خلائی مخلوقات کی کارستانیاں-فرحان شبیر

خلائی مخلوق کے خلاف بر سر پیکار اور تازہ تازہ ووٹ کے احترام کےعلمبردارمیاں صاحب کو کیا یہ اندازہ ہے کہ بازی انکے ہاتھ سے نکل چکی ہے ۔ چین اس وقت پوری طرح سے خلائی مخلوق کے ساتھ کھڑا ہے اور خلائی مخلوق ، روس اور چین کی خلائی مخلوق کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکی ہے۔ چین نے اپنا وزن میاں صاحب کے نہیں ، بلکہ خلائی مخلوق کے پلڑے میں ڈال دیا ہے اور اب خطے کے معاملات میں بھی خلائی مخلوق کی بات سنی جائیگی نہ کہ میاں صاحب کا بیانیہ کہ ہمارا گھر صاف نہیں ، ہمارے یہاں خلائی مخلوق اور فرشتو ں کی مداخلت ہوتی ہے اور لیئے بھارت سمیت ساری دنیا ہم سے نفرت کرتی ہے اورہماری کوئی عزت نہیں ہے ۔ ہمارے تمام پڑوسی اس خلائی مخلوق کے سائوں اور فرشتوں کی کاروایئوں سے پریشان رہتے ہیں لہذا اب انکو بھی چاہیئے کہ اپنی فرد عمل کا حساب دیں۔

اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ جس بھارت نے ایک سال پہلے پاکستان میں ہونے والے سارک کے اجلاس میں پاکستان پر دہشت گردوں کی سپورٹ کا الزام لگا کرشرکت نہیں کی تھی اب وہی بھارت ، اسی پاکستان میں صرف ایک سال کے بعد ہی روس اور چین کے دباوکی وجہ سے پچھلے ہفتےپاکستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت ہونے والی انسداد دہشت گردی کانفرنس میں شرکت کرنے پر مجبور ہوگیا ۔ دیکھیئے پچیس مئی کا دا ہندو اخبار
حیرت کی بات ہے کہ جس طرح سارک کے بے کار اور مردہ اجلاسوں کی ہائپ بنائی جاتی رہی ہے اسکے بالکل برخلاف ایس سی او انسداد دہشت کانفرنس کو ہمارے اردو میڈیا نے افسوسناک حد تک نظر انداز کیا۔ جبکہ اس دوران بھارت کی پوری کوشش رہی کہ اس اجلاس سے پہلے ہی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو اور اس کے لئیے گولے بھی ہمارے استمال کرے ۔ میاں صاحب کا المیڈائ انٹرویو اور اسد کتاب درانی کی کتاب نے بھارتی توپوں کو یہ گولے دے تو دیئے لیکن یہ پھس ہو رہ گئے ۔ چین نے میاں صاحب کی خلائی مخلوق کے خلاف گواہی کوکسی قابل ہی نہیں سمجھا اور نہ ہی بھارت ، چین کو میاں صاحب کا خودکش حملہ ٹائپ کا بیان اور اسد درانی کی کتاب دکھا کر بھی کچھ حاصل کر سکا ۔ اس سے بھی کام نہ چلا تو جن دنوں یہ اجلاس جاری ہی تھا چوبیس مئی کو حیرت انگیز طور پر بھارتی اخبار دا ہندو میں پاکستان سے مبشر زیدی صاحب (سو لفظوں کی کہانی والے نہیں )کی ایک اسٹوری لگوائی جس میں یہ انکشاف گیا کہ چین کے صدر نے شاہد خاقان عباسی پر زر دیا ہے کہ حافظ سعید کو پاکستان سے کہیں اور منتقل کیا جائے ۔تاکہ مودی کو اپنے عوام کوکہنے کا موقع ملے کہ دیکھا ، پاکستان کو چین سے کیسا رگڑا لگوادیا ہے۔
خیر وہ رگڑا وغیرہ کیا لگنا تھا ، چین کی وزارت خارجہ نے اسی دن چوبیس مئی کو ہی صاف کہہ ڈالا کہ اس نےپاکستان سے حافظ سعید کسی ملک منتقلیی کے لیئے پاکستان پر کوئی دباو نہیں ڈالا اور یہ ایسی کسی بھی خبر کو مسترد کیا جاتا ہے۔
اور یہی بات حامد میر صاحب نے خاص طور پر پوچھی تھی شاہد خاقان عباسی سے کئے انٹرویو میں ۔ جسکی وزیر اعظم نے بھی تردید کی کہ چین نے کوئ بات حافظ سعید سے متعلق کی ۔ درحقیقت یہ بھارتی پروپیگنڈے کا بروقت توڑ تھا ۔
ایسا لگتا ہے کہ چین نے سی پیک کے ثمرات دکھا کر بھارت کو بھی تیار کر لیا ہے بہتر ہے کہ سی پیک سے فائدہ اٹھایا جائے اور خطے کے معاملات کو بہتری کی طرف لایا جائے ۔ چین اب جون میں شنگائی تعاون کے ہونے والے اجلاس سے بہت پرامید ہے ۔ چین سے جاری اعلامیہ کے مطابق جون کو ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس خطے میں دہشت گردی ، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کے خاتمے میں سنگ میل ثابت ہوگا ۔ اور یہ کون نہیں جانتا کہ اس کے لیے بھارت کو کینڈے میں رکھنا کتنا ضروری ہوگا ۔
چین کے اس اعلامیے کو المیڈائی دانشورں کو آنکھیں کھول کر پڑھ لینا چاہئے کہ کشمیراور لائن آف کنٹرول پر کشمیریوں پر گولیاں چلانے والےبھارت کو لائین آف کنٹرول پر سیز فائر پر مجبور ہونا پڑا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ اب یہ امن بھی دیرپا ہوگا ۔
اب انگریزی اخبار کے صحافی مبشر زیدی ( سو لفظوں والے مبشر صاحب نہیں ) کیا جواز دینگے ایک جھوٹی ، من گھڑت اور پاکستان کو بدنام کرنے والی خبر “دا ہندو” اخبار کو دینے کا جس سے پاکستان کی بے عزتی کا تاثر جاۓ ۔ کیا ووٹ کےاحترام کے علمبردار المیڈائی بریگیڈ پر یہ وقت آگیا ہے کہ بوگس خبریں لگوائی جارہی ہیں۔ کیا اب بھی اس بات پر یقین کرنے کےلئیےافلاطون کا دماغ چاہئیے کہ پاکستان کے خلاف کس قدر شدید پراپیگنڈہ وار جاری ہے ۔جھوٹی خبریں لگوائی جارہی ہیں۔ کتابیں لکھوائی اور بٹوائی جارہی ہیں جسکا واضح ثبوت ہر دوسرے موبائیل پر واٹس اپ پر اسد درانی کی کتاب کا بجلی کی تیزی سے پھیلنا ہے ۔نہ صرف انگلش بلکہ اردو میں ترجمہ بھی فورا دستیاب ہوگیا۔

یہ تو رہا بھارت اب بات ہو جائے امریکہ کی بھی ۔ وہاں سے تو اب جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے والے تسکین خاطرپر مبنی پیغامات بھی نہیں آرہے اور امریکہ بھی میاں صاحب کی کوئی خاص مدد نہیں کر پارہا ہے ۔ گو کہ امریکہ چین کا راستہ روکنے کے لیئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے لیکن پاکستان پر امریکی اثرورسوخ اور دباو میں واضح کمی آتی جا رہی ہے اورجس کو بچانے کے لیئے امریکہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ چاہے افغانستان میں اسٹریٹیجی تبدیل کرتے ہوئے سیکرٹ اپریشنز کے انچارج جنرل کو امریکی افواج کا کمانڈر لگانا ہو یا پھر سایئکولوجیکل وار فیئر اور پراپیگنڈہ کے ہتھیار استعمال کرنا ہے ۔ جسکی مثال ریاست مخالف بیانات اوور کتابوں کا بٹنا ہے۔
تاہم ان سب کے باوجود بھی ، خلائی مخلوق کے بدلے ہوئے خلائی قسم کے تعلقات کی وجہ سے میاں صاحب کی یہ امید بھی رنگ لاتی ہوئی نظر نہیں آتی کہ امریکہ انکے حق میں خلائی مخلوق پر معاشی پاندیوں کے علاوہ کوئی اور حربہ ازما سکے ۔ امریکہ فی الوقت پاکستان کو اگل بھی نہیں سکتا اورنگل بھی پار رہا ۔ لیول یہ آگیا ہے کہ پاکستانی بچی سبیکا کے انتقال پر امریکی افواج کی سینٹرل کمانڈ کا چیف فون کرکے تعزیت کررہا ہے اور افسوس کا اظہار۔ اب یہ نہ پوچھیئے گا کہ اس نے کس کو فون کیا ہوگا ۔

ادھر ہوم گراونڈ پر خلائی مخلوق کے ساتھ مقابلہ میں قدم ہیں کہ لڑکھڑائے جا رہے ہیں اور دل ہے کہ بیٹھا جا رہا ہے ۔ خود اپنے بھائی کو ہی خلائی مخلوق نظر نہیں آرہی تو کسی اور سے کیا شکوہ اور وہ بھی اب جلسوں کے اسٹیج پر نام لکھی ہوئی مگر خالی کرسیوں کے ساتھ بیٹھے پائے جاتے ہیں ۔انتخابات کے لیئے ٹکٹس دیئے جانے کی تاریخ تک دودو دفعہ آگے بڑھائی جاچکی ہے ۔ جی ٹی روڈ پر مجھے کیوں نکالا کی نمائیش کے باوجود بھی پارٹی جی ٹی روڈ پر گجرات اور جہلم کراس کرتی نہیں دکھائی دے رہی ۔ کیونکہ کیونکہ ویسے بھی جی ٹی روڈ پر خلائی مخلوق کے ساتھ محبت والے حلقے شروع ہوجاتے ہیں ۔ ن لیگ کی صراحی سے قطرہ قطرہ ایم این اے ، ایم پی ٹپک رہے ہیں ۔ کوئی یہاں کرا کوئی وہاں گرا ۔ وہ اپنی تسبیح روز و شب کا شمار کررہے ہیں دانہ دانہ

پارٹی کے صرف چند ارکان اور حکومت چند وزیر ہی وفاداری بشرط استواری کے تحت عوام کے سامنے خلائی مخلوق کے ساتھ مقابلے کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ خلائی اجلاسوں میں خلائی مخلوق کو میاں صاحب کے سینے سے نکلنے والی آہوں اور نالوں کی شان نزول اور صفائیاں دیتے پھرتے ہیں پھر بھی
نہ حجاب گر رہے ہیں
اور نہ افلاک سے نالوں کا کوئی جواب آرہاہے ۔