یقین محکم، عمل پیہم – ایمن طارق

"کیا شاندار نظم ہے؟ ایسا لگا کہ نگاہوں کے سامنے نقشہ آگیا۔ آپ کا انداز بیاں تو شاندار ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔! آپ بھلا بچوں کے ساتھ کیسے اتنا ٹائم نکال لیتی ہیں کہ اتنی خوبصورت شاعری اور نثر لکھیں اور پھر بھلا آپ کو یہ حسین الفاظ یاد کیسے آجاتے ہیں؟ یہ تو بس ہم نے اُسی پریوں کے دیس میں سنے ہیں جہاں کی سیر ہم رات میں آنکھیں بند کر کے ہی کرتے ہیں۔"

اُس نے حسرت سے ایک رشک بھری نظر اپنے برابر بیٹھی مسسز عدیل پر ڈالی، جن کے چہرے پر یہ الفاظ سن کہ ایک طمانیت اور فخر بھری مسکراہٹ تھی۔ "ارے بھئی! تم بھی کچھ بچوں کے اس چکر سے باہر آؤ، تھوڑا سانس لو۔ ابھی ایک بچہ تمہارا جھولے سے باہر آتا ہے کہ تم دوسرے کی تیاری پکڑ لیتی ہو تو ایسے میں تخلیقی خیالات آنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔" بات کرتے کرتے انہوں نے غیر محسوس انداز میں اپنی کرسی کو بھی تھوڑا پیچھے کر لیا لیکن اسے اندازہ ہو گیا کہ حمزہ کے چاکلیٹ میں لت پت ہاتھ دیکھ کر وہ ڈر سی گئی ہیں اور اپنے اس قیمتی سوٹ کو بچانا چاہتی ہیں۔

"اچھا میں نکلتی ہوں مسز عدیل! کیونکہ ابھی باقی بچوں کو اسکول سے پک کرکے ڈائریکٹ گھر جانا ہے۔ بیٹی کو آج بخار تھا، پھر بھی وہ ضد کرکے چلی گئی۔" یہ کہہ کر وہ اُٹھ گئی لیکن دل آج کچھ زیادہ ہی اُداس تھا۔ آج کمیونٹی رمضان ہیلتھ سیشن میں کئی دن بعد جانے کا اتفاق ہوا تھا اور حمزہ بھی ساتھ ہی تھا۔ بس جب اس سنجیدہ محفل میں حمزہ نے ادھر اُدھر خواتین کے بیگز میں گھسنے کی کوشش کی اور آوازیں نکالتا رہا تو پیچھے سے ایک خواتین کی آواز نے اسے سن سا کردیا، "پتا نہیں یہ اتنے چھوٹے بچے لے کر کیوں آجاتی ہیں؟ بہت ہی ناسمجھ مائیں ہیں۔"

پھر رات سونے سے پہلے بھی کچھ عجیب ہی ہوا تھا کہ اُس نے بڑے شوق سے نیّرہ نور کی آواز میں اے جذبۂ دل" لگا کر جو تکیے سے سر ٹکایا ہی تھا کہ ایک زوردار آواز نے اسے اچھلنے پر مجبور کردیا۔ وہ ابھی تو بچوں کو لٹا کر اور دعائیں پھونک کر وہ باہر آئی تھی لیکن حمزہ صاحب ساری رکاوٹیں ہٹا کر لڑھکتے پھڑکتے نیچے زمیں پر آ چُکے تھے۔ اس افراتفری میں کمال یہ تھا کہ سعادت اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے تھے اور بس آواز نکالنے پر ہی اکتفا کیا۔ "آپ بھی تو اُٹھ سکتے تھے ابھی؟" کے جواب میں کہا "ارے بھئی تم دیکھ رہی ہو میرے کام، تم خود بھی تو ذمہ دار بنو۔ اب یہ خوابوں میں رہنے اور شعر و شاعری سے لطف اٹھانے کے دن نہیں۔ بچے پال لو پھر بہت وقت ملے گا ان سب کا۔"

رات کی یہ تلخ یاد ابھی ذہن میں تھی ہی اسی لیے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کرنے اور گھر پہنچنے تک دماغ سن ہی رہا۔ مسز عدیل کو کیا پتا کہ "کبھی ہم خوبصورت تھے، کتابوں میں بسی خوشبو کی مانند…" حمزہ سو گیا تھا اسے بیڈ پر لٹا کر دل چاہا کہ اس تھوڑی دیر میں ذہنی سکون کے لیے کوئی اچھی سی کتاب پڑھی جائے اور سامنے "How to Stop Comparing Yourself to Others" پر نظر پڑی۔ چلو اتفاق ہے کہ دل کی کیفیت کو نارمل کرنے کے لیے شاید اس سے کچھ مدد مل جائے۔

کبھی کبھی مقابلے آپ کی اپنی ذہنی صحت اور حالات کے سدھار کے لیے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ یہ آپ کو محنت کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے motivate کرتے ہیں لیکن بہت دفعہ یہ مقابلے یا comparison کا یہ رویّہ آپ کو پیچھے ہٹانے، دل برداشت کرنے اور بعض اوقات مایوس ہونے کا سبب بھی بنتا ہے۔ دوسروں کی نظر سے خود کو دیکھنا اور اپنی ویلیو دوسروں سے متعین کروانا اور ان کے رائے کو اتنی اہمیت دینا کہ اپنی self esteem ختم کر بیٹھیں، تباہ کن ہے۔ اپنے آپ کو دوسروں سے compare کرنا آپ کی ہمت ختم کرکے اس اسٹیٹ میں لے آتا ہے کہ آپ مایوس ہونے لگتے ہیں۔ ہا! خود کو اپنے گزرے ہوئے کل کے رویوں اور معاملات سے compare کر کے بہتر بنانے کی کوشش کرنا مستحسن ہے، اپنے زندگی کے سفر پر فوکس رکھنا اور اپنے حالات و صلاحیتوں سے مطمئن رہنا، اپنی کوششیں کرتے جانا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتے جانا ہی اصل میں مطلوب ہے۔ اپنی ایسی legacy چھوڑ کر جانا کہ ہمارے بچے، ہمارے ارد گرد کے لوگ ہمیشہ ہمیں مثبت انداز میں یاد رکھ سکیں۔

کتاب کو بند کرتے ہوئے اُس کے ذہن میں ایک امید تھی، ایک جذبہ تھا کہ چاہے کیسے بھی حالات ہوں اپنی جگہ خود بنانا اور ایک ایک قدم اُٹھا کر آگے چلنا تاکہ خود پر اعتماد بحال ہو سکے اور زندگی کا یہ سفر دوسروں کی تقلید میں گزارنے کے بجائے اپنے قدموں کے نشان پیچھے چھوڑ کر جائے۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.