جمہوریت کا تسلسل جاری رہنا چاہیے - یاسر محمود آرائیں

انسانی تاریخ کے روز اول سے کسی نظام حکومت کی ضرورت ہمیشہ موجود رہی ہے۔ دور قدیم کے انسان بھی اپنے مذہبی، معاشی اور سماجی تحفظ کے لیے کسی اتھارٹی کے قیام کی خواہش رکھتے تھے۔ اسی لیے چند خاندان مل کر قبیلہ بناتے اور پھر کوئی طاقتور شخص اس کی سرداری پر قابض ہو جاتا۔ زمانے نے کچھ ارتقائی مراحل طے کیے تو مختلف قبائل کے اشتراک سے ریاستیں وجود میں آئیں اور ان کا نظام و انصرام سنبھالنے والے بادشاہ کہلانے لگے۔ خرابی یہ تھی کہ بادشاہت وراثت یا پھر طاقت کی بنیاد پر ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہوتی رہی اور اس میں عوام کی منشا کا کبھی کوئی دخل نہیں رہا۔ اسی باعث بادشاہت کے دور کو تاریخ انسانی کا تاریک ترین دور کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں ایک طرف تو عوام خود بادشاہت کے استحصال کا شکار رہے اور دوسری جانب انہی بادشاہوں کو اقتدار دلوانے کے لیے ہونے والی جنگوں میں بھی عوام کا ہی قتل عام ہوتا رہا۔

اس بد ترین صورتحال سے نکلنے کے لیے ہر دور میں تدبر و فکر ہوتی رہی۔ بالآخر صدیوں کے تلخ تجربات کے بعد انسان کو ایک نظام حکومت ڈھونڈنے میں کامیابی حاصل ہوئی جسے جمہوریت کا نام دیا گیا۔ جمہوری نظام کی بنیاد عوامی بالادستی پر استوار ہے۔ یعنی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جسے چاہیں اپنے اوپر حکمرانی کا حق سونپ سکتے ہیں اور اس نظام میں انتخابات کی صورت میں عوام کے پاس اپنے حکمران کے مواخذے کا اختیار بھی حاصل ہے جو اس سے قبل کبھی حاصل نہ تھا۔ اس نظام میں عوام کو اپنی ریاست سے بنیادی حقوق کی ضمانت میسر ہے، جس کے باعث انہیں اپنا مستقبل محفوظ نظر آتا ہے لہذا وہ مطمئن رہتے ہوئے یکسوئی کے ساتھ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ فی الوقت دنیا میں جو قومیں جمہوری نظام کو مکمل طور پر اپنا چکی آج وہ ترقی کی معراج پر ہیں اور تیسری دنیا کے جو ممالک اب تک اس نظام کی بابت گو مگو کا شکار ہیں وہاں ابتری اور انارکی واضح ہے۔

وطن عزیز میں کہنے کو تو جمہوری نظام ہی رائج ہے مگر، جمہوریت کا وجود کبھی بھی صحت مند نہیں رہا، اسے اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے بندوق بردار کندھوں اور عدلیہ کی بیساکھیوں کی ضرورت اکثر رہی۔ ہمارے ہاں سول ملٹری تعلقات میں موجود تلخی کو جمہوریت کی ناتوانی کی وجہ سمجھا جاتا ہے اور جمہوری عدم تسلسل کے باعث ہی آج ہم تمام شعبہ ہائے زندگی میں دنیا سے کمزور ہیں۔ موجودہ حکومت بھی اپنے پورے دور میں بستر مرگ پر ہی پڑی نظر آتی رہی۔ جمہوریت کے تمام نبض شناس متعدد مواقع پر اس کی زندگی سے بالکل مایوس ہوچکے تھے اور کئی بار پیشنگوئیاں سننے میں آتی رہیں کہ کسی بھی وقت جمہوریت کی بساط لپٹ سکتی ہے۔ یہ الزام دیا جاتا ہے کہ جمہوریت کو بستر مرگ پر پہنچانے میں اکثر اس کے نام لیواؤں کا ہاتھ رہا۔

مسلم لیگ ن پر یہ الزام سب سے زیادہ لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ بم کو لات مارنے کی کوشش میں رہتی ہے۔ یاد رہے کہ لیگی قیادت دو بار قبل از وقت اقتدار کے ایوانوں سے نکل چکی تھی اور ایک طویل عرصے کے لیے اس کی قیادت کو جلاوطنی کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پچھلے تمام نا خوشگوار تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار یہ توقع کی جا رہی تھی کہ شاید مسلم لیگ دوبارہ ان غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرے گی اور اپنا دور اقتدار سکون سے گزارنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد لیکن مسلم لیگ کی قیادت نے چند اقدام ایسے اٹھائے جس کے رد عمل میں جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے اترنے کے خدشات دوبارہ پیدا ہو گئے۔ ان اقدامات سے حکومت کو باز رکھنے کے لیے جب پردہ غیب سے حکومت پر دباؤ بڑھا تو جمہوریت کے غیر یقینی مستقبل سے اپنے سنہری مستقبل کی امید ڈھونڈنے والے افراد بہت خوش ہوئے۔ ان دنوں بعض دانشور اپنے آرٹیکلز اور ٹاک شوز کے ذریعے ہر روز کسی انہونی کی خبر سناتے تھے۔ گایے مارشل لاء کی خبریں آئیں تو گاہے تین سال کے لیے کسی ٹیکنو کریٹ حکومت کی خبریں سننے کو ملیں۔ ایک موقع پر چند ٹیکنو کریٹس نے یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی کہ پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی نظام میں پوشیدہ ہے اور اسی پر بس نہ کیا بلکہ یہ نوید سنائی کہ عنقریب ملک میں صدارتی نظام نافذ کر دیا جائے گا۔

جب احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے نام پر سیاستدانوں کے خلاف ڈنڈا اٹھا تو ایسی تمام اسٹوریز میں تیزی آ گئی اور کہا جانے لگا کہ پہلے بڑے مگر مچھ پکڑے جائیں گے اس کے بعد تین سال کے لیے قومی حکومت بنے گی جو جمہوریت کے نام پر ملک میں ستر سال سے پھیلا گند ختم کرے گی۔ پھر اقامے کی بنیاد پر جب میاں نواز شریف نا اہل ہوئے تو کچھ حضرات نے ایسا ڈھنڈورا پیٹا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ کہا گیا جمہوریت ہمارے ہاں اشرافیہ کے مفادات کی نگہبانی کا نام ہے اور یہی گنتی کے چند خاندان جمہوریت کا نام استعمال کر کے طاقت حاصل کرتے ہیں اور پھر عوام کا خون چوس کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ اب لیکن بے لاگ احتساب کا آغاز ہو گیا ہے اور ایسے تمام کرپٹ سیاستدانوں سے حساب لیا جائے گا اور کچھ عرصے کے لیے یہ تمام نام نہاد جمہوری بندوبست لپیٹ دیا جائے گا۔

آج مگر الحمداللہ وطن عزیز میں جمہوریت اپنا دوسرا دور کامیابی سے مکمل کر چکی ہے۔ اس کہ باوجود کہ موجودہ داخلی اور عالمی حالات کسی بھی غیر جمہوری صورتحال کو سپورٹ نہیں کرتے، یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ فیصلہ ساز قوت رکھنے والے اذہان بھی جمہوریت کی اہمیت جان چکے ہیں اور وہ کسی ماورائے آئین اقدام پر اب یقین نہیں رکھتے۔ غیر جانبداری اور تعصب سے ماورا ہو کر حقائق کا جائزہ لینے سے بخوبی نظر آئے گا کہ تمام تر رخنہ اندازیوں کے باوجود مسلم لیگ کی جمہوری حکومت پہلے سے کہیں بہتر پاکستان چھوڑ کر جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور اور اس سے قبل مشرف دور سے اگر موازنہ کیا جائے تو امن و امان، توانائی، انفرا اسٹرکچر اور ملکی معاشی تصویر زمین آسمان کا فرق دکھائے گی۔ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ملک سے بد امنی کا خاتمہ ہے مگر کچھ لوگ اس کا کریڈٹ سکیورٹی فورسز تک محدود سمجھتے ہیں۔ بلا شبہ فورسز کی قربانیوں کے بغیر یہ امر کار محال تھا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں جمہوری حکومت نہ ہوتی اور فوج کار مملکت میں الجھی رہتی تو یہ معاملہ سلجھا سکتی تھی؟

ٹیگز

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */