تکمیلِ ذات - محسن رضا

"آہ! افسوس اُن تمام لوگوں کے لیے جو گا نہ سکے مگر اپنی موسیقی کو اپنے ساتھ ہی لے کر مر گئے۔" (اولیور وینڈل ہومز)

ٹاڈ ہینری اپنی شہرہ آفاق تصنیف ڈائی اپمٹی (خالی مرئیے) میں لکھتا ہے کہ میری پہلی کتاب 'ایکسیڈینٹل کرئیٹو' (حادثاتی تخلیق کار) کی تقریبِ رونمائی کی ایک ملاقات میں میرے ایک دوست نے بڑا عجیب اور غیر متوقع سوال کیا کہ اس دنیا کی سب قیمتی جگہ کون سی ہے؟ جوابات کچھ اس طرح تھے، مین ہٹن، مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے وسیع ذخائر، جنوبی افریقہ کی سونیں کی کانیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس نے حیرت انگیز طور پر جواب دیا کہ ہم سب راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ وہ مزید ایک ثانیے کو رُکا اور بولا 'آپ سب غلط ہیں۔' دُنیا کی سب سے قیمتی جگہ قبرستان ہے، جہاں دفن ہیں اَن لکھے ناول، کبھی نہ کھولے گئے کاروبار، دوبارہ سے استوار نہ کیے جانے والے تعلقات اور وہ تمام خیالات جن کے بارے میں لوگوں نے تصور کیا تھا کہ ہم اس کام کو کل سر انجام دیں گے مگر افسوس اُن کا کل نہیں آیا۔

مُجھے اسی سے گُل نو خیز اختر صاجب کی وہ بات یاد آگئی جو انہوں نے پچھلے دنوں میں 'مظہر کلیم مرحوم' کے بارے میں ایک کالم بنام 'ایکسٹو مرگیا' کے اختتام میں کہی کہ مُجھے اُن کے گزرنے کا اس لیے بھی زیادہ دُکھ نہیں ہوا کہ وہ اپنے زندہ رہنے کا پورا بندوبست کر گئے ہیں کہ تین نسلوں کو انہوں نے ایسی شاندار کہانیاں دی ہیں کہ آپ کسی سے بھی ان کے کسی بھی ان کے ناول کی پوری کہانی سن لیں۔

اس خطے میں مہیب افتاد یہ ہے کہ 'کون کیا ہے؟' کا پبلشر لاکھوں کما لیتا ہے مگر اپاہج تعلیمی نظام اپنے ہونہار سپوتوں کو 'میں کون ہوں؟' کی دقیق سرگزشت میں حاشاوکلا نہیں ڈالتا اور ان کو چاہتے ہوئے بھی اس تلاش بسیار سے قطعی طور پر لاتعلق رکھا جاتا ہے کہ اصل میں ان کے اپنے خواب کیا ہیں اور اگر ان میں سے کوئی اپنے اندر سے ہونے والی اس دستک کو سن بھی لیتا ہے تو بھی کوئی بہت اچنبھے کے بات نہیں کیونکہ ایسی صورت میں بھی ان پر والدین تمام سوچ وبچار کے بعد وہی فیصلہ صادر کریں گے کہ جس کا رجحان زیادہ ہے۔

تمام تعلیمی ادارے اپنے طلباء کو ایسی دوڑ کا حصہ بنانے میں مصر ہیں کہ جس میں گدھے گھوڑے سب برابر ہیں مگر ایک ثانیے کو سوچیے کہ جو اس دوڑ میں پیچھے رہ جائیں ان کا کیا؟ اور اولین رہنے والوں کا بھی کیا قصور کہ اُن پر طب اور انجینئرنگ وارد کردی جائے؟ بھلے وہ ڈھنڈورا پیٹتے رہیں کہ میں نے آرٹس گروپ کا انتخاب کرنا ہے مگر ان کی اس حرکت کو طفلانہ سمجھ کر صریحاً نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ میاں! اچھے نمبر لے کر لونڈا آرٹس گروپ کو تو ہرگز نہ چُنے کہ ایسے میں کوئی ڈھنگ کی نوکری ملنا ناگزیر ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:   منزل کا پتا ہونا ضروری ہے یا راستوں کا؟ - منزہ سحر

اب آپ خود ہی سوچیے کہ ایسے تعلیمی نظام کے نتیجے میں جو کہ صرف اور صرف نوکری کے حصول کے لیے بنا یا گیا ہو تو ایسے میں وہاں نوکر ہی پیدا ہوں گے لیڈر نہیں۔ اسی کتاب میں 'ڈائی ایمپٹی' (خالی مرئیے) میں لکھا ہے کہ آپ کے اندر جو بھی تخلیق کاری کی صلاحیتیں، جذبات اور تجربات موجود ہیں، اُن سے اس دُنیا کو روشناس کروائیں تاکہ آپ جب آپ مرنے لگیں تو آپ بالکل خالی مریں۔ اپنے آپ کو خالی کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ اپنے ہر ایک دن کی فہرست سازی کریں اور اس کے مطابق کام کریں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی پوری زندگی میں دشوار مگر مستحکم پیش رفت کریں۔ جیسے کہ ایپل کمپنی کا شریک بانی اور سی ای او سٹیو جابز اپنی ایک تقریر کے آغاز میں جس میں وہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے طلبا کی کلاس 2005ء سے خطاب کر رہا تھا۔ اپنے سامعین سے ایک سوال کرتا ہے کہ' آپ دن کا کتنا حصہ ایسا صرف کرتے ہیں کہ جس پر آپ بعد میں فخر محسوس کر سکیں؟' ہال میں گہری خاموشی چھا گئی۔ وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ 'میں ہر روز شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر خود سے سوال کرتا ہوں کہ اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہوا تو کیا جو میں کرنا چاہتا ہوں وہ میں آج کے دن میں کر پاؤں گا؟' تو مسلسل جواب نفی کی صورت میں آنے پر میں سمجھ جاتا ہوں کہ مجھے تبدیلی کی ضرورت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس بات کو ذہن میں رکھنا کہ میں کل مرجاؤں گا ایک ایسا اوزار ہے کہ جس کی بدولت میں نے اپنی زندگی میں بہت سی کامیابیاں سمیٹیں۔

ٹاڈ ہینری اپنی اسی کتاب میں اسی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر آپ کو اس بات کا قوی یقین ہو جائے کہ آپ کے پاس دنیا کو دینے کے لیے کچھ ایسا ہے کہ جو صرف آپ ہی اس دُنیا کو دے سکتے ہیں اور کوئی دوسرا یہ کام ہرگز آپ کے لیے نہیں کر سکتا اور نہ ہی کبھی کرے گا۔ وہ مزید کہتا ہے کہ آپ کو اپنی زندگی کی حقیقی کامیابی کو پانے کے لیے بے جا آرام وسکون سے بچنا ہے کیونکہ یہ آپ کی ترقی کا دشمن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   منزل کا پتا ہونا ضروری ہے یا راستوں کا؟ - منزہ سحر

الکیمسٹ کا لکھاری پاؤلو کوہلو کہتا کے آپ اپنے دل کی سُنیں کیونکہ یہ آپ کو وہ منفرد راستہ دکھاتا ہےجو کہ انفرادی تقدیر کی قیادت کرتا ہے اور یقین مانیے جب آپ یہ راستہ چن لیں گے تو زندگی آپ کو پُرجوش رکھے گی، اس عظیم امر کے لیے جو آپ کرنے جا رہے ہیں اور جبھی آپ کسی چیز کی جستجو میں لگ جاتے ہیں تو پوری کائنات اس چیز کو آپ سے ملوانے کے لیے سازش کرتی ہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ اس حقیقت سے درکنار کہ کوئی کیا کام کرتا ہے مگر ہرکوئی اس کائنات کی تقدیر میں مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ دُنیا کی تسخیر کا ہر راستہ خودی سے ہی ہو کر جاتا ہے اور یہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر چل کر انسان دُنیا و آخرت کے اسرار و رموز کو جان لیتا ہے۔ اقبال کا فلسفۂ خودی بھی اسی کے گرد گھومتا ہے۔

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات

خودی کیا ہے بیدارئ کائنات

اور

خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے

فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے

اور یہ خُودی یقیناً آپ کو وہی راستہ دکھلائے گے جو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے نا کہ مجازی کامیابی کی طرف جو کہ دوسروں کی طرف سے شعوری طور پر یا خود آپ سے غیر شعوری طور پر آپ کی اپنی ذات ہر مُسلّط کیے گئے راستےمیں ہوتی ہے۔

چنانچہ آپ خود کو جانیے، دل کی سُنیے اور وہی راستہ اپنائیے جو آپ کا دل آپ سے کہے، چاہے وہ کتنا ہی کٹھن اور دُشوار گزار کیوں نہ ہو۔ اپنی زندگی کو منظم بنائیےاور کوشش کیجیے کہ ایسے لوگوں سے گھرے رہیں کہ جو آپ سے زیادہ مستعد ہیں، ان سے سیکھیے اور آرام و سکون کی بے جا لَت سے قطعی طور پر دور رہیے کیونکہ یہ ہمیشہ ہی آپ کی کامیابی کی دشمن ہوتی ہے، پُر اعتماد طریقے سے سمجھوتہ کیجیے، ڈٹے رہیے، آگے بڑھیے اور مجازی کامیابی کی بجائے حقیقی کامیابی کو پائیے۔