شیطان کہاں قید ہے بھائی؟ - معصوم رضوی

رمضان المبارک پوری دنیا میں احترام و تقدس کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ مسلم ممالک میں اصل خوشی رمضان کے چاند کی منائی جاتی ہے جبکہ ہمارے یہاں یہ رسم ہلال عید سے موسوم ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے رمضان میں ہم کچھ زیادہ مسلمان ہو جاتے ہیں، زیادہ دیندار ہر شخص مبلغ بنا نظر آتا ہے۔ یہ کرو، یہ نہ کرو، فلاں چیز کرنا خلاف شریعت ہے، فلاں چیز روزے میں ممنوع ہے مگر جانے کیوں قول اور فعل کا تضاد منہ چڑاتا نظر آتا ہے۔ روزے میں غصہ، چڑچڑاہٹ کو فطری عنصر سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے، مگر رمضان میں استعمال ہونے والی کھانے پینے کی ہر چیز کی قیمت یکایک دگنی ہو جانا ایک سوالیہ نشان نہیں؟ بیشتر چیزیں غرباء اور متوسط طبقے کے لیے نایاب تو بعض چیزیں امرا کی پہنچ سے بھی باہر ہو جاتی ہیں۔ الحمد للہ خوشحال گھرانوں میں انواع و اقسام کی غذاؤں کا ڈھیر، بجٹ ڈبل ہو جاتا ہے جبکہ غریب کے مکان میں بچے سحر و افطار میں باسی روٹی کو ترستے ہیں۔ بھیا یہ کیسا رمضان ہے؟ کیا نفس کو لگام دینے کے یہی طریقے ہیں؟ کیا شیطان کو مورد الزام ٹہرانا درست ہے؟ کیا میں اور آپ اس صورتحال کے ذمہ دار نہیں؟

ہر سال رمضان کے نام پر ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اور مزے کے بات یہ ہے کہ پھر یہ سوال بھی دھڑلّے سے کیا جاتا ہے کہ شیطان تو رمضان میں قید ہوتا ہے تو پھر یہ سب کیوں؟ اپنی جہالت کا اعتراف کرنے میں بھی مجھے کوئی باک نہیں، ایک گناہگار عامی مسلمان ہوں مگر یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ شیطان کا قید خانہ کہاں ہے؟ ذرا غور فرمائیں روزہ ہے کیا؟ نفس پر قابو میں پانے والی ایک عبادت، خیر اور شر کے درمیان جنگ، بھوک و پیاس کی تکلیف سہنے کا مزہ، صراط مستقیم پر چلنے کی کوشش، رضائے الہیٰ کے حصول کی جدوجہد، یہی کچھ ہے ناں جناب؟ تو حضورشیطان قید ہوتا ہے میرے اور آپ کے اندر اور ذات میں قید ابلیس پر پہرا ہوتا ہے نفس کا، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ قید کتنی سخت ہے اور کتنی نرم، کب کب شیطان کو بھاگ نکلنے کا موقع دیتے ہیں۔ رب اللعالمین نے روزوں کی اہمیت اور شرائط بتا دیں، رحمتہ اللعالمین عمل کے ذریعے رمضان المبارک کی اصل روح سے متعارف کروا دیا۔ روزہ صرف زبان اور منہ تک محدود نہیں، پورے بدن اور روح کا معاملہ ہے، نفس سے جنگ ہے تو اب ذمہ داری آ پ کی اور ہماری ہے۔ ریاکاری، چھل کھپٹ، فریب، منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، دھوکہ، خود غرضی، بے رحمی، بے شرمی اور ظلم کی تو ویسے بھی اسلام میں کوئی جگہ نہیں، مگر اگر یہ سب کچھ رمضان المبارک کے مہینے میں کیا جائے تو اس کی کیا تاویل ہے، اس پر کچھ روشنی ڈالیے گا۔

پرانے زمانے کے لوگ بھی بڑے بھولے تھے، پرانے زمانے سے مراد قرون اولیٰ نہیں جناب بس کچھ پندرہ بیس سال پہلے کا ذکر مقصود ہے۔ بھولے لوگ رمضان میں بھوک و پیاس سہنے، حقوق العباد اور حقوق اللہ کو بھرپور طریقے سے ادا کرنے، جسم، قلب اور روح کی صفائی، صلہ رحمی اور تزکیہ نفس کو روزہ جانا کرتے تھے۔ محلے کے ہر گھر سے مساجد میں افطاری کا انتظام باری باری ہوا کرتا تھا۔ سادہ سی افطاری جو گھر میں کھائی جاتی تھی پڑوسیوں کو بھی بھجوائی جاتی تھی یا دستک دینے والے فقرا کی نذر کی جاتی تھی۔ کیا سادہ لوگ تھے کہ ان کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ پر تعیش افطار پارٹی کر کے نفس اور تعلقات کو کیسے غبارہ بنایا جاتا ہے۔ محافل نعت و قرات کا اہتمام ہوتا تھا، خاص راتوں میں سحری کا انتظام محلے کے مخیر حضرات مل کر کیا کرتے تھے۔ اس وقت تک مساجد و محافل کمرشلائز نہیں ہوئی تھیں نہ ہی پروٹوکول کا رواج تھا، جسے جہاں جگہ مل گئی بیٹھ گیا۔ مساجد اہل محلہ کے دم پر چلتی تھیں، نہ مساجد کے زیر سایہ دکانیں کا غلغلہ، نہ خطیر فنڈز کی چمک، فرقہ وارانہ چھاپ کا فیشن بھی عام نہ تھا۔ لگ بھگ تمام مساجد کشادہ اور دل اس سے زیادہ فراخ تھے۔ چونکہ کفر کے فتویٰ عام نہ تھے لہٰذا ایک دوسرے مسالک کی مساجد میں نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہ تھی اور یوں مساجد کے در اللہ کا گھر ہونے کے ناطے ہر ایک کے لیے کھلے تھے۔ اس زمانے میں مولوی صاحب حجرے میں مقیم اور اپنے اپنے سے لگتے تھے، نہ معزز پچیرو تھی نہ مقدس پروٹوکول، نہ ہی مصاحبین کا غول بیابانی لہٰذا عقیدت سے زیادہ اپنائیت، محبت اور عزت ان سے خاص تھی۔ محلے کی مسجد کے مولوی صاحب اچھے برے وقتوں کے بھروسہ مند ساتھی اور کڑے وقتوں میں منصف کا کردار بھی ادا کرتے تھے۔ وقت کا دھارا ہمیں کہاں لے گیا ہے؟

آج ماشاء اللہ رمضان بھرپور صنعت بن چکا ہے۔ ہر حوالے سے مال بنانے کا ایک ذریعہ، بلکہ سیزن کہا جائے تو مناسب ہوگا۔ پھل، سبزی، بیسن، دالیں، چینی جو جو چیز سحر و افطار سے متعلق ہے اس کی قیمتیں رمضان میں دگنا ہونا واجب شمار کیا جاتا ہے۔ گھروں میں گیارہ مہینوں کی بہ نسبت باورچی خانے کا خرچ بھی دوگنا ہو جاتا ہے اور عید پر بچوں کے لیے برانڈڈ کپڑے وغیرہ وغیرہ، ہاں اگر ضمیر ستائے تو اللہ کے نام پر ماسی، ڈرائیورز اور غریبوں کو ہزار روپے کا راشن اور سستے جوڑے کی نرم تھپکی دیگر دوبارہ سلا دیا جاتا ہے۔ اس زمانے میں سادگی اور وقار کے ساتھ تراویح اور اعتکاف ہوا کرتا تھا اب وقت کم ہے لہٰذا تراویح پانچ سے دس روزہ تک اور اعتکاف برانڈڈ ہو گیا ہے۔ طبقہ اشرافیہ اعتکاف حرمین میں گزارنا پسند کرتا ہے، لاکھوں کے پیکج میں ہر روز کی سیلفیاں بھی شامل ہوتی ہے۔ پاکستان میں ادھی آبادی کا رمضان تو سوشل میڈیا سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتا ہے۔ روزہ نہ بھی رکھیں تو کم از کم نیک پیغامات کے ذریعے معاشرے کو سدھارنا ہر ایک کے بس کی بات کہاں! بات صرف یہاں تک محدود نہیں بلکہ جناب ٹی وی چینلز نے رمضان کو ایک بڑا سیزن بنا دیا ہے۔ ٹی وی شوز میں روحانی فنکاری کے ایسے ایسے ساحرانہ کمالات دکھائے جاتے ہیں کہ اگر پچھلی نسلوں کے سادہ مسلمان دیکھ لیں تو۔۔۔۔ خیر، چھوڑیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر بھی کوئی فتویٰ عائد کر دیا جائے، خوف خدا اپنی جگہ اور خوف مخلوق اپنی جگہ، تمام بڑے ٹی وی چینلزکی رمضان نشریات کروڑوں، معاف کیجیے گا اربوں کا کھیل ہے۔ گیم شو اور نشریات کا ایک ایک سیکنڈ بکا ہوا ہوتا ہے، عالم سے جاہل تک سب اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ خیر، ٹرانسمیشنز میں کوئی حرج بھی نہیں مگر جانے کیوں ماہ مبارک کا تقدس ختم ہونے کا ملال ضرور ہوتا ہے۔ یہ اعتراف کرنا بھی ضروری ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اور بعض ادارے مفت سحر و افطار کا اہتمام باقاعدگی سے کرتے ہیں، رمضان اور عید میں مستحقین کے لیے راشن اور کپڑوں کی تقسیم کی جاتی ہے، بلاشبہ یہ بے نام افراد رمضان کی حقیقی روح پر عمل پیرا اور قابل تقلید ہیں۔ اب بھلا بتائیے اس سارے قضیے میں بھلا شیطان کی کوئی گنجائش موجود ہے۔

حضور! معاملہ یہ ہے کہ ازل سے خیر و شر کی کشمکمش جاری ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہیگی۔ تاریخ عالم اسی خیر و شر کے مابین جنگ کی طویل داستان ہے۔ مگر یہ بھی تو سچ ہے کہ خیروشر کی لڑائی تو ہر دم ہمارے اندر بھی جاری رہتی ہے، یہی قانون فطرت ہے بس ایک لمحہ اپنے اندر جھانکیں ذرا غور اور انہماک کے ساتھ، یقین جانیں بہت کچھ سمجھ آ جائے گا۔