس جوہری تبدیلی اور مزاج و ترجیحات کی تبدیلی کے لیے تیار ہیں؟ یہی سوال اور اس کے ممکنہ جوابات تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہونا ہیں پاکستان میں جھگڑا، بلوچ، پشتون اور پنجابی و سندھی کا نہیں بلکہ علم و فہم اور جبر و جہالت کا ہے۔ آزاد انسانوں کی حسین دنیا شاید ہماری غلام قیادتوں اور انگریزوں کی تربیت سول و ملٹری بیوروکریسی کے ذہنوں میں نہ سما پاتی اور بدامنی، غربت، ہنر مندی و مستعدیت سے دوری کے ساتھ جاگیردارانہ و قبائلی ذہنیت نے ہمیں غلام ابن غلام ابن غلام معاشرہ بنا دیا۔ تبدیلی اور مثبت احساسات ہی قوموں کی زندگی کا ڈھانچہ تبدیل کرتے ہیں، ہمیں وسعت نظر اور پاک دامنی کی طرف پلٹنا ہوگا، یہی ہماری نجات اور بقاء کا راستہ ہے۔