وہ کہ جن پر ربّ کو پیار آتا ہوگا - منیبہ راشد

ہم ڈیجیٹل دنیا کے باسی ہیں، ایک کلک کریں گے تو بڑے سے بڑے قاری کی تلاوت سماعتوں میں رس گھولنے لگے گی، اگلا کِلک اور کسی بڑے مفسر قرآن کی ویڈیو آپ کو اپنے سوالوں کے جوابات دے گی۔ اینیمیشن کے ساتھ چلتی قرآن کی تلاوت، واٹس ایپ گروپوں میں خلاصۂ قرآن، فیس بُک پر قرآن سمجھنے کے لیے سینکڑوں گروپس اس وقت کام کر رہے ہیں الحمد للہ، لیکن یہ قرآن اور اس کا لمس!

کبھی یاد آتا ہے کس طرح قرآن کو جزدان سے نکال کے چومتے تھے، پھر پڑھنے کے بعد اسی انداز میں واپس رکھ دیا کرتے تھے؟ آج کی اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں جہاں ہر شخص ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں اپنے آپ کو گُھلا رہا ہے، کہیں عید کی تیاری کے نام پر درزیوں اور دکانداروں کے ساتھ مغز ماری ہے تو کہیں ہر روز افطار میں کچھ منفرد اور نیا بنانے پر غوروفکر، ایسے میں ہمارے اردگرد چند نفوس ایسے بھی ہیں جن کی فکریں، جن کی دوڑ دھوپ ذرا مختلف ہے۔ انہیں شعبان کا چاند نظر آتے ہی استقبالِ رمضان کی محفلیں سجانے کی فکر ستانے لگتی ہے اور رمضان کے پہلے روزہ کے ساتھ ہی دورۂ قرآن کی مجلسیں شروع کرنے کی فکر لگ جاتی ہے۔

اسمارٹ فون اور قرآن کی سینکڑوں ایپس کی موجودگی اور میرے شہر میں شدید گرمی کے ان روزوں کے باوجود آج بھی گلی محلہ میں دورۂ قرآن کی یہ خوبصورت روایت جس منفرد انداز میں جاری ہے اُس کے پیچھے وہ چند مٹھی بھر نفوس ہی ہیں جو دورۂ قرآن کے انعقاد، اس کی دعوتوں سے لے کے اس کو منعقد کرنے کی تیاری اور پھر قرآن پڑھنے کے لیے آنے والی خواتین کو مستقل 20 رمضان تک قرآن سے جوڑے رکھنے سے لے کے بڑی خاموشی سے انہیں ترجمہ قرآن لینے پر آمادہ کرلینے تک بڑے عجیب سے مراحل سے گزرتے ہیں۔ یہ مراحل رب کے ساتھ ایک طلسماتی تعلق کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں، رب سے لین دین ہوتا ہے، کچھ سرگوشیاں اور رت جگے ہوتے ہیں، آنسوؤں کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں۔ موسم کی سختی اور بجلی کی آنکھ مچولی کو اللھم اجرنی من النار پڑھ کہ برداشت کرنے والے یہ نفوس۔ ہاتھوں میں قرآن لیے بھاگ بھاگ کہ جب قرآن کے ساتھ عام سی گھریلو خواتین کا عقیدت بھرا تعلق بنواتی ہیں تو میرے رب کو اپنی ان بندیوں پر کیسے کیسے نہ پیار آتا ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا افسوسناک واقعہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آصف لقمان قاضی

روزے کی حالت میں جب حلق پیاس سے خشک ہورہا ہو ایسے میں ترجمۂ قرآن پڑھنا، بوقتِ ضرورت آیات کی تفسیر بیان کرنا، خواتین کے سوالوں کے جوابات دینا، جہاں دنیا ہر کام میں آسانی کی متلاشی نظر آتی ہے وہیں یہ گلیوں اور محلوں میں دورۂ قرآن کی ریت کو برقرار رکھتی رب کی یہ گمنام بندیاں! یقیناً روز آخرت یہ جلتی دھوپ ان کے لیے ابرِ رحمت بن جائے گی۔ اپنے اس عمل کا اجر وہ اپنے رب سے ہی وصول کریں گی ان شاء اللہ کہ میرا رب بہترین اجر دینے والا ہے۔