میرا جسم، میری مرضی - خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا کے ملک ڈنمارک کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ آزاد خیالی اور روشن دماغی کا پرچار کرنے والے بہت سے دوسرے یورپی ممالک کی طرح ڈنمارک بھی مسلمانوں اور اسلام کو بطور خاص ہدف بناتا آیا ہے۔ چاہے معاملہ پیارے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کا ہو، حلال ذبیحہ پہ پابندی کا ہو، یا پھر اب نقاب اور برقعے کا ہو۔ آزادئ اظہار رائے قانون کا حصہ ضرور ہے مگر اس کا اطلاق کہاں ہوتا ہے کہاں نہیں؟ اس کا فیصلہ الگ چیز ہے۔ وہاں کی مقامی عورتیں اگر ننگی گھومتی ہیں تو انہیں آزادئ اظہار رائے کے تحت اس کا حق ہے۔ مگر مسلمان عورت اپنے دین کی پاسداری کی خاطر چہرہ ڈھانپ لے تو اس سے ان کے معاشرے پہ برا اثر پڑتا ہے اور اس کا نقاب دوسروں کے لیے خوف کا باعث ہے۔ پہلے دن سے جب اس قانون کے پاس ہونے کا شور اٹھا تھا تب سے لے کر کل تک بہت سی خواتین اس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کراتی آئی ہیں۔ مگر پارلیمان میں بھاری اکثریت کی حمایت سے یہ قانون منظور کر لیا گیا ہے اور یکم اگست سے اس کا اطلاق ہو جائے گا۔ اس کے بعد پبلک پلیسز پر چہرہ ڈھانپنے کے جرم میں آپ کو نہ صرف بھاری جرمانہ ادا کرنا ہو گا بلکہ وہاں سے جانا بھی ہوگا۔ مسلمان خواتین کے احتجاج بھی اس فیصلے کو رکوانے میں کوئی مدد نہیں کر سکے۔

انٹرنیٹ پر اس معاملے کے پیچھے کافی مغز ماری کے بعد اسلام آباد کے ایک وومن مارچ کی یاد تازہ ہو گئی۔ کچھ پلے کارڈز اور ان پر لکھے نعرے بہت عرصے تک سوشل میڈیا پر گرما گرمی کا باعث بنے رہے۔ آج وہ تصاویر دوبارہ دیکھیں تو دل درد سے بھر سا گیا۔ ہم بطور مسلمان کیسی دو انتہاؤں کا شکار ہیں؟ ایک طرف وہ ہیں جو غیر ممالک میں بستے ہیں اور اپنے دین اور اللہ کے احکامات کی پاسداری کی خاطر غیر مسملوں سے بر سر پیکار ہیں کہ ہمیں ہمارے دین پر چلنے کی آزادی دے دو۔ وہاں مسلمان بہنیں اپنے جسم اور چہرے کو اللہ کے حکم کی پاسداری میں چھپانے کی اجازت مانگ رہی ہیں اور کچھ وہ بھی جو کہتی ہیں کہ ہم یہ ملک چھوڑ جائیں گے، مگر اللہ کا حکم نہ چھوڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   بس میں پردہ نہیں کر سکتی - ام الھدیٰ

دوسری طرف اسلام کے قلعے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والی یہ میری بہنیں رنگ برنگے بورڈز پکڑے اپنے جسم کو دکھانے کی آزادی مانگ رہی ہیں۔ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ "یہ چادر چار دیواری گلی سڑی لاش کو مبارک ہو"۔ پردے کو طمانچہ مار رہی ہیں یہ پوچھ کر کہ "کتنی چادریں لوں کہ مجھے ڈھانپنے کو کافی ہوں گی؟" اور پھر "میرا جسم میری مرضی "، ایک ہی نعرہ۔۔ دو مطلب۔

ایک طرف جنگ ہے کہ میرا جسم ہے تو اسے دکھانے کی مرضی بھی میری ہے۔ دوسری طرف جنگ ہے کہ جسم میرا ہے تو اسے چھپانے کی مرضی بھی میری ہونی چاہیے۔

ایک طرف جنگ ہے کہ یہ چادر چار دیواری گلی سڑی لاش کو مبارک ہو، دوسری طرف جنگ ہے کہ میری چادر اور چار دیواری سے تمہیں مسئلہ کیا ہے آخر؟

ایک طرف سوال ہے کہ میری جینز اور مغربی لباس کو ڈھانپنے کے لیے کتنی چادریں کافی سمجھتے ہو؟ دوسری طرف سوال ہے کہ مجھے ڈھانپ لینے والی میری اس چادر اور برقعے سے تمہیں کیا مسئلہ ہے؟

فرق سارا سوچ کا ہے!

جہاں خود کو ڈھانپنے کی آزادی ہے وہاں بے پردہ ہونے کی خاطر احتجاج ہو رہے ہیں اور جہاں پردے پہ پابندی ہے وہاں خود کو ڈھانپنے کی اجازت کے حصول کی خاطر احتجاج ہو رہے ہیں۔

ویسے اس طرح کے واقعات دیکھنے کے بعد اس نعرے پر ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے کہ "پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔ لا الہ الا اللہ!" آنکھوں اور دل پر بندھی ماڈرن ازم اور لا دینی کی یہ پٹی کھولیں اور خدا کا شکر بجا لائیں کہ ہم ایک آزاد خود مختار اسلامی ملک میں رہتے ہیں جہاں ہمیں ہمارے دین کے احکامات کی پابندی کرنے پہ کوئی روک ٹوک نہیں اور بالفرض آپ نہیں بھی کرنا چاہتے تو آپ پر زبردستی نہیں ہے۔ کم از کم یوں سر عام اسلامی احکامات کا مذاق مت اڑائیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ دنیا کے کتنے ہی ممالک میں کتنی ہی مسلم خواتین اسی چادر اور چاردیواری کے تحفظ کی خاطر جانے کس کس مشکل سے گزر رہی ہیں۔

ٹیگز