طاعت کے استکبار سے معصیت کا استغفار بدرجہا افضل - خرم علی عمران

آج کل رمضان ٹرانسمیشن کے حوالے سے ایک جنرل آرگومنٹ (عمومی تبصرہ) بہت سننے کو ملتا ہے، ممکن ہے کسی درجے میں درست بھی ہو کہ یہ ٹی وی چینلز رمضان ٹرانسمیشن کے نام سے جو نشریات پیش کرتے نظر اتے ہیں وہ دین کے ساتھ کھلواڑ کرنےکے مترادف ہے، ان ٹرانسمیشنز سے رمضان کا تقدس و سکون مجروح ہورہا ہے، عبادات کا راتوں میں لہو و لعب میں لوگ ان کی وجہ سے لگے ہوئے ہیں وغیرہ… پر ان سب میں سب سے زیادہ بازگشت جس بات کی سنائی دیتی ہے وہ اداکاروں اور فنکاروں کے اعتبار سے ہے۔

کہا یہ جاتا ہے کہ سارا سال ناچ گانا، ڈرامے اور دیگر غیر شرعی کام کرنے والے اداکار اور اداکارائیں اور ان میں سے بھی وہ جن کے پاس رمضان کے دنوں میں کام کم ہوتا ہو، اسکرین پر دین پھیلاتے، نعتیں پڑھتے اور مختلف دینی ایونٹس کی میزبانی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بھانڈ اور گوئیّے قسم کے لوگ صرف پیسے بنانے کے لیے رمضان نشریات میں حصہ لیتے ہیں اور مذہبی باتوں اور کلاموں پر آنسو بہاتے نظر آنا ان کی اداکاری اور فنکاری ہوتی ہے۔ ادھر رمضان ختم، ادھر وہ اپنی پرانی اور اصل زندگی میں واپس اسی طرح کی پرانی حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں۔

مندرجہ بالا آرگومنٹ بظاہر درست لگتا ہے مگر ذرا سا غور کریں تو اس میں غرور، تہمتیں، بد گمانیوں کی بڑی مقدار ملتی ہے اور یہ تینوں چیزیں بجائے خود گناہِ کبیرہ ہیں۔ اگر فنکار رمضان شریف میں دینی پروگرام کرتے نظر آتے ہیں تو کیا ہوا، وہ مسلمان نہیں ہیں کیا؟ اور یہ تو بدگمانی ہے کہ وہ پیسے کے لیے کرتے ہیں، پیسہ لینا تو ان کی مجبوری ہے کہ ان کا پروفیشن ہی یہی ہے، کیا دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ رمضان شریف میں اپنے اپنے پیشہ وارانہ کاموں کے پیسے لینا چھوڑ دیتے ہیں؟ نہیں نا، تو پھر فنکار کیوں چھوڑیں؟ اور رہا کہ وہ سارا سال فسق و فجور میں رہتے ہیں تو بھائی سارا سال اپ بھی تو حرم شریف میں یا مسجد میں نہیں رہتے۔ میرا مطلب ہے کہ ہماری اپنی زندگی (الّا ماشاااللہ) بھی کون سی سو فیصد اسلامی اور شرعی ترتیب پر ہے؟ کیا انہی فنکاروں کی فلمیں اور ڈرامے معترضین خود شوق سے نہیں دیکھتے؟

آپ کو کیا پتہ کہ وہ مقلب القلوب کب کس کا دل پلٹ دے؟ کب کس کے دل میں ہدایت کی تڑپ جاگ جائے اور وہ توبہ کرکے اپنی زندگی کو شرعی ترتیب پر لے آئے؟ بہت سی مثالیں ہیں، نام لینے کی ضرورت نہیں۔ تو ہم کسی کے دل میں تو نہیں جھانک سکتے کہ کون کس نیت سے کیا کررہا ہے؟ اس لیے کسی کو گھٹیا اور خود کو افضل سمجھ کر دراصل ہم اپنی طاعت پر استکبار کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں، جو ہماری ساری نیکیوں کا کھا جاتا ہے اور وہ فنکار جو اندر سے شرمندہ، ڈرے سہمے، علماء سے پوچھ پوچھ کر مذہبی نشریات کررہے ہوتے ہیں وہ دراصل معصیت کے استغفار کی منزلوں سے گزر رہے ہوتے ہیں جو اللہ پاک کو بہت پسند ہے۔ لہٰذا، استکبار و تکبر سے بچیے اور لوگوں پر انگلی اٹھانے کی بجائے اپنی اصلاح کیجیے۔

رمضان ٹرانسمیشن اپنی ذات میں اچھی کوشش و کاوش ہے، بہت سی مفید معلومات لوگوں کو حاصل ہوتی ہیں اور آجکل جیساکہ ہمارے ملک میں یہ رجحان عام ہوتا جارہا ہے کہ قارئین کی تعداد کم ہو رہی ہے اور ناظرین کی تعداد بڑھ رہی ہے، یعنی کتابیں اور تحاریر پڑھنے والے گھٹ رہے ہیں اور ٹی وی دیکھنے والے بڑھ رہے ہیں تو اس بصری تعلیمی تفریح یعنی انفوٹینمنٹ کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ فائدہ تو ہو ہی رہا ہے۔ ہاں! ضرورت اس بات کی ہے کہ ان ٹرانسمیشن میں رائج اغلاط اور خرابیوں کو ماہرین اور پروفیشنل لوگوں سے مشاورت کے بعد درست کیا جائے ناکہ یہ ٹرانسمیشن ہی بند کر دی جائیں۔