انسانی حقوق کے لیے اہل مغرب کی کاوشوں کا تاریخی جائزہ – سویرا سرور

اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں انسانیت کے ساتھ ساتھ نفسانیت بھی رکھی ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان کو فرشتوں پر برتری اور فضیلت حاصل ہے اور اسی کے سبب انسان پر من جانب اللہ مختلف آزمائشیں اور امتحانات آتے ہیں جن میں کامیابی پانے والوں کو ابدی جنت کی عظیم خوشخبری ملتی ہے۔ یہ نفسانیت انسان کو دوسروں کے حقوق سے نہ صرف لاپروا بنا دیتی ہے بلکہ یہ موقع پانے پر خود اس پر ڈاکہ زنی کا ارتکاب کرتا ہے۔ یوں مظلوم اور کمزور ہمیشہ ظلم کی چکی میں پستے رہتے ہیں اور طاقتور اور ظالم دندناتے پھرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے بنیادی حقوق مل جائیں تاکہ وہ اپنی دنیوی زندگی آرام و سکون کے ساتھ گزار سکے۔ انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی تاریخ عام طور پر جب انسانی حقوق کے لیے جدوجہد اور کوششوں کی بات کی جاتی ہے تو اہل مغرب سارا کریڈٹ خود لے لیتے ہیں۔ ان کے اس پروپیگنڈے کی وجہ سے آج اکثر دنیا انہیں انسانی حقوق کا چیمپیئن قرار دیتی ہے۔ حالانکہ بات اس کے بالکل برعکس ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سب سے پہلی اولین جامع اور منظم کوشش آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل سرزمین حجاز پر ہوئی تھی جسے ہم اس مضمون میں آگے تفصیل سے ذکر کریں گے۔ فی الحال مغرب میں انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی کچھ مشہور کاوشوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ مغرب میں انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد مغربی اقوام کی سیاسی اور تہذیبی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو انسانی حقوق کے لیے کل چار مختلف جدوجہدوں کا تذکرہ ملتا ہے جنہیں ذیل میں اختصار سے پیش کیا گیا ہے۔

میگنا کارٹا کا منشور اعظم

اس منشور کو نہ صرف انگلستان میں بلکہ عہد جدید میں انسانی حقوق اور آزادی کا نقطہ آغاز قرار دیا جاتا ہے۔ اس منشور کو تیرہویں صدی عیسوی میں انگلستان کے بادشاہ ہنری دوم کے بیٹے اور رچرڈ شیردل کے بھائی جان (1199ء تا 1216ء) نے جون 1215ء میں جاری کیا تھا۔

اہم دفعات

میگناکارٹا میں کل 63 دفعات ہیں۔ جن میں سے اکثر اپنے زمانے کی ضروریات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی تھیں۔ اس کی اہم دفعات مندرجہ ذیل ہیں:

1. انگریزی کلیسا آزاد رہے گا۔ اس کے اختیارات اور حقوق کم نہیں کیے جائیں گے۔

2. عام نوعیت کے مقدمات کی سماعت شاہی عدالت کے علاوہ کسی اور جگہ ہوگی۔

3. کوئی سرکاری افسر کسی شخص پر خود اپنے بیان کی رو سے ایسا مقدمہ دائر نہیں کرسکے گا جس کا اس کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو۔

4. کسی کو حق یا انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔

5. مستقبل میں جنگی حالات کے علاوہ میں ہر شخص اس بات کا مجاز ہوگا کہ وہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ہماری سلطنت میں رہے یا کہیں اور چلا جائے۔ کسی پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔

اعلان حقوق انسانی و باشندگان فرانس 1789ء

یہ منشور انقلاب فرانس میں کارفرما بنیادی محرکا ت کی عکاس ہے۔ اسے فرانسیسی دستور میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ سال 1946ء اور 1958ء میں فرانسیسی حکومت نے اپنے دستور کے دیباچوں میں اسے شامل رکھا۔

اہم نکات

1. انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور آزاد رہیں گے۔ حقوق کے معاملے میں سب برابر ہیں۔

2. جرم کے ثبوت تک کسی کو گرفتار نہ کیا جائے۔

3. کسی کے افکار اور خیالات جب تک سرکاری نظم کے خلاف انتشار کا باعث نہ بنے میں کوئی دخل اندازی نہ کی جائے چاہے وہ مذہبی خیالات ہو یا غیر مذہبی۔

4. اظہار رائے میں ہر شخص آزاد ہیں۔ وہ اس کے لیے تحریرو تقریر کا سہارا لے سکتا ہے۔

5. حکومتی مشنری چلانے کے لیے چونکہ رقم کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے وہ معاشرے کے جملہ ارکان سے ان کی استطاعت کے بقدر وصول کی جائے گی۔

6. سماج اپنی حکومت کے جملہ ارکان کے احتساب کے لیے آواز اٹھا سکتا ہے۔

7. کسی کو اس کی ذاتی جائیداد اور ملکیت سے محروم نہیں کیا جائے گا، الّا یہ کہ سرکاری ضرورت ناگزیر ہوجائے۔

نوشتہ حقوق امریکہ 1791ء

اعلان استقلال امریکہ 1776ء میں ہوا تھا۔ اس کے بعد 1791ء کو وثیقۂ حقوق (Bill of rights) عمل میں لایا گیا۔ اگرچہ امریکہ کی مختلف ریاستوں کے پاس اپنے الگ الگ وثیقہ جات موجود ہیں۔ تاہم فرانس کے اعلان حقوق انسانی کی طرح امریکی مرکزی دستور ایک وثیقۂ حقوق پر مشتمل ہے جس کی پاسداری تمام ریاستوں پر لازم ہے۔

دستور کا متن

1. کانگریس مذہبی آزادی، اظہار رائے اور پریس کی آزادی سے متعلق سرکار سے مرافعہ کرنے کے سلسلے میں کوئی قانون وضع نہیں کرے گی۔

2. امن یا جنگ کے زمانے میں کوئی سپاہی مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مکان میں رہائش اختیار نہیں کرسکتا۔

3. بغیر کسی معقول وجہ کے لوگوں کی ذات، جائیداد اور کاغذات کی تلاشی یا ان پر قبضہ نہیں کیا جائے گا۔

4. زیادہ ضمانت اور زیادہ جرمانہ طلب نہیں کیا جائے گا، نہ ہی ظالمانہ اور غیر معمولی سزائیں دی جائیں گی۔

5. سوائے بطور سزاء کے غلامی اور جبراً مشقت ممنوع ہے۔

6. ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے کسی بھی شہری کو ووٹ دینےکے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

عالمی منشور انسانی حقوق (اقوام متحدہ 1948ء)

یہ منشور دراصل وہ اعلان ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 10 دسمبر 1948ء کو منظو ر ہوا۔ یہ کل 30 دفعات پر مشتمل ہے۔ اسے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کی جانے ولی کوششوں کی معراج قرار دیا جاتاہے۔

اہم دفعات

1. ہر ایک کو زندہ رہنے اور آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے اور شخصی تحفظ کا حق ہے۔

2. کسی کو غلام یا محکوم نہیں بنایا جائے گا۔ غلاموں کی تجارت کی تمام صورتیں ممنوع ہے۔

3. کسی کو بھی تشدد، ظلم و ستم، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

4. بلا جواز گرفتاری، نظربندی یا جلاوطنی ممنوع ہے۔

5. ہر فرد کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ملک بشمول اپنے ملک کے چھوڑ کر چلاجائے۔

6. ظلم سے بچنے کے لیےکوئی کسی بھی ملک میں پناہ لے سکتا ہے۔

7. آرام، تفریح اور ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے ہر کسی کو ملازمت کے دوران چھٹی کا حق حاصل ہوگا۔

ان کوششوں کا سرسری جائزہ

ہم نے مغربی دنیا میں انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی چار بنیادی اورکلیدی کوششوں کو ملاحظہ کیا۔ اگر دیکھا جائے تو اس میں انسانی حقوق کا نہایت سطحی اور سرسری تحفظ ہے۔ ا س میں بچوں کے حقوق، عورتوں کے حقوق، ملازمین کے جامع حقوق، شہریوں کے جملہ حقوق کا تذکرہ نہیں ہے۔ ہم اپنے اگلے مضمون میں ان کوششوں اور خطبہ حجۃ الوداع کا ایک تقابلی جائزہ پیش کریں گے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ انسانی حقوق کے لیے آج سے 14 سو سال قبل جو آواز اٹھائی گئی تھی وہ کس قدر جامع اور اتم تھی۔

جاری ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com