تب امید کی کرن نہیں پورا سورج ابھرے گا - عامر اشفاق

کسی بھی قوم کی اجتماعی ترقی دیکھنی ہو تو ان کی ترجیحات پر نظر دوڑائیں۔ کوئی قوم شعور کی منازل تب تک نہیں طے کر سکتی جب تک اس کے بچے بچے کے ذہن میں تعلیم کی اہمیت، شخصی آزادی اور دل میں فرد کی عزت نہیں ہوگی۔ ابھی کچھ روز پہلے تیراکی کے حوالے سے ایک وڈیو دیکھتے ہوئے اس پر آنے والے کمنٹس پڑھے، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ یہ وڈیو ہماری ذہنی پسماندگی کا استعارہ تھی۔ ایک شخص سکھا رہا ہے کہ پانی میں کیسے تیرتے ہیں جبکہ نیچے برصغیر کے لوگوں کے تبصرے کچھ یوں تھے "کیا بیکار وڈیو ہے، یہ تو بچے بچے کو پتہ ہے، کچھ نیا سکھاؤ"، "ایویں پانچ منٹ ضائع کرا دیے" یا پھر مثبت تبصرے بھی "نائس" اور "اچھی وڈیو" تک محدود جبکہ ترقی یافتہ ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے جواب ایک تو حوصلہ افزاء تھے پھر ان کی شعوری سطح کو بھی بیان کر رہے تھے جیسا کہ "آپ نے تیراکی پر بہت اچھی وڈیو بنائی ہے لیکن تیراکی کے پیجھے کیا سائنس ہے، اسے بھی سمجھانا چاہیے تھا۔"

یہ آخری تبصرہ کئی افراد نے اپنے الفاظ میں کیا لیکن یہ سب برصغیر سے باہر کے تھے۔ یہ ہماری شعوری سطح کے لیے ایک طمانچہ ہے کہ وہ کفار ہیں، جنہوں نے ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا کیں، کھیل کود میں بھی سیکھنے کی فکر میں ہیں اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ بشمول میرے اپنے ملک کے لیے کیا کیا ہے؟ ہم بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ اس ملک نے ہمیں کیا دیا؟ کبھی بیٹھ کر سوچا ہے کہ ہم نے کیا دیا جو اس ملک سے ایسے حق مانگتے ہیں؟ سائنس کے نام پر ہمیں نیوٹن اور آئن سٹائن کے نام علاہ کچھ پتا ہی نہیں ہے ایجادات کرنی تو بہت دور کی بات ہے۔ جو ایجادات ان کافروں نے کی ہیں وہی ہمیں استعمال تک کرنا نہیں آتیں۔ یونیورسٹی، کالج کتاب پڑھنے سے زیادہ نصاب پر ہزاروں اعتراض اٹھا دیتے ہیں کبھی یہ تو نہیں کیا کہ وہی سلیبس تھوڑا سا پڑھ لیں۔ اساتذہ پڑھانے سے زیادہ وقت ضائع کرنے کے زیادہ شوقین ہیں، "کوانٹم مکینکس" کا نام سن کر طلباء ہی نہیں اساتذہ کی ٹانگیں بھی جواب دینے لگتی ہیں اور ادھر کسی نے نواز شریف کا نام بھی لکھ دیا نیچے ہماری قوم کے نوجوان عمران خان، فضل الرحمٰن، آصف زرداری، شہباز شریف ان کی بیویوں سے لے کر اولادوں تک، نوکروں سے لے کر گاڑیوں تک کی تفصیل کمنٹس میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی قابل فخر بات ہے؟ اگر کوئی عمران خان کے حوالے سے سیتا وائٹ پر تنقید کرنا لازم سمجھتا ہے تو سامنے والے شہباز کے دس "خفیہ" رشتے سامنے لے کر آجائیں گے۔

ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم نے ان قومی گدھوں کے تمام مسائل کو اپنے سر پر لاد لیا ہے اور جو ہمارے مسائل ہیں وہ اللہ پر چھوڑ دیے ہیں۔ یقین مانیں خدا ان سب مسائل سے بے نیاز ہے، وہ آپ سے کبھی حساب نہیں لے گا کہ سیاست دانوں کے ناجائز تعلقات کو آپ نے کیوں نہیں روکا، ہاں وہ یہ ضرور پوچھے گا کہ آپ نے شہباز کے دفاع میں عمران پر اور عمران کے دفاع میں نواز پر اور نواز کے دفاع میں فضل الرحمٰن اور فضل الرحمٰن کے دفاع میں آصف زرداری پر اتنے سارے بہتان کیوں باندھے؟ جیسی قوم ویسے لیڈر سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر برے لیڈر مسلط کر دیے ہیں بلکہ اس سے مراد یہی ہے کہ بری قوم اپنے لیے برے لیڈر ہی چننا پسند کرتی ہے۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ جن گھٹیا کاموں کی لت انہیں لگ چکی ہے، کوئی اچھا راہنما منتخب ہو اور وہ ان سے چھوٹ جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اخلاقی زوال اور اس کا تدارک - علی اعظمی

میں یہ کہوں گا کہ آپ بہت بڑے دانشور ہیں لیکن آپ کو بتا دوں کہ آپ دن میں دس کالم لکھ کر کسی فرد کو آپ اپنی طرف مائل کریں گے، وہیں ایک دو ایسے کالم وہ سوشل میڈیا پر پڑھے گا جو اسے آپ کی طرف سے منحرف اور دوسری طرف مائل کر دیں گے۔ مجھے آپ کے قلم پر شک نہیں ہے لیکن اپنی قوم کی یادداشت پر اعتبار نہیں۔ جذبات سے بھری لیکن دلیل سے عاری!

قوم کی اجتماعی مثال اس واقعے سے دی جا سکتی ہے کہ جب ایک قاتل سے جج نے پوچھا کہ تم نے مصنف کو کیوں مارا؟ تو قاتل کا جواب تھا کہ اس نے کتاب میں گستاخی کی ہے جج نے پوچھا کہ کیا گستاخی کی؟ قاتل کا جواب کہ میں نے نہیں پڑھا، میں ان پڑھ ہوں۔

میری قوم کے ذہن کی دو سطحیں ہیں، ایک طرف جہاں یہ بالکل کورے کاغذ کی طرح ہیں، وہیں دوسری قسم کا ذہن بوسیدہ کاغذ کی طرح ہے لیکن ان کے خیالات ان مٹ ہیں، صحیح صرف وہ ہیں، باقی سب غلط ہیں۔ یہی ہمارے شعور کا المیہ ہے، یہی نوحہ ہے ہمارے شعور کا۔ ہماری قوم کی مثال بچپن میں لکھی گئی سلیٹ کی طرح ہے کوئی آتا ہے آکر ہمارے ذہن میں اپنی دلیل بھر جاتا ہے دوسرا آتا ہے، وہ تھوک لگا کر پہلی دلیل پر ہاتھ پھیر دیتا ہے وہاں اپنے خیالات ڈال کر چلا جاتا ہے اور ہم اتنا شعور نہیں رکھتے کہ خود کو ان کے ہاتھوں استعمال ہونے سے روک سکیں۔ ہماری قوم شعوری طور پر بہت پیچھے رہ چکی ہے دوسری قوموں کے نظم و ضبط دیکھ کر رونا آجاتا ہے۔

جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایٹمی جنگ سے تباہ حال معاشرے نے کس طرح سے دنیا میں اپنا لوہا منوایا، وہ شعور سے ہی ممکن ہو پایا۔ دور کیوں جائیں بھارت اور چین کی مثال لے لیتے ہیں، آج چین ٹیکنالوجی میں پچاس اور انڈیا ہم سے بیس سال آگے ہے۔ ایک ساتھ آزاد ہونے والی ریاست میں شعور کی یہ سطح اور ہماری قوم کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم؟ پانی ختم ہوگیا ہے کہتے ہیں سمندر کا پانی صاف کریں گے۔ ظالمو! ہمارے حکمران اتنے ہی اعلیٰ ذہن کے کام کرنے والے ہوتے تو آج کیا ہمارا پانی ختم ہوجاتا؟ غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ ہماری قوم کے پاس لکھنے کے لیے صرف دو مشاغل ہیں نثر میں سیاست اور شاعری میں محبت۔ علامہ اقبال، فیض احمد فیض اور چند ایک اور کے علاوہ ہماری شاعری میں محبوب نامی مخلوق کے علاوہ بچتا ہی کیا ہے؟ سیاست میں گالی چھوڑ کر ہمارے پاس کیا دلیل بچتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   اخلاقی زوال اور اس کا تدارک - علی اعظمی

قوموں کے سال فرد کے مقابلے میں صدی کے برابر ہوتے ہیں ایک فرد جتنا اپنے آپ کو ایک سال میں تبدیل کر سکتا ہے وہی تبدیلی اگر قوم پر لاگو کی جائے تو سال کی بجائے نصف صدی لگ جائے گی۔ ہمیں انتظار کرنا ہوگا ہمیں انتظار کرنا ہوگا کہ ہمارے پرانے گدھے فوت ہوجائیں، ہمیں اجتناب برتنا ہوگا ان کی نسلوں کے اجتماع سے، ہمیں رکنا ہوگا کہ یہ ناسور خودبخود ختم ہوجائیں ہم نے ستّر سال تک آزادی کے نام پر غلامی کی زندگی جی ہے ہم مزید تیس سال رک کر صبر کی سنچری بھی کر لیں گے لیکن اس دوران ہمیں تہیہ کرنا ہوگا کہ ہماری آنے والی نسل، تہذیب و اخلاق کا پیکر ہو، ہمیں ان کی ایسی تعلیم و تربیت کرنا پڑے گی کہ ان کے ذہن میں دشمنی کا تصور ہی دوسرا دینا ہوگا۔ ہمیں انہیں باور کرانا ہوگا کہ ہمارے دشمن بھارتی، امریکن یا اسرائیلی نہیں ہیں ہمارے دشمن سنی یا شیعہ نہیں ہیں، ہمارے دشمن وہ ہیں جو مذہب کو بیچتے ہیں، ہمارے دشمن وہ ہیں جو چوریاں کرتے ہیں، ہمارے دشمن وہ ہیں جو کرپشن کرتے ہیں، ہمارے دشمن ہمارے ہمسائے نہیں ہیں ہمارے دشمن دفتروں میں فائل کے لیے خرچہ پانی مانگنے والے ہیں، ہمارے دشمن وہ ہیں جو اچھے پھل کے پیسے لے کر گلا سڑا پھل ڈالتے ہیں، ہمارے دشمن وہ ہیں جو گالی دیتے ہیں، انہیں بتانا ہوگا کہ ہمارے دشمن ہم خود ہیں۔ جس دن انہیں یہ پتا چلے گا میں آپ کو بتا دوں پھر فیس بک پر بھی ہُو کا عالم ہوگا، لائبریریوں میں لائن لگے گی، پھر ضلع میں ایک لائبریری کی بجائے دس گھر پر مشتمل گاؤں میں مسجد کے ساتھ لائبریری بھی ہوگی میں آپ کو بتا دوں تب امید کی کرن نہیں مکمل سورج طلوع ہوگا۔