آل سعود کی مجرمانہ قومی خیانت – محمد فاروق خٹک خاورئی

مملکت سعودی عرب کو دنیا بھر میں اور بالخصوص عالم اسلام میں ایک منفرد و ممتاز قائدانہ مقام حاصل ہے۔ حرمین شریفین کی وجہ سے دنیا بھر میں انہیں قدر عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مملکت سعودی عرب کے حکمران خاندان آل سعود میں شاہ فیصل مرحوم وحدت اُمت کے بڑے داعی تھے اور انہوں نے زندگی بھر اسلامی وحدت کے لیے بھر پور تگ ودو کی۔ اسلامی کانفرنس اور رابطہ عالم اسلامی جیسے عظیم ادارے اُن کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بنفس نفیس عالم اسلام کے طول و عرض کے دورے کیے حتیٰ کہ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کے مسائل میں بھی بھر پور دلچسپی لی اور ان کو حل کرنے کی کوششیں کیں۔ حالانکہ اس وقت عالم عرب براہ راست قومیت اور اشتراکیت کے عظیم فتنوں کی نہ صرف زد میں تھا بلکہ انہیں اشتراکی سوویت یونین کی سر پرستی حاصل تھی اور یہ فتنے جارحانہ پیش قدمی کررہے تھے۔ لیکن شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے بڑی حکمت و تدبر سے نہ صرف ان طوفانوں کے آگے بند باندھا بلکہ اسلامی وحدت اور اخوت کے رشتوں کو مضبوط و برقرار رکھنے کی کوششیں کیں۔

شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود مرحوم کی شہادت کے بعد عالم عرب او خصوصاً مملکت سعودی عرب میں ایک نئے فتنے نے ظہور کیا جبکہ خلیج کی جنگ کے بعد امریکہ کی حمایت سے یہ فتنہ اپنے عروج کو پہنچا۔ اور بلاد حرمین میں بھی " آسمان میں اللہ ہمارا نگہبان ہے جبکہ زمین میں امریکہ بہادر ہمارا محافظ ہے" جیسی جاہلیت کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ جس نے مملکت سعودی عرب کے غیور عوام اور شاہ سعود اور شیخ محمد ابن عبدالوہابؒ اور شیخ ابن بازؒ کے دیس کو لہو و لعب، فحاشی و بے حیائی اور بد امنی کی آماجگاہ بنا دیا۔ علماء کی توجہ علم و تحقیق اور قیادت و سیادت کے مسائل سے ہٹا کر انہیں شخصیت پرستی، بحث و مناظروں اور عقائد و تکفیر کے مسائل میں الجھا دیا گیا۔ حرمین شریفین اور امت مسلمہ میں مملکت سعودی عرب کی حیثیت و مقام کے لحاظ سے یہاں کے علماء پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ ان کی علم و تحقیق کو ثقہ کا مقام حاصل ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ فقہ کی تدوین کرتے امت مسلمہ کی رہنمائی کے خطوط واضح کرتے اور امت کو موجودہ دور کے مسائل اور فتنوں سے نکالنے کی سعی کرتے۔ لیکن انہیں حکام کے روا ناروا کو جواز فراہم کرنے، امت مسلمہ کے درمیان شیعہ سنی اور فرقہ بندی کی دیواریں کھڑی کرنے اور حکام کی خوشنودی کے مقدس کام پر لگا دیا گیا جبکہ ان کی کوتاہ اندیشی کا عالم یہ ہے کہ اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ سنی اور شیعہ کے درمیان نفرتوں کی آگ بھڑکا کر وہ کن کے مقاصد پورے کررہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   21 ویں صدی کا سب سے بڑا اور متنازع واقعہ ہے - ایردوان

کیا عالم عرب میں مملکت سعودی عرب اور ان کے پڑوسی برادر ملک ایران کے تعلقات خراب ہونے سے اسرائیل مضبوط نہیں ہوگا؟ کیا سنی شیعہ کی تفریق سے شام، لبنان، مصر، بحرین، عراق، پاکستان، افغانستان اور دنیا بھر میں امت مسلمہ فرقہ واریت کی آگ میں جل کر بھسم نہیں ہوگی؟ کیا اس سے مسلمان کمزور امریکہ اور دیگر اسلام دشمن قوتیں مضبوط نہیں ہوں گی؟ مملکت سعودی عرب کے پڑوس میں اور بالخصوص الجزائر، مصر، یمن، شام اور لیبیا کے انقلابات سے یہاں کے بزدل اور ڈرپوک حکمرانوں نے اپنے خاندان کی عیاشیوں اور خیانتوں اور غلط پالیسیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے انہیں نسلی افیون "سعودائزیشن" کی گولیاں کھلانا شروع کردیں۔ عجلت میں انہیں مفت کی تنخواہوں کے جام چڑھائے۔ معیار کی بجائے ہر جگہ سعودیت نے لے لی۔ سعودی جیسے بھی ہو اسے ترجیح دی جائے گی اور اس بے جا لاڈ اور شاہ تھپکیوں نے انہیں نکمے کام چور متکبر اور حرام خور بنا دیا اور اب مملکت کے طول و عرض میں حرام خوروں کی پوری نسل تیار ہے۔

سعودی علماء عوام اور حکام اس بات کا تو جواب دیں کہ اگر ایک آدمی صرف سعودی ہونے کے ناطے کام کو کام ہی نہ سمجھتا ہو، ہفتے میں چند گھنٹوں کے لیے ہی حاضر ہوتا ہو، کبھی بھی وقت پر نہ آتا ہو، آکر بھی موبائل قہوے اور کمپیوٹرسے شغل کرتا ہو، ان پر کمپنی میں سعودی ہونے کے ناطے کوئی گرفت نہ ہو، نہ ہی وہ اپنے کام اور ذمہ داریاں پوری کرتا ہو تو کیا اس شخص کی آمدنی حرام نہیں ہوگی؟ کیا کفیل اور کفالت کے نام سے غریب مزدور کی کمائی ہڑپ کرنا انسانوں کا خون پینا نہیں ہے؟ جبکہ انسانوں کا خون پینا کسی مذہب میں بھی جائز نہیں ہے۔ اور کیا جس ملک میں حرام خوروں کی پوری نسل تیار ہو جائے وہاں کسی خیر کی توقع کی جاسکتی ہے؟ آج سعودی عوام کا سب سے بڑا کمال اور فن یہ ہے کہ گاڑیوں اور مکانوں پر قد آدم شاہ معظم اور شاہی خاندان کی تصویریں لگائیں (ویسے تو اسلام میں تصویر لٹکانا حرام ہے لیکن شاہوں کی حرام نہیں ہے)۔ انا انت خیر بخیر دام عزک او دُمتم کے چاپلوسانہ و خوشامدانہ جملے لکھیں اور اس کے بعد جتنی بدمعاشی، جتنا ظلم، جتنی قانون کی خلاف ورزیاں، جتنے لوگوں کو سرعام لوٹنے، جتنے لوگوں کے موبائل چھیننے، گاڑیوں کے ٹائر اور ٹیپ ریکاڈر کھولنے اور گاڑیوں کے چوری کرنے کی وارداتیں کرتے پھریں، یہ سب ان کے لیے جائز ہے کیونکہ "انا سعودی" "افضلیۃ للسعودین" سعودی ہونے کے ناطے یہ انوکھی اور عجیب و غریب مخلوق تو آسمان سے اتری ہے اور باقی زمین کی پیداوار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

یا خادم حرمین شریفین! اللہ آپ کا اقبال بلند کرے، اللہ نے آپ کو دنیا بھر کی نعمتوں سے نوازا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ کا ملک سائنس و ٹیکنالوجی کی معراج پر پہنچا ہوتا، ڈاکٹرز انجینیئرز اور ماہرین علم و فن کی کھیپ کی کھیپ تیار کرتا لیکن یہاں تو چوکیدار اور سبزی فروشوں کے لیے جوازات اور اقامے تجدید کرنے والے معقب تیار ہورہے ہیں۔ آج سعودی نسل کی جو اخلاقی اور علمی حالت ہے کیا ان کا دنیا میں سعودی عرب سے باہر کے ملکوں میں کوئی مقام ہو سکتا ہے؟ کیا ان کے اس اقامہ جوازات اور کفیل کے چکروں والے "ہنر" سے دنیا کا کوئی مسلہ حل کیا جاسکتا ہے؟ اور اللہ کے لیے جواب دیں کہ اس مخلوق پر اللہ کے رسول قیامت کے دن امتی ہونے کا فخر کر سکیں گے؟

آج مملکت سعودی عرب بلاد حرمین کا منظر پیش نہیں کررہا ہے۔ چوریاں ڈاکے ہو رہے ہیں، پولیس خارجی لوگوں کی تو بات تک نہیں سنتی بلکہ عام سعودی بھی غیر سعودیوں کے لیے بادشاہ بنا ہوا ہے۔ قانون نام کی چیز ناپید ہورہی ہے۔ سعودیوں کے تکبر نخوت اور غرور کا یہ عالم کہ کسی غیر سعودی کے ساتھ بات کرنے کی تمیز نہیں۔ سعودی پولیس شاہر گُرگوں کا تو کیا کہنا دنیا کی بدتمیز ترین مخلوق سعودی شاہر گُرگے ہیں۔ مملکت سعودی عرب میں حرمین شریفین نہ ہوتے تو ہمار بلا سے، لیکن فکر ہے تو مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی کہ خدا نخواستہ یہاں کا امن خراب نہ ہو جائے۔ دنیا تو چل چلاؤ کی جگہ ہے، بڑی بڑی مضبوط بادشاہتیں بھی ختم ہو کر رہ جاتی ہیں۔ آل سعود کی ذمہ داری ہے کہ وہ عقل کے ناخن لیں جی حضوریوں اور خوش آمدیوں کے ٹولے کے مکر و فریب اور کذب و دجل سے باہر نکل سوچیں، سعودی نسل کی فکری رہنمائی کریں ان کا اخلاق معیار بلند کرنے پر توجہ دیں، عدل و انصاف سے کام لیں، سعودی اور غیر سعودی کی تفریق ختم کریں علم و فن کے ماہرین تیار کریں۔ مٹی اور پتھروں اور شیشوں کی بلند و بالا عمارتیں بنانے کی بجائے انسانوں کی تعمیر کریں۔